اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Detailed study material for Class 11 Urdu Lesson 14 'O Des Se Ane Wale Bata'. Learn about Akhtar Sheerani's romantic poetry and the theme of patriotism with EOLS.
اردو - 11 | حصہ نظم
سبق: ۱۴
او دیس سے آنے والے بتا!
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو اختر شیرانی کی شخصیت اور فن سے متعارف کرانا۔
- طلبہ میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا۔
- طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو جلا بخشنا۔
- اُردو ادب میں رومانوی تحریک کے آغاز اور ارتقا کے بارے میں بتانا۔
او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن
آوارۂ غربت کو بھی سنا کس رنگ میں ہے کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن، فردوسِ وطن، وہ سروِ وطن، ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں مستانہ ہوائیں آتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کے پربت پر گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کی برکھا ئیں ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی سرمست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں احباب، کنارہِ دریا پر
وہ پیڑ گھنیرے اب بھی ہیں شاداب، کنارہِ دریا پر
اور پیار سے آکر جھانکتا ہے مہتاب، کنارہِ دریا پر
او دیس سے آنے والے بتا!
کیا اب بھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ، بتا
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی آہ، بتا
او دیس سے آنے والے بتا، اللہ بتا، للہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا!
(کلیاتِ اختر شیرانی)
Comments
Post a Comment