Explore the key highlights of Class 12 Urdu Lesson 1 'Manaqib-e-Umar bin Abdul Aziz' by Shibli Nomani. Learn about his justice, equality, and simplicity. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).
مناقب عمر بن عبدالعزیزؒ
علامہ شبلی نعمانی
- طلبہ کو علامہ شبلی نعمانی کے اسلوبِ نگارش سے روشناس کرانا۔
- حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے عدل و انصاف اور طرزِ حکومت سے آگاہی فراہم کرنا۔
- اسلامی تاریخ کے درخشندہ پہلوؤں اور مساوات کے تصور کو اجاگر کرنا۔
علامہ ابن جوزی نے جو مشہور محدث گزرے ہیں، حضرت عمر فاروقؓ اور عمر بن عبدالعزیزؒ کے حالات میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ’’سیرت العمرین‘‘ رکھا تھا۔ ہم نے یہ کتاب مصر میں کتب خانہ خدیویہ میں دیکھی تھی جس سے ’’الفاروق‘‘ کے لیے بہت سے مفید معلومات انتخاب کیے تھے۔ علامہ موصوف نے اس کتاب میں صرف ان باتوں کو لیا ہے جو زیادہ تر ان کے اخلاق اور عدل و انصاف سے واسطہ رکھتی ہیں۔ چنانچہ ہم چند واقعات کو اس موقع پر نقل کرتے ہیں۔ ان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے واقعات اور حالات میں سب سے زیادہ جو چیز قابل لحاظ ہے وہ غیر مذہب والوں کے ساتھ ان کا طرزِ عمل ہے۔ عمر بن عبدالعزیز مذہب کی مجسم تصویر تھے۔ مذہبی حیثیت سے ان کو ’’عمرِ ثانی‘‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ اس لیے غیر مذہب والوں کے ساتھ ان کا جو طرزِ عمل تھا وہ ان کی شخصی حالت نہیں بلکہ مذہبِ اسلام کا اصلی طرزِ عمل ہے۔ ان واقعات میں سے ہم ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔
ایک دن عمر بن عبدالعزیز مسندِ خلافت پر متمکن تھے۔ ایک عیسائی نے، جو حمص کا رہنے والا تھا، دربار میں آ کر یہ شکایت کی کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے بیٹے عباس نے میری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف دیکھا. عباس نے کہا، یہ زمین مجھ کو خلیفہ ولید نے بطورِ جاگیر عنایت کی تھی، چنانچہ اس کی تحریری سند میرے پاس موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عیسائی کی طرف مخاطب ہو کر کہا، تم کیا جواب دیتے ہو؟ اس نے کہا، امیر المومنین! میں خدا کی تحریر (قرآن مجید) کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف مخاطب ہو کر کہا، عباس! خدا کی تحریر تیرے باپ (ولید بن عبدالملک) کی تحریر پر مقدم ہے۔ یہ کہہ کر وہ زمین عباس کے قبضے سے نکال کر عیسائی کو دلا دی۔
ان کا ایک اور کارنامہ جو نہایت قابلِ قدر ہے، سلاطین بنی امیہ کی ناجائز کارروائیوں کا مٹانا تھا۔ سلاطین بنی امیہ نے ملک کا بڑا حصہ، جو زمینداری کی حیثیت سے رعایا کے قبضے میں تھا، اپنے خاندان کے ممبروں کو جاگیر میں دے دیا تھا۔ جس طرح سلاطین تیموریہ کے زمانے میں بڑے بڑے صوبے شہزادوں کی جاگیر میں دے دیے جاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز تختِ خلافت پر بیٹھے تو سب سے پہلے ان کو اس کا خیال ہوا، لیکن ایسا کرنا تمام خاندانِ خلافت کو دشمن بنا لینا تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔
اول اول جب انھوں نے یہ ارادہ کیا تو تمام خاندان نے اُمِ عمرو کو، جو عمر بن عبدالعزیز کی پھوپھی تھیں، سفیر مقرر کر کے بھیجا۔ انھوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس جا کر کہا کہ تمام خاندان برہم ہے اور مجھ کو ڈر ہے کہ عام بغاوت نہ ہو جائے اور لوگ ہنگامہ نہ کر دیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، میں قیامت کے سوا اور کسی دن سے نہیں ڈرتا۔ وہ مایوس ہو کر چلی آئیں۔
خود عمر بن عبدالعزیز کے قبضے میں بھی اسی قسم کی جاگیریں تھیں جو ان کے خاندان کو بنو امیہ کی طرف سے عنایت ہوئی تھیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے جب ان جاگیروں کا فیصلہ کرنا چاہا تو بڑے بڑے مذہبی علما یعنی مکحول، میمون بن مہران اور ابو قلابہ کو بلایا اور کہا کہ ان جاگیروں کی نسبت آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ مکحول نے دب کر جواب دیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے میمون کی طرف رخ کیا کہ تم خدا لگتی کہو۔ انھوں نے کہا اپنے صاحبزادے عبدالملک کو بلا لیجیے۔ وہ آئے تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا کیوں عبدالملک! اس معاملے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا، سب واپس کر دینی چاہییں ورنہ آپ کا شمار بھی انھی ظالموں اور غاصبوں میں ہوگا۔
عمر بن عبدالعزیز نے اپنے غلام سے، جن کا نام مزاحم تھا اور جن کو وہ بہت مانتے تھے، کہا کہ لوگوں نے جو زمینیں ہم کو دیں، نہ وہ اس کے دینے کے مجاز تھے، نہ ہم کو ان کے لینے کا حق تھا۔ تمھاری کیا رائے ہے؟ مزاحم نے کہا، امیر المومنین! آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کے بال بچے کتنے ہیں یعنی ان کا گزر کیوں کر ہوگا؟ عمر بن عبدالعزیز کے آنسو نکل آئے اور کہا، ان کا مالک خدا ہے۔ یہ کہہ کر گھر میں چلے گئے۔ مزاحم وہاں سے اٹھ کر عبدالملک (فرزند عمر عبدالعزیز) کے پاس گئے اور کہا بڑا غضب ہوا چاہتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز تمام خاندانی جاگیروں سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں لیکن میں نے ان سے کہا کہ اپنی اولاد کا لحاظ کر لیجیے۔ عبدالملک نے کہا، استغفر اللہ تم نے بہت بری رائے دی۔ یہ کہہ کر عبدالملک عمر بن عبدالعزیز کے پاس گئے۔ وہ اس وقت خوابِ راحت میں تھے۔ پہرے والے نے کہا کہ تم لوگ امیر المومنین پر رحم نہیں کرتے۔ دن بھر میں ایک لحظہ تو ان کو آرام لینے دو۔ عبدالملک نے کہا، تو جا کر ان سے کہہ تو سہی۔
عمر بن عبدالعزیز کے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ عبدالملک کو اندر بلا لیا اور کہا جانِ پدر! یہ کون سا ملاقات کا وقت ہے؟ انھوں نے واقعہ بیان کیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، میں نمازِ ظہر کے بعد منبر پر چڑھ کر اس کا اعلان کر دوں گا۔ عبدالملک نے کہا، اس کا کون ذمہ دار ہے کہ آپ اس وقت تک زندہ رہیں گے۔ غرض اسی وقت عمر بن عبدالعزیز باہر آئے، شہر میں منادی کرا دی گئی کہ لوگ مسجد میں جمع ہوں۔ عمر بن عبدالعزیز نے منبر پر چڑھ کر کہا، صاحبو! میں ان تمام زمینوں کو، جو لوگوں نے ہمارے خاندان کو دی تھیں، واپس کرتا ہوں کیوں کہ دینے والوں کو نہ دینے کا حق تھا، نہ ہم کو لینے کا۔ یہ کہہ کر جاگیرات کی جو سندیں تھیں، صندوق سے نکلوائیں اور قینچی سے کتر کتر کر ان کو پھینکنا شروع کیا۔ یہ جاگیریں کچھ یمن میں تھیں، کچھ یمامہ میں تھیں، چنانچہ سب سے پہلے ان زمینوں سے دست برداری ظاہر کی۔
عمر بن عبدالعزیز کو تمام خاندان میں ابن سلیمان سے بہت محبت تھی۔ وہ اپنی جاگیر کی سند لے کر آئے کہ میری زمین آپ کیوں چھینتے ہیں؟ فرمایا کہ پہلے یہ زمین کس کے قبضے میں تھی؟ بولے کہ حجاج کے۔ فرمایا تو حجاج کی اولاد کا حق ہے تم کون ہوتے ہو؟ ابن سلیمان نے کہا، اصل میں یہ زمین عام مسلمانوں کی تھی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا تو عام مسلمانوں کو ملنی چاہیے۔ ابن سلیمان رونے لگے۔ مزاحم نے کہا امیر المومنین! آپ ابن سلیمان کے ساتھ یہ برتاؤ کرتے ہیں! فرمایا، ہاں میں ابن سلیمان کو اپنے بیٹے کے برابر چاہتا ہوں لیکن میں خود اپنے نفس کے ساتھ یہی برتاؤ کرتا ہوں۔
بنو امیہ کے دفترِ اعمال میں سب سے زیادہ قوم کو برباد کرنے والا یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے آزادی اور حق گوئی کا استیصال کر دیا تھا۔ عبدالملک نے تخت پر بیٹھ کر حکم دیا تھا کہ کوئی شخص میری کسی بات پر روک ٹوک نہ کرنے پائے اور جو شخص ایسا کرے گا سزا پائے گا، اگرچہ اس پر بھی آزادی پسند عرب کی زبانیں بند نہ ہوئیں تاہم بہت کچھ فرق آ گیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس بدعت کو بالکل مٹا دیا۔ دو نہایت متدین اور راست باز شخص اس کام پر مقرر کیے کہ عدالت کے وقت ان کے پاس موجود رہیں اور ان سے جو غلطی سرزد ہو فوراً ٹوک دیں۔ ان کے اس طرزِ عمل سے لوگوں کو عام طور پر جرات ہو گئی تھی اور لوگ نہایت بے باکی سے ان کے اقوال و افعال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔
محدث ابن جوزی نے بہ سند یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک جو خاندان بنی امیہ کا دست و بازو تھا، نے ایک گرجا کے متولیوں کے مقابلے میں دعویٰ دائر کیا۔ فریقِ مقدمہ جو عیسائی تھے اجلاس میں حسبِ قاعدہ کھڑے تھے لیکن مسلمہ کو چونکہ خاندانی زعم تھا اس لیے بیٹھ کر گفتگو کرتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا تمھارا فریقِ مقدمہ کھڑا ہے اس لیے تم بیٹھ نہیں سکتے، تم بھی اس کے برابر کھڑے ہو جاؤ یا کسی اور کو مقرر کرو جو تمھاری طرف سے مقدمے کی پیروی کرے۔ مقدمے کا فیصلہ بھی مسلمہ کے خلاف کیا یعنی زمین متنازعہ گرجا کے متولیوں کو دلا دی۔
عمر بن عبدالعزیز اکثر عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاں مہمان ہوتے تھے لیکن ان کے کھانے کی قیمت دے دیا کرتے تھے۔ وفات کے وقت اپنے مقبرے کے لیے جو زمین پسند کی وہ ایک عیسائی کی تھی۔ اس کو بلا کر خریدنا چاہا۔ اس نے کہا، امیر المومنین! قیمت کی ضرورت نہیں، ہمارے لیے تو یہ امر برکت کا باعث ہوگا لیکن انھوں نے نہ مانا اور تیس دینار دے کر وہ زمین خرید لی۔
عمر بن عبدالعزیز کی حکومت و سلطنت کا اصل اصول مساوات اور جمہوریت تھا۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ یکساں حقوق رکھتے ہیں اور بادشاہ کو کسی پر کسی قسم کی ترجیح حاصل نہیں۔ صرف ملکی امور میں نہیں بلکہ معاشرت اور ذاتی زندگی میں بھی عمر بن عبدالعزیز اس کا لحاظ رکھتے تھے۔ ان کے کھانے کا یہ طریقہ تھا کہ عام مسلمانوں کے لیے جو لنگر خانہ تھا اس میں ایک درہم روز بھیج دیا کرتے تھے اور وہیں جا کر عام مسلمانوں کے ساتھ کھا لیتے تھے۔
ایک دفعہ رات کے وقت مسجد میں گئے۔ ایک شخص مسجد کے صحن میں لیٹا ہوا تھا۔ اتفاق سے عمر بن عبدالعزیز کے پاؤں کی ٹھوکر اس کو لگی۔ اس نے جھلا کر کہا، کیا تو پاگل ہے؟ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ نہیں۔ پولیس کے آدمی موجود تھے، انھوں نے اس شخص کو گستاخی کی سزا دینی چاہی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، کیوں اس نے کیا گناہ کیا ہے؟ اس نے تو صرف استفسار کیا تھا کیا تم پاگل ہو؟ میں نے کہہ دیا نہیں۔
عمر بن عبدالعزیز جب مرنے لگے تو مسلمہ بن عبدالملک نے کہا کہ وصیت کر جائیے۔ کہا میرے پاس کیا ہے جس کی وصیت کروں۔ مسلمہ نے کہا: میں ابھی لاکھ دینار بھیجے دیتا ہوں جس کو چاہیں اس میں سے وصیت کیجیے۔ فرمایا کہ اس سے تو یہ بہتر ہے کہ یہ رقم جن لوگوں سے وصول کی ہے ان کو واپس دے دو۔ مسلمہ یہ سن کر بے اختیار رو پڑے۔
اس سلسلے میں یہ امر بیان کرنے کے قابل ہے کہ خلفائے بنی امیہ کی دولت مندی کا یہ حال تھا کہ جب ہشام بن عبدالملک نے وفات پائی تو اس کے ترکے میں سے صرف اولادِ ذکور کو جس قدر نقدی رقم وراثت میں ملی اس کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ دینار تھی۔ لیکن عمر بن عبدالعزیز نے جب وفات پائی تو کل سترہ دینار چھوڑے، جن میں سے تجہیز و تکفین کے مصارف ادا کرنے کے بعد دس دینار بچے جو ورثا پر تقسیم ہوئے۔ غرض عمر بن عبدالعزیز کی خلافت اور سلطنت ٹھیک اسی اصول کا نمونہ تھی جو اسلام نے قائم کیا تھا۔
- حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو ان کے عدل کی بنا پر "عمرِ ثانی" کہا جاتا ہے۔
- آپ نے بنی امیہ کی ناجائز جاگیریں ان کے اصل مالکان یا بیت المال کو واپس کیں۔
- غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک آپ کا طرہ امتیاز تھا۔
- آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور جمہوریت کی اعلیٰ مثال تھی۔
Comments
Post a Comment