نواب محسن الملک
حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)
- طلبہ کو خاکہ نگاری کے فن اور اسلوب سے واقف کروانا۔
- نواب محسن الملک کی شخصیت، تدبر اور علمی خدمات کو اجاگر کرنا۔
- اردو نثر میں روانی، فصاحت اور تسلسلِ بیان کی اہمیت سمجھانا۔
قدرت نے نواب محسن الملک مرحوم کو بہت سی خوبیاں عطا کی تھیں ۔ وجاہت، ذہانت، خوش بیانی اور فیاضی ان کی ایسی عام اور ممتاز صفات تھیں کہ ایک راہ چلتا بھی چند منٹ کی بات چیت میں معلوم کر لیتا تھا۔ خطاب یا نام اٹکل سے رکھ دیے جاتے ہیں مسمیٰ کی خصوصیات کا ان میں مطلق لحاظ نہیں ہوتا۔ نام رکھتے وقت تو ممکن ہی نہیں، عطائے خطاب کے وقت بھی اس کا خیال نہیں کیا جاتا۔ لیکن محسن الملک کا خطاب ان کے لیے بہت ہی موزوں نکلا۔ ان میں پارس پتھر کی خاصیت تھی۔ کوئی ہو، کہیں کا ہو، اُن سے چھوا نہیں اور گندن کا ہوا نہیں۔ اگر کسی نے سلام بھی کر لیا تو ان پر اس کا بار رہتا تھا اور جب تک اس کا معاوضہ نہ کر لیتے، انھیں چین نہ آتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے دشمن کو بھی نہ بھولتے تھے اور یہ میں ذاتی علم سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ان کے زیرِبارِ منّت تھے۔ سیاسی مصلحتیں بعض اوقات اہلِ حکومت کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان افراد کو جو ان کی یا حکومت کی راہ میں حائل ہیں، دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیں۔ مرحوم کو بھی کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا لیکن انھوں نے اس ناگوار اور دل شکن کام کو اس خوبی اور سلیقے سے کیا کہ مخالف ہونے پر بھی محسن الملک کو دعائیں دیتے گئے اور جب تک زندہ رہے، ان کے شکر گزار رہے۔
وہ جو ہر قابل تھے مگر موقعے کی تاک میں تھے۔ حیدر آباد میں ان کی سیاست دانی، تدبّر، انتظامی قابلیت کے جوہر کھلے۔ اُن کا ذہن ایسا رسا، اُن کی طبیعت ایسی حاضر، اُن کے اوسان ایسے بجا اور معاملات اور واقعات پر ایسا عبور تھا کہ بڑے بڑے پیچیدہ معاملات کو باتوں باتوں میں سلجھا دیتے تھے۔ وہ اگر رُکنِ یا کسی اور سلطنت کے فارن منسٹر ہوتے تو یقیناً دنیا میں بڑا نام پیدا کرتے، بڑے بڑے مدبّران کا لوہا مان گئے تھے۔
یوں تو انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے نواب صاحب مرحوم کے احسانات حیدرآباد اور اہلِ حیدرآباد پر بے شمار تھے لیکن ریاست کے نظم ونسق میں چند چیزیں خاص ان کی یادگار ہیں۔ مثلاً: ریاست کا بجٹ نواب صاحب نے مرتب کیا اور مصر کے بجٹ کے نمونے پر تھا جو وہاں انگریزی نگرانی کے بعد پہلی بار تیار ہوا تھا۔ بندوبست کا محکمہ بھی انھی کا قائم کیا ہوا ہے جس نے اراضی کی پیمائش کا کام کیا۔ اس کے علاوہ فنانس اور مال گزاری میں بہت سی اصلاحیں کیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، یہ ان کے سوانح نویس کا کام ہے۔
حیدرآباد میں بڑے بڑے لوگ آئے اور گئے لیکن اب تک کسی کو وہ مقبولیت اور ہردلعزیزی حاصل نہیں ہوئی جو نواب محسن الملک کو ہوئی۔ ہمارے ملک میں خوشامدیوں کی کوئی کمی نہیں، وہ بڑے اور صاحبِ اقتدار آدمی پر اس طرح ٹوٹ کر گرتے ہیں جیسے شہد پر مکھیاں، لیکن سچ اور جھوٹ کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ بڑا آدمی اپنے اقتدار یا منصب سے محروم ہو جاتا ہے۔ نواب محسن الملک کی رخصت کے وقت حیدر آباد میں کہرام مچ گیا تھا اور ہزار ہا آدمی کا ٹھٹھ اسٹیشن کے باہر اور اندر لگا ہوا تھا۔ سیکڑوں آدمی جن میں امیر، غریب، بیوائیں اور یتیم سب ہی تھے، زار و قطار رورہے تھے۔ وہ کیا چیز تھی جس نے چھوٹے بڑے سب کا دل موہ لیا تھا!
جس زمانے میں نواب صاحب پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالا، مسلمانوں میں مذہبی جذبہ بہت بڑھا ہوا تھا۔ اس کے متعدد اسباب تھے۔ ان میں سے شاید ایک یہ بھی تھا کہ انسان جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے تو مذہب ہی کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔ مسلمان دولت واقبال، جاہ و ثروت سب کچھ کھو چکے تھے، ایک مذہب رہ گیا تھا اس لیے یہ انھیں اور بھی عزیز ہو گیا۔ ذرا سی بدگمانی پر بھی ان کے جذبات بھڑک اٹھتے تھے۔ اس وقت شاید ہی کوئی ایسا مصنف یا ادیب ہو جس نے مذہب پر قلم فرسائی نہ کی ہو۔ یہاں تک کہ لوگ جنھیں مسلمان نیچری کہتے تھے اور اپنے خیال میں بد مذہب و بد عقیدہ سمجھتے تھے، ان کا اوڑھنا بچھونا بھی مذہب تھا۔ سرسید تو خیر ان کے مرشد ہی تھے، ان کے حلقے کے دوسرے رکن بھی مثلاً: نواب محسن الملک، حالی، مولوی مشتاق حسین شبلی، چراغ علی، نذیر احمد وغیرہ خواہ کچھ ہی لکھتے، تان مذہب ہی پر ٹوٹتی تھی۔ نواب صاحب مرحوم کو ابتدائی سے مذہبی لگاؤ تھا۔ پہلے وہ میلا د پڑھتے اور وعظ کہتے تھے۔ ان کی ایک ہی تصنیف ہے جو خالص مذہبی ہے، ورنہ اس کے سوا ان کی جتنی تحریریں ہیں وہ یا تو تعلیمی ہیں یا معاشرتی یا علمی، لیکن ان سب کا تعلق کسی نہ کسی نہج سے اسلام یا مسلمانوں سے ہے۔ گو وہ اُردو کے اعلیٰ درجے کے ادیبوں میں نہیں لیکن ان کی تحریر میں ادبیت کی شان ضرور پائی جاتی ہے۔ روانی، فصاحت، تسلسلِ بیان ان کے کلام میں نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ اگر چہ انگریزی نہیں جانتے تھے، لیکن انگریزی کتابیں پڑھوا کر سنتے اور ترجمہ کرا کر مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے مضامین میں مغربی خیالات کی ترجمانی صاف نظر آتی ہے۔
تقریر کے وقت منہ سے پھول جھڑتے تھے۔ آواز میں شیرینی اور دلکشی تھی۔ اکثر لوگ جو اُن سے ملنے یا کسی معاملے میں گفتگو کرنے آتے تو ان کی ذہانت اور لیاقت کے قائل ہو جاتے۔ ان کی خوش بیانی ایسی تھی کہ اکثر اوقات مخالف بھی مان جاتے تھے۔ دکن میں رہتے رہتے اور بعض امراض کی وجہ سے بھی وہ شدید موسم کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے زمانے میں وہ بمبئی چلے آتے۔ بدرالدین طیب جی، سرسید احمد خاں کے مشن اور علی گڑھ کالج کے بہت مخالف تھے۔ ایک دن نواب صاحب نے بدرالدین طیب جی کے سامنے ایسی فصیح اور پُر درد تقریر کی کہ دونوں آبدیدہ ہو گئے اور تھوڑی سی دیر میں ان کی دیرینہ مخالفت کو ہمدردی سے بدل دیا اور ایک گراں قدر عطیہ کالج کے لیے ان سے وصول کر لیا۔ بمبئی میں جب آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا تو اس کے صدر بھی بدرالدین طیب جی ہوئے۔ بڑے بڑے جلسوں میں جب معاملہ بگڑنے لگتا اور یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا کہ کہیں جلسہ درہم برہم نہ ہو جائے، تو اس وقت نواب صاحب کی خوش بیانی، فصاحت اور ظرافت جادو کا کام کر جاتی تھی اور منقبض اور مکدر چہرے بشاش اور شگفتہ ہو جاتے تھے۔ ان کی باتوں اور تقریروں میں ظرافت کی چاشنی بڑا مزہ دیتی تھی۔ باتوں میں ظرافت کبھی کبھی شوخی کی حد تک پہنچ جاتی تھی۔
دوسروں سے کام لینے کا انھیں بڑا اچھا سلیقہ تھا۔ وہ کچھ ایسے مہر آمیز طریقے سے کہتے تھے اور اس طرح ہمت افزائی کرتے تھے کہ لوگ خوشی خوشی ان کا کام کرتے تھے۔ اپنے ملازموں اور ماتحتوں سے بھی ان کا سلوک ایسا تھا کہ وہ ان کی فرمائش کی تعمیل ایسی تندہی اور شوق سے کرتے تھے جیسے ان کا کوئی ذاتی کام ہو اور وقت پر جان لڑا دیتے تھے۔
آدمی کے پہچاننے میں انھیں خاص ملکہ تھا۔ تھوڑی سی ملاقات اور بات چیت میں آدمی کو پوری طرح بھانپ لیتے تھے۔ اُن کے ملنے والے بُرے اور بھلے ہر قسم کے آدمی تھے۔ دنیا نیکوں ہی کے لیے نہیں، اس میں بدوں کا بھی حصہ ہے اور شاید دنیا کی بہت کچھ رونق انھی کے دم سے ہے۔ وہ دونوں سے کام لیتے تھے۔
نواب صاحب کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ اخبارات اور اُردو، فارسی، عربی کتابیں برابر پڑھتے رہتے تھے۔ انگریزی کے اخبارات اور مضامین بھی پڑھوا کر سنتے تھے۔ انگریزی کی ایسی کتابیں جو اُن کے مذاق کی ہوتی تھیں، اُن کا ترجمہ کراکر پڑھتے اور بحث کرتے تھے۔ ان کے کتب خانے میں فارسی، عربی اور انگریزی کی اعلیٰ درجے کی کتابیں تھیں۔
سرسید کی وفات کے قریب زمانے میں اُردو کی مخالفت کا آغاز ہو گیا۔ اگر چہ سرسید کی حالت اس وقت نازک تھی تو بھی اس جوان ہمت بوڑھے نے اس کے متعلق لکھنا پڑھنا شروع کر دی تھی۔ محسن الملک کے زمانے میں مخالفت نے اور زور پکڑا۔ اُردو کی حفاظت اور حمایت کے لیے ایک انجمن قائم کی گئی جس کا ایک عظیم الشان جلسہ لکھنؤ میں ہوا اس میں نواب محسن الملک نے بڑی زبردست اور جوش تقریر کی جس کا لوگوں پر بڑا اثر ہوا اور جوش کی ایک لہر پھیل گئی۔
نواب محسن الملک اسی شاہراہ پر گامزن رہے، جس کی داغ بیل سرسید ڈال گئے تھے۔ سرسید کے بعد محسن الملک نے اُن کے کام کو جس طرح سنبھالا، نبھایا اور بڑھایا یہ انھی کا کام تھا۔ ان کے بعد کوئی ان کی یادگار بنائے یا نہ بنائے محسن الملک کا کام ان کی سب سے بڑی یادگار ہے۔
سوالات
- ۱۔ سبق کے متن کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
- الف۔ نواب محسن الملک کو ریاست کے نظم ونسق اور حکومتی معاملات پر کس حد تک عبور حاصل تھا؟
- ب۔ نواب محسن الملک ریاستی عوام میں کس حد تک ہردلعزیز تھے؟
- ج۔ نواب محسن الملک کی تحریر کی خصوصیات کیا ہیں؟
- د۔ نواب محسن الملک کی تقریر کا انداز کس حد تک دلکش تھا؟
- ہ۔ نواب محسن الملک نے بدرالدین طیب جی کو، جو سرسید اور علی گڑھ کالج کے سخت مخالف تھے، اپنا گرویدہ کیسے بنالیا؟
- و۔ نواب محسن الملک کو مطالعے کا شوق کس حد تک تھا اور وہ کس قسم کی کتابیں پڑھتے تھے؟
- ۲۔ مندرجہ ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے:
لوہا ماننا، جوہر کھلنا، ٹوٹ کر گرنا، کہرام مچنا، دل موہ لینا، قلم فرسائی کرنا، منہ سے پھول جھڑنا، درہم برہم ہونا، جادو کا کام کرنا، جان لڑا دینا، داغ بیل ڈالنا۔ - ۳۔ بعض اوقات بات کی وضاحت کے لیے یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے مثال دی جاتی ہے۔ اسے تمثیلی انداز کہا جاتا ہے جیسے اس سبق میں آئے ہوئے یہ جملے دیکھیے:
- الف۔ ان سے چھوا نہیں اور گندن کا ہوا نہیں۔
- ب۔ وہ ہر بڑے اور صاحبِ اقتدار آدمی پر اس طرح ٹوٹ کر گرتے تھے جیسے شہد پر مکھیاں۔
- ج۔ وہ ان افراد کو جو جان کی یا حکومت کی راہ میں حائل ہیں، دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیں۔
- د۔ اس وقت نواب صاحب کی خوش بیانی، فصاحت اور ظرافت جادو کا کام کرتی تھی۔
- ۴۔ اس سبق میں سرسید احمد خاں کے جن جن رفقا کا ذکر آیا ہے، ان کے ناموں کی فہرست مرتب کریں۔
- ۵۔ اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے ۔
- ۶۔ سیاق و سباق کے حوالے سے مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح کیجیے:
- الف۔ ان کی ایک ہی تصنیف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمانی صاف نظر آتی ہے۔
- ب۔ دوسروں سے کام لینے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جان لڑا دیتے تھے۔
قواعدِ اردو: حرف
قواعد میں ’حرف‘ وہ غیر مستقل لفظ ہوتا ہے جو تنہا بولنے یا لکھنے میں کوئی خاص معنی پیدا نہیں کرتا جب تک کسی جملے میں یا دوسرے الفاظ کے ساتھ استعمال نہ ہو۔ مثلاً: ”نمازی مسجد میں ہے۔“ اس جملے میں لفظوں کا تعلق ’میں‘ کی وجہ سے ہے۔
اردو میں ان حروف کی چار قسمیں ہیں:
۱۔ حروفِ ربط : وہ ہیں جو ایک لفظ کا تعلق کسی دوسرے لفظ سے ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً: کا، کے، کی، نے، کو، تئیں، سے، میں، تک وغیرہ
۲۔ حروفِ عطف : وہ جو دو یا دو سے زیادہ لفظوں یا جملوں کو ملانے کا کام دیتے ہیں مثلاً: اور، مگر، تو وغیرہ۔
۳۔ حروفِ تخصیص: وہ ہیں جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آتے ہیں تو خصوصیت کے معنی پیدا کرتے ہیں مثلاً: ہی، تو، بھی، ہر وغیرہ
۴۔ حروفِ فجائیہ: وہ ہیں جو جوش یا جذبے میں بے ساختہ زبان سے نکل جاتے ہیں مثلاً: اے، اف، اوہو، ہائے وغیرہ
کہ، اور، یا، جو، ورنہ، لہٰذا، چاہے، چونکہ، تو، اگر، مگر، جبکہ، کیونکہ، صرف، بلکہ، اگرچہ، لیکن، واہ۔
Comments
Post a Comment