Urdu Class 4 Lesson 23 - Historical Buildings of Pakistan | EOLS Digital Library Lesson No: سبق نمبر 23 | Class: 4 | Subject: اردو | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore the historical buildings of Pakistan with this digital lesson for Class 4 Urdu. Covers Masjid Mahabat Khan, Kot Diji Fort, Quaid-e-Azam Residency, Shahi Qila, Baltit Fort, and Baghsar Fort in an interactive textbook format.
تاریخی عمارتیں
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- اردو میں کسی کہی گئی صنفِ گو کا مفہوم سمجھ کر یاد رکھ سکیں۔
- کہانی کو سن کر خاص خاص نکات بیان کر سکیں۔
- عبارت کا مقصد سمجھتے ہوئے درست تلفظ کے ساتھ روانی سے پڑھ سکیں۔
- علامتِ فاعل 'نے' اور علامتِ مفعول 'کو' کا صحیح استعمال کر سکیں۔
- عنوان، مشاہدے کا تجزیہ، ترتیب، پیشکش اور اختتام کو استعمال کرتے ہوئے ۱۰ تا ۱۵ جملوں پر مشتمل مضمون لکھ سکیں۔
- تاریخی عمارت سے کیا مراد ہے؟
- کسی ایک تاریخی عمارت کا نام بتائیں؟
- مقبرہ جہانگیر لاہور میں دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ کے ایک باغ دل کشا میں واقع ہے۔
- پاکستان میں موجود زیادہ تر تاریخی عمارتیں مغل بادشاہوں کی بنوائی ہوئی ہیں۔
- سیاحت
- کابل
- گنبد
- ٹھٹھہ
- محراب
- قلعہ
- جھروکا
- ہیریٹیج ٹرسٹ
- تزئین و آرائش
ہمارا ملک پاکستان بہت خوب صورت ہے۔ یہاں کے خوب صورت مقامات، نئی اور پرانی طرز کی عمارتیں بہت مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے ملکوں سے سیر و سیاحت کے شوقین لوگ ہمارے ملک میں آتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ خوب صورت مقامات کے ساتھ یہاں کے تاریخی مقامات کو بھی بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ ہم یہاں چند تاریخی عمارات کے بارے میں پڑھیں گے۔
مسجد مہابت خان
یہ پشاور کی ایک مشہور مسجد ہے جو کابل کے گورنر مہابت خان نے ۱۶۷۰ء میں بنوائی تھی۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کی طرز پر بنائی گئی یہ مسجد پاکستان کے چند اہم ترین تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے صحن کے درمیان میں ایک بڑا حوض اور وُضوخانہ تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد کی دیواروں پر انتہائی خوب صورت لکھائی کی گئی ہے۔ اس کی چھت پر سات گنبد بنائے گئے ہیں جو اس کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
کوٹ ڈیجی قلعہ
یہ قلعہ صوبہ سندھ میں ضلع خیر پور کے قصبے کوٹ ڈیجی میں واقع ہے۔ ۱۰۰ فٹ اونچی پہاڑی پر واقع یہ قلعہ سوا دو سو برس قبل سندھ کے حکمران سہراب خان تالپور نے تعمیر کروایا تھا۔ اس قلعے میں نگرانی کے لیے پچاس فٹ اونچے تین مینار تعمیر کیے گئے تھے۔ قلعے میں جگہ جگہ توپیں رکھنے کی جگہیں بنائی گئی تھیں۔ شاہی دروازے کے علاوہ قلعے میں داخل ہونے کے تین خفیہ راستے رکھے گئے تھے۔ یہ قلعہ مخصوص طرزِ تعمیر اور خوب صورتی کی وجہ سے آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت
یہ عمارت صوبہ بلوچستان کے صحت افزا مقام وادی زیارت میں واقع ہے۔ یہ خوب صورت عمارت ۱۸۹۲ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ آٹھ کمروں پر مشتمل اس عمارت میں مجموعی طور پر ۲۸ دروازے بنائے گئے ہیں۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ عمارت فنِ تعمیر کا ایک خوب صورت نمونہ ہے۔
۱۹۴۸ء میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ بیماری کے دنوں میں ڈاکٹروں کے مشورے سے یہاں آئے اور اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائش میں قیام کیا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد اس عمارت کو قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دے دیا گیا۔ اس عمارت میں قائد اعظم کے زیرِ استعمال رہنے والی اشیا کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے سو روپے کے کرنسی نوٹ کی پشت پر اس عمارت کی تصویر موجود ہے۔
- سو روپے کے کرنسی نوٹ کی پشت پر کس عمارت کی تصویر موجود ہے؟
- کوٹ ڈیجی قلعے میں کتنے مینار تعمیر کیے گئے تھے؟
شاہی قلعہ لاہور
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع یہ قلعہ پاکستان کا سب سے مشہور تاریخی قلعہ ہے، جسے آج سے ساڑھے چار سو سال پہلے اکبر بادشاہ نے تعمیر کرایا تھا۔ اس کی چاردیواری چوڑی، بلند اور مضبوط ہے۔ دیوانِ عام، دیوانِ خاص، جھروکا اور شیش محل اس قلعے کی قابلِ ذکر عمارتیں ہیں۔
اس قلعے کی سب سے پرانی عمارت دیوانِ عام ہے۔ چالیس ستونوں پر کھڑی یہ عمارت ہر وقت شاہی اُمرا سے بھری رہتی۔ اس دیوان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے اندر سنگِ مرمر سے ایک جھروکا تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں سے بادشاہ عوام کو اپنا دیدار کرواتے۔ شاہی دور کی بہت سی چیزوں کو اس قلعے کے اندر ایک عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔ شاہی قلعے کے سامنے مشہور تاریخی عمارت بادشاہی مسجد اور مزارِ اقبال رحمہ اللہ ہے۔
قلعہ بلتت
گلگت بلتستان کی خوب صورت وادی ہنزہ میں واقع یہ قلعہ سات سو سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعے کے ۶۲ دروازے ہیں۔ ۱۹۴۵ء تک یہ قلعہ ہنزہ کے حکمرانوں کے زیرِ استعمال رہا۔ ۱۹۹۰ء میں ہنزہ کے آخری حکمران کے بیٹے نے اس قلعے کو بلتت ہیریٹیج ٹرسٹ کے حوالے کر دیا۔
اس قلعے کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں: قلعے کی چھت پر پرانے زمانے کی توپ اب بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس قلعے میں پرانے زمانے کی ایک بندوق بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بندوق اٹھارویں صدی میں ایک روسی جاسوس نے اس وقت کے حکمران کو تحفے میں دی تھی۔ اس قلعے میں ایک ایسا کمرہ بھی ہے جہاں سے پوری وادی ہنزہ کا دل کش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔
قلعہ باغ سر
یہ قلعہ آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کے ایک خوب صورت اور تاریخی مقام باغ سر میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر مغلیہ دور میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۶۲۴ء میں مغل شہنشاہ جہانگیر کشمیر کے دورے پر آیا تھا۔ قلعہ باغ سر پہنچ کر وہ بیمار ہوا اور یہیں اس نے وفات پائی۔ اس کی لاش کو یہاں سے لے جا کر لاہور میں دفن کیا گیا۔ مغلوں کے بعد دیگر بادشاہ بھی قلعہ باغ سر میں رہے۔ قلعے کے دامن میں واقع باغ سر جھیل اس جگہ کی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے۔
- مسجد مہابت خان ساڑھے تین سو سال پرانی ہے۔
- کوٹ ڈیجی قلعہ آج سے سوا دو سو برس قبل سندھ کے حکمران سہراب خان تالپور نے تعمیر کروایا تھا۔
- شاہی قلعہ آج سے ساڑھے چار سو سال پہلے اکبر بادشاہ نے تعمیر کروایا تھا۔
- قائد اعظم ریزیڈنسی کی عمارت ۱۸۹۲ء میں بنی تاہم ۱۹۴۸ء میں قائد کے قیام سے اس عمارت کو اہمیت ملی۔
- سات سو برس پرانا قلعہ بلتت وادی ہنزہ میں واقع ہے۔
- مغل بادشاہ جہانگیر کی وفات قلعہ باغ سر میں ہوئی تھی۔
Visit us: excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
Comments
Post a Comment