Explore Urdu Lesson 9 for Class 5 "Hamare Peshe" in a beautiful digital book format. This lesson covers various professions like teaching, medicine, farming, and engineering, emphasizing the dignity of work and national progress. Developed for EOLS.
اردو
جماعت: پنجم
ہمارے پیشے
EOLS Digital Edition
حاصلاتِ تعلّم
- سنی ہوئی چیزوں کی تفہیم کر کے بتا سکیں۔
- اپنی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے معاشرتی اور اخلاقی مہمّت کو ذکر سکیں۔
- نثر پڑھ کر اس کے کرداروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکیں۔
- متن (نثر) پڑھ کر سوالوں کے جواب تحریر کر سکیں۔
- اشارات اور تصاویر کی مدد سے کہانی لکھ سکیں۔
- فعل سے فاعل بنا سکیں۔
- تذکیر و تانیث (جاندار) کے مطابق افعال کو جملوں میں استعمال کر سکیں۔
- تصاویر دیکھ کر کسی واقعے یا خیال کا درست اظہار کر سکیں۔
- چھوٹے اور بڑے گروہ میں کسی موضوع / صورت حال پر دیا گیا کردار ادا کر سکیں۔
- ماحول اور معاشرے سے متعلق مسائل کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔
سوچیں اور بتائیں
- آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ وجہ بھی بتائیے۔
- سکول سے گھر واپس آتے ہوئے آپ نے راستے میں کن کن پیشوں سے منسلک لوگ دیکھے؟ کسی دو کے بارے میں بتائیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
- دنیا بھر میں یکم مئی کو لیبر ڈے یعنی یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔
- حضرت داؤد علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے لوہے کی زرہیں بنانے کا کام کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ اللہ تعالیٰ عنہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔
- قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور محترمہ فاطمہ جناح ایک دندان ساز یعنی دانتوں کی ڈاکٹر تھیں۔
استاد صاحب نے ایک دن پہلے بچوں کے پانچ گروہ بنائے۔ ہر گروہ کو ایک ایک تصویر دی۔ انھیں بتایا کہ وہ اس تصویر پر جماعت کے سامنے بات کریں۔ طلبہ نے اس سرگرمی کی خوب تیاری کی۔ آج انھوں نے جوش و خروش سے سرگرمی کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے اجمل نے اپنے گروہ کی طرف سے بات شروع کی۔
اجمل: السلام علیکم ساتھیو! مجھے اور میرے دوستوں کو سکول کی عمارت کی تصویر دی گئی تھی۔ سکول وہ جگہ ہے جہاں ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ادب آداب سیکھتے ہیں۔ اجمل نے تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہاں ہیڈ ماسٹر صاحب، اساتذہ کرام، لائبریرین، چوکیدار اور خاک روب کام کرتے ہیں۔ یہ سب ہمارے محسن ہیں۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔ اجمل نے اپنی بات مکمل کی۔ اس دوران میں استاد صاحب نے تختہ تحریر پر ایک کالم بنا کر اس پر "سکول" لکھا، اور نیچے سکول میں کام کرنے والے افراد کے نام لکھ دیے۔ اب سلیم سے کہا کہ وہ اپنے گروہ کو ملنے والی تصویر کے بارے میں بتائے۔
سلیم: ساتھیو! اس تصویر کو دیکھیں یہ ایک ہسپتال کی تصویر ہے۔ یہاں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور انھیں ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ بیماریوں سے بچاؤ کی مختلف تدابیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ یہاں ڈاکٹر، نرسیں، دوا فروش اور لیبارٹریوں میں کام کرنے والے لوگ اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سلیم نے اپنی بات ختم کی۔ استاد صاحب نے تختہ تحریر پر ہسپتال کا کالم بنا کر وہاں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے نام درج کر دیے۔ اس کے بعد ساجد کو اپنی تصویر کے بارے میں بتانے کے لیے کہا گیا۔ ساجد نے اپنی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگا:
ساجد: دوستو! یہ ایک ہوٹل کی عمارت ہے۔ آپ اسے ریستوران، چائے خانہ، کیفے کچھ بھی کہہ لیجیے۔ یہاں لوگ مزے مزے کے لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ یہاں پر خانساماں، تندورچی، بیرے، ہوٹل کی دیکھ بھال کرنے والے اور انتظامی امور کو دیکھنے کے لیے مینیجر وغیرہ کام کرتے ہیں۔ ساجد کی بات کے اختتام پر ماسٹر صاحب نے تختہ تحریر پر اس عمارت کے بارے میں بھی لکھ دیا۔
اب باری آئی مراد کے گروہ کو ملنے والی تصویر کی۔ واہ! کتنا سرسبز و شاداب منظر تھا۔ یقیناً یہ کسی کھیت کی تصویر تھی۔ مراد نے بتایا۔
مراد: میرے گروہ کو ملنے والی تصویر کسی عمارت کی نہیں بلکہ یہ ایک کھیت کی تصویر ہے۔ یہاں کسان ہم سب کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فصلیں اگاتے ہیں۔ سردی، گرمی، دھوپ، چھاؤں کی پروا کیے بغیر اپنا کام تن دہی سے کرتے ہیں۔ اگر یہ بروقت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو ہم غذائی قلت کا شکار ہو جائیں۔
اب کسانوں کے ساتھ ساتھ زرعی ماہرین بھی اس شعبے میں کام کرتے ہیں تاکہ فصلوں اور زرعی زمینوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بہترین ادویات اور کھادوں کے استعمال سے زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ مراد نے بھی اپنی بات بہت اچھے طریقے سے مکمل کی۔
اب حامد نے اپنی تصویر کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ حامد کی تصویر میں دریا کا منظر واضح تھا۔ کشتیوں میں کچھ لوگ موجود تھے۔ حامد نے بتایا کہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ کشتیوں کے ذریعے سے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لاتے اور لے جاتے ہیں۔ انھیں ملاح کہتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ سمندر اور دریاؤں سے مچھلیاں پکڑ کر اپنی روزی کماتے ہیں۔ انھیں ماہی گیر کہتے ہیں۔ ماہی گیری ایک اہم پیشہ ہے جس کے ذریعے سے زرِ مبادلہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔
ٹھہریں اور بتائیں
خانساماں، تندورچی، بیرے کہاں کام کرتے ہیں؟
زرعی ماہرین کیا کام کرتے ہیں؟
آخر میں جاذب نے اپنے گروہ کو ملنے والی تصویر سب کو دکھائی۔ یہ ایک زیرِ تعمیر عمارت تھی۔ بچے سوچ رہے تھے کہ بھلا اس تصویر کے بارے میں جاذب کیا بتائے گا۔
جاذب: ساتھیو! یہ ایک زیرِ تعمیر عمارت ہے۔ یہ عمارت رہائشی، سکول، ہسپتال، ڈاک خانہ، ہوٹل یا پھر عجائب گھر وغیرہ کی ہو سکتی ہے۔ یہاں کام کرنے والوں میں راج مستری، مزدور، الیکٹریشن، پلمبر، بڑھئی وغیرہ سب شامل ہیں۔ نقشہ نویس عمارت کا نقشہ بناتا ہے۔ ٹھیکے دار اس نقشے کے مطابق باقی تمام لوگوں کی مدد سے عمارت کو مکمل کرواتا ہے۔ جاذب نے بھی باقی بچوں کی طرح اپنے گروہ کو ملنے والی تصویر کے بارے میں بہت اچھے طریقے سے بتایا۔
ماسٹر صاحب نے ہم سب کو شاباش دی اور آج کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے مزید بتایا۔
ماسٹر صاحب: آپ سب نے میری توقع سے بڑھ کر بہت سارے پیشوں کے بارے میں بات چیت کی۔ یاد رکھیے کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ روزی کمانے اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی پیشہ اختیار کیا جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ وقت آنے پر ان پیشوں کو اپنائیں جن کی ہمارے معاشرے میں ضرورت ہے تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکیں۔
ماسٹر صاحب کی باتیں سننے کے بعد سب نے عہد کیا کہ ہم دل لگا کر تعلیم حاصل کریں گے۔ اپنے وطن کی ترقی کے لیے اپنی پسند کے کسی پیشے سے منسلک ہو کر اپنے وطن کی خدمت کریں گے۔
ٹھہریں اور بتائیں
نقشہ نویس کیا کام کرتا ہے؟
کوئی بھی پیشہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟
ہم نے سیکھا
- مختلف افراد مختلف پیشے اختیار کرتے ہیں۔
- مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔
- تمام پیشے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ہر پیشہ قابلِ احترام ہے۔
Comments
Post a Comment