اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
جماعت: ششم
سبق نمبر: 1 | مضمون: اردو
حَمد
| الفاظ | روشن | زبان | خالق | صنعت | معبود | قوت | سہارا | قدرت | انتظام | جلایا |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| تَلَفُّظ | رو-شَن | زَ-با-ن | خا-لِق | صَن-عَت | مَع-بُود | قُو-وَت | سَ-ہا-را | قُد-رَت | اِن-تِ-ظا-م | جَ-لا-یا |
خُدا کا نام پیارا ہے، خُدا کا نام پیارا ہے
دلوں کو اس سے قوت ہے، زبانوں کو سہارا ہے
خُدا ہی ہے زمین و آسماں کا خالق و مالک
اُسی کی قُدرت و صنعت نے عالم کو سنوارا ہے
تماشا اُس کی قدرت کا ہے ہر جا و بجا ہر دَم
اِدھر موجیں ہوا کی ہیں، اُدھر پانی کا دھارا ہے
اُسی کے انتظام و حکم سے موسم بدلتے ہیں
وہی ہے وقت پر جس نے ہواؤں کو اُبھارا ہے
کوئی ذرّہ نہیں عالم میں اُس کے علم سے باہر
جو مرضی اس کی ہے، دخل اُس میں دے، کس کو یارا ہے؟
کرو طاعت خُدا کی بس وہی معبود برحق ہے
اُسی کی شان یکتائی، جہاں میں آشکارا ہے
اگر اَعمال اچھے ہیں تو پاؤ گے بڑے درجے
نہ سمجھو لہو و امتحاں اس دارِ فانی میں تمھارا ہے
وہی دُنیا میں ہے اس زندگی و موت کا خالق
ہر اک کو اپنی مرضی سے، جلایا اور مارا ہے
اُسی کے حکم سے ہے رات دن کی یہ کمی بیشی
وہی ہے چاند کا طالع، فلک پر ہر ستارہ ہے
(اکبر الہ آبادی)
Comments
Post a Comment