اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore Lesson 20 of Class 11 Urdu featuring the famous Ghazal by Munir Niazi. Learn about the poet's life, his unique literary style, and key poetic themes provided by Excellence Online Learning School.
اردو-11 ۱۳۱ حصہ نظم
منیر نیازی
(۱۹۲۸ء - ۲۰۰۶ء)
ممتاز اُردو شاعر منیر نیازی کا پورا نام محمد منیر خان تھا۔ وہ خان پور، ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ صرف دو ماہ کے تھے کہ ان کے والد وفات پا گئے۔ ان کے چچاوں نے ان کی پرورش کی ذمہ داری نبھائی۔ سات سال کی عمر تک خان پور میں رہے اور پھر خاندان کے همراہ خان پور چھوڑ کر ساہیوال چلے آئے۔
منیر نیازی نے پرائمری تعلیم ساہیوال میں حاصل کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول ساہیوال میں داخلہ لیا اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ کچھ عرصہ فوج میں ملازمت کی لیکن بوجوہ ملازمت جاری نہ رکھ سکے۔
تعلیمی سلسلہ کا دوبارہ آغاز کیا اور بہاول پور سے ایف۔اے پاس کیا۔ بعد ازاں دیال سنگھ کالج لاہور میں داخلہ لیا لیکن قیام پاکستان کے پُر آشوب حالات میں تعلیمی سلسلہ ایسا منقطع ہوا کہ پھر جُڑ نہ سکا۔ ساہیوال میں ایک اشاعتی ادارے ’’اردو ٹنگ پبلشرز‘‘ کی بنیاد رکھی لیکن مالی معاملات کی وجہ سے ادارہ بند ہو گیا۔ شہر میں مجید امجد، انجم رومانی اور صدیق کلیم جیسے شعرا و ادبا سے روابط قائم ہوئے۔ مجید امجد نے ان پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کیے۔ لاہور میں آئے تو ان کی شاعری کی خوش بو پھیلتی چلی گئی۔ وہ حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری بھی رہے۔ لاہور میں ایک اشاعتی ادارہ ’’التمثال‘‘ قائم کیا لیکن چند کتابیں شائع کر کے بند کرنا پڑا۔
انھوں نے تمام عمر شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ کچھ فلموں کے گیت بھی لکھے۔ ان کے گیارہ اُردو اور تین پنجابی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
’’تیز ہوا اور تنہا پھول‘‘، ’’جنگل میں دھنک‘‘، ’’دشمنوں کے درمیان شام‘‘، ’’آغازِ زمستاں میں دوبارہ‘‘، ’’اس بے وفا کا شہر‘‘ شامل ہیں جب کہ ’’تمام کلام‘‘ کلیاتِ منیر نیازی‘‘ کی صورت میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں پنجابی شاعری میں ’’سفر دی رات‘‘، ’’رستہ دسن والے تارے‘‘، ’’چار چپ چیزاں‘‘ شامل ہیں۔
۱۹۹۲ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور کمالِ فن ایوارڈ سے جب کہ ۲۰۰۵ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
اردو-11۱۳۲ حصہ نظم
سبق :۲۰
غزل
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو منیر نیازی کی غزل میں پوشیدہ جذبات، احساسات اور تجربات سے متعارف کرانا۔
- غزل اور غزل کی فکری و فنی لوازمات کے بارے میں روشناس کرانا۔
- منیر نیازی کی غزل کے تجزیے اور تشریح کے ذریعے طلبہ کی تخلیقی سوچ اور تخیل کو ترقی دینا۔
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی، دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا، خوش بُو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے، مہکائے ہوئے رہنا
اُس حسن کا شیوہ ہے، جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا، کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا
(کلیات منیر نیازی)
ای لرننگ وسائل (EOLS)
اضافی مطالعہ اور ویڈیوز کے لیے درج ذیل لنکس ملاحظہ فرمائیں:
Comments
Post a Comment