A concise and engaging social media post for Class 9 Urdu Lesson 8 'Kutba' by Ghulam Abbas, highlighting the struggles of a clerk and the irony of destiny.
کتبہ
مقاصدِ تدریس:
شریف حسین (مرحوم)
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے!
شہر سے کوئی ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر فضا باغوں اور پھلواریوں میں گھری ہوئی قریب قریب ایک ہی وضع کی بنی ہوئی عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو دُور تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ عمارتوں میں کئی چھوٹے بڑے دفتر ہیں جن میں کم وبیش چار ہزار آدمی کام کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس علاقے کی چہل پہل اور گہما گہمی عموماً کمروں کی چار دیواریوں ہی میں محدود رہتی ہے مگر صبح کو ساڑھے دس بجے سے پہلے اور سہ پہر کو ساڑھے چار بجے کے بعد وہ سیدھی اور چوڑی پختہ سڑک، جو شہر کے بڑے دروازے سے اس علاقے تک جاتی ہے، ایک ایسے دریا کا روپ دھار لیتی ہے جو پہاڑوں پر سے آیا ہو اور اپنے ساتھ بہت سا خس و خاشاک بہا لایا ہو۔
گرمی کا زمانہ، سہ پہر کا وقت، سڑکوں پر درختوں کے سائے لمبے ہونے شروع ہو گئے تھے مگر ابھی تک زمین کی تپش کا یہ حال تھا کہ جوتوں کے اندر تلوے جھلسے جاتے تھے۔ ابھی ابھی ایک چھکڑا گاڑی گزری تھی۔ سڑک پر جہاں جہاں پانی پڑا تھا بخارات اٹھ رہے تھے۔ شریف حسین کلرک درجہ دوم، معمول سے کچھ سویرے دفتر سے نکلا اور اس بڑے پھاٹک کے باہر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں سے تانگے والے شہر کی سواریاں لے جایا کرتے تھے۔
گھر لوٹتے ہوئے آدھے راستے تک تانگے میں سوار ہو کر جانا ایک ایسا لطف تھا جو اسے مہینے کے شروع کے صرف چار پانچ روز ہی ملا کرتا تھا اور آج کا دن بھی انھی مبارک دنوں میں سے ایک تھا۔ آج خلافِ معمول تنخواہ کے آٹھ روز بعد اس کی جیب میں پانچ روپے کا نوٹ اور کچھ آنے پیسے پڑے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی بیوی مہینے کے شروع ہی میں بچوں کو لے کر میکے چلی گئی تھی اور گھر میں وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ دن میں دفتر کے حلوائی سے دو چار پوریاں لے کر کھا لی تھیں اور اوپر سے پانی پی کر پیٹ بھر لیا تھا۔ رات کو شہر کے کسی سستے سے ہوٹل میں جانے کی ٹھہرائی تھی۔ بس بے فکری ہی بے فکری تھی۔ گھر میں کچھ ایسا اثاثہ تھا نہیں جس کی رکھوالی کرنی پڑتی، اس لیے وہ آزاد تھا کہ جب چاہے گھر جائے اور چاہے تو ساری رات سڑکوں پر گھومتا رہے۔
تھوڑی دیر میں دفتروں سے کلرکوں کی ٹولیاں نکلنی شروع ہوئیں اور ان میں ٹائپسٹ، ریکارڈ کیپر، ڈسپیچر، اکاؤنٹنٹ، ہیڈ کلرک، سپرنٹنڈنٹ غرض ادنیٰ و اعلیٰ ہر درجہ اور حیثیت کے کلرک تھے اور اسی لحاظ سے ان کی وضع قطع بھی ایک دوسرے سے جدا تھی۔ مگر بعض ٹائپسٹ خاص طور پر نمایاں تھے۔ سائیکل سوار آدھی آستینوں کی قمیص، خاکی زین کے نیکر اور چپل پہنے، سر پر سولا ہیٹ رکھے، کلائی پر گھڑی باندھے، رنگ دار چشمہ لگائے بڑی بڑی توندوں والے بابو چھاتا کھولے، منھ میں بیڑی، بغلوں میں فائلوں کے گٹھے دبائے۔ ان فائلوں کو وہ قریب قریب ہر روز اس اُمید میں ساتھ لے جاتے کہ جو گتھیاں وہ دفتر کے غل غپاڑے میں نہیں سلجھا سکے، ممکن ہے گھر کی یکسوئی میں ان کا کوئی حل سوجھ جائے مگر گھر پہنچتے ہی وہ گرہستی کے کاموں میں ایسے الجھ جاتے کہ انھیں دیکھنے تک کا موقع نہ ملتا اور اگلے روز انھیں یہ مفت کا بوجھ جوں کا توں واپس لے آنا پڑتا۔
جماعت نہم (۵۸)بعض منچلے تانگے، سائیکل اور چھاتے سے بے نیاز، ٹوپی ہاتھ میں، کوٹ کاندھے پر، گریبان کھلا ہوا جسے بٹن ٹوٹ جانے پر انھوں نے سیفٹی پن سے بند کرنے کی کوشش کی تھی اور جس کے نیچے سے چھاتی کے گھنے بال پسینے میں تربتر نظر آتے تھے، نئے رنگروٹ سستے، سلے سلائے بد قطع سوٹ پہنے اس گرمی کے عالم میں واسکٹ اور ٹائی کا لٹک لگائے، کوٹ کی بالائی جیب میں دو دو تین تین فاؤنٹین پین اور پنسلیں لگائے خراماں خراماں چلے آ رہے تھے۔
گو ان میں سے زیادہ تر کلرکوں کی مادری زبان ایک ہی تھی مگر وہ لہجہ بگاڑ بگاڑ کر غیر زبان میں باتیں کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ وہ طمانیت نہ تھی جو کسی غیر زبان پر قدرت حاصل ہونے پر اس میں باتیں کرنے پر آ سکتی ہے بلکہ یہ کہ انھیں دفتر میں دن بھر اپنے افسروں سے اسی غیر زبان میں بولنا پڑتا تھا اور اس وقت وہ باہم بات چیت کر کے اس کی مشق بہم پہنچا رہے تھے۔
ان کلرکوں میں ہر عمر کے لوگ تھے، ایسے کم عمر بھولے بھالے نا تجربہ کار بھی جن کی ابھی مسیں بھی پوری نہیں بھیگی تھیں اور جنھیں ابھی اسکول سے نکلے تین مہینے بھی نہیں ہوئے تھے اور ایسے عمر رسیدہ جہاں دیدہ گھاگ بھی جن کی ناک پر سالہا سال عینک کے استعمال کے باعث گہرا نشان پڑ گیا تھا اور جنھیں اس سڑک کے اتار چڑھاؤ دیکھتے دیکھتے پچیس پچیس، تیس تیس برس ہو چکے تھے۔ بیش تر کارکنوں کی پیٹھ میں لگی میں ذرا نیچے خم سا آ گیا تھا اور گندہ استروں سے متواتر ڈاڑھی مونڈھتے رہنے کے باعث ان کے گالوں اور ٹھوڑی پر بالوں میں جڑیں پھوٹ نکلی تھیں، جنھوں نے بے شمار ننھی پھنسیوں کی شکل اختیار کر لی تھی۔ پیدل چلنے والوں میں بہتیرے لوگ بخوبی جانتے تھے کہ دفتر سے ان کے گھر کو جتنے راستے جاتے ہیں ان کا فاصلہ کتنے ہزار قدم ہے۔ ہر شخص افسروں کے چڑچڑے پن یا ماتحتوں کی نالائقی پر نالاں نظر آتا تھا۔
جماعت نہم (۵۹)... [متن کا بقیہ حصہ اسی ترتیب سے جاری ہے] ...
اگلے روز وہ کتبہ کو ایک سنگ تراش کے پاس لے گیا اور اس سے کتبہ کی عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کرائی اور پھر اسی شام اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔
(آنندی)
آن لائن تعلیمی وسائل (EOLS)
بلاگ پوسٹس (excellenceonlinelearningschool.blogspot.com):
9th Class Urdu Complete Solved Notes➜سبق کتبہ: سوالات و جوابات اور خلاصہ➜اردو گرامر اور ضرب الامثال کے مفاہیم➜ویڈیو لیکچرز (YouTube):
Comments
Post a Comment