Explore the inspiring character sketch of Ayub Abbasi by Rasheed Ahmad Siddiqui for Class 12 Urdu. Learn about his selfless service and noble character through EOLS.
ایوب عباسی
محمد ایوب عباسی مرحوم کے بارے میں کیا کہوں اور کہاں سے شروع کروں! وہ اتنے اچھے تھے اور اتنے ارزاں تھے اور اتنے ناگزیر تھے کہ اُن کے بارے میں کچھ کہنا شروع کروں تو سب سے پہلے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہیں وہ، یہاں سے نہیں وہاں سے، ابھی نہیں آگے چل کر، یوں نہیں ووں۔
وہ موجود تھے تو اُن کی مثال نِعَمِ فطرت کی تھی مثلاً: ہوا، پانی، روشنی جو اس درجہ عام وارزاں ہیں کہ ان کی طرف توجہ مائل نہیں ہوتی لیکن اُن میں سے کسی میں کہیں سے کوئی فرق آ جائے تو پھر دیکھیے کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور وہی نا قابلِ التفات چیزیں کیسی نعمتیں بن جاتی ہیں۔
ایوب ایسے ہی تھے۔ وہ دوستوں کی زندگی میں اس طرح رچ بس گئے کہ ہم سب کو اُن کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوتا لیکن جب وہ ہم سے رخصت ہو گئے تو ہم میں سے ہر ایک نے یہ محسوس کیا کہ جو چیز نا قابلِ التفات حد تک ارزاں و عام تھی وہی نا قابلِ بیان حد تک اچھی، ضروری اور نایاب تھی۔
ہم سب کی زندگیوں میں مرحوم کے گھل مل جانے کا راز یہ تھا کہ اُن میں بظاہر کوئی بات غیر معمولی نہ تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت کے آدمی نہ تھے، دولت مند نہ تھے، کچھ بہت ذہین بھی نہ تھے۔ نہ انھیں توڑ جوڑ آتا تھا، نہ خوش پوشاک، نہ خوش گفتار، نہ خوش باش، نہ رنگین و رعنا۔ وہ معمولی آدمیوں سے بھی زیادہ معمولی تھے۔ پھر بھی وہ ایسے تھے کہ اب ہم میں ویسا کوئی اور نہ اب ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا ملے۔
سیاہ فام، چیچک رُو، پست قد، نحیف الجثہ۔ پہلے پہل کوئی دیکھے تو منہ پھیر لے، برت لے تو غلام بن جائے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ ایوب کی خوبیوں نے اُن کی بدہیتی کو کس درجہ دل آویز بنا دیا تھا۔ میری ہی نہیں میرے عزیزوں اور دوستوں کی بھی اُن سے بڑی پرانی ملاقات چلی آتی تھی اور میں نہیں بتا سکتا کہ ہم سب کی زندگی میں ایوب کس قدر دخیل تھے اور اُن کی موت نے ہم سب کو کیسا بے قرار و مایوس اور کس درجہ بے دست و پا کر دیا۔ سب جانتے ہیں کہ اُن کی جدائی کا جو الم مجھے ہے اس سے کم دوسروں کو نہیں ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے، اس پیکرِ حقیر میں دل سوزی و خود سپاری کا کیسا بے کراں و بیش قیمت خزانہ ودیعت تھا۔
89مجھ پر، میرے بچوں پر، میرے دوستوں پر اور میرے خاندان پر جان چھڑکتے تھے۔ خوشی کی بات ہو تو ایوب صاحب سب سے پہلے موجود اور سب سے زیادہ خوش۔ رنج و تردّد کا موقع ہو تو سب سے پہلے حاضر۔ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، یا ہر شخص کی خوشامد کر رہے ہیں۔ خوشی میں ہر طرح کے جملے سہہ رہے ہیں اور اپنی مسرت کا طرح طرح سے اظہار کر رہے ہیں۔ رنج و مایوسی کا موقع ہو تو ایک حرف زبان پر نہیں، نہ تسکین کا، نہ تقویت کا، چپ چاپ بیٹھے سراپا کا جائزہ لے رہے ہیں یا محبت و همدردی سے بے اختیار ہو کر منہ تک رہے ہیں۔ ذرا بھی احتمال ہوا کہ کسی کا آنا یا کسی معاملے میں میرا دخل میرے لیے تکلیف دہ ہو گا تو اسے پہلے ہی سے بھانپ کر کسی نہ کسی طرح اس کا سدِّباب کر دینا اور اس طرح کرنا کہ مجھے کانوں کان خبر نہ ہو۔
میرا اور میرے دوستوں کا یہ حال تھا کہ ہاتھ پاؤں ہلانا نہ ہو اور ایوب سب کام کر دے۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی تھیں جن کی تمام تر ذمے داری ہمیں پر ہوتی لیکن اس سے بذاتِ خود عہدہ برآ ہونے کے بجائے یا اس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہو تو ہم سب ایوب صاحب ہی پر بگڑتے تھے اور بہانے نکال نکال کر انھیں سخت سُست کہتے تھے۔ ایوب صاحب معمولی ملگجی شیروانی پہنے، ٹوٹا پھوٹا جوتا، میلا سا مفلر گلے میں لپیٹے جلدی جلدی چلے آ رہے ہیں۔ ہائے اُن کا وہ چھوٹا سا قد، بمشکل سے پانچ فٹ، مشغول و منہمک، مفلر جلدی جلدی کھولتے لپیٹتے، راستے میں ہر ایک سے کچھ کہتے سنتے، گرتے پڑتے چلے آ رہے ہیں۔
ایوب صاحب کا گھر بارہ مہینے تھرڈ کلاس کا مسافر خانہ بنا رہتا تھا، ہر طرح کے لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بالخصوص اعزہ اور دوستوں کے لڑکے۔ مجھے یقین ہے اور میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ ایوب صاحب کے گھر میں قیام کر کے اُن کے خرچ سے، ان کی توجہ و محنت سے، ان کے بل پر اعزہ اور احباب کے جتنے لڑکوں نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی ہو گی، اتنا اب تک کسی اور شخص سے نہ اب تک ہوا اور نہ شاید آئندہ ہو۔
اُن کے گھر میں طالب علموں کا وہ ہجوم کہ اندر جا کر دم گھٹنے لگتا تھا۔ ہر شخص کو کھلانا پلانا، سامان دینا، ان کی ضرورتوں کو نظر میں رکھنا اور ان کی فکر کرنا۔ اس کے بعد آفس کا کام، دوستوں کا کام، غرض اس شخص کی مشغولیتیں دیکھ کر ہم سب تعجب کیا کرتے تھے کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اور اس کے حواس کیوں کر بجا ہیں۔
دوستوں میں سے کوئی بیمار پڑا اور یہ موجود ہوئے، رات دن کا مسلسل قیام، پاؤں دبا رہے ہیں، سر میں تیل ڈال رہے ہیں، دوا لا رہے ہیں، کھانا تیار کر رہے ہیں۔ بیماری میں آدمی چڑچڑا ہو جاتا ہے چنانچہ اس کی ہر قسم کی زیادتیاں بھی سہہ رہے ہیں۔ بیمار اچھا ہوا تو شکریے میں بھی سخت سست ہی کلمات کہے۔
ایوب صاحب کی سیرت و شخصیت کا عجیب اور نادر پہلو یہ تھا کہ بڑے سے بڑا آدمی ہو یا چھوٹے سے چھوٹا، ان
90سے عزت آمیز محبت کرتا تھا۔ ترس کھا کر یا مجبور ہو کر نہیں بلکہ ان سے محبت کرنے میں اسے لطف آتا تھا۔ ایوب سے محبت کر کے جیسے دل کو تسکین ہو جاتی تھی، ایک طرح کی پُر افتخار اور اطمینان بخش تسکین۔ جیسے یہ احساس کہ ہم میں بھلائی کرنے یا بلند ہونے کا جذبہ یا استعداد ہے۔ ایوب سے محبت نہ کیجیے یا اُن کی عزت نہ کیجیے تو یہ محسوس ہوتا کہ ہم میں شریفانہ جذبات یا احساسِ ذمے داری کی کمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مدِّنظر رکھیے کہ ایوب صاحب کے دل میں یہ بات کبھی گزری ہی نہیں کہ ان کی خدمات کا صلہ مل رہا ہے یا نہیں۔ معاوضے کا احساس شاید ان میں پیدا ہی نہیں کیا گیا تھا۔ بڑے چھوٹے کی خدمت یکساں لطف و تندہی سے کرتے تھے۔
پرووسٹ¹ کے دفتر میں سب سے اہم عہدہ پر ہونے کے سبب ان کا سابقہ اساتذہ، بیرا، باورچی، نائی، چپراسی، بھنگی، بہشتی سب ہی سے براہِ راست پڑتا تھا۔ طلبہ کو خوش اور مطمئن رکھنا معمولی بات نہیں ہے۔ ان کا ایوب صاحب سے طرح طرح سے سابقہ پڑتا تھا۔ وہ ہر طالب علم کے خاندانی حالات و معاملات سے واقف رہتے تھے اور اسی اعتبار سے اُن سے سلوک کرتے تھے۔ اس لیے ہر طالب علم ان کو اپنے گھر کے بزرگ اور خیر اندیش کی حیثیت سے دیکھتا تھا۔ یونیورسٹی میں اسٹرائیک ہے، لڑکے ہیں کہ بے قابو ہوئے جاتے ہیں لیکن ایوب صاحب کا جادو برابر کام کر رہا ہے۔ ایسے زمانے میں ان کا طرزِ عمل لڑکوں سے وہی ہوتا جو میدانِ جنگ میں صلیبِ احمر کا ہوتا ہے۔
ایوب صاحب یونیورسٹی کے معاملات یا الجھنوں سے ہمیشہ علیحدہ رہتے اور حتیٰ المقدور اپنے دوستوں کو بھی علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس قسم کے مسائل پر انھوں نے مجھ سے گفتگو نہ کی۔ کبھی فرصت ہوتی اور یقین ہوا کہ میں گھبراؤں گا نہیں تو وہ اپنے خاندانی قضیوں کا تذکرہ چھیڑتے اور جو کچھ دل میں ہوتا، بیان کر دیتے۔ میں ان کی الجھنوں کو ہمدردی اور توجہ سے سنتا تو ایسا محسوس کرتے جیسے ان کا جی ہلکا اور ان کے دکھ درد کا مداوا ہو گیا۔ وہ اپنے رشتے داروں سے کچھ بہت زیادہ راضی نہ تھے۔ سب کے سب ایوب صاحب کی شرافت اور کشادہ دلی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے در پے رہتے تھے۔ اس کا انھیں غم تھا اور غم غلط ہی کرنے وہ میرے پاس آیا کرتے تھے۔ ایک دن بہت اداس تھے، آئے تو میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح ان کا جی بہل جائے۔ معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ یک بہ یک آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے پوچھا تو بڑے تامل کے بعد واقعہ سنایا وہی عزیزوں کی دنائت اور شقاوت کا۔ میں نے کہا: ”ایوب صاحب بد دل نہ ہوں، آپ کا کوئی قصور نہیں، قصور ہے تو صرف اتنا کہ آپ خوش حال اور نیک نام کیوں ہیں۔ ہمارے آپ کے اعزہ کے دلوں سے نیکی اور فیاضی اٹھالی گئی ہے۔ اغیار کو تو یہ مسرور اور با فراغت دیکھ کر خوش ہوں گے اور فخر کریں گے، لیکن اپنوں کو کھاتا پیتا یا ہنستا بولتا دیکھ کر غم و غصے کے انگاروں پر لوٹنے لگیں گے۔ یہ اپنے نکمے پن اور بے غیرتی کو اپنی بہت بڑی خوبی اور اپنا حربہ سمجھتے ہیں۔ یہ اپنے کھاتے کماتے عزیز کو غاصب سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ نے اُن نعمتوں پر قبضہ مخالفانہ کر رکھا ہے جو بہ صورتِ دیگر ان کے قبضے میں آتیں۔ وہ کبھی نہ دیکھیں گے کہ وہ خود کتنے ناکارہ اور بے اطمینان ہیں اور جو فراغت،
ناموری اور نیک نامی سے رہ رہا ہے، اس نے کتنی محنت کی ہے اور اذیت اٹھائی ہے۔“
مرحوم اپنے جن بزرگوں یا دوستوں کو عزیز رکھتے تھے، انھیں میرے ہاں ضرور لاتے اور مجھ سے ملا کر بہت خوش ہوتے۔ پھر بڑا اصرار کرتے کہ میں اُن سے اُن کے گھر یا جائے قیام پر جا کر مل آؤں۔ یہی نہیں بلکہ جس کسی کو تکلیف یا مصیبت میں دیکھتے یا اس کے ہاں خوشی کی کوئی بات ہوتی تو مجھے خبر کرتے کہ میں وہاں ہو آؤں۔ میں ایسا کر دیتا تو اُن پر مسرت و شکر گزاری کا عجیب عالم طاری ہوتا۔ ظاہر ہے اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ میری اس بھلمنساہٹ کی لوگ قدر کریں لیکن یہ بات یہیں ختم ہو جاتی۔ واقعہ یہ ہے کہ جس شخص یا بات سے انھیں تقویت یا مسرت پہنچتی تھی، اس میں وہ مجھے بھی شریک کر لینا چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ میں نے ان کے انتخاب کو پسند کر لیا تو اس پر استناد کی مہر لگ گئی۔ تیسرے یہ کہ انھوں نے جس کو مجھ سے ملایا، اس کے ساتھ بہت بڑا سلوک یہ کیا کہ مجھ ایسے (بہ زعمِ خود) معقول آدمی سے اسے متعارف کیا۔ بظاہر یہ باتیں دور از کار اور خود میرے بر خود غلط ہونے پر دال ہیں اور اپنے منہ سے اب اُن کا تذکرہ کرنا میرے لیے بڑی بھدی بات ہے لیکن میں مرحوم کی بعض تحت شعوری سے واقف ہوں۔ ان کا مقصد وہی تھا جو میں نے بیان کیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک لطیفہ سنیے: ایک دن بڑے اصرار سے کہنے لگے کہ رشید صاحب پتلون پہنا کیجیے۔ میں نے کہا آخر کیوں۔ کہنے لگے ہرج ہی کیا ہے۔ میں نے بڑے تعجب سے پوچھا، آخر اس فرمائش کی تُک کیا ہے۔ کہنے لگے کہ جی چاہتا ہے کہ میں پتلون سلوالوں۔ میرے ان کے ایک بے تکلف دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ ردو قدح سنی تو معاملے کی نوعیت دریافت کرنے لگے۔ میں نے بتایا تو اچھل پڑے، کہنے لگے رشید صاحب قیامت تک نہ پہنیے گا۔ اس نے ایک پتلون سلوائی ہے۔ اسے پہننا چاہتا ہے۔ آپ سے ڈرتا ہے۔ اس کی باتوں میں نہ آئیے گا۔ دیکھوں تو کس طرح پہنتا ہے!
سردی کا روز اور دوستوں کا مجمع تھا۔ ہم سب ڈاکٹر عباد الرحمن خاں کے ہاں بیٹھے تھے کہ ایوب مرحوم نے کہا: ”سردی لگ رہی ہے“ کسی نے توجہ نہ کی۔ تھوڑی ہی دیر بعد لیکن کسی قدر بے قرار ہو کر کہا! ”بڑی سردی ہے، رشید صاحب میں چلا۔“ ڈاکٹر عباد نے کہا: ”نہ ٹھکانے سے کھاتے ہو، نہ شریفوں کی طرح رہتے ہو، سردی کیوں نہ لگے۔“ یہ کہہ کر اندر سے اپنا وزنی گرم کوٹ لائے اور مرحوم کو اچھی طرح اوڑھا دیا۔ چائے منگائی اور پلائی۔ اس کے بعد بھی مرحوم نے کہا: ”رشید صاحب میں چلا۔“ میں ان کے لہجے سے اور ان کے چہرے کی طرف دیکھ کر چونکا۔ ہم سب انھیں اوڑھا ڈھکا کر ان کے مکان پر پہنچا آئے۔ صبح سے بخار نے زور پکڑا۔ لاکھ لاکھ جتن کیے گئے لیکن کمزوری بڑھتی ہی گئی۔ دوستوں کی تشویش بڑھی، مایوسی بڑھی اور مرض الموت بڑھا۔ دو تین ہفتے کے اندر سب کچھ ہو گیا۔ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ مرض کیا ہے۔ سب نے یہی فیصلہ کیا کہ وقت آ پہنچا۔
92شام کے قریب نزع کے عالم میں تھے۔ مکان کے باہر یونیورسٹی کے طلبہ اور عمائدین کا مجمع تھا، لیکن ان سے غریب اور ان ہی میں ملا ہوا ایک اور ہجوم تھا۔ بھنگی، بہشتی، چپراسی، نائی، دھوبی، بیرے، باورچی، خانساماں، خوانچے والے اور ان میں سے بہتوں کے بیوی بچے، خاموش، مایوس، سر جھکائے! اور یہ وہ ہجوم تھا جو کسی مرنے والے کے دروازے پر، جب کہ وہ اس جہان سے گزرنے والا ہو، میں نے گذشتہ پچیس سال میں نہیں دیکھا تھا۔
مرحوم کو سپردِ خاک کیا گیا۔ مولانا ابوبکر صاحب نے قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر فرمایا: ”بھائیو! ایوب اپنے پیدا کرنے والے کے ہاں پہنچ گئے۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معاف کر دینا۔“ گریہ سب کے گلو گیر ہوا، کسی نے روکا اور کسی نے نہ روکا! ایک غم نصیب کے قلب کی گہرائیوں سے ایک اور دردناک صدا بلند ہوئی:
”کیا یہاں کوئی ایسا بھی موجود ہے جس پر ایوب کی خدمات کا صلہ واجب الادا نہ ہو؟“ اس آواز کو سنا کسی نے نہیں، محسوس سب نے کیا۔
(گنج ہائے گراں مایہ)
اضافی مطالعاتی مواد (EOLS)
Comments
Post a Comment