اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore Lesson 16 of Class 12 Urdu featuring Akbar Allahabadi's poem. Learn about nature, spirituality, and poetic beauty with Excellence Online Learning School (EOLS).
سرمایہ اردو (بارہویں جماعت)
سبق نمبر: 16صنف: نظمادارہ: Excellence Online Learning School
اکبر الہ آبادی
(۱۸۴۶ء۔ ۱۹۲۱ء)
خدا سر سبز رکھے اس چمن کو، مہرباں ہو کر
بہار آئی کھلے گل زیب صحن بوستاں ہو کر
عنادل نے مچائی دھوم سر گرمِ فغاں ہو کر
بچھا فرشِ زمرد اہتمامِ سبزۂ تر میں
چلی مستانہ وش بادِ صبا عنبر فشاں ہو کر
عروجِ نفقۂ نشوونما سے ڈالیاں جھومیں
ترانے گائے مرغانِ چمن نے شادماں ہو کر
بلائیں شاخِ گل کی لیں نسیمِ صبح گاہی نے
ہوئیں کلیاں شگفتہ روئے رنگینِ بتاں ہو کر
کیا پھولوں نے شبنم سے وضو صحنِ گلستاں میں
صدائے نغمہٴ بلبل اٹھی بانگِ اذاں ہو کر
ہوائے شوق میں شاخیں جھکیں خالق کے سجدے کو
ہوئی تسبیح میں مصروف ہر پتی زباں ہو کر
زبانِ برگِ گل نے کی دعا رنگیں عبارت میں
خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہو کر
(کلیاتِ اکبر)
Comments
Post a Comment