Discover a concise and engaging summary of Ibn-e-Insha's famous travelogue "Aik Safarnama Jo Kahin Ka Bhi Nahi Hai" for Class 12 Urdu students. Prepared by Excellence Online Learning School (EOLS), this post covers key humorous highlights, including the Peshawar journey and cultural insights into Afghanistan.
ایک سفرنامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے
ہم نے سفرنامے بہت لکھے ہیں۔ چین و ماچین کے سفرنامے، ایران و تُوران 1 کے سفرنامے، ان جگہوں کے سفرنامے جہاں ہم نہیں گئے اور ان وارداتوں کا چشم دید احوال جو ہم نے نہیں دیکھیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ٹانگیں بے شک دی ہیں لیکن دماغ بھی تو دیا ہے جس کی اہمیت ٹانگوں کے برابر نہ ہو، بہر حال ہے۔
آج کا سفرنامہ ہے تو سفرنامہ لیکن اگر کوئی پوچھے کہ کہاں کا ہے تو بتا بھی نہ سکیں۔ آج صبح ہم کابل کے لیے چلے تھے، لیکن رات ہوگئی ہے اور کابل پہنچے نہیں۔ پہلے راولپنڈی میں لیٹ ہوئے، پھر پشاور سے چلنے میں تعویق ہوئی۔ آخر چلے۔ پائلٹ نے بتایا کہ آپ کے نیچے اس وقت درہ خیبر ہے۔ پھر کہا، یہ داہنی طرف کو جلال آباد کا قصبہ ہے اور ٹیڑھی میڑھی جوئے کم آب دریائے کابل کہلاتا ہے۔ اب آپ حکومتِ افغانستان کے وہ فارم دیکھئے جن میں وطیت قومیت وغیرہ لکھنی ہوتی ہے اور اب صاحبان! (پائلٹ نے کھنکار کر کہا) اب تھوڑی دیر میں ہم پشاور کے ہوائی اڈے پر اترنے والے ہیں کیونکہ کابل گھنگھور بادلوں میں چھپا ہوا ہے۔ وہاں ہم اتر نہیں سکتے۔ امید ہے آپ کا سفر خوشگوار گزرا ہوگا۔
در اصل آثار شروع ہی سے ٹھیک نہیں تھے۔ جب سے کابل جانے کا سنا لوگ ہمیں برابر ڈرا رہے تھے کہ سردی ہے جانا نہیں، مر جاؤ گے۔ مولانا حامد علی خاں نے کہا، میں کابل میں دو دو اوور کوٹ پہن کر بھی یہ محسوس کرتا تھا کہ تنِ زیب کا انگر کھا پہنے ہوئے ہوں۔ حمید اختر نے نصیحت کی کہ جاتے ہی وہاں سے دُگلا نما افغانی کوٹ خرید لینا (ورنہ میں نتائج کا ذمہ دار نہ ہوں گا) ان لوگوں کا ہم ذکر نہیں کرتے جو ہم سے جل کر طعنے تشنے پر اُتر آئے تھے۔ ایک نے تو یہاں تک کہا کہ کیا کابل میں گدھے نہیں ہوتے جو تم وہاں جارہے ہو۔ خیر، فکر ہر کس بقدر ہمتِ اُوست 2۔
ایک جوتا مارکیٹ ہم شرما شرمی میں نہیں گئے، ورنہ کون سی جگہ ہے جہاں سے ہم نے اپنے لیے کپڑے جمع نہیں کیے۔ ہمیں دراصل اوور کوٹ وغیرہ درکار تھے اور کوئی اونی زیرِ جامہ مل جاتا تو سبحان اللہ لیکن ہماری شہرت ایسی خراب ہوئی کہ لوگوں نے قیاس کیا، ہم شاید فلسطین کے مہاجروں یا افغانستان کے پاونڈوں کے لیے کپڑے جمع کر رہے ہیں۔ بعضوں نے اپنے پھٹے ہوئے، گھسے ہوئے کپڑے ہمارے سر منڈھنے کی کوشش کی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر واپس دے گا تو
ڈرائی کلین کرا کے دے گا۔ نہ دے گا تو ہماری جان ان کپڑوں سے چھوٹے گی۔ دونوں صورتوں میں نقصان اسی شخص کا ہے۔ اوور کوٹ ہمارے پاس دو ہو گئے۔ ایک تو آغا جعفری کا عطیہ اتنا خوب صورت اور دیدہ زیب کہ پہننے کو جی نہ چاہے۔ دوسرا حبیب اللہ شہاب کا جو شاید انھوں نے قطبِ شمالی کی مہم کے لیے بنوایا تھا کیونکہ ہم نے اسے پہنا تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ گئے۔ دو آدمیوں نے ہماری بانہوں میں ہاتھ دے کر ہمیں دوبارہ کھڑا کیا اور پھر اسے پہن کر ہم بالکل برفانی ریچھ معلوم ہوتے تھے۔ بس رنگ کا فرق تھا کیونکہ برفانی ریچھ غالباً سفید ہوتا ہے۔ کُلہ و دستار ہم سر پر نہیں رکھتے لیکن اس خاص موقعے کے لیے ایک فیلٹ خریدی، اس کا الٹا سیدھا معلوم کیا۔ لومڑی کی کھال کے دستانے لیے، گلے میں کانگڑی ڈالنے کا بھی خیال تھا لیکن وہ کشمیر کی خاص چیز ہے، ہمارے کراچی میں نہیں ملتی۔
اس سارے ساز و سامان سے لیس ہو کر دمِ تحریر ہم پشاور میں پڑے ہیں۔ یہ ڈین ہوٹل کا کمرہ ۷۴ ہے۔ آتش دان میں آگ دہک رہی ہے۔ جس طرح ہمارے گاؤں کے فتح دین درزی نے کراچی میں ایف۔ ڈین اینڈ سنز ٹیلر اینڈ آؤٹ فٹر ز کے نام سے اپنی دکان لگائی اور چکائی ہے۔ اس سے ہم سمجھتے تھے کہ ڈین ہوٹل بھی کسی احمد دین نور الدین کا ہو گا لیکن ہوٹل کا ناک نقشہ بتاتا ہے کہ یہ واقعی کسی انگریز بہادر کی ملکیت رہا ہے۔ لان کشادہ، احاطہ کشادہ، کمرے کشادہ، ہر چیز کشادہ ہے سوائے مالکوں کے دل کے، کیونکہ ہمارے کمرے میں بجائے غالیچوں کے ان کی کترنیں پڑی ہیں۔ ٹھنڈے کمرے کے فرش پر ان پر پاؤں رکھتے ہوئے یوں گزرنا پڑتا ہے جیسے کیچڑ میں پڑی ہوئی اینٹوں پر بچے بچاتے قدم رکھتے ہوئے چلتے ہیں۔ لاؤنج 1 کے قالین بھی گھسے پٹے ہیں اور عظمتِ رفتہ کی کہانی کہہ رہے ہیں۔ جدید ہوٹلوں کی سی نہ اس میں شان ہے نہ آسائش۔ اپنی عمرِ طبیعی میں سے یہ کچھ ہنس کر گزار چکا ہے اور کچھ رو کر گزار رہا ہے۔ سید محمد جعفری نے جو مصرع پرانے کوٹ کی مدح میں لکھا تھا، ہمیں اس ہوٹل کو دیکھ کر یاد آیا :
ع: کسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہ
باوجود فون کرنے کے کوئی دوست پشاور میں نہ مل سکا لیکن پشاور والوں کی عالی حوصلگی سے ہم کما حقہٗ متاثر ہو چکے ہیں۔ ہمیں پی آئی اے کے دفتر جانا تھا۔ کسی نے بتایا کہ انٹرنیشنل ہوٹل میں ہے۔ ہم نے اپنے ہوٹل کے کاؤنٹ پر جا کر پوچھا کہ کتنی دور ہے یہ جگہ؟ تو کاؤنٹر کلرک نے بتایا کہ جناب بالکل ہمارے پچھواڑے ہے، بس کوئی ایک فرلانگ ہوگی۔ آپ ہوٹل کے دروازے سے نکل کر بڑی سڑک پر آئیے اور بائیں ہاتھ کو چلیے بس سامنے ہی ہے۔
جب ہم اس ہدایت کے مطابق کوئی پون میل کی مسافت طے کر چکے تو ایک صاحب سے پوچھا۔ انھوں نے کہا، پی آئی اے کا دفتر! اجی وہ تو یہ رہا۔ آپ کو اسی راستے پر ایک سینما ملے گا، اس کے بعد بس پی آئی اے کا دفتر ہے اور واقعی اس جگہ سے کوئی آدھ میل آگے ہمیں وہ دفتر مل گیا۔ یہ جگہ واقعی ڈین ہوٹل کے پچھواڑے میں ہے لیکن ایسا ہی ہے جیسے کراچی کے پچھواڑے میں کاٹھیاواڑ ہے اور لاہور کے پچھواڑے میں تبت پڑتا ہے۔
انسان عالی حوصلہ ہو تو اسے میل اور فرسنگ کے فاصلے فرلانگیں اور گرہیں معلوم ہوتے ہیں۔ ہمارا پشاور کی مزید سیر کرنے کا بھی ارادہ تھا لیکن اس ایک مثال سے خائف ہو گئے کیونکہ ہم ان بزرگ سے پوچھتے کہ درہ خیبر کتنی دور ہے تو وہ یقیناً یہی فرماتے کہ بس دومنٹ کا راستہ ہے سیدھے اس سڑک پر چلے جائیے۔ اگلے چوک پر داہنے ہاتھ کو درہ خیبر ہی تو ہے۔
پشاور کے ہوائی اڈے پر ہم نے اپنے ہم سفروں میں ایک ادھیڑ عمر کے بزرگ کو دیکھا کہ لمبی سرخ داڑھی ہے اور سر پر بچھی کھچڑی سے بے نیاز بالوں کا جھاڑ کھڑا ہے۔ تھوڑا لنگڑاتے ہیں اور چھڑی لے کر چلتے ہیں۔ پھول دار واسکٹ پہنے ہوئے تھے یعنی ان کی وضع قطع، سج دھج سب سے الگ تھی۔ ہم پی آئی اے کے کاؤنٹر پر اپنا ٹکٹ دکھا رہے تھے کہ وہ مسکراتے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا۔ تمہارے پاس یہ SAS یعنی سکنڈے نیو ین ایر سروس کا ٹکٹ کہاں سے آ گیا؟ ہم نے بتایا کہ یونیسکو 1 جس کی طرف سے ہم نے یہ سفر اختیار کیا ہے، اس نے پیرس سے اس کا انتظام کیا تھا۔ بولے مجھے یوں جستجو ہوئی کہ میں ڈنمارک کا ہوں اور SAS میرے وطن کی کمپنی ہے۔ اس پر بات چل نکلی۔ ہم نے انھیں بتایا کہ آپ کے وطن کی زیارت بھی ہم کر چکے ہیں۔ کوپن ہیگن کے علاوہ اسی نور 2 بھی گئے تھے۔ جہاں ہملٹ 3 کا قلعہ ہے اور جہاں سے سمندر پار سویڈن نظر آتا ہے۔
بولے، مجھے افسوس ہے کہ میں نے ساری عمر ڈنمارک میں گزار کر السی نور آج تک نہیں دیکھا۔ ہم نے یہ کہہ کر ان کی ڈھارس بندھائی کہ ہم نے بھی کراچی میں آدھی عمر گزار دی ہے لیکن منگھو پیر نہیں گئے۔ زیادہ تفصیل میں ہم نہیں گئے تاکہ ہمارا منگھو پیر ان کے السی نور کے مقابلے میں کچا نہ پڑ جائے۔ یہ ڈاکٹر گلبرگ تھے۔
ڈاکٹر گلبرگ دوادارو والے ڈاکٹر نہیں لیکن نسخوں کے علاوہ کتابیں بھی لکھتے ہیں اور یہی ہماری ان سے دوستی کی وجہ ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کتاب "ایسکیمو ڈاکٹر" برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ کئی ملکوں میں چھپ چکی ہے۔ ہم نے ریڈرز ڈائجسٹ میں اس کا خلاصہ پڑھا تھا اور کچھ کچھ یاد تھا۔ یہ سن کر وہ اور خوش ہوا اور اپنی بی بی سے کہا۔ دیکھو یہ شخص کتنا پڑھا لکھا ہے اس نے غیڈ غ ڈائجسٹ میں میری کتاب کا ذکر پڑھا ہے۔ فرانسیسیوں کی طرح "ر" کا تلفظ وہ ہمیشہ "غ" ہی کرتے رہے۔
ڈاکٹر گلبرگ مہم جو آدمی ہیں۔ برسوں وہ گرین لینڈ جا کر ایسکیموؤں کے ساتھ رہے۔ ان کی زبان اور معاشرت اختیار کی۔ انھی کا سا بے نمک کھانا کھاتے رہے۔ وہی مچھلی، ریچھ کا گوشت وغیرہ، برف کے جھونپڑوں میں قیام کیا اور پھر یہ کتاب لکھی۔ اب میاں بی بی ایشیا اور مشرقِ بعید کے دورے پر نکلے تھے۔ کینیا، ہندوستان، تھائی لینڈ اور نیپال ہوتے ہوئے پاکستان آئے تھے۔ اب کابل اور تہران ہو کر وطن واپسی کا پروگرام تھا۔ ہندوستان سے یہ لوگ ایک شب ٹھہر کر
بھاگے کیونکہ یہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر "جن پتھ" ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ اس روز سادھوؤں اور غیر سادھوؤں کی طرف سے گؤکشی کے معاملے پر خوف ناک مظاہرہ ہوا تھا جس میں جان و مال کا بے حد نقصان ہوا۔ مظاہرین نے مغربی ٹورسٹوں کو بھی جہاں وہ نظر آئے گھیر لیا اور کہا یہ لوگ بھی مسلمانوں سے کم نہیں۔ یہ بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہ خشمگیں مجمعے کے نرغے سے نکل کر ہوٹل واپس پہنچے اور اسی دن نیپال روانہ ہو گئے۔
پاکستانیوں خصوصاً پشاور والوں کے یہ بہت معترف تھے کہ بڑے تپاک اور خلوص سے ملتے ہیں۔ پی آئی اے کی خاص طور پر تعریف کرتے تھے کہ اس کے آدمی بہت خلیق اور متواضع ہیں۔ ہاں اپنے پشاور والے ہوٹل کے نام سے بے مزہ ہوتے تھے۔ کہتے تھے یہ نظر بٹو ہے تاکہ پاکستان کو نظر نہ لگ جائے۔ دیکھو کابل ہوٹل میں یہ چار ڈالر روزانہ کا کتنا اچھا کمرہ ہے۔ اسے گرم رکھنے کا مرکزی نظام بھی ہے۔ قالین، فرنیچر، سروس سبھی کچھ معقول۔ پشاور میں میں تین روز رہا اور اس باوا آدم کے زمانے کے کمرے کے تیرہ ڈالر روزانہ دیتا رہا۔ یہی نہیں ان لوگوں نے پانچ روپے روزانہ اس لکڑی کے بھی مجھ سے وصول کیے جو کمرہ گرم رکھنے یا اس میں دھواں پھیلانے کے لیے روزانہ جلانی پڑتی تھی۔
جاتے ہوئے جن لوگوں نے ہم سے پوچھا تھا کہ کیا کابل میں گدھے نہیں ہوتے؟ ان کی اطلاع کے لیے گزارش ہے کہ ہوتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں۔ یہاں ہمارا مطلب چار ٹانگوں والی ہلا سینگ کی مخلوق سے ہے۔ دو ٹانگوں والے بھی یقیناً ہوں گے ہم نے زیادہ جستجو نہیں کی۔ یہ گدھے وہ تھے جو جو زر نگار پارک کے سامنے قطار در قطار کھڑے تھے اور ان کے پالان سنگتروں سے بھرے تھے۔ یہاں سنگترے تل کر بکتے ہیں۔ ڈاکٹر گلبرگ کی بی بی سنگتروں پر مچل گئیں اور بولیں ان کا بھاؤ پوچھو۔ ہم نے بھاؤ پوچھا: "آغا چند است؟" 1
ایران کی طرح یہاں بھی یہ معلوم ہوا کہ فارسی بولنا آسان ہے۔ سمجھنا مشکل۔ آغا نے جو جواب دیا۔ وہ ہمارے پلے نہ پڑا۔ حالانکہ ہم نے چہ؟ چہ؟ کر کے ایک دو بار وضاحت بھی چاہی۔ ان غیر ملکیوں کو یہ بتانا غیر ضروری تھا کہ یہ گدھے والا ان الفاظ میں ادائے مطلب سے قاصر ہے جو ہماری سمجھ میں آ سکیں۔ لہٰذا ہم نے کہا چھوڑیے بہت مہنگا دیتا ہے لیکن وہ خاتون تھوڑی دور ایک اور گدھے کے پاس مچل گئیں کہ یہاں سے لے لو یہ سستا دے گا۔ ہم نے ایک باٹ کی طرف اشارہ کر کے سنگتروں والے سے کہا کہ آغا بس اس قدر دے دو۔ اس نے تولا تو چار سنگترے پڑے۔ قیمت ہم نے نہ پوچھی کہ افہام و تفہیم میں وقت نہ ہو۔ آخر باہم زبان نہ سمجھنے کا معاملہ ہمارا اور ہمارے افغان بھائیوں کا ہے ڈنمارک والوں کو اس سے کیا مطلب۔ ہم نے دس افغانی کا نوٹ دیا۔ اس نے چار افغانی کاٹ کر باقی ریزگاری ہمیں دے دوی۔ ڈاکٹر گلبرگ اور ان کی بی بی نے ہمارا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس دیارِ غیر میں جہاں ہماری زبان اور انگریزی سمجھنے والا کوئی نہیں، تم ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہم کیا کرتے۔ ہم نے موزوں الفاظ میں کسر نفسی کے بعد کہا کہ خیر انسان، انسان کے کام آتا ہی ہے۔ بنی آدم اعضائے یک دیگر اند 2 وغیرہ
جس کام سے ہم کابل گئے تھے، اس کا تعلق کتابوں سے تھا۔ ہم نے اپنے ایک افغانی دوست سے کہا کہ ہمیں کسی پبلشر سے ملوائیے۔
بولے "یہاں کوئی پبلشر ہی نہیں"
"چھوٹا موٹا تو ہوگا؟"
"نہ چھوٹا نہ موٹا"
"پھر کتب فروش کتابیں کہاں سے لیتے ہیں؟"
"کتب فروش؟ کون سے کتب فروش؟"
ہم نے کہا "بازار میں کتابیں بیچنے والوں سے مطلب ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں پر بھی بک اسٹال ہوتے ہیں۔ کابل قندھار وغیرہ میں ہوں گے ہی، جہاں سے مسافر سفر میں دل بہلانے کے لیے ناول رسالے، جنتریوں وغیرہ خریدتے ہیں۔"
ہمارے دوست نے کسی قدر جھلا ہٹ سے کہا:
"میاں! ہوش کی دوا کرو، کون سے ریلوے اسٹیشن اور کیسی ریلوے؟ تمھیں معلوم ہے افغانستان میں ریلوے نام کی کوئی چیز نہیں یہ شیطانی چرخہ تمھی کو مبارک ہو۔"
تب ہمیں افغانستان کے متعلق وہ مضمون یاد آیا جو ہم نے کابل جانے سے پہلے پڑھا تھا۔ لکھا تھا کہ "ادھر آپ نے درہ خیبر کے پار، افغانستان کی نئی سرزمین میں قدم رکھا، ادھر ایک صدی پیچھے پہنچ گئے۔"
پبلشروں کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ افغانستان میں اس نام کی کوئی مخلوق نہیں۔ حکومت کے محکمے اور ادارے سرکاری مطبوعوں میں کتابیں چھاپتے ہیں۔ ان کی بھی مکمل تعداد پورے ملک میں پانچ ہے۔ پرائیویٹ پریس کوئی نہیں ہے۔ اوّل تو ان حالات میں کوئی شخص کچھ لکھنے کا حوصلہ ہی نہیں کرتا اگر کوئی مرزا غالب یا فیض احمد فیض پیدا ہو بھی جائے تو از راہِ قانون اسے حکومت کو عرضی دینی چاہیے کہ بندے کی یہ تالیف لطیف زیورِ طبع سے آراستہ کی جائے۔ وہ تھوک بجا کر (کسی کام میں جلدی نہیں کی جاتی) دیکھیں گے کہ ہاں کوئی مضائقہ نہیں تو حکم ملے گا کہ اچھا چھاپے دیتے ہیں۔ کاغذ، کتابت، طباعت کے پیسے لاؤ اور جب چھپ جائے تو جہاں جی چاہے، جیسے جی چاہے بیچو۔
مانگ کا حال یہ ہے کہ کچھ کتابیں شائقین خرید لے جاتے ہیں، کچھ بنیا لے جاتا ہے اور اس میں کشمش، چغوزے وغیرہ ڈال کر بیچتا ہے۔ ہمارے انھی دوست نے فرمایا کہ تم جو کچھ بھی کہو۔ اس نظام میں مصلحت یہ ہے کہ لوگ بیہودہ شاعری اور رنگیلے ناولوں وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں۔
ریلوے کی کہانی یہ معلوم ہوئی کہ شاہ امان اللہ خان نے اپنے زمانے میں دارالامان نام کی تازہ بستی بسائی تھی
وہاں تک ریلوے لائن۔۔۔۔۔۔ ریلوے لائن نہ کہیے ٹرالی لائن بچھائی تھی۔ بچہ سقائے 1 نے ان کا تاج و تخت چھینا تو پوچھا یہ کیا چیز ہے؟ چنانچہ فرنگیوں کی بدعت قرار دے کر اکھاڑ پھینکا۔ ہم نے "دارالامان" میں اس کے اکھڑے ہوئے زنگ خوردہ سلیپر اور دو تین ٹوٹی پھوٹی بوگیاں آثارِ صنادید کے طور پر ایک جھونپڑے کے سامنے کھڑی پائیں جو ایک زمانے میں ریلوے اسٹیشن تھا۔
دریائے کابل جو شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے، ہمارے ہوٹل سے کچھ دور نہ تھا۔ دریا لفظ کے استعمال کے لیے ہم دریائے ستلج اور سندھ، دریائے گنگا اور جمنا، دریائے ہوا نگ ہو اور منگسی وغیرہ سے تہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔ کراچی والے دریائے کابل کی وسعت کا اندازہ کرنا چاہیں تو اس گندے نالے کو دیکھ لیں جو نہ جانے کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے لیکن ویمن کالج کے پاس سے گزرتا ہے۔ فرق اس نالے اور دریائے کابل میں یہ ہے کہ اس نالے کا پانی نسبتاً صاف ہے اور اس میں اتنی زیادہ بو نہیں آتی۔ پانی کی مقدار بھی آج کل تو اسی نالے میں زیادہ ہے۔ ہاں گرمیوں میں سنا ہے برف پگھلتی ہے تو دریائے کابل کی ناطاقتی کچھ دور ہو جاتی ہے۔ دیوار پر سے نیچے جھانکیں تو دریا کی غریب نوازی کا نقشہ یہ نظر آتا ہے کہ یہاں ایک بڑھیا کپڑے دھو رہی ہے۔ تھوڑا آگے اس میں بچے نہا بھی رہے ہیں اور آس پاس کے گھر والوں کو بھی کوڑا پھینکنے کا بڑا آرام ہے۔ ٹوکری اٹھائی اور دریا میں جھاڑ دی۔ یہی دریا پیاسوں کی تشنگی بھی رفع کرتا ہے کیونکہ نئے حصہ شہر کو چھوڑ کر پرانے شہر میں گھروں تک پانی کے پائپ لے جانے کا کوئی سلسلہ نہیں۔ ہتھنی والے اور کہیں کہیں دوسرے نلکے البتہ ہیں جن سے محلے والی اپنی باری سے مٹی کے مٹکے اور جھجریں بھر لے جاتے ہیں۔ ان مٹکوں کی وضع قطع کے ظرف ہم نے یا تو عجائب گھروں میں دیکھے یا پھر رباعیاتِ عمر خیام کی بعض تصویروں میں صراحی آپ نے دیکھی ہے؟ ان سے ذرا بڑے ہوتے ہیں، لہٰذا انھیں صراحیا کہہ لیجیے۔ ایک طرف کو پکڑنے کے لیے دستہ بھی لگا دیجیے۔ بے شک اب حکومت پانی پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچانے کا بندوبست کر رہی ہے، لیکن فی الحال تو شہر میں سقوں کا راج ہے۔ ایک سقا تو کچھ دنوں تک ملک کا بادشاہ بھی رہا ہے، لیکن وہ الگ کہانی ہے۔
(دنیا گول ہے)
1۔ وسط ایشیا کا وہ علاقہ جو فریدوں کے بیٹے "تُور" سے منسوب ہونے کی وجہ سے تُوران کہلاتا تھا۔
2۔ ہر شخص کا خیال اس کے ظرف اور حوصلے کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
3۔ LOUNGE (انتظارگاہ)
4۔ UNESCO (United Nations Scientific and Cultural Organization)
5۔ Elsinore Castle | 6۔ Hamlet
7۔ آغا ! اس کا کیا بھاؤ ہے؟ | 8۔ سب انسان ایک دوسرے کے اعضا ہیں۔
9۔ بچہ سقہ: افغانستان کا ایک حکمران جو ماشکی کا بیٹا اور ڈاکو بن گیا تھا اور جس نے شاہ امان اللہ خان سے حکومت چھین لی تھی۔
Comments
Post a Comment