اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Learn about Class 9 Urdu Lesson 7 "Aaram-o-Sakoon" by Syed Imtiaz Ali Taj. A concise summary highlighting the importance of rest for patients, created by Excellence Online Learning School (EOLS).
اردو لازمی
جماعت نہم
سبق نمبر: 7
آرام و سکون
(سید امتیاز علی تاج)
مقاصد تدریس:
- طلبہ کو ڈرامانگاری کے فن سے روشناس کرنا۔
- طلبہ کو بتانا کہ کہانی مکالموں کے ذریعے کیسے آگے بڑھتی ہے۔
- طلبہ کو اردو ڈرامانگاری میں سید امتیاز علی تاج کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کرنا۔
- طلبہ کو آگاہ کرنا کہ مزاحیہ تحریر یا مکالمے سادہ ہی کیوں نہ ہوں، ہنسنے ہنسانے کی چیز نہیں بلکہ بین السطور کوئی مقصد یا پیغام بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
- ڈراما "آرام و سکون" کے ذریعے طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانا کہ بیمار کو آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے اور شور و غل سے زچ آ جاتا ہے۔
- طلبہ کو حروف کی چند اقسام، سابقے لاحقے اور مکالمہ نگاری کے بارے میں آگاہ کرنا۔
(اہم کردار): ڈاکٹر (معالج) | بیوی (بیگم اشفاق) | میاں (اشفاق) | للو (گھر کا ملازم)
(منظر: میاں اشفاق بیمار ہیں اور کمرے میں بستر پر لیٹے ہیں کہ ایک ڈاکٹر ان کا معائنہ کر چکنے کے بعد ان کی بیوی کو تاکید کرتا ہے کہ ان کے آرام و سکون کا خیال رکھا جائے۔)
ڈاکٹر:
جی نہیں بیگم صاحبہ! تردّد کی کوئی بات نہیں، میں نے بہت اچھی طرح معائنہ کر لیا ہے۔ صرف تھکان کی وجہ سے حرارت ہو گئی ہے۔ ان دنوں آپ کے شوہر غالباً کام بہت زیادہ کرتے ہیں۔
بیوی:
ڈاکٹر صاحب ان دنوں کیا، ان کا ہمیشہ سے یہی حال ہے۔ صبح دس بجے دفتر جاکر شام سات بجے سے پہلے کبھی واپس نہیں آتے۔
ڈاکٹر:
جبھی تو میرے خیال میں انھیں دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت ہے۔ کاروبار کی پریشانیاں اور الجھنیں بھلا کر ایک بھی روز آرام و سکون سے گزرا تو طبیعت ان شاء اللہ بحال ہو جائے گی۔
بیوی:
بیسیوں مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ اتنا کام نہ کیا کرو، نصیب دشمناں صحت سے ہاتھ دھو بیٹھو گے مگر خاک اثر نہیں ہوتا۔ ہمیشہ یہی کہہ دیتے ہیں، کیا کیا جائے۔ ان دنوں کام بے طرح زوروں پر ہے۔
ڈاکٹر:
هر روز تھوڑا تھوڑا وقت آرام و سکون کے لیے نہ نکالا جائے تو پھر بیمار پڑ کر بہت زیادہ وقت نکالنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
بیوی:
یہ بات آپ نے انھیں بھی سمجھائی؟ میں نے کہا سُن رہے ہو؟ ڈاکٹر صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟
میاں:
ہوں۔۔۔۔!
ڈاکٹر:
جی ہاں! میں نے سمجھا کر اچھی طرح تاکید کر دی ہے کہ دن بھر خاموش لیٹے رہیں۔
بیوی:
تو تاکید کیا میں نہیں کرتی؟ مگر ان پر کسی کے کہنے کا کچھ اثر بھی ہو!
ڈاکٹر:
جی نہیں! ابھی انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ پورے طور سے میری ہدایات پر عمل کریں گے۔
بیوی:
اور دوا کس کس وقت دینی ہے؟
ڈاکٹر:
جی نہیں! دوا کی مطلق ضرورت نہیں۔ بس آپ صرف ان کے آرام و سکون کا خیال رکھیں۔ غذا جو کچھ دینی ہے، میں لکھ چکا ہوں۔
بیوی:
بڑی مہربانی آپ کی۔ تو پھر اجازت!! فیس میں آپ کو بھجوا دوں گی۔
ڈاکٹر:
اس کی کوئی بات نہیں۔ آ جائے گی۔
بیوی:
(اونچی آواز سے پکار کر) ارے للو! میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کا بیگ باہر کار میں پہنچا دیجیو۔
ڈاکٹر:
ایک بات عرض کر دوں بیگم صاحبہ! مریض کے کمرے میں شور و غل نہیں ہونا چاہیے۔ اعصاب پر اس کا بہت مضر اثر پڑتا ہے۔ خاموشی اعصاب کو ایک طرح کی تقویت بخشتی ہے۔
بیوی:
مجھے کیا معلوم نہیں ڈاکٹر صاحب؟ آپ اطمینان رکھیں۔ ان کے کمرے میں پرندہ پر نہ مارے گا۔ (ملازم للو آتا ہے)
للو:
حضور!
ڈاکٹر:
اٹھا لو یہ بیگ۔ تو آداب!
بیوی:
آداب! (ڈاکٹر اور ملازم جاتے ہیں۔ قریب آ کر) میں نے کہا سو گئے کیا؟
میاں:
نہیں، یوں ہی چپکا پڑا تھا۔
بیوی:
بس بس۔ بس بس چپکے ہی پڑے رہے۔ ڈاکٹر صاحب بہت سخت تاکید کر گئے ہیں کہ نہ آپ بات کریں نہ کوئی آپ کے کمرے میں بات کرے۔ اس سے بھی تھکان ہوتی ہے۔ تمام وقت پورے آرام و سکون سے گزاریں۔ سمجھ گئے ناں؟
میاں:
ہوں (کراہتا ہے)
بیوی:
کیوں بدن ٹوٹ رہا ہے کیا؟ کہو تو دبا دوں؟
میاں:
نہیں!
بیوی:
سونے کو جی چاہ رہا ہو تو چلی جاؤں؟ اگر پیچھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو؟ اچھا بلانے کی گھنٹی پاس رکھے جاتی ہوں۔ گھنٹی کہاں گئی؟ رات میں نے آپ یہاں میز پر رکھی تھی۔ اللہ جانے یہ کون اللہ مارا میری چیزوں کو الٹ پلٹ کرتا ہے؟
(کنڈی کی آواز)
بیوی:
کون ہے یہ نامراد؟ ارے للو! دیکھو یہ کون کواڑ توڑ ڈال رہا ہے؟
للو:
(دور سے) سقا ہے بیوی جی!
بیوی:
سقا؟ گھر میں بہرے بستے ہیں جو کم بخت اس زور سے کنڈی کھٹکھٹاتا ہے؟ اللہ ماروں کو اتنا خیال بھی تو نہیں آتا کہ گھر میں کوئی بیمار پڑا ہے۔ ڈاکٹر نے تاکید کر رکھی ہے کہ شور و غل نہ ہونے پائے۔
...
(کچھ دیر بعد)
میاں:
(تنگ آ کر) نہیں بابا، نہیں!
بیوی:
ارے ہاں۔ یہ تو میں نے دیکھا ہی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کھانے کے لیے کیا کیا چیزیں لکھ گئے ہیں۔ کیا تیار کرا دوں اس وقت تمھارے لیے؟ یخنی پی لیتے تھوڑی سی۔ چوزے کی یخنی بنوائے دیتی ہوں۔ مقوی چیز ہے۔
میاں:
بنوا دو۔
(صحن میں بچہ پٹ پٹ گاڑی چلانے لگتا ہے)
میاں:
ارے بھئی، اب یہ کیا کھٹ پٹ شروع ہو گئی۔
بیوی:
ننھا ہے آپ کا۔ عید کے روز میلے میں سے یہ کھلونا گاڑی لے آیا تھا۔ ارے میں نے کہا ٹھہر، نہیں مانے گا نامراد؟ چھوڑ اس اپنی پٹ پٹ کو۔ چولھے میں جھونک دوں گی اس کم بخت کو۔
میاں:
میری ٹوپی اور شیروانی دینا۔
بیوی:
ٹوپی اور شیروانی!! ہے ہے وہ کیوں؟
میاں:
ہاں میں دفتر جا رہا ہوں۔ ابھی دفتر جا رہا ہوں۔ آرام و سکون کے لیے۔
Comments
Post a Comment