Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Qurtuba Ka Qazi Class 12 Urdu Lesson 10 - Digital Book

Qurtuba Ka Qazi summary, Class 12 Urdu Chapter 10 notes, Imtiaz Ali Taj drama Qurtuba Ka Qazi, Qurtuba Ka Qazi play characters, 2nd year urdu qurtuba ka qazi explanation, Urdu drama analysis for students, Excellence Online Learning School Urdu, Pakistani textbook design HTML, Urdu literature class 12, Urdu play scripts for class 12

 Explore the powerful drama 'Qurtuba Ka Qazi' by Imtiaz Ali Taj for Class 12 Urdu. This high-quality digital lesson follows the SNC textbook style, featuring character details, dialogues, and historical context. Ideal for students of Excellence Online Learning School.



بارہویں جماعت
اردو (لازمی)
سبق نمبر: 10
Excellence Online Learning School (EOLS)
سید امتیاز علی تاج

قُرطبہ کا قاضی

حاصلاتِ تعلم
  • ڈرامہ نگاری کے فنی لوازمات اور صنفِ ڈرامہ سے آگاہی۔
  • سید امتیاز علی تاج کے اسلوب اور کردار نگاری کا مطالعہ۔
  • انصاف کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کا تصور۔
  • مکالمہ نگاری اور منظر کشی کے فن سے واقفیت۔

افراد

قاضی: یحییٰ بن منصور

زبیر: قاضی کا فرزند

حلاوہ: زبیر کی دایہ

عبداللہ: ایک خانہ زاد

ناظر: عدالت کے چار افسر

ہجوم: آوازیں

منظر: غرناطہ میں قاضی یحییٰ بن منصور کے مکان کا ایک ایوان جس کے دریچوں میں سے شہر کے چوک پر نظر پڑ سکتی ہے۔ دائیں ہاتھ کی دیوار میں ایک بڑا سا دریچہ، سامنے کی دیوار میں ایک چوڑا مگر نیچا دروازہ، جس کے پیچھے ایک تنگ اور اندھیری گلی ہے۔ گلی کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا دروازہ، جس میں سلاخیں لگی ہیں۔ بائیں ہاتھ پتھروں کا بنا ہوا زینہ، اوپر کے کمرے کے دروازے تک پہنچا ہے۔ اوپر کے کمرے کی کھڑکی ایوان میں کھلتی ہے۔ ایوان میں ایک بڑی میز ہے جس پر ایک شمعدان رکھا ہے۔ میز کے قریب ایک بنچ اور چند کرسیاں پڑی ہیں۔ دیواروں پر اسلحہ اور جانوروں کے سر ٹنگے ہیں۔ صبح کے دھندلکے میں حلاوہ بنچ پر بیٹھی ہے۔ سر گھٹنوں سے لگا رکھا ہے۔ عبداللہ دروازے میں سے اندر آتا ہے۔
عبداللہ: (بھاری آواز میں) شمعیں گل کردوں؟
حلاوہ: (آہ سرد کے ساتھ) کر دے، شمعیں صبح کے آنے کو روک نہیں سکتیں۔

(عبداللہ پھونکیں مار کر شمعدان کی تین شمعیں گل کرتا ہے۔)

حلاوہ: کیسی کالی صبح! میرے رب! کیسی کالی صبح!
دلچسپ معلومات: ۱ "قُرطبہ کا قاضی" انگریز ڈرامہ نویس لارڈس ہاؤس مین کی ایک ایکٹ کی بہت کامیاب ٹریجڈی ہے جس کی ہر سطر میں قوت اور الم موجود ہے۔ امتیاز علی تاج نے اس ڈرامے کو اس خوبی سے سرزمینِ اندلس کا واقعہ بنا دیا ہے کہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ یہ انگریزی کے ایک ڈرامے سے اخذ و ترجمہ ہے۔
59
عبداللہ: کالی اندھوں کے لیے، ان بدفالوں کے لیے جو گھٹنوں پر سر رکھے نحس کلمے منہ سے نکالتے ہیں، پر رب العالمین کے فضل و کرم سے ابھی آنکھوں والے بھی موجود ہیں۔ تیری طرح سب اندھے نہیں ہو گئے۔
حلاوہ: (اس کی پروا نہیں کرتی) یہ صبح دیکھنے کو میں زندہ کیوں رہ گئی...... اور میرے رب! آج کا دن تمام ہونے پر میرالال کیا ہوگا؟
عبداللہ: زندہ ہوگا اور کیا ہوگا؟ عمر پائے گا اور رب العالمین کے فضل و کرم سے تجھے اور مجھے، ہم دونوں کو قبر کے شگاف میں اتارے گا۔

(تھکان کی ایک آہ کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے)

حلاوہ: اس کے جسم میں خون جواں تھا اور پروردگارا! آج سولی پر اس کی لاش لٹکتی رہ جائے گی۔
عبداللہ: (بے قابو ہو کر) نشتَر زبان! یہ ہرگز نہ ہوگا۔
حلاوہ: (گھٹنے سے سر اٹھا کر آہ بھرتی ہے) اب چارہ کیا رہ گیا؟
عبداللہ: سارے قرطبہ میں ایک شخص نہیں جو کسی کے حکم سے بھی اسے سولی پر چڑھائے۔ خواہ اس کے اپنے باپ کا فتویٰ ہو۔
حلاوہ: باپ قاضی ہے۔
عبداللہ: کہا جو کہ اس کے فتوے پر عمل نہ ہوگا۔
حلاوہ: باہر سے لوگ بلا لیے جائیں گے جو اسے ویسے نہیں جانتے جس طرح ہم سب جانتے ہیں۔ انھیں قانون جو کہے گا وہ کر ڈالیں گے۔
عبداللہ: (چڑ کر) میں بک جو رہا ہوں، نہیں کریں گے، آج کے دن صرف شہر میں وہی شخص داخل ہونے پائے گا، جو کلامِ پاک کی قسم کھائے گا کہ اسے نوجوان زبیر کی سزا سے کچھ سروکار نہ ہوگا۔ سمجھی، گوڑھ مغزا! ہمارے آدمی تمام راستوں پر پھیل چکے، ایک ایک ناکے کو روک چکے۔ جس شخص نے قسم نہ کھائی کہ زبیر کا خون اس کے دوش پر نہ ہوگا، وہ اندر نہ گھسنے پائے گا اور یہی جواب قاضی کے حکم پر خود اس کو دیا جائے گا۔ وہ قانون کا غلام ہو یا سلطان کا۔ آج کے دن اس کے فتوے کی تعمیل نہ ہونے پائے گی۔
حلاوہ: لیکن احمق! ہونی کو کون روک سکتا ہے؟ میری یہی آنکھیں نہیں جنھیں آنسوؤں نے بے نور کر دیا۔ میری اور آنکھیں ہیں جو دیکھ سکتی ہیں اور جو دیکھ چکی ہیں۔ سولی اور اس سے لٹکتی ہوئی لاش! میرا ننھا! میری جان ننھا! میرا بھولا نوجوان! جس کا جسم میرے دودھ نے بنایا، جس کے خون اور ہڈیوں میں میرا دودھ ہے۔ میں اسے مردہ دیکھ چکی، کہتی جو ہوں کہ یو نہی ہوگا۔ سچ نہ ہوتا تو یہ بات میری زبان سے نکلتی؟
عبداللہ: لیکن اسے سولی کی سزا ملے کیوں؟ اس کا جرم کیا ہے؟
حلاوہ: میرے بتانے کی ضرورت ہے کہ اس نے خون کیا ہے؟
عبداللہ: ہاں! مگر محبت کی خاطر! اپنی غیرت کی خاطر! اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہ تھا۔ کون کہتا ہے یہ خون ناجائز تھا؟
حلاوہ: نہیں نہیں، اس نے خون جلن کے مارے کیا ہے۔
عبداللہ: محبت جلن نہیں تو پھر ہے کیا؟
حلاوہ: مقتول نے اسے آزار نہ پہنچایا تھا۔
عبداللہ: مقتول کو اس کی محبوبہ سے محبت جو تھی۔
حلاوہ: خوب صورت عورت سے کس کو محبت نہیں ہوتی؟
عبداللہ: لیکن محبوبہ نے مقتول کو محبت بھرا خط بھی تو لکھا تھا۔
حلاوہ: محبوبہ کو اس کا حق تھا۔ وہ زبیر کی منگیتر نہ تھی۔ جسے چاہتی پسند کرنے کا حق رکھتی تھی۔
عبداللہ: صرف اپنوں میں سے، اپنے ہم نسبوں میں سے۔ مقتول پرایا تھا اور دوسرے ملک کا باشندہ تھا۔
حلاوہ: زبیر کے باپ قاضی کا مہمان تھا۔
عبداللہ: اور شرافت کا یہ کون سا طور تھا کہ گھر کے نوجوان کی محبت میں کود پڑے؟ اگر وہ نہ آتا اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ورغلانہ لیتا تو زبیر اپنی محبت میں کامیاب نہ ہوتا؟
حلاوہ: شاید اللہ بہتر جانتا ہے۔ لڑکی نے اس وقت تک ہاں نہ کی تھی۔
عبداللہ: اس بات کا تو زبیر کو خدشہ تھا کہ کہیں وہ اس کے رقیب کا کام برابر کی لڑائی میں تمام نہ کر دے۔
حلاوہ: زبیر نے یہ کہا نہیں۔ ایک بار بھی نہیں کہا۔ وہ یہ کہتا تو اس کا باپ باور کر لیتا۔ پر ان باتوں سے کیا؟ ارے بختی! اب ان باتوں سے کیا؟ اس نے خون کیا ہے اور خون کی سزا میں اسے دار پر لٹکایا جائے گا۔
عبداللہ: (چڑ کر) اور اسے دار پر لٹکانے ٹو جائے گی!
حلاوہ: (ششدر ہو کر) میں؟
عبداللہ: تو نہ ہو تو اس بھرے شہر میں اور کوئی نہیں جو اپنے ہاتھ اس کے خون سے آلودہ کرے۔ (اٹھ کر دریچے کی طرف جاتا ہے) باہر دیکھ، اس ہجوم کو دیکھ! جس نے چوک میں سولی کو گھیر رکھا ہے (حلاوہ اٹھ کر کھڑکی کی طرف جاتی ہے) یہ سب کس کے منتظر ہیں؟
حلاوہ: (جیسے سب کچھ جانتی ہے) بتا تو کس بات کے؟
عبداللہ: سمجھتی ہے یہ سولی کا تماشہ دیکھنے کو کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کھڑے ہیں کہ یہ ناپاک کام نہ خود کریں گے اور نہ ہونے دیں گے۔ (ایک سیڑھی چڑھ کر کھڑکی کے پٹ کھول دیتا ہے) لوگو سنو! تم میں سے کون ہے جو قاضی یحییٰ کے لیے اس کے بیٹے کو سولی پر لٹکا دے؟

(ہجوم میں سے ناراضی کی مخلوط آوازیں سنائی دیتی ہیں)

کیوں؟ بولا کوئی شخص؟ کہا کسی نے کہ وہ زبیر کو سولی پر لٹکا سکتا ہے؟ کہا جو، کہ سارے قرطبہ میں ایک شخص کا ہاتھ نہیں جو اسے آزار پہنچانے کے لیے اٹھ سکے۔
(قاضی یحییٰ بن منصور اوپر کی منزل کی کھڑکی کے سامنے سے گزرتا ہوا رکتا ہے۔ ذرا دیر بے حس و حرکت یوں کھڑا رہتا ہے گویا کچھ نہیں دیکھ سکتا ہے)
چپ کیوں ہوگئی؟ بول اب بول نا! کون زندہ شخص ہے جو جان نثاروں کی آنکھوں کے سامنے سلطان کے حکم کی تعمیل کی جرات کر سکے؟
(قاضی کھڑکی سے دروازے کی طرف بڑھتا ہے اور دروازہ کھولتا ہے)
حلاوہ: چپ! دیکھ قاضی! قاضی! وہ سیڑھیاں اتر رہا ہے۔ وہ ادھر ہی آ رہا ہے۔
عبداللہ: (آہستہ سے) آنے دے۔
حلاوہ: لاش کی طرح۔
عبداللہ: چپ۔
حلاوہ: آنکھوں میں سے زندگی بجھی ہوئی۔
عبداللہ: چپ۔
حلاوہ: جیسے تنہائی میں موت سے کھیلتا رہا ہے۔
عبداللہ: بک مت۔
حلاوہ: جیسے روح لاش کو چھوڑ کر آ رہی ہو۔
عبداللہ: عورت! گونگی ہو جا!

(قاضی سیڑھیاں اتر کر کمرے میں آ جاتا ہے اور کچھ دیر خاموش کھڑا رہتا ہے)

62
قاضی: (بھاری آواز میں) موت کا ڈھنڈورا کیوں نہیں پیٹ رہا؟ (حلاوہ کے منہ سے سسکی نکل جاتی ہے، عبداللہ چپ ہے) میں نے کیا کہا؟ جواب دو۔
عبداللہ: حضور ڈھنڈورا پیٹنے والا نہیں۔
قاضی: کہاں گئے؟
عبداللہ: حضور مجھے علم نہیں۔ یہاں نہیں ہیں۔
قاضی: وہ کہاں ہے؟ وہ شخص جسے مجرم کو پھانسی دینا ہے؟
عبداللہ: حضور کہیں گیا ہوا ہے۔
قاضی: کہیں؟ تُو نے کیا کہا کہیں؟
عبداللہ: حضور!
قاضی: معنی کیا، کہیں؟
عبداللہ: چلا گیا تھا۔ اندھیرے منہ ہی، کہہ کر نہیں گیا کہاں جا رہا ہے۔ یہاں نہیں ہے۔
قاضی: ادھر باہر کون ہے...... اور کون ہے؟
عبداللہ: حضور ایسا کوئی بھی نہیں جو آپ کے فتوے کی تعمیل کر سکے۔ ویسے میرے سوا قرطبہ کے سارے مرد گھر کے باہر کھڑے ہیں۔
قاضی: (جلدی سے جیسے یقین نہیں آتا) قرطبہ کے سارے مرد تیرے سوا؟ یہ معنی کہ تعمیل کے لیے تو آمادہ ہے؟
عبداللہ: نہیں حضور! میں تعمیل نہیں کر سکتا، نہ کوئی اور شخص جسے میں جانتا ہوں، کر سکتا ہے۔ اگر حضور کو اس فتوے کی تعمیل کرانی ہے تو ابلیس ہی اس کی تعمیل کر سکتا ہے یا آپ خود۔
(قاضی نے پوری بات نہیں سنی لیکن حلاوہ نے سن لی ہے، اس کے منہ سے خوف کی دبی ہوئی آواز نکل جاتی ہے)
قاضی: کیا؟ کیا کہا تُو نے؟
عبداللہ: (مرعوب ہو جاتا ہے) معاف کیجیے گا حضور! میں صرف اپنے متعلق کہہ رہا تھا۔ رب العالمین میرا مدد گار ہو۔ میں جو بات حق سمجھتا ہوں کہہ رہا تھا۔
(خاموشی، نہ کوئی حرکت کرتا نہ بولتا ہے، باہر کے ہجوم میں سے ہلکے ہلکے بولنے کی مدہم آواز آ رہی ہے)
قاضی: ناظر عدالت کے آدمی کہاں ہیں؟
63
عبداللہ: نچلی منزل میں حضور!
قاضی: انھیں یہاں بلا لاؤ۔

(عبداللہ جاتا ہے۔ قاضی اضطرار میں دو قدم چل کر رک جاتا ہے، حلاوہ سہمی ہوئی کھڑی، بے حد ہمت سے کام لے کر بولتی ہے)

حلاوہ: میں حضور سے پوچھ سکتی ہوں؟
قاضی: کیا ہے عورت؟
حلاوہ: میری بوڑھی زبان سے اللہ تعالیٰ کا عفو و رحم کئی بار بولا لیکن ہر بار اس نے سننے والے کانوں کو بہرہ پایا۔ پر اب کی بار میری التجا سن لیجیے یا مجھے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیجیے۔ میرے حضور! یہ وہ بدنصیب بول رہی ہے جس نے مجرم کی ماں کے اٹھ جانے کے بعد اپنی اولاد کی طرح اسے کلیجے سے لگایا۔ میرے حضور! خود آپ نے اسے مجھے دے ڈالا تھا۔ میں تھی جس نے اسے زندگی دی اور توانائی بخشی کہ وہ بڑھ کر مرد بن جائے۔ میرے حضور! کیا آپ ہی مجھ سے وہ زندگی چھین لیں گے؟ اسے، جسے تب میں نے زندگی بخشی تھی۔ اب وہ جوان ہے۔ آپ کا گوشت اور خون ہے۔ اسے زندہ نہیں رہنا تھا تو یہ سب میں نے کیا کیوں تھا؟ فریاد سننے والا باپ ہے، تو پروردگار! اولاد کے لیے التجا میں کیوں کر رہی ہوں؟ وہ آپ کا ہے۔ میرا نہیں۔ اسے آپ نے پیدا کیا، میں نے نہیں۔ ایک اور عورت اسے جننے میں اس جہاں سے گزر گئی تھی۔
قاضی: بس اور کچھ نہیں۔ تجھے جو کچھ کہنا تھا تو کہہ چکی۔ میں بہر نہیں۔ (حلاوہ پھر بولنا چاہتی ہے) یہاں سے چلی جا عورت! مجھے اکیلا چھوڑ دے۔ چلی جا!
حلاوہ: بہت اچھا حضور! بہت اچھا!
(سسکیاں روکتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ عبداللہ داخل ہوتا ہے)
عبداللہ: حضور! ناظر عدالت کے آدمی آ گئے۔
قاضی: کیا؟ ہاں آ گئے؟ یہاں بلا لاؤ۔

(ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ناظر عدالت کے چار آدمی داخل ہوتے ہیں۔ پل بھر خاموشی)

تم لوگ سلطان کے نمک خوار ہو اور اطاعتِ سلطان کا حلف اٹھا چکے ہو! یہی صورت میری ہے۔ آج ایک شخص کو سولی دی جانی تھی...... سولی دینے والا موجود نہیں۔ تم میں سے کون؟ سنتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں؟ اس کی جگہ تم میں سے کون لے سکتا ہے؟ (کوئی جواب نہیں ملتا) کوئی شخص آمادہ نہ ہوا تو مجھے خود کسی ایک کو حکم دینا پڑے گا...... ہوں! کوئی نہیں؟...... دیکھو...... فرض ہم سب کو پکار رہا ہے، قانون کی اطاعت لازمی ہے۔ میں سمجھتا تم میں سے کوئی ہامی نہ بھرے گا۔ بہت اچھا قرعہ اندازی سے کام لیا جائے گا۔
افسر: نہیں حضور والا! معاف کیجیے گا ان میں سے کوئی بھی قرعہ اندازی نہیں چاہتا۔ ایک بھی نہیں۔ میں سب کی طرف سے بول رہا ہوں۔
قاضی: میں تم سب کو حکم دیتا ہوں۔
افسر: حضور! اللہ تعالیٰ مجھے توفیق بخشے کہ آپ کے فرزند کو سولی پر چڑھانے سے پہلے میں خود سولی پر چڑھ جاؤں۔
قاضی: تمھیں اس بات کا خیال نہیں کرنا چاہیے کہ مجرم میرا فرزند ہے...... یہ سمجھنا ہے کہ ایک شخص نے خون کیا ہے اور اس کی سزا میں اسے سولی ملنی لازمی ہے۔
افسر: حضور! جس شخص نے اسے مجرم قرار دیا اور اس کے قتل کا فتویٰ لکھا، یہ کام وہ خود کر سکتا ہے، تو کرے، ہم زبیر کو قصوروار نہیں سمجھتے۔

(قاضی کرسی ہٹا کر اٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ دریچے کے قریب جاتا ہے اور اس کے پٹ کھول دیتا ہے۔ پٹ کھولنے پر ہجوم کی آوازوں کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی ہے، جو قاضی کا چہرہ دیکھتے ہی بند ہو جاتی ہے)

قاضی: (بلند آواز سے) لوگو! ایک مجرم منتظر ہے کہ اسے سولی دی جائے اور سولی دینے والا کوئی نہیں۔ تم میں سے کوئی ہے جو یہ خدمت سرانجام دے سکے؟ (خاموشی۔ پھر استہزا کی ایسی زیر لب آوازیں جن سے ظاہر ہے کہ ہجوم کے لوگ قانون کی شکست سے مسرور ہیں)
عبداللہ: کوئی نہیں۔ ایک بھی نہیں؟ ایک بھی نہیں؟
قاضی: (کھڑکی بند کر دیتا ہے اور ذرا دیر چپ رہتا ہے پھر بے اختیاری کی کیفیت میں اس کی آہ نکل جاتی ہے) ناظر! جاؤ قیدی کو باہر لے جاؤ۔ کنجیاں یہ ہیں۔
(کنجیاں نکال کر میز پر پھینک دیتا ہے)
افسر: (کنجیاں اٹھا کر) باہر کہاں حضور؟
قاضی: سولی کے چبوترے پر۔ اور کہاں...... جلد...... وقت ضائع نہ ہو۔
(سپاہی جاتے ہیں)
(آہستہ سے) عبداللہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے اور اس کی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔
65
عبداللہ: (ہیبت زدہ ہو کر منہ ہی منہ میں) رب العالمین! رب العظیم! اسے سولی دینے کو مل گیا؟...... اسے سولی دینے کو کوئی مل گیا؟

(عبداللہ باہر جاتا ہے۔ افسر سلاخوں والا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا ہے۔ باقی ساتھی باہر ٹھہرے رہتے ہیں۔ گلی اندھیری ہے۔ سلاخوں والے دروازے کے اندر اور زیادہ اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں صرف اتنا معلوم ہو پاتا ہے کہ قیدی باہر آیا۔ افسر اس کے پیچھے گلی میں آتا ہے۔ قاضی اس طرف پیٹھ کیے ساتھ کھڑا ہے۔ قیدی سر پھیر کر اسے دیکھتا ہے۔ ناظر عدالت کے آدمی اس کے آگے اور پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور گلی کے راستے باہر لے جاتے ہیں...... رفتہ رفتہ ان کے قدموں کی آواز غائب ہو جاتی ہے۔ قاضی اب تک بت بنا کھڑا ہے۔ کوسِ رحلت بجنا شروع ہوتا ہے۔ اس کی آواز سن کر قاضی میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ وہ مڑتا ہے اور آہستہ آہستہ باہر چلا جاتا ہے۔ باہر قیدی کو دیکھ کر ہجوم سے تاسف کی آوازیں آتی ہیں۔ قاضی کے نمودار ہونے پر خوف و دہشت کی چیخیں سی سنائی دیتی ہیں۔ پھر سناٹا چھا جاتا ہے۔ کوسِ رحلت بجتا رہتا ہے۔ (ادھر ایوان میں حلاوہ گھبرائی ہوئی آتی ہے اور دریچے میں سے باہر جھانکتی ہے۔)

حلاوہ: لے گئے...... لے گئے۔
(کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگتی ہے۔ باہر کے ہجوم کا شور و غل سنائی دیتا ہے۔)
وہ آیا۔ وہ اسے لے آئے۔ میرا بچہ، میری آنکھ کا تارا، ارے دیکھو تو کیسے تن کر چل رہا ہے۔ اس کا باہر نکلا ہوا سینہ دیکھو! سانس کس بے خوفی سے آ رہا ہے! شاباش میرے لاڈلے شاباش! سر اٹھائے رکھ۔ تم پر ہم سب کو ناز ہے۔ تجھ پر میرے دلارے تجھ پر، جسے مر جانا ہے۔ دیکھو لو اسے دیکھ لو۔ جس کے بدن میں گرم خون لہریں مارتا تھا پر جس کے دل میں قاتل کے لہو کی ایک بوند بھی نہیں۔ ہائے پر قاتل موجود ہے۔ آستین چڑھائے کھڑا ہے۔ الہٰی! آج کا آفتاب یہ کیا دیکھ رہا ہے؟ آج کی روشنی میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ رب العالمین! تو خود اپنی آنکھیں بند کرلے۔ مت دیکھ۔ بیٹے کو باپ کے ہاتھ سولی دینے کو ہیں۔ تیری دنیا میں کبھی یوں بھی ہوا تھا؟ ارے دیکھو تو! ارے دیکھو تو! میرا بچہ ہاتھ چوم رہا ہے، میرا بچہ ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا رہا ہے۔ اس شخص کے جو اسے سولی پر چڑھانے کو ہے۔ جلدی ارے جلدی میرے رب! اس کی روح کو جھٹ اپنے دامنِ رحمت میں لے لینا۔ اسے تڑپا نا مت! اسے جلدی لے لے۔ اسے جلدی لے لے۔ ہا...... میرے بچے اپنا دم دے۔ اس کے لیے اور نہ تڑپ۔ مر جا۔ میری جان مر جا! مر جا!!

(کوسِ رحلت تھم جاتا ہے ہجوم میں سے گریہ و بکا کا ایک دلدوز شور اٹھتا ہے اور بتدریج گھٹ جاتا ہے)

66

(حلاوہ گھٹنوں کے بل گر پڑتی ہے۔ چہرہ اونچا اور آنکھیں بند کیے، منہ ہی منہ میں دعائیں مانگ رہی ہے۔ عبداللہ آتا ہے اور اسے دیکھتا ہے اور یوں بولتا ہے گویا اس سے غرض نہیں کہ وہ سنے گی یا نہیں)

عبداللہ: اب بھی دعا مانگ سکتی ہے۔ رب العالمین! اگر میں دعا مانگ سکتا اور میری دعا قبول ہو سکتی تو ایک موت اور ہوتی۔

(اس کے آخری الفاظ حلاوہ سن پاتی ہے۔ دعا بند کر کے آنکھیں کھولتی ہے اور اس کی طرف مڑتی ہے۔ اس وقت گلی میں قاضی کے بھاری اور آہستہ قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ حلاوہ کھڑی ہو جاتی ہے اور بے حس و حرکت مگر متوقع انداز میں کھڑی رہتی ہے۔ عبداللہ کو بھی قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ مڑ کر دیکھتا ہے اور ایک طرف ہٹ جاتا ہے۔)

عبداللہ: وہ آ رہا ہے۔ عورت دیکھ! قاتل آ رہا ہے اور اس کی روح پر کالی رات چھائی ہوئی ہے۔

(قاضی داخل ہوتا ہے۔ لڑکھڑا رہا ہے، مگر انتہائی قوتِ ارادی سے کام لے کر سنبھلنا چاہتا ہے۔ گلی میں سلاخوں والے دروازے کو دیکھ کر رک جاتا ہے۔ کھوئی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتا ہے اور پھر ضعف کو سنبھالتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ ایوان میں آتا ہے، مڑتا ہے اور سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہے۔ اوپر کے دروازے تک پہنچتا ہے۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ اندر سے زنجیر کھلنے اور تالے میں کنجی گھومنے کی آواز آتی ہے۔ ذرا سی دیر میں اوپر کی منزل کی کھڑکی میں سے اس کا ہاتھ نکلتا ہے اور کھڑکی کو بند کر کے اندر سے مقفل کر لیتا ہے)

حلاوہ: اس نے دروازہ بند کر لیا۔ اس نے اپنے آپ کو بند کر لیا۔ یہ دروازہ اب کبھی نہ کھلے گا۔ ہم اب اسے کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔ کبھی زندہ نہ دیکھ سکیں گے۔

(قرطبہ کا قاضی اور دوسرے یک بابی کھیل)

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...