اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
اردو- 11۱۳۷حصہ نظم
سبق: ۲۱
غزل
تدریسی مقاصد:
- طلبہ میں شعر و ادب کی صلاحیت پیدا کرنا۔
- طلبہ میں تخلیقی صلاحیتیں کو ابھارنا۔
- طلبہ کے جذبات کی اصلاح کرنا اور فکری بالیدگی پیدا کرنا۔
- طلبہ میں شعر کی تشریح، تفہیم، تجزیہ اور تنقیدی صلاحیتیں پیدا کرنا۔
- طلبہ کو احمد فراز کی شاعری کے مختلف سماجی، ثقافتی اور سیاسی موضوعات سے آگاہ کرنا۔
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی ، جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھیپابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اُس کی وہ جانے ، اُسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھاتم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
(کلیاتِ احمد فراز)
تعلیمی معاونت (EOLS Resources)
Comments
Post a Comment