A concise social media overview of Class 12 Urdu Lesson 2 "Tashkeel-e-Pakistan" by Mian Bashir Ahmed. Highlights the struggle for independence and the role of key leaders.
- پاکستان کے تاریخی پس منظر اور تحریکِ پاکستان کے اہم مراحل سے آگاہی۔
- برصغیر کے مصلحین (شاہ ولی اللہ، سید احمد بریلوی، سرسید احمد خان) کی خدمات کا مطالعہ۔
- نظریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی تفہیم۔
- علامہ اقبال کے افکار اور قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کا ادراک۔
ہندوستان میں اسلامی حکومت اگرچہ کہنے کو اورنگ زیب عالمگیر کی وفات (۱۷۰۷ء) کے ڈیڑھ سو سال بعد تک قائم رہی لیکن دراصل حکومت اور امرا دونوں کی طاقت اور سطوت اٹھارھویں صدی کے وسط تک ختم ہو چکی تھی۔ انیسویں صدی کے شروع میں مسلمانوں کے سیاسی تنزل کی تکمیل ہوئی، چنانچہ ۱۸۰۳ء میں انگریز دہلی میں داخل ہوئے۔ لیکن اسی زمانے میں بعض افراد کے دل میں مذہبی احیا اور معاشرتی اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز وغیرہ کی کوششوں سے علم دوست لوگوں میں مذہب کی صحیح واقفیت بڑھتی گئی لیکن عوام کی مذہبی حالت بہت گری ہوئی تھی اور مذموم معاشرتی رسموں میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں زیادہ فرق نہ تھا۔
سیاسی تنزل اور معاشرتی تخریب کے اس نازک وقت میں ایک پُرخلوص مصلح سید احمد بریلوی پیدا ہوئے جنھوں نے ۱۸۱۶ء سے ۱۸۳۱ء تک پندرہ سال مسلمانوں کی مذہبی و معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی پوری کوشش کی۔ اسی سلسلے میں مذہبی آزادی کے حصول کے لیے انھوں نے ۱۸۲۶ء میں سکھوں کے خلاف مذہبی جہاد کی مہم بھی شروع کی جس کے آخر میں سات ہزار مجاہدین نے پشاور کے قریب میدان جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور سید احمد نے ایک نظامِ حکومت قائم کر کے قبائل کی معاشرتی اصلاح کے احکام نافذ کیے لیکن بعض سرداروں کی غداری سے، جو سکھوں کے ساتھ شریک ہو گئے، آخر کار مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کا رہنما ۶ مئی ۱۸۳۱ء کو بالا کوٹ میں شہید ہوا یعنی مسلمانوں کی مساعی خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں برباد ہو گئیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سید احمد بریلوی نے بار بار ہندوستان کے مسلمانوں کو دوسری قوموں کے مقابلے میں جمع کیا اور ان کے اصلاحی کام کو ان کے بعض مذہبی جانشینوں نے جاری رکھا۔ سرسید بعض باتوں میں اپنے ہم نام کے ہم خیال تھے اور ان کے عقیدت مند تھے۔ اس زمانے میں بہار میں مسلمانوں میں فرائضی تحریک اٹھی جس کا مقصد غریب مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت کی اصلاح اور ان کی امداد تھا۔
۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی۔ انگریزی حکومت سو سال سے ان کی ذلت کے درپے تھی۔ بتدریج مسلمانوں کی زمینیں اور عہدے چھین لیے گئے، اسلامی تعلیم کے ذرائع ختم کر دیے گئے اور ۱۸۳۷ء میں فارسی زبان عدالتوں سے خارج کر دی گئی۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ان پر عتاب اور دباؤ بڑھتا گیا۔ اس طرح مسلمان پسپا بھی ہوئے اور ان مظالم سے متاثر ہو کر نئی حکومت اور اس کے اداروں سے بیزار بھی ہوتے گئے۔ ادھر ہندوؤں کی بے رخی نے ان کے زخموں پر اور بھی نمک چھڑکا۔ اس ناگفتہ بہ حالت میں ایک دوراندیش ہمدردِ ملت اٹھا جس نے اپنی مایوس اور پسماندہ قوم کو امید، محنت اور ترقی کا زندگی بخش پیغام دیا۔ یہ مردِ خدا سرسید احمد خاں تھے۔ یہ انھیں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ "گو ملک ہاتھوں سے گیا، ملت کی آنکھیں کھل گئیں۔"
سرسید نے قدامت پسند مسلمانوں کو نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا اور ہزار دقتوں سے ان کو نئے علوم کے حصول اور نئی حکومت سے تعاون پر آمادہ کیا۔ اپنی مذہبی تصانیف اور رسالہ "تہذیب الاخلاق" کے اجرا سے انھوں نے ثابت کر دکھایا کہ اسلام عقل کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان کی تعلیمی مساعی ۱۸۷۷ء میں تکمیل کو پہنچیں جب علی گڑھ کالج کا افتتاح ہوا جو کم از کم تیس برس تک مسلمانانِ ہند کا واحد قومی مرکز بنا رہا۔ ۱۸۸۴ء میں سرسید نے پنجاب کا دورہ کیا، جہاں "زندہ دلانِ پنجاب" کی قدردانی سے ان کو بڑی تقویت پہنچی۔ "پنجاب کے مسلمان سرسید کی منادی پر اس طرح دوڑے جس طرح پیاسا پانی پر دوڑتا ہے۔" ایک طرف وہ علی گڑھ سے وابستہ ہوئے دوسری طرف انھوں نے لاہور میں انجمن حمایت اسلام کا ادارہ قائم کیا۔ ۱۸۸۶ء میں سرسید نے آل انڈیا محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی جس کے اجلاس ہر سال مختلف مقامات پر منعقد ہو کر مسلمانوں میں ایک نئی زندگی پھونکنے کا باعث ہوئے۔ ۱۸۶۷ء میں بنارس کے بعض ہندوؤں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اردو کو موقوف کر کے ملک میں بھاشا زبان رائج کی جائے۔ سرسید کہتے تھے: "یہ پہلا موقع تھا جب مجھے یقین ہو گیا کہ اب ہندو مسلمانوں کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا محال ہے اور دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی۔"
۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنا پڑی۔ سرسید نے مسلمانوں کو اس میں شرکت کرنے سے روکا کیونکہ ان کی دوراندیشی نے دیکھ لیا کہ اس سے مسلمانوں کو بحیثیت قوم نقصان پہنچے گا۔ اپنے ایک اہم بیان میں انھوں نے کہا کہ جمہوری طریقہ ہندوستان کے لیے موزوں نہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ سرسید کے پیشِ نظر انگریزوں کی خوشنودی نہ تھی بلکہ اپنی قوم کی ترقی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے اپنی مشہور تصانیف "اسبابِ بغاوتِ ہند" لکھ کر حکومت کو توجہ دلائی کہ غدر کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو ملک کی سیاسی کونسلوں میں شامل نہ کیا گیا۔ پھر ۱۸۷۸ء میں جب وہ کونسل کے ممبر نامزد ہوئے تو انھوں نے ملکی اور قومی مفاد پر پے در پے تقریریں کیں۔ ۱۸۹۸ء میں جب سرسید نے انتقال کیا تو ان کی قوم اپنے خوابِ گراں سے جاگ چکی تھی۔
سرسید کے بعد ان کے رفقا نے ان کا شاندار کام جاری رکھا۔ محسن الملک، وقار الملک، حالی، نذیر احمد، ذکاء اللہ، شبلی وغیرہ نے تعلیمی، سیاسی اور ادبی خدمات سر انجام دیں۔ محسن الملک نے علی گڑھ کالج کو ترقی دی۔ وقار الملک ایک سیاسی جماعت کی تشکیل میں معاون ہوئے۔ حالی کی مسدس نے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب کی لہر دوڑا دی۔ شبلی نے اسلامی تاریخ کے آئینے میں انھیں اپنی گذشتہ عظمت دکھا کر ان کے دلوں کو گرما دیا۔ امیر علی نے اپنی انگریزی تصانیف سے مغربی حلقوں میں اسلام کی وقعت پیدا کی۔
علی گڑھ تحریک کی وجہ سے قوم میں کئی اور تحریکات شروع ہو گئیں۔ اختلافات ضرور رونما ہوئے لیکن ایک حد تک یہ نئی زندگی کا نشان تھے۔ سرسید، امیر علی اور دیگر بزرگوں نے اسلام کو مغربی علوم سے اس طرح جا ملایا تھا کہ اسے ایک ترقی یافتہ مذہب ثابت کیا لیکن اس جدید علم الکلام کے ردِ عمل کے طور پر بعض اور مذہبی مساعی بروئے کار آئیں۔ شبلی نے لکھنؤ میں ندوۃ العلما قائم کیا۔ دیو بند میں علما نے قدیم طرز کی درسگاہ بنا کر ملک میں قدیم اسلامی علوم کے چراغ روشن کیے۔
ان مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب سے بیگانگی بہت حد تک کم ہو گئی اور مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات ملی لیکن ساتھ ہی ایک ایسی فضا بھی پیدا ہو گئی جس میں اپنی ہر چیز اچھی اور دوسروں کی ہر چیز بری نظر آنے لگی۔ اس کی اصلاح ضروری ہو گئی۔
اقبال نے آ کر اسلامی و مغربی علوم کے غائر مطالعے کے بعد اپنا خاص اسلامی فلسفہ قوم کے سامنے پیش کیا، جس کا مقصد کامل ترین انسان کی انفرادی و اجتماعی نشوونما ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ انسان اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الہی کی تین منزلیں طے کرتا ہوا خودی کی انتہائی بلندی پر پہنچ سکتا ہے۔ اس ارتقا میں اسے مذہب کی رہنمائی درکار ہے۔ اقبال نے چار چیزوں پر زور دیا: اول توحید، جس پر پورا ایمان عملاً انسان کو خوف و مایوسی سے آزاد کر دیتا ہے نیز توحیدِ الہی، توحیدِ انسانی ہی پر تو لگن ہوتی ہے۔ دوم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور ان کی مکمل تقلید۔ سوم، قرآن کا مطالعہ اور اس کی تعلیمات کی پیروی۔ چہارم، رجائیت یعنی مایوسی اور غم پسندی کو ترک کر کے امید، ہمت اور جرات کی راہ اختیار کرنا۔ اقبال نے سچے مومن کی یوں تعریف کی ہے:
اقبال نے اپنی قوم کو یہ کہہ کر جگایا اور اکسایا کہ:
اپنے رہنماؤں کی پکار سن کر مسلمان قوم ترقی کی راہ پر کچھ چلنے تو لگی لیکن جابجا ٹھوکریں کھاتے ہوئے۔ معاشی حیثیت سے وہ اپنے ہمسایوں سے کہیں پیچھے رہی۔ تعلیمی حیثیت سے وہ ضرور کچھ بڑھی لیکن پھر بھی پسماندہ رہی البتہ اپنی قومی زبان و ادب کو اس نے باوجود اپنے انحطاط کے خوب چمکایا۔ اردو علم و ادب اور صحافت کو ترقی ہوئی اور ملک میں جابجا اردو کی علمی و ادبی انجمنیں پھیل گئیں۔ علی گڑھ کالج ۱۹۲۰ء میں یونیورسٹی کے درجے تک پہنچ گیا اور منجملہ حیدرآباد (دکن) کی دوسری ترقیات کے وہاں جامعہ عثمانیہ کا شاندار ادارہ قائم ہوا۔ متمدن زندگی کے اکثر شعبوں میں مسلمان دوسروں سے پیچھے ضرور تھے لیکن یہ بات اب ان پر اور دوسروں پر ظاہر ہو گئی کہ جب بھی وہ بڑھنے کی کوشش کریں وہ دوسروں سے پیچھے نہیں رہتے۔ البتہ باوجود ان سب ترقیوں کے یہ امر اظہر من الشمس تھا کہ جب تک قوم سیاسی حیثیت سے مضبوط و متحد نہ ہو گی اس کی ساری روایات اکارت جائیں گی اور اس کے سارے ارادے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
مسلمانانِ ہند کی جدید سیاسی زندگی کی داستان یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے بعد گو سرسید نے علی گڑھ میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے قدم اٹھایا لیکن بالعموم ان کی قومی سیاست یہی تھی کہ مسلمان ملکی سیاست سے الگ تھلگ رہیں اور پہلے مغربی علوم کے حصول سے اپنی قوم کی حالت کو درست اور مضبوط کر لیں مگر بیسویں صدی کے شروع سے ایشیا اور اس کے ساتھ ہندوستان میں صورتِ حال دگرگوں ہونے لگی۔ جاپان کی فتح سے ہندوؤں میں جذبہ قومیت ابھرا اور انھوں نے تقسیمِ بنگال کے خلاف ۱۹۰۵ء میں ایک زبردست تحریک شروع کی۔ علاوہ ازیں اردو ہندی جھگڑے کے سلسلے میں یو پی کی حکومت نے علی گڑھ کے تعلیمی ادارے کو اس نیم سیاسی مسئلے میں دخل دینے سے حکماً روک دیا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے اور بھی ضروری ہو گیا کہ وہ اپنے تمدنی و سیاسی حقوق کی حفاظت کے لیے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھیں۔ یوں دسمبر ۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی اور ۱۹۰۹ء کی اصلاحات میں مسلمانوں نے جداگانہ انتخابات کا اہم حق حاصل کیا۔ پھر تقسیمِ بنگال کی تنسیخ (۱۹۱۱ء) اور جنگِ بلقان و طرابلس (۱۹۱۲ء) سے جب مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ ان کے قومی اور بین الاقوامی حقوق حکومتِ برطانیہ کے ہاتھ میں محفوظ نہیں رہ سکتے تو انھوں نے ہندوستان کے لیے "سیلف گورنمنٹ" کا مطالبہ کیا (۱۹۱۳ء) اور کانگریس کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔
جنگِ عظیم اول نے ہندوستانیوں کے دل میں حرکت پیدا کی اور کانگریس اور لیگ میں "میثاقِ لکھنؤ" کا مشہور معاہدہ ہوا جس کی وجہ سے برطانیہ ۲۰ اگست ۱۹۱۷ء کو یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیا کہ ہندوستان کو بتدریج خود اختیاری حکومت دی جائے گی، لیکن جنگ کا ختم ہونا تھا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں اور ظالمانہ قوانین نافذ کرنے کی ٹھان لی (۱۹۱۹ء) اور ادھر یورپ میں ترکی کے حصے بخرے کرنے کی سازش کی۔ اس پر گاندھی نے علی برادران کی مدد سے عدم تعاون کی زبردست تحریک شروع کی (۱۹۲۰ء) لیکن اس تحریک کا ختم ہونا تھا کہ دوسرے ہندو لیڈروں نے شدھی اور سنگھٹن کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے ہندو مسلم تعلقات کو قطعاً خراب کر دیا۔ اس زمانے میں مسلمان لیڈر غفلت کی نیند سوئے رہے لیکن سائمن کمیشن کی آمد اور نہرو رپورٹ کی مسلم کش تجاویز پر وہ اپنے خواب سے چونکے (۱۹۲۸ء) اور آل انڈیا مسلم کانفرنس میں جمع ہو کر انھوں نے ایک متحدہ سیاسی مطالبہ جو مسٹر جناح کے چودہ نکات سے مطابقت رکھتا تھا، دنیا کے سامنے پیش کیا (۱۹۲۹ء)۔ ادھر کانگریس نے گاندھی کی قیادت میں مکمل آزادی کا اعلان کر کے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی (۱۹۳۰ء)۔ اس دوران میں لندن میں گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا (۱۹۳۰ء تا ۱۹۳۲ء) اور برطانوی حکومت نے اپنا فرقہ وارانہ فیصلہ سنایا لیکن ہندو لیڈروں کی ہٹ دھرمی کے باعث ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی سمجھوتا نہ ہو سکا - ۱۹۳۵ء میں نیا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ نافذ ہوا جس کی رو سے مرکز میں فیڈریشن اور صوبوں میں خود اختیاری حکومت کا نفاذ طے پایا۔ ۱۹۳۷ء کے انتخابات کے بعد کانگریس پہلے چھے اور پھر دو اور صوبوں میں حکومت کرنے لگی، جس سے اس کا سر پھر گیا اور اس نے مسلم لیگ سے منہ پھیر کر مسلمانوں کو بحیثیت قوم کے ملیا میٹ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ چنانچہ کانگریسی حکومتوں نے اردو کو مٹایا، ہندی کو ابھارا اور ہندوانہ تمدن کے دیگر اداروں اور نشانات کو فروغ دے کر ہندوستانی مسلمانوں کی جداگانہ ہستی کو ہندوؤں میں مدغم کرنے میں بیسیوں علانیہ و خفیہ مساعی کیں۔
یہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک بے حد نازک وقت تھا۔ مسلمانوں میں کہنے کو کئی سیاسی جماعتیں تھیں۔ مسلم لیگ جو ۱۹۰۶ء میں قائم ہوئی کبھی جاگتی کبھی سوتی رہی اس کے بعد ۱۹۱۹ء کے ہنگامہ خیز سال میں جمیعۃ العلما بنی۔ ۱۹۲۹ء میں خدائی خدمتگار اور مجلسِ احرار کا قیام عمل میں آیا اور اسی سال میں نیشنلسٹ مسلمانوں نے بھی اپنی ایک کانفرنس منعقد کی۔ ۱۹۳۷ء میں جب کانگریس برسرِ اقتدار آئی اور اس نے مسلمانوں کی قومی ہستی کو ختم کرنا چاہا تو سوال پیدا ہوا کہ مسلمان اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ اس خطرناک وقت میں مسلم لیگ کی قیادت جس زبردست شخصیت کے ہاتھ میں تھی اس نے کانگریس کے چیلنج کو دلیری سے قبول کیا۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے، جو ایک طرف سیاسی بات چیت میں انگریزی حکومت اور کانگریسی لیڈروں کے ساتھ پورے اترے اور دوسری طرف اپنی لاجواب شخصیت کے بل پر ایک پراگندہ اقلیت کو ایک مستقل قوم بنانے میں نمایاں طور پر کامیاب ہوئے۔
اکتوبر ۱۹۳۷ء میں لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پچیسویں سالانہ اجلاس سے اسلامی ہند کی تاریخِ بیداری کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ چنانچہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو مسلم لیگ نے لاہور میں پاکستان کی قرارداد منظور کی یعنی مسلمانانِ ہند کے لیے ہندوستان کے ایک حصے میں ایک خودمختار حکومت اور ایک جداگانہ آزاد وطن کے قیام کا شاندار منصوبہ باندھا۔ اس سے مسلمان قوم میں زندگی کی ایک برقی رو دوڑ گئی۔ اب وہ محض تحفظات و مراعات کی سائل نہ رہی بلکہ ایک علیحدہ مستقل آزاد قومیت کی دعویدار بن گئی جس کی ایک اپنی جدا حکومت ہو، ایک اپنی جدا تہذیب اور ایک اپنا جداگانہ وطن ہو۔
پاکستان کی تجویز کے بعد اس منصوبے کو تفصیل سے مکمل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ ۱۹۴۴ء میں معاشی مسئلے پر غور کرنے کے لیے ایک تعمیری کمیٹی وضع کی گئی۔ تعلیمی مسئلے کے لیے ایک تعلیمی کمیٹی بنی اور دیگر اہم مسائل کے لیے مصنفین کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔
۱۹۴۴ء میں پنجاب میں مسلم لیگ اور یونینسٹ وزارت میں جھگڑا پیدا ہو گیا اور بمبئی۱ میں گاندھی اور جناح کی ملاقات ہوئی مگر ناکام رہی۔ ۱۹۴۵ء میں شملہ کانفرنس میں کانگریس اور لیگ کو پھر اکٹھا بلایا گیا مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ آخر حکومتِ ہند نے نئے انتخابات کا اعلان کیا اور کہا کہ برطانوی مزدور حکومت۲ کے پیشِ نظر ہندوستان کو خود اختیاری حکومت دینا ہے۔
نئے انتخابات میں جو ۱۹۴۵-۴۶ء کے موسمِ سرما و بہار میں ہوئے، ہندوؤں میں کانگریس اور مسلمانوں میں مسلم لیگ پورے طور پر کامیاب ہو گئی۔ اتنے میں برطانوی حکومت نے ۱۹۴۶ء میں پہلے ایک وفد کو اور پھر ایک "وزارتی مشن" کو ہندوستان بھیجا تاکہ یہاں کی سیاسی گتھی کو سلجھائے۔ مشن نے ہندوستان کی حکومت کے لیے ایک نئی سکیم پیش کی لیکن مشن کی کانگریس نواز پالیسی سے ناراض ہو کر مسلم لیگ نے اسکیم کو ٹھکرا دیا اور گو آخر کار وہ بھی مرکز کی عارضی حکومت میں شریک ہو گئی لیکن ادھر نہ صرف کانگریس اور لیگ میں بات بات پر اختلافات رونما ہوئے بلکہ ملک بھر میں جابجا ہندو مسلمانوں میں شدید فرقہ وارانہ مناقشات اور فسادات برپا ہو گئے۔ کانگریس نے مسلم لیگ سے باعزت سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا۔ برطانوی حکومت نے پہلے یہ اعلان کیا کہ وہ کسی ایسے دستور کو ملک میں نافذ نہیں کرے گی جس پر دونوں بڑی جماعتوں کا اتفاقِ رائے نہ ہو اور پھر فروری ۱۹۴۷ء میں یہ فیصلہ کیا کہ برطانیہ جون ۱۹۴۸ء تک ہندوستان کو خالی کر دے گا۔
جنوری ۱۹۴۷ء میں پنجاب میں مسلم لیگ کی ایک زبردست تحریک اٹھی جس میں مردوں اور عورتوں نے یکساں حصہ لیا اور جو صرف ایک ماہ جاری رہ کر بہت نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ برطانوی حکومت اس سے متاثر ہوئی اور اسے یقین ہو گیا کہ اسلامیانِ ہند کے قومی مطالبے کو اب دیر تک معرضِ التوا میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ادھر پاکستان کے مخالفین نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع کر دیا جو سارا سال جاری رہا اور جس کے ضمن میں ایک منظم سازش کے تحت آٹھ دس لاکھ بے گناہ مسلمانوں کو بے رحمی سے تہِ تیغ کر دیا گیا۔ اسی دوران میں برطانیہ نے ۳ جون کو ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے متعلق اپنا نیا منصوبہ شایع کیا جس کے مطابق ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو دونوں ملکوں میں دو علیحدہ علیحدہ خودمختار حکومتیں قائم ہو گئیں۔ یوں اسلامی ہند کے دس کروڑ فرزندانِ توحید کی تنظیم اور قربانیاں پھل لائیں اور مشرقی و مغربی ہند میں مشرقی و مغربی پاکستان کی بنیاد پڑی۔
پاکستان کے قیام سے نہ صرف ہندوستان کے برعظیم اور ایشیا میں بلکہ ساری اسلامی دنیا میں ایک ایسا قوت آفرین تغیر رونما ہو گیا ہے جس کے غیر معمولی نتائج کا دنیا ابھی صحیح طور پر اندازہ نہیں کر سکتی۔ ادھر یہ امر پاکستان کی ملتِ اسلامیہ پر روز بروز واضح ہو رہا ہے کہ اگر اسے اپنی اور دنیا کی طرف اپنا اسلامی اور انسانی فرض ادا کرنا ہے تو پاکستان کی حکومت لازمی طور پر اسلامی جمہوریت کے ترقی پرور اصولوں پر قائم ہو گی جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں سے مساوی سلوک کیا جائے گا، جس میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کے لیے جگہ نہ ہو گی بلکہ جس میں غریبوں اور کارکنوں کا خاص طور پر خیال رکھا جائے گا، جس میں عورت کے حقوق اور اس کی شخصیت محفوظ ہو گی، جس میں دولت ادھر تمام لوگوں میں مناسب طور پر تقسیم ہو کر اور ادھر بیت المال میں جمع ہو کر عوام الناس کا معیارِ زندگی بڑھانے کے کام آئے گی۔
مسلمانوں کا نصب العین اسلام ہے۔ وہ اسلام نہیں جس کا ڈنکا مطلق العنان بادشاہوں اور خود غرض امرا نے بجایا بلکہ وہ اسلام جس کا حامل قرآن ہے، جس نے صرف ان دیکھے خدا کے آگے سر جھکانا سکھایا۔ وہ اسلام جس کا نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں مسلمانوں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ وہ سچائی، وہ دلیری، وہ خود اعتمادی، وہ انکسار و امن پسندی، وہ محنت و مساوات، وہ صبر و تقویٰ، وہ مسلم و غیر مسلم سب کی خدمت، سب کے حقوق کا تحفظ، سب سے رواداری اور محبت! یہ ہے پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین۔ ہمارے قومی شاعر نے اپنی قوم کے ہر فرد پر خوب روشن کر دیا ہے:
(کارنامہ اسلام)
- ۱۸۰۳ء میں دہلی پر انگریزوں کے قبضے سے مسلمانوں کا سیاسی زوال مکمل ہوا۔
- سید احمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ نے مذہبی و معاشرتی اصلاح کی تحریکیں چلائیں۔
- سرسید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور سیاست سے روشناس کرایا۔
- علامہ اقبال نے خودی اور اسلامی فلسفے کے ذریعے قوم کو بیدار کیا۔
- قائد اعظم کی قیادت میں ۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور سے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔
- پاکستان کا اصل نصب العین قرآنی تعلیمات اور خلفائے راشدین کے عہد کی طرز پر مبنی معاشرے کا قیام ہے۔
۱۔ نیا نام ممبئی ۲۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت
Comments
Post a Comment