Explore the humorous and satirical take on mathematics by Ibn-e-Insha in Class 9 Urdu Lesson 9. Learn about parody, satire, and social commentary through the lens of arithmetic and geometry. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).
ابتدائی حساب
مقاصد تدریس:
- طلبہ کو آگاہ کرنا کہ بعض نثر نگاروں کی حس مزاح بڑی تیز ہوتی ہے اور ان کی عام گفت گو میں بھی کتنے ہی لطیف پہلو موجود ہوتے ہیں۔
- اردو نثری ادب میں طنز و مزاح کی اہمیت واضح کرنا۔
- طلبہ کو ابن انشا کے اسلوب بیان سے آگاہ کرنا اور ان کی کتابوں خصوصاً شگفتہ سفرناموں کے بارے میں آگاہ کرنا۔
- طلبہ کو "اردو کی پہلی کتاب" از مولانا محمد حسین آزاد کے بارے میں بتانا اور انھیں آگاہ کرنا کہ تحریف نگاری (پیروڈی) کیا ہے۔
- طلبہ کو علم بیان: تشبیہ، استعارہ، اور رموزِ اوقاف: سکتہ، وقفہ، رابطہ، تفصیلیہ، ختمہ کے استعمال سے آگاہ کرنا۔
حساب کے چار بڑے قاعدے ہیں: ۱۔ جمع ۲۔ تفریق ۳۔ ضرب ۴۔ تقسیم
جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہیں، خصوصاً مہنگائی کے دونوں میں۔ سب کچھ خرچ ہو جاتا ہے، کچھ جمع نہیں ہو پاتا۔ جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہے۔ عام لوگ کے لیے ۱+۱= ۱/۲ ہے کیوں کہ ۱/۲ انکم ٹیکس والے لے جاتے ہیں۔ تجارت کے قاعدے سے جمع کریں تو ۱+۱ کا مطلب ہے گیارہ۔ رشوت کے قاعدے سے حاصلِ جمع اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ قاعدہ وہی اچھا جس میں حاصلِ جمع زیادہ سے زیادہ آئے۔ بشرطیکہ پولیس مائع نہ ہو، ایک قاعدہ زبانی جمع خرچ کا ہوتا ہے۔ یہ ملک کے مسائل حل کرنے کے کام آتا ہے۔ آزمودہ ہے۔
میں سندھی ہوں، تو سندھی نہیں ہے۔ میں بنگالی ہوں، تو بنگالی نہیں ہے۔ میں مسلمان ہوں تو مسلمان نہیں ہے۔ اس کو تفریق پیدا کرنا کہتے ہیں۔ حساب کا یہ قاعدہ بھی قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ تفریق کا ایک مطلب ہے، منہا کرنا، یعنی نکالنا ایک عدد میں سے دوسرے عدد کو۔ بعض عدد از خود نکل جاتے ہیں۔ بعضوں کو زبردستی نکالنا پڑتا ہے۔ ڈنڈے مار کر نکالنا پڑتا ہے۔ فتوے دے کر نکالنا پڑتا ہے۔
ایک بات اور یاد رکھیے۔ جو لوگ زیادہ جمع کر لیتے ہیں، وہی زیادہ تفریق بھی کرتے ہیں۔ انسانوں اور انسانوں میں، مسلمانوں اور مسلمانوں میں۔ عام لوگ تفریق کے قاعدے کو پسند نہیں کرتے، کیوں کہ حاصلِ تفریق کچھ نہیں آتا، آدمی ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔
تیسرا قاعدہ ضرب کا ہے۔ ضرب کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً ضربِ خفیف، ضربِ شدید، ضربِ کاری وغیرہ۔ ضرب کی ایک اور تقسیم بھی ہے۔ پتھر کی ضرب، لاٹھی کی ضرب، بندوق کی ضرب۔ علامہ اقبال کی "ضربِ کلیم" ان کے علاوہ ہے۔ حاصلِ ضرب کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ ضرب کس چیز سے دی گئی ہے یا لگائی گئی ہے۔ آدمی کو آدمی سے ضرب دیں تو حاصلِ ضرب بھی آدمی ہی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ زندہ ہو۔ ضرب کے قاعدے سے کوئی سوال حل کرنے سے پہلے "تعزیراتِ پاکستان" پڑھ لینی چاہیے۔
یہ حساب کا بڑا ضروری قاعدہ ہے۔ سب سے زیادہ جھگڑے اسی پر ہوتے ہیں۔ تقسیم کا مطلب ہے بانٹنا۔ اندھوں کا آپس میں ریوڑیاں بانٹنا۔ بندر کا بلیوں میں روٹی بانٹنا۔ چوروں کا آپس میں مال بانٹنا۔ اہل کاروں کا آپس میں رشوت بانٹنا۔ مل بانٹ کر کھانا اچھا ہوتا ہے۔ دال تک جوتوں میں بانٹ کر کھانی چاہیے۔ تقسیم کا طریقہ کچھ مشکل نہیں ہے۔ حقوق اپنے پاس رکھیے، فرائض دوسروں میں بانٹ دیجیے۔ روپیہ پیسہ اپنے کیسے میں ڈالیے، قناعت کی تلقین دوسروں کو کیجیے۔
ابتدائی الجبرا
یہ بھی ایک قسم کا حساب ہے بچوں کہ طالب علم اس سے گھبراتے ہیں اور یہ جبرًا پڑھایا جاتا ہے، اس لیے الجبرا کہلاتا ہے۔ حساب اعداد کا کھیل ہے۔ الجبرا حرفوں کا کھیل ہے۔ ان میں سب سے مشہور حرف "لا" ہے۔ اس کے معنی کچھ نہیں بلکہ یہ ایسا ہے کسی اور لفظ کے ساتھ لگ جائے تو اس کے معنی بھی سلب کر لیتا ہے۔ جس طرح لامکان، لا دوا، لا ولد وغیرہ۔ بعض مستثنیات بھی ہیں۔ مثلاً لاہور، لاڑکانہ، لالٹین، لالو کھیت وغیرہ۔ اگر ان لفظوں کے ساتھ لا نہ ہو تو ہور، ڑکانہ، لٹین اور لو کھیت کے کچھ معنی نہ نکلیں۔ آزمائے کو آزمانا جہل کہتے ہیں لیکن الجبرا میں آزمائے کو ہی آزماتے ہیں۔ اچھے خاصے پڑھے لکھوں کو نئے سرے سے "اب ج" سکھاتے ہیں بلکہ ان کے مربعے بھی نکلواتے ہیں۔ الجبرا کا ہماری طالب علمی کے زمانے میں کوئی خاص مصرف نہ تھا۔ اس سے صرف اسکولوں کے طلبہ کو فیل کرنے کا کام لیا جاتا تھا لیکن آج کل یہ عملی زندگی میں خاصا استعمال ہوتا ہے۔ دکاندار اور گداگر اس قاعدے کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ پیسا لا، آؤ لا اور لا۔ بعض رشتوں میں الجبرا یعنی جبر کا شائبہ ہوتا ہے، جیسے: نند ران لا، فادر ان لا وغیرہ۔
ابتدائی جیو میٹری
جیو میٹری لکیروں کا کھیل ہے۔ علمائے جیو میٹری کو ہم لکیر کے فقیر کہہ سکتے ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کر لی، ہر چیز بشمول سائنس اور مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی، لیکن جیو میٹری والوں کے ہاں اب تک زاویہ قائمہ ۹۰ درجہ کا ہوتا ہے اور مثلث کے اندرونی زاویوں کا مجموعہ ۱۸۰ درجے سے تجاوز نہیں کر پایا۔ امریکا اور روس ہر معاملہ میں لڑتے ہیں، اس معاملے میں ملی بھگت ہے۔ ہم اپنے ملک میں اپنی پسند کا نظام لائیں گے تو اپنی اسمبلی میں ایک قانون بنوائیں گے، چند درجے ضرور بڑھائیں گے۔ مستطیل بھی پرانے زمانے میں جیسی چورس ہوتی تھی، ویسی آج کل ہے۔ گول کرنا تو بڑی بات ہے کسی کو یہ توفیق تک نہ ہوئی کہ اس کے چار سے پانچ یا چھ ضلعے کر دیں۔ ایک آدھ فالتو رہے تو اچھا ہی ہے۔ مغربی پاکستان کے ضلعوں میں ہم ردو بدل کرتے ہیں تو مستطیل وغیرہ کے ضلعوں میں کیوں نہیں کر سکے۔
خط کی کئی قسمیں ہیں:
خطِ مستقیم: بالکل سیدھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر نقصان اٹھاتا ہے۔ سیدھے آدمی بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔
خطِ منحنی: یہ ٹیڑھا ہوتا ہے بالکل کھیر کی طرح، لیکن اس میں میٹھا نہیں ڈالا جاتا۔
خطِ تقدیر: اسے فرشتے پکی سیاہی سے کھینچتے ہیں۔ یہ مستقیم بھی ہوتا ہے منحنی بھی۔ اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔
خطِ بیرنگ: اس پر لگانے والے ٹکٹ نہیں لگاتے۔ ہمیں دگنے پیسے دینے پڑتے ہیں۔
خطِ شکستہ: یہ وہ خط ہے جس میں ڈاکٹر لوگ نسخے لکھتے ہیں۔ جبھی تو آج کل اتنے لوگ بیماریوں سے نہیں مرتے جتنے غلط دواؤں کے استعمال سے مرتے ہیں۔
خطِ استوا: یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں تو دنیا میں دن رات برابر ہوں، کہیں تو مساوات نظر آئے۔
متوازی خطوط: یہ ویسے تو آمنے سامنے ہوتے ہیں، لیکن تعلقات نہایت کشیدہ۔ ان کو کتنا بھی لمبا کھینچ کے لے جائیے یہ کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ کتابوں میں یہی لکھا ہے لیکن ہمارے خیال میں ان کو ملانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کبھی بھی نہیں کی گئی۔ آج کل بڑے بڑے نامکنات کو ممکن بنا دیا گیا ہے تو یہ کس شمار قطار میں ہیں۔
نقطہ یعنی بندی یعنی پوائنٹ۔ یہ محض کسی جگہ کی نشاندہی کے لیے ہوتا ہے۔ جیو میٹری کی کتابوں میں آیا ہے کہ نقطہ جگہ نہیں گھیرتا۔ ایک آدھ نقطے کی حد تک یہ بات صحیح ہوگی لیکن کئی نقطوں سے تو آپ سارا پاکستان گھیر سکتے ہیں۔
دائرے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قریب قریب سبھی گول ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ہے کہ ان میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔ جیو میٹری میں اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔ جو کسی نے پرانے زمانے میں فیصلہ کر دیا، اب تک چلا آ رہا ہے۔ ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا کرتے تھے، آج کل داخلہ منع ہے، صرف خارج کرتے ہیں۔
تکون کے تین کونے ہوتے ہیں۔ چار کونوں والی بھی ہوتی ہوں گی، لیکن ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزریں۔
(اردو کی آخری کتاب)
مزید مطالعہ اور معاون مواد (EOLS Resources)
Blog Post کلاس نہم اردو: سبق "کتبہ" کے مکمل نوٹس اور سوال جوابBlog Post کلاس نہم اردو کے تمام اسباق کے خلاصہ جات اور معروضی سوالاتBlog Post اردو گرامر: علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ) اور رموزِ اوقاف کی وضاحتWatch Video کلاس نہم اردو سبق نمبر ۹: ابتدائی حساب - مکمل تشریح (ابنِ انشا)Watch Video سبق "کتبہ" کلاس نہم اردو - اہم پیراگراف کی تشریح اور خلاصہ
Comments
Post a Comment