اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore the theme of Islamic equality in Maulana Altaf Hussain Hali's poem for Class 12 Urdu. This post highlights the core message of serving humanity and bridging the gap between rich and poor.
بارہویں جماعت - اردو لازمی
مولانا الطاف حسین حالی
(۱۸۳۷ء۔۱۹۱۴ء)
اسلامی مساوات
کسی قوم کا جب الٹتا ہے دفتر
تو ہوتے ہیں مسخ ان میں پہلے تو نگر
کمال ان میں رہتے ہیں باقی ، نہ جوہر
نہ عقل ان کی ہادی ، نہ دین ان کا رہبر
نہ دنیا میں ذلت نہ عزت کی پروا
نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا
نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا
نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا
ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا
تعیش میں جینا ، نمائش پہ مرنا
سدا خوابِ غفلت میں بے ہوش رہنا
دمِ نزع تک خود فراموش رہنا
پریشان اگر قحط سے اک جہاں ہے
تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں1 ہے
اگر باغِ امت میں فصلِ خزاں ہے
تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے
بنی نوعِ انساں کا حق ان پہ کیا ہے
وہ اک نوع ، نوعِ بشر سے جدا ہے
1 شاعر نے شعری ضرورت کے تحت لفظ سامان کو "سماں" لکھا ہے۔
101
کہاں بندگانِ ذلیل1 اور کہاں وہ
بسر کرتے ہیں بے غمِ قوت و ناں وہ
پہنتے نہیں بجز سمور و کتاں وہ
مکاں رکھتے ہیں رشکِ خلدِ جناں وہ
نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر
نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر
کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں ان کی
گل و لالہ رہتے ہیں صحبت میں ان کی
نفاست بھری ہے طبیعت میں ان کی
نزاکت ، سو داخل ہے عادت میں ان کی
دواؤں میں مشک ان کی اٹھتا ہے ڈھیروں
وہ پوشاک میں عطر ملتے ہیں سیروں
یہ ہو سکتے ہیں ان کے ہم جنس کیوں کر
نہیں چین جن کو زمانے سے دم بھر
سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر
نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر
پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی
جو تدبیر الٹی تو تقدیر کھوٹی
1 "ذلیل" بمعنی ادنیٰ طبقہ، عام لوگ
102
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ1 خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا
یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
(مسدس حالی)
Comments
Post a Comment