اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore the spiritual depth of Class 12 Urdu Lesson 15 "Hamd" by Maulana Zafar Ali Khan. Get comprehensive notes and explanations from Excellence Online Learning School (EOLS).
اردو (لازمی) - جماعت بارہویں
سبق نمبر: 15
حمد
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اُس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اُس کا
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے، ہے سچا ایک نام اُس کا
ہر اک ذرّہ فضا کا داستاں اس کی سُناتا ہے
ہر اک جھونکا ہوا کا آکے دیتا ہے پیام اُس کا
سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
مری افتادگی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی
کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے ثام اُس کا
ہوئی ختم اس کی حجت اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمدؐ نے کلام اُس کا
بجھاتے ہی رہے پھونکوں سے کافر اس کو رہ رہ کر
مگر نور اپنی ساعت پر، رہا ہو کر تمام اُس کا
(حبسیات)
95
Comments
Post a Comment