Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Virtues of Umar bin Abdul Aziz Class 12 Urdu Lesson 1 Notes

 

Class 12 Urdu Lesson 1 notes, Manaqib-e-Umar bin Abdul Aziz summary, Shibli Nomani Urdu prose, 12th class Urdu guide Punjab Board, Umar bin Abdul Aziz justice stories Urdu, Excellence Online Learning School Urdu, Hissa e Nasar Lesson 1, 2nd year Urdu chapter 1 notes, Umar bin Abdul Aziz history in Urdu, Shibli Nomani books summary.

Explore the key highlights of Class 12 Urdu Lesson 1 'Manaqib-e-Umar bin Abdul Aziz' by Shibli Nomani. Learn about his justice, equality, and simplicity. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).

اردو (لازمی)
جماعت: بارہویں
سبق نمبر: 01
نثر
سبق نمبر 1

مناقب عمر بن عبدالعزیزؒ

علامہ شبلی نعمانی

حاصلاتِ تعلم
  • طلبہ کو علامہ شبلی نعمانی کے اسلوبِ نگارش سے روشناس کرانا۔
  • حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے عدل و انصاف اور طرزِ حکومت سے آگاہی فراہم کرنا۔
  • اسلامی تاریخ کے درخشندہ پہلوؤں اور مساوات کے تصور کو اجاگر کرنا۔

علامہ ابن جوزی نے جو مشہور محدث گزرے ہیں، حضرت عمر فاروقؓ اور عمر بن عبدالعزیزؒ کے حالات میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ’’سیرت العمرین‘‘ رکھا تھا۔ ہم نے یہ کتاب مصر میں کتب خانہ خدیویہ میں دیکھی تھی جس سے ’’الفاروق‘‘ کے لیے بہت سے مفید معلومات انتخاب کیے تھے۔ علامہ موصوف نے اس کتاب میں صرف ان باتوں کو لیا ہے جو زیادہ تر ان کے اخلاق اور عدل و انصاف سے واسطہ رکھتی ہیں۔ چنانچہ ہم چند واقعات کو اس موقع پر نقل کرتے ہیں۔ ان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے واقعات اور حالات میں سب سے زیادہ جو چیز قابل لحاظ ہے وہ غیر مذہب والوں کے ساتھ ان کا طرزِ عمل ہے۔ عمر بن عبدالعزیز مذہب کی مجسم تصویر تھے۔ مذہبی حیثیت سے ان کو ’’عمرِ ثانی‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ اس لیے غیر مذہب والوں کے ساتھ ان کا جو طرزِ عمل تھا وہ ان کی شخصی حالت نہیں بلکہ مذہبِ اسلام کا اصلی طرزِ عمل ہے۔ ان واقعات میں سے ہم ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔

عمر بن عبدالعزیز مذہب کی مجسم تصویر تھے۔ مذہبی حیثیت سے ان کو ’’عمرِ ثانی‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔

ایک دن عمر بن عبدالعزیز مسندِ خلافت پر متمکن تھے۔ ایک عیسائی نے، جو حمص کا رہنے والا تھا، دربار میں آ کر یہ شکایت کی کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے بیٹے عباس نے میری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف دیکھا. عباس نے کہا، یہ زمین مجھ کو خلیفہ ولید نے بطورِ جاگیر عنایت کی تھی، چنانچہ اس کی تحریری سند میرے پاس موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عیسائی کی طرف مخاطب ہو کر کہا، تم کیا جواب دیتے ہو؟ اس نے کہا، امیر المومنین! میں خدا کی تحریر (قرآن مجید) کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف مخاطب ہو کر کہا، عباس! خدا کی تحریر تیرے باپ (ولید بن عبدالملک) کی تحریر پر مقدم ہے۔ یہ کہہ کر وہ زمین عباس کے قبضے سے نکال کر عیسائی کو دلا دی۔

ان کا ایک اور کارنامہ جو نہایت قابلِ قدر ہے، سلاطین بنی امیہ کی ناجائز کارروائیوں کا مٹانا تھا۔ سلاطین بنی امیہ نے ملک کا بڑا حصہ، جو زمینداری کی حیثیت سے رعایا کے قبضے میں تھا، اپنے خاندان کے ممبروں کو جاگیر میں دے دیا تھا۔ جس طرح سلاطین تیموریہ کے زمانے میں بڑے بڑے صوبے شہزادوں کی جاگیر میں دے دیے جاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز تختِ خلافت پر بیٹھے تو سب سے پہلے ان کو اس کا خیال ہوا، لیکن ایسا کرنا تمام خاندانِ خلافت کو دشمن بنا لینا تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔

اول اول جب انھوں نے یہ ارادہ کیا تو تمام خاندان نے اُمِ عمرو کو، جو عمر بن عبدالعزیز کی پھوپھی تھیں، سفیر مقرر کر کے بھیجا۔ انھوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس جا کر کہا کہ تمام خاندان برہم ہے اور مجھ کو ڈر ہے کہ عام بغاوت نہ ہو جائے اور لوگ ہنگامہ نہ کر دیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، میں قیامت کے سوا اور کسی دن سے نہیں ڈرتا۔ وہ مایوس ہو کر چلی آئیں۔

خود عمر بن عبدالعزیز کے قبضے میں بھی اسی قسم کی جاگیریں تھیں جو ان کے خاندان کو بنو امیہ کی طرف سے عنایت ہوئی تھیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے جب ان جاگیروں کا فیصلہ کرنا چاہا تو بڑے بڑے مذہبی علما یعنی مکحول، میمون بن مہران اور ابو قلابہ کو بلایا اور کہا کہ ان جاگیروں کی نسبت آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ مکحول نے دب کر جواب دیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے میمون کی طرف رخ کیا کہ تم خدا لگتی کہو۔ انھوں نے کہا اپنے صاحبزادے عبدالملک کو بلا لیجیے۔ وہ آئے تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا کیوں عبدالملک! اس معاملے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا، سب واپس کر دینی چاہییں ورنہ آپ کا شمار بھی انھی ظالموں اور غاصبوں میں ہوگا۔

عمر بن عبدالعزیز نے اپنے غلام سے، جن کا نام مزاحم تھا اور جن کو وہ بہت مانتے تھے، کہا کہ لوگوں نے جو زمینیں ہم کو دیں، نہ وہ اس کے دینے کے مجاز تھے، نہ ہم کو ان کے لینے کا حق تھا۔ تمھاری کیا رائے ہے؟ مزاحم نے کہا، امیر المومنین! آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کے بال بچے کتنے ہیں یعنی ان کا گزر کیوں کر ہوگا؟ عمر بن عبدالعزیز کے آنسو نکل آئے اور کہا، ان کا مالک خدا ہے۔ یہ کہہ کر گھر میں چلے گئے۔ مزاحم وہاں سے اٹھ کر عبدالملک (فرزند عمر عبدالعزیز) کے پاس گئے اور کہا بڑا غضب ہوا چاہتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز تمام خاندانی جاگیروں سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں لیکن میں نے ان سے کہا کہ اپنی اولاد کا لحاظ کر لیجیے۔ عبدالملک نے کہا، استغفر اللہ تم نے بہت بری رائے دی۔ یہ کہہ کر عبدالملک عمر بن عبدالعزیز کے پاس گئے۔ وہ اس وقت خوابِ راحت میں تھے۔ پہرے والے نے کہا کہ تم لوگ امیر المومنین پر رحم نہیں کرتے۔ دن بھر میں ایک لحظہ تو ان کو آرام لینے دو۔ عبدالملک نے کہا، تو جا کر ان سے کہہ تو سہی۔

عمر بن عبدالعزیز کے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ عبدالملک کو اندر بلا لیا اور کہا جانِ پدر! یہ کون سا ملاقات کا وقت ہے؟ انھوں نے واقعہ بیان کیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، میں نمازِ ظہر کے بعد منبر پر چڑھ کر اس کا اعلان کر دوں گا۔ عبدالملک نے کہا، اس کا کون ذمہ دار ہے کہ آپ اس وقت تک زندہ رہیں گے۔ غرض اسی وقت عمر بن عبدالعزیز باہر آئے، شہر میں منادی کرا دی گئی کہ لوگ مسجد میں جمع ہوں۔ عمر بن عبدالعزیز نے منبر پر چڑھ کر کہا، صاحبو! میں ان تمام زمینوں کو، جو لوگوں نے ہمارے خاندان کو دی تھیں، واپس کرتا ہوں کیوں کہ دینے والوں کو نہ دینے کا حق تھا، نہ ہم کو لینے کا۔ یہ کہہ کر جاگیرات کی جو سندیں تھیں، صندوق سے نکلوائیں اور قینچی سے کتر کتر کر ان کو پھینکنا شروع کیا۔ یہ جاگیریں کچھ یمن میں تھیں، کچھ یمامہ میں تھیں، چنانچہ سب سے پہلے ان زمینوں سے دست برداری ظاہر کی۔

عمر بن عبدالعزیز کو تمام خاندان میں ابن سلیمان سے بہت محبت تھی۔ وہ اپنی جاگیر کی سند لے کر آئے کہ میری زمین آپ کیوں چھینتے ہیں؟ فرمایا کہ پہلے یہ زمین کس کے قبضے میں تھی؟ بولے کہ حجاج کے۔ فرمایا تو حجاج کی اولاد کا حق ہے تم کون ہوتے ہو؟ ابن سلیمان نے کہا، اصل میں یہ زمین عام مسلمانوں کی تھی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا تو عام مسلمانوں کو ملنی چاہیے۔ ابن سلیمان رونے لگے۔ مزاحم نے کہا امیر المومنین! آپ ابن سلیمان کے ساتھ یہ برتاؤ کرتے ہیں! فرمایا، ہاں میں ابن سلیمان کو اپنے بیٹے کے برابر چاہتا ہوں لیکن میں خود اپنے نفس کے ساتھ یہی برتاؤ کرتا ہوں۔

بنو امیہ کے دفترِ اعمال میں سب سے زیادہ قوم کو برباد کرنے والا یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے آزادی اور حق گوئی کا استیصال کر دیا تھا۔ عبدالملک نے تخت پر بیٹھ کر حکم دیا تھا کہ کوئی شخص میری کسی بات پر روک ٹوک نہ کرنے پائے اور جو شخص ایسا کرے گا سزا پائے گا، اگرچہ اس پر بھی آزادی پسند عرب کی زبانیں بند نہ ہوئیں تاہم بہت کچھ فرق آ گیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس بدعت کو بالکل مٹا دیا۔ دو نہایت متدین اور راست باز شخص اس کام پر مقرر کیے کہ عدالت کے وقت ان کے پاس موجود رہیں اور ان سے جو غلطی سرزد ہو فوراً ٹوک دیں۔ ان کے اس طرزِ عمل سے لوگوں کو عام طور پر جرات ہو گئی تھی اور لوگ نہایت بے باکی سے ان کے اقوال و افعال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔

محدث ابن جوزی نے بہ سند یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک جو خاندان بنی امیہ کا دست و بازو تھا، نے ایک گرجا کے متولیوں کے مقابلے میں دعویٰ دائر کیا۔ فریقِ مقدمہ جو عیسائی تھے اجلاس میں حسبِ قاعدہ کھڑے تھے لیکن مسلمہ کو چونکہ خاندانی زعم تھا اس لیے بیٹھ کر گفتگو کرتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا تمھارا فریقِ مقدمہ کھڑا ہے اس لیے تم بیٹھ نہیں سکتے، تم بھی اس کے برابر کھڑے ہو جاؤ یا کسی اور کو مقرر کرو جو تمھاری طرف سے مقدمے کی پیروی کرے۔ مقدمے کا فیصلہ بھی مسلمہ کے خلاف کیا یعنی زمین متنازعہ گرجا کے متولیوں کو دلا دی۔

عمر بن عبدالعزیز اکثر عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاں مہمان ہوتے تھے لیکن ان کے کھانے کی قیمت دے دیا کرتے تھے۔ وفات کے وقت اپنے مقبرے کے لیے جو زمین پسند کی وہ ایک عیسائی کی تھی۔ اس کو بلا کر خریدنا چاہا۔ اس نے کہا، امیر المومنین! قیمت کی ضرورت نہیں، ہمارے لیے تو یہ امر برکت کا باعث ہوگا لیکن انھوں نے نہ مانا اور تیس دینار دے کر وہ زمین خرید لی۔

عمر بن عبدالعزیز کی حکومت و سلطنت کا اصل اصول مساوات اور جمہوریت تھا۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ یکساں حقوق رکھتے ہیں اور بادشاہ کو کسی پر کسی قسم کی ترجیح حاصل نہیں۔ صرف ملکی امور میں نہیں بلکہ معاشرت اور ذاتی زندگی میں بھی عمر بن عبدالعزیز اس کا لحاظ رکھتے تھے۔ ان کے کھانے کا یہ طریقہ تھا کہ عام مسلمانوں کے لیے جو لنگر خانہ تھا اس میں ایک درہم روز بھیج دیا کرتے تھے اور وہیں جا کر عام مسلمانوں کے ساتھ کھا لیتے تھے۔

ایک دفعہ رات کے وقت مسجد میں گئے۔ ایک شخص مسجد کے صحن میں لیٹا ہوا تھا۔ اتفاق سے عمر بن عبدالعزیز کے پاؤں کی ٹھوکر اس کو لگی۔ اس نے جھلا کر کہا، کیا تو پاگل ہے؟ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ نہیں۔ پولیس کے آدمی موجود تھے، انھوں نے اس شخص کو گستاخی کی سزا دینی چاہی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، کیوں اس نے کیا گناہ کیا ہے؟ اس نے تو صرف استفسار کیا تھا کیا تم پاگل ہو؟ میں نے کہہ دیا نہیں۔

عمر بن عبدالعزیز جب مرنے لگے تو مسلمہ بن عبدالملک نے کہا کہ وصیت کر جائیے۔ کہا میرے پاس کیا ہے جس کی وصیت کروں۔ مسلمہ نے کہا: میں ابھی لاکھ دینار بھیجے دیتا ہوں جس کو چاہیں اس میں سے وصیت کیجیے۔ فرمایا کہ اس سے تو یہ بہتر ہے کہ یہ رقم جن لوگوں سے وصول کی ہے ان کو واپس دے دو۔ مسلمہ یہ سن کر بے اختیار رو پڑے۔

اس سلسلے میں یہ امر بیان کرنے کے قابل ہے کہ خلفائے بنی امیہ کی دولت مندی کا یہ حال تھا کہ جب ہشام بن عبدالملک نے وفات پائی تو اس کے ترکے میں سے صرف اولادِ ذکور کو جس قدر نقدی رقم وراثت میں ملی اس کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ دینار تھی۔ لیکن عمر بن عبدالعزیز نے جب وفات پائی تو کل سترہ دینار چھوڑے، جن میں سے تجہیز و تکفین کے مصارف ادا کرنے کے بعد دس دینار بچے جو ورثا پر تقسیم ہوئے۔ غرض عمر بن عبدالعزیز کی خلافت اور سلطنت ٹھیک اسی اصول کا نمونہ تھی جو اسلام نے قائم کیا تھا۔

مشکل الفاظ کے معنی
متمکنبیٹھا ہوا / قائم
استیصالجڑ سے اکھاڑنا / مٹانا
تجہیز و تکفینکفن دفن کا انتظام
مقدمترجیح / پہلے
مجسمجیتی جاگتی تصویر
دست بردارحق چھوڑ دینا
اہم نکات (خلاصہ)
  • حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو ان کے عدل کی بنا پر "عمرِ ثانی" کہا جاتا ہے۔
  • آپ نے بنی امیہ کی ناجائز جاگیریں ان کے اصل مالکان یا بیت المال کو واپس کیں۔
  • غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک آپ کا طرہ امتیاز تھا۔
  • آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور جمہوریت کی اعلیٰ مثال تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...