اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
سبق: ۶
ایک اُستاد عدالت کے کٹہرے میں
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو پاکستانی اور عالمی ثقافت سے متعارف کرانا۔
- طلبہ کی اخلاقی تربیت کرنا، گفت گو اور مکالمے کو ترویج دینا۔
- طلبہ کو اشفاق احمد اور ان جیسے مشاہیر کی زندگی کے تجربات سے سبق حاصل کرنے کی تربیت کرنا۔
- طلبہ میں اُردو ادب کے مختلف اور منفرد اسالیبِ بیان سے محظوظ ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
- متشابہ الفاظ کی شناخت کرنا اور محاوروں سے جملے بنانا۔
- طلبہ کو تحریک دینا کہ وہ بھی اپنی زندگی کے سبق آموز واقعات بیان کریں۔
جس زمانے میں میں روم میں لیکچرر تھا، روم یونیورسٹی میں، میں سب سے Youngest پروفیسر تھا۔ یونیورسٹیوں میں چھٹیاں تھیں، گرمیوں کا زمانہ تھا۔ دوپہر کے وقت ریڈیو اسٹیشن پر مجھے اُردو براڈ کاسٹنگ کرنی پڑتی تھی۔ روم میں دوپہر کے وقت سب لوگ قیلولہ کرتے تھے۔ چار بجے تک سوتے تھے اور روم کی سڑکیں تقریباً خالی ہوتی تھیں اور کارپوریشن نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ وہ وہاں پر پانی کے حوض لگا کر سڑکیں دھوتے ہیں، اور شام تک سڑکیں ٹھنڈی بھی ہو جاتی ہیں، خوش گوار بھی ہو جاتی ہیں، صاف بھی ہو جاتی ہیں؛ تو وہ سڑکوں کو دھو رہے تھے۔ اکا دکا کوئی ٹریفک کی سواری آجا رہی تھی تو میں اپنی گاڑی چلاتا ہوا جا رہا تھا۔ اب دیکھیے انسان کے ساتھ ساتھ ایک دیسی مزاج چلتا ہے، آدمی کہیں بھی چلا جائے، تو میں گاڑی چلا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ گول دائرہ ہے، اس کے اوپر سے میں چکر کاٹ کے آؤں گا۔ پھر میں نے اپنے شہر کی طرف مڑوں گا تو یہ بڑی بے ہودہ بات ہے۔ بیچ میں سے چلتے ہیں۔ اس وقت کون دیکھتا ہے، دوپہر کا وقت ہے، تو میں بیچ میں سے گزرا۔ وہاں ایک سپاہی کھڑا تھا، اس نے مجھے دیکھا، اور اُس نے پروا نہیں کی۔ جانے دیا کہ یہ جا رہا ہے، یہ نوجوان جو کوئی بات نہیں۔ جب میں نے دیکھا شیشے میں سے گردن گھما کے، کچھ مجھے تھوڑا سا سا بادر (bother) کرتا ہے کہ میں تھوڑا سا مسکرایا۔ کچھ اپنی فیٹ (Fate) کے اوپر، کچھ اپنی کامیابی کے اوپر۔ میں نے خوشی منانے کے لیے ایک مسکراہٹ کا پھول اس کی طرف پھینکا۔ جب اس نے یہ دیکھا کہ اس نے میری یہ عزت کی ہے تو اس نے سیٹی بجا کے روک لیا۔ اب وہاں پر سیٹی بجنا موت کے برابر تھی اور رکنا ہی۔ میں رکا، وہ آگیا، اور آ کے کھڑا ہو گیا، پہلے سیلوٹ کیا۔ ولایت میں رواج ہے کہ جب بھی آپ کا چالان کرتے ہیں، آپ کو پکڑنا ہوتا ہے تو سب سے پہلے آ کر سیلوٹ مارتے ہیں۔ تو اس نے کھڑے ہو کر سیلوٹ مارا۔ اب میں اندر تھر تھر کانپ رہا ہوں۔ شیشے میں نے نیچے کیا تو مجھے کہنے لگا کہ آپ کا لائسنس! تو میں نے اس سے کہا میں زبان نہیں جانتا۔ اس نے کہا، چٹکی بھلی بول رہے ہو۔ میں نے کہا، میں نہیں جانتا تم ایسے ہی جھوٹ بول رہے ہو۔ میں تو نہیں جانتا ہوں۔ اس نے کہا نہیں، آپ اپنا لائسنس دیں۔ تو میں نے کہا، فرض کریں جس کے پاس اس کا لائسنس نہ ہو تو پھر وہ کیا کرے؟ اس نے کہا، کوئی بات نہیں! میں آپ کا چالان کر
اردو-11 | حصہ نثر | ۳۸
دیتا ہوں، پرچی پھاڑ کے تو یہ آپ لے جائیں اور جرمانہ جمع کروا دیں۔ میں تو ایسے ہی ہانک رہا تھا۔ میں نے کہا، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا غلطی ہوگئی تھی تو چلے جاتے۔ اس نے بغیر مجھ سے پوچھے کاپی نکالی اور چالان کر دیا۔ اور چالان بھی بڑا سخت، بارہ آنے جرمانہ۔ میں نے لے لی پرچی۔ میں نے کہا، میں اس کو لے کر کیا کروں؟ اس نے کہا اپنے کسی بھی قریبی ڈاک خانے میں منی آرڈر کی کھڑکی پر جمع کروا دیں۔ بس وہاں کچہری نہیں جانا پڑتا، دھکے نہیں کھانے پڑتے۔ بس آپ کا جرمانہ ہو گیا، آپ ڈاک خانے میں دیں گے تو بس۔ میں جب چالان کروا کے گھر آگیا تو میں نے اپنی لینڈ لیڈی سے کہا، میرا چالان ہو گیا ہے۔ کہنے لگی، آپ کا؟ میں نے کہا، میں کیا کروں۔ اب ان کو ایسے لگا کہ ہمارے گھر میں جیسے ایک بڑا مجرم رہتا ہے۔ اور اس نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ پروفیسر کا چالان ہو گیا ہے۔ بڑی مانی تھی۔ اس کی ایک ساس تھی، اس کو بھی بتایا، سارے روتے ہوئے میرے پاس آگئے۔ میں بڑا ڈرا کہ یا اللہ! یہ کیا۔ کہنے لگے گو شریف آدمی لگتا تھا۔ اچھے خاندان کا، اچھے گھر کا لگتا تھا۔ ہم نے تجھے یہ کرائے پر کمرہ بھی دیا ہوا ہے لیکن تو ویسا نہیں نکلا۔ خیر! گھر خالی کرنے کو تو نہیں کہا۔ جو بڑی مانی تھی، اس کی ساس، اُس نے کہا، ہو تو گیا ہے، برخودار چالان، لیکن کسی سے ذکر نہ کرنا۔ محلے داری کا معاملہ ہے۔ اگر ان کو پتا چل گیا کہ اس کا چالان ہو گیا ہے تو بڑی رسوائی ہوگی۔ لوگوں کو پتا چلے گا، میں نے کہا نہیں، میں پتا نہیں لگنے دوں گا۔ میری لااُبالی طبیعت، پچیس سال کی عمر تھی۔ چالان جیب میں ڈالا اور نکل گیا دوستوں سے ملنے۔ اگلے دن مجھے جمع کروانا تھا، بھول گیا۔ پھر سارا دن گزر گیا۔ اس سے اگلے دن مجھے اصلاحاً جمع کروا دینا چاہیے تھا تو میں نے کپڑے بدلے تو وہ پرانے کوٹ میں رہ گیا۔ شام کے وقت مجھے ایک تار ملا کہ محترمی جناب پروفیسر صاحب! فلاں فلاں مقام پر فلاں چوراہے پر آپ کا چالان کر دیا گیا تھا، فلاں سپاہی نے۔ یہ نمبر ہے آپ کے چالان کا۔ آپ نے ابھی تک کہیں بھی چالان کے پیسے جمع نہیں کروائے۔ یہ بڑی حکم عدولی ہے۔ مہربانی فرما کر اسے جمع کروا دیں۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ تقریباً اکیس روپے کا تار تھا۔ میں نے سارے لفظ گنے۔ مجھ سے یہ کوتاہی ہوئی کہ میں پھر بھول گیا، اور ان کا پھر ایک اور تار آیا۔ اگر آپ اب بھی رقم جمع نہیں کروائیں گے تو پھر ہمیں افسوس ہے کہ کورٹ میں پیش کر دینا پڑے گا۔ مجھ سے کوتاہی ہوئی، نہیں جاسکا۔ تب مجھے کورٹ سے ایک سمن آگیا کہ فلاں تاریخ کو عدالت میں پیش ہو جائیں، اور یہ جو آپ نے حکم عدولی کی ہے، قانون توڑا ہے، اس کے بارے میں آپ سے پورا انصاف کیا جائے گا۔ اب میں ڈرا۔ میری سٹی گم ہوگئی۔ پریشان ہوا کہ اب میں دیارِ غیر میں ہوں۔ کوئی میرا حامی و ناصر، مددگار نہیں۔ میں کس کو اپنا والی بناؤں گا۔ میرا اڈا کٹر تھا۔ ’ڈاکٹر بالدی‘ اس کا نام تھا، نوجوان تھا۔ میں نے اس سے کہا، مجھے وکیل کر دو۔ اس نے کہا، میرا ایک دوست ہے۔ اس کے پاس چلتے ہیں۔ اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا، یہ تھوڑا سا پیچیدہ ہو جائے گا، اگر میں گیا عدالت میں۔ بہتر یہی ہے پروفیسر صاحب جائیں، اور جا کر خود Face کریں۔ عدالت کی خدمت میں یہ عرض کریں کہ میں چوں کہ اس قانون کو ٹھیک طرح سے نہیں جانتا تھا۔ میں یہاں پر ایک غیر ملکی ہوں تو مجھے معافی دی جائے۔ میں ایسا آئندہ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ چناں چہ میں ڈرتا ڈرتا چلا گیا۔ اگر آپ کو روم جانے کا اتفاق ہو تو ’پالاس آف دی جسٹی‘ Palace of Justice وہ رومن زمانے کا بہت بڑا وسیع و عریض ہے، اسے تلاش کرتے کرتے ہم اپنے جج صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہ وہاں تشریف فرما تھے۔ مجھے ترتیب کے ساتھ بلایا گیا تو میں چلا گیا۔ اباردو-11 | حصہ نثر | ۳۹
بالکل میرے بدن میں روح نہیں ہے، اور میں خوف زدہ ہوں، اور کانپنے کی بھی مجھ میں جرات نہیں۔ اس لیے کہ تشنج جیسی کیفیت ہوگئی تھی۔ انھوں نے حکم دیا، آپ کھڑے ہوں اس کٹہرے کے اندر۔ اب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا چالان ہوا تھا، اور آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ یہ بارہ آنے ڈاک خانے میں جمع کروائیں، کیوں نہیں کروائے؟ میں نے کہا، جی مجھ سے کوتاہی ہوئی، مجھے کروانے چاہیے تھے لیکن میں۔۔۔ اس نے کہا، کتنا وقت عملے کا ضائع ہوا۔ کتنا پولیس کا ہوا، اب کتنا ’جسٹی’ کا ہوا (جسٹس عدالت کا ہورہا ہے) اور آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے۔ ہم اس کے بارے میں آپ کو کڑی سزا دیں گے۔ میں نے کہا، میں یہاں پر ایک فارنر ہوں۔ پردیسی ہوں۔ جیسا ہمارا بہانا ہوتا ہے، میں کچھ زیادہ آداب نہیں سمجھتا۔ قانون سے میں واقف نہیں ہوں تو مجھ پر مہربانی فرمائیں۔ انھوں نے کہا، آپ زبان تو ٹھیک ٹھاک بولتے ہیں۔ وضاحت کر رہے ہیں۔ آپ کیا کرتے ہیں، تو میں چپ کر کے کھڑا رہا۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ عدالت آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کا پیشہ کیا ہے؟ میں نے کہا، میں ایک ٹیچر ہوں، پروفیسر ہوں روم یونیورسٹی میں، تو وہ جج صاحب کرسی کو سائیڈ پر کر کے کھڑا ہو گیا اور اس نے اعلان کیا:"Teacher in the Court, Teacher in the Court."
جیسے اعلان کیا جاتا ہے، اور وہ سارے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ منشی، تھانے دار، عمل دار، جتنے بھی تھے اور اس نے حکم دیا کہ:"Chair should be brought for the teacher. A teacher has come to the court!"
اب وہ کٹہرا چھوٹا سا تھا، میں اس کو پکڑ کر کھڑا ہوں۔ وہ کرسی لے آئے۔ حکم ہوا کہ Teacher ہے، کھڑا نہیں رہ سکتا۔ تو پھر اس نے ایک بانی پڑھنی شروع کی۔ جج نے کہا کہ اے معزز استاد! اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد! اے محترم ترین انسان! اے محترم انسانیت! آپ نے ہی ہم کو عدالت کا، اور عدل کا حکم دیا ہے، اور آپ ہی نے ہم کو یہ علم پڑھایا ہے، اور آپ ہی کی بدولت ہم اس جگہ پر براجمان ہیں۔ اس لیے ہم آپ کے فرمان کے مطابق مجبور ہیں۔ عدالت نے جو ضابطہ قائم کیا ہے، اس کے تحت آپ کو چیک کریں، باوجود اس کے کہ ہمیں اس بات کی شرمندگی ہے، اور ہم بے حد افسردہ ہیں کہ ہم ایک استاد کو جس سے محترم، اور کوئی نہیں ہوتا، اپنی عدالت میں ٹرائل کر رہے ہیں، اور یہ کسی بھی جج کے لیے انتہائی تکلیف دہ موقع ہے کہ کورٹ میں، کٹہرے میں ایک استاد کو محترم ہو اور اس سے Trial کیا جائے۔ اب میں شرمندہ اپنی جگہ پر، یا اللہ! یہ کیا شروع ہورہا ہے۔ میں نے کہا، حضور جو بھی آپ کا قانون ہے، علم یا جیسے کیے بھی آپ کا ضابطہ ہے، اس کے مطابق کریں، میں حاضر ہوں۔ تو انھوں نے کہا، ہم نہایت شرمندگی کے ساتھ، اور نہایت دکھ کے ساتھ اور گہرے الم کے ساتھ آپ کو ڈبل جرمانہ کرتے ہیں۔ ڈیڑھ روپیہ ہو گیا۔ اب جب میں اُٹھ کے اس کرسی میں سے اس کٹہرے میں سے نکل کر شرمندہ، باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جج، اس کا عملہ تھا، اس کے منشی تھے وہ سارے جناب میرے پیچھے پیچھے (A teacher in the court) کہے جا رہے تھے کہ ہم احتراماً قافلے کے ساتھ آپ کو رخصت کرتے ہیں۔ میں کہوں، میری جان چھوڑیں۔ یہ باہر نکل کر میرے ساتھ کیا کریں گے۔ آگے تک میری موٹر تک مجھے چھوڑ کے آئے۔ جب تک میں وہاں سے سٹارٹ نہیں ہو گیا، وہ عملہ وہاں پر ایسے ہی کھڑا تھا۔اردو-11 | حصہ نثر | ۴۰
اب میں لوٹ کے آیا تو میں نے سمجھا، یا اللہ! میں بڑا معزز آدمی ہوں، اور محلے والوں کو بھی آکر بتایا کہ میں ایسے گیا تھا، اور وہاں پر یہ یہ ہوا۔ وہ بھی جناب، اور میری جو لینڈ لیڈی تھی، وہ بھی بڑی خوشی کے ساتھ محلے میں چوڑی ہو کے گھوم رہی تھی کہ دیکھو ہمارا یہ ٹیچر گیا، اور کورٹ نے اتنی عزت کی۔ اس کی عزت افزائی ہوئی تو میں یہ سمجھا کہ اس کے ساتھ ساتھ میری تنخواہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ دیسی آدمی جو ہے ناں وہ چاہے ٹیچر بھی ہو، وہ گریڈ کا ضرور سوچے گا۔ کتنی بھی آپ عزت دے دیں، کتنا بھی احترام دے دیں، وہ پھر بھی ضرور سوچے گا کہ مجھے کہیں سے چار پیسے بھی ملیں گے کہ نہیں، میں نے اپنے ریکٹر سے پوچھا، تو اس نے کہا نہیں تنخواہ یہاں پروفیسر کی اتنی ہی ہے جتنی تمھارے پاکستان میں ہے۔ وہ کوئی مالی طور پر اتنے بڑے نہیں ہیں لیکن عزت کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔ رتبہ ان کا بہت زیادہ ہے، اور کوئی شخص یہاں کوئی بیوروکریٹ ہو، یہاں کوئی جج ہو۔ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔ یہاں کا تاجر ہو، یہاں کا فیوڈل لارڈ ہو، وہ استاد کے رتبے کے پیچھے اس طرح چلتا ہے، جیسے روم کے دنوں میں غلام اپنے آقا کے پیچھے چلتے تھے۔ مالی طور پر وہ بھی بیچارے ہیں۔ یہی ان کا کمال ہے کہ مالی طور پر کم تر ہیں لیکن رتبے کے اعتبار سے بہت اونچے ہیں جیسے سقراط جو تھا، وہ اپنے کھنڈروں میں، اور فورم میں کھڑا ہو کے ننگے پاؤں بات کرتا تھا لیکن اس کا احترام تھا۔ وہ کوئی امیر آدمی نہیں تھا۔ میرا اباس کہا کرتا تھا:"You have changed your profession for a handful silver."
(زاویہ)
Comments
Post a Comment