Explore the linguistic bonds between Pakistani regional languages and the pivotal role of Urdu in national unity with this concise summary of Class 11 Urdu Lesson 12, presented by EOLS.
پاکستانی زبانیں اور ان کا باہمی رشتہ
پاکستان میں چھوٹی بڑی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں وطنِ عزیز کے چاروں صوبوں میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر کی زبانیں بھی شامل ہیں۔ یہ زبانیں اپنے اپنے علاقوں کے عوام کی امنگوں، آرزوؤں، جذبات، احساسات اور طریقِ تمدن و معاشرت کی آئینہ دار ہیں۔ ان میں لوک اور تحریری ادب کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے جو مجموعی طور پر اس تہذیب و ثقافت کے خد و خال کو نمایاں کرتا ہے جسے ہم "پاکستانی تہذیب و ثقافت" کہتے ہیں۔
یہ زبانیں مخصوص علاقوں کے تعلق سے بظاہر ایک دوسرے سے مختلف سہی، لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو ان میں بڑے گہرے تاریخی، تمدنی اور روحانی رشتے قائم ہیں۔ ان زبانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی نشو و نما جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے دورِ اقتدار کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے ذخیرہ الفاظ، رسم الخط، روزمرہ و محاورات، تلمیحات و ضرب الامثال اور روایات و حکایات سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہ زبانیں اسلامی تشخص رکھتی ہیں۔ ان زبانوں کے شعر و ادب نے صوفیائے کرام کے فیوض و برکات کے سائے میں پرورش پائی اور یوں ان زبانوں نے اخوت و مساوات، غیرت و حمیت اور باہمی مہر و محبت کی اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں اُن مسلمان مجاہدوں کے نعروں کی گونج اور تلواروں کی جھنکار بھی سنائی دیتی ہے جن کی مجاہدانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں ہند میں اسلام کا نور پھیلا۔ پاکستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والا ادب تمام پاکستانیوں کی مشترکہ میراث ہے۔
یوں تو پاکستان میں بولی جانے والی ہر زبان اہمیت کی حامل ہے لیکن اپنے دائرہ اثر کے اعتبار سے پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، ہندکو، سرائیکی اور کشمیری زبانیں یہاں کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہیں۔ شمالی علاقوں اور چترال کی زبانیں بھی قابلِ قدر ادبی سرمایہ رکھتی ہیں۔ پاکستانی زبانوں میں پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی نہ صرف یہ کہ پاکستانی آبادی کے وسیع حصے کی زبانیں ہیں بلکہ ان کا قدیم وجدید ادب بھی معیار و مقدار کے لحاظ سے خاصا وقیع ہے۔
سندھ کے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست، پنجاب کے سلطان باہو، وارث شاہ اور بلھے شاہ۔
سرحد کے خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا، بلوچستان کے جام درک اور مست توکلی۔
پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں بیشتر ایک ہی اصل کی مختلف شاخیں ہیں۔ ان کا تعلق زبانوں کے اس وسیع سلسلے سے ہے جو اصطلاح میں "ہند آریائی زبانیں" کہلاتی ہیں۔ جغرافیائی صورتِ حال اور مرورِ زمانہ کے باعث ان میں تغیرات پیدا ہوتے گئے اور ظاہری ہیئت میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی چلی گئیں۔ مسلمانوں کے دور میں ان زبانوں کے ذخیرہ الفاظ میں بے حد اضافہ ہوا اور اسلامی اثرات کے تحت ان کے بنیادی مزاج میں نمایاں تبدیلیاں ظہور میں آئیں۔ پاکستان کی یہ زبانیں باہم گہرے تاریخی رشتوں میں پیوست ہیں۔ ان کے ماضی کی طرح ان کا حال بھی انھیں ایک دوسرے سے وابستہ کیے ہوئے ہے۔ ہم علاقائی طور پر سرحدی ہوں یا پنجابی، سندھی ہوں یا بلوچ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ یہ رشتہ ہمارے تمام نسلی، علاقائی اور لسانی رشتوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس رشتے سے ہم پر واجب ہے کہ ہم پاکستان کی سبھی زبانوں کا احترام کریں، انھیں اپنی زبانیں سمجھیں اور انھیں ایک دوسرے سے قریب لانے میں کوشاں ہوں۔ ظاہر ہے کہ ہم یہ کوشش زبان ہی کے ذریعے کر سکتے ہیں اور وہ ہماری قومی زبان اُردو ہے۔
اُردو ہی پاکستان کی وہ واحد زبان ہے جو ہمارے کسی ایک علاقے کی زبان نہ ہوتے ہوئے بھی سبھی کی زبان ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں یکساں سمجھی، بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ اس کے علمی و ادبی سرمائے میں پاکستان کے ہر علاقے کے باشندوں نے مقدور بھر اضافہ کیا ہے۔ کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں اُردو کے شعرا اور ادیب موجود نہ ہوں۔ اس زبان کی ہمہ گیری اور ہر دلعزیزی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کا دعویٰ ہے کہ اُردو اس کے ہاں پیدا ہوئی۔ اس ضمن میں ہمارے محققین نے بڑا قابلِ قدر کام کیا ہے۔ "پنجاب میں اُردو"، "سندھ میں اُردو"، "سرحد میں اُردو" اور "بلوچستان میں اُردو" کے عنوانات کے تحت متعدد کتابیں اور طویل مضامین تحریر ہوئے جن سے اُردو زبان کی تاریخ کے باب میں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس طرح مقامی زبانوں اور اُردو کے لسانی روابط پر بھی خاصی تحقیق ہو چکی ہے۔
اُردو ادب نے دیگر پاکستانی زبانوں کے ادب پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔ ان زبانوں کی جدید نثر و نظم میں اُردو ادب سے خاصا استفادہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان زبانوں کا ادب، اُردو ادب کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان زبانوں کے ادب کا ایک بڑا حصہ اُردو میں منتقل ہو چکا ہے بلکہ اُردو کے ذخیرہ الفاظ میں ان زبانوں کے الفاظ کی آمیزش سے خوش گوار اضافہ بھی ہوا ہے۔ اُردو میں اب وہ لب و لہجہ پیدا ہو رہا ہے جسے ہم خالصتاً پاکستانی لب و لہجہ کہہ سکتے ہیں۔
- پاکستان کی علاقائی زبانیں یہاں کی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہیں۔
- تمام پاکستانی زبانیں ایک ہی خاندان "ہند آریائی" سے تعلق رکھتی ہیں۔
- ان زبانوں کی آبیاری میں صوفیائے کرام کا بڑا ہاتھ ہے۔
- اُردو زبان رابطے کی بہترین زبان ہے جو تمام اکائیوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔
- پاکستانی زبانوں اور اُردو کا رشتہ اٹوٹ ہے اور یہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔
(متاعِ نقد و نظر)
Comments
Post a Comment