Discover the inspiring story of Muhammad bin Qasim's conquest of Sindh in Class 12 Urdu Lesson 6, "Pehli Fatah" by Nasim Hijazi. Learn about his leadership and strategic brilliance.
- تاریخی مضمون کے ذریعے اسلاف کے کردار سے آگاہی حاصل کرنا۔
- نسیم حجازی کے اسلوبِ نگارش اور تاریخی ناول نگاری سے واقفیت۔
- جذبہء جہاد، ایثار اور اسلامی سپہ سالاری کے اوصاف کو سمجھنا۔
پہلی فتح
صبح کی نماز کے بعد دمشق کے لوگ بازاروں اور مکانوں کی چھتوں پر کھڑے محمد بن قاسم کی فوج کا جلوس دیکھ رہے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ فوج کی قیادت ایک سترہ سالہ نوجوان کے سپر تھی ۔ دمشق سے لے کر بصرہ تک راستے کے ہر شہر اور بستی سے کئی کم سن لڑکے ، نو جوان اور بوڑھے اس فوج میں شامل ہوئے ۔ کوفہ اور بصرہ میں محمد بن قاسم کی روانگی کی اطلاع مل چکی تھی اور نوجوان عورتیں اپنے شوہروں ، مائیں اپنے بیٹوں اور لڑکیاں اپنے بھائیوں کونو جوان سالار کا ساتھ دینے کے لیے تیار رہنے پر آمادہ کر رہی تھیں۔ غیور قوم کی ایک بے کسی بیٹی کی فریاد بصرہ اور کوفہ کے ہر گھر میں پہنچ چکی تھی ۔ بھرے کی عورتوں میں زبیدہ کی تبلیغ کے باعث یہ جذبہ پیدا ہو چکا تھا کہ ناہید کا مسئلہ قوم کی ہر بہو بیٹی کا مسئلہ ہے ۔ نوجوان لڑکیاں مختلف محلوں اور کوچوں سے زبیدہ کے گھر آئیں اور اس کی تقاریر سے ایک نیا جذبہ لے کر واپس جاتیں۔ خرابی صحت کے باوجود محمد بن قاسم کی والدہ بصرہ کی معمر عورتوں کی ایک ٹولی کے ساتھ جہاد کی تبلیغ کے لیے ہر محلے کی عورتوں کے پاس پہنچتی ۔ زبیدہ نے چند نئے سپاہیوں کو گھوڑے اور اسلحہ جات بہم پہنچانے کے لیے اپنے تمام زیورات بیچ ڈالے ۔ بصرہ کے تمام امیر و غریب گھرانوں کی لڑکیوں نے اس کی تقلید کی اور مجاہدین کی اعانت کے لیے بصرہ کے بیت المال کو چند دنوں میں سونے اور چاندی سے بھر دیا۔ عراق کے دوسرے شہروں کی خواتین نے اس کارخیر میں بصرہ کی عورتوں سے پیچھے رہنا گوارا نہ کیا اور وہاں بھی لاکھوں روپے جمع ہو گئے ۔ محمد بن قاسم نے بصرہ میں تین دن قیام کیا ۔ اس کی آمد سے پہلے بصرہ میں حجاج بن یوسف کے پاس مکران کے گورنر محمد بن ہارون کا یہ پیغام پہنچ چکا تھا کہ عبید اللہ کی قیادت میں میں آدمیوں کا جو وفد دیبل بھیجا گیا تھا، اس میں سے صرف دونو جوان جان بچا کر مکران پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ باقی تمام دیبل کے گورنر نے قتل کر دیے ہیں۔ اس خبر نے بصرہ کے عوام میں انتظام کی سلگتی ہوئی آگ پر تیل کا کام دیا۔ دمشق سے روانگی کے وقت محمد بن قاسم کی فوج کی تعداد کل پانچ ہزار تھی لیکن جب وہ بھرے سے روانہ ہوا تو اس کے لشکر کی مجموعی تعداد بارہ ہزار تھی جن میں سے چھے ہزار سپاہی گھر سوار تھے، تین ہزار پیدل اور تین ہزار سامان رسد کے اونٹوں کے ساتھ تھے۔
محمد بن قاسم شیراز سے ہوتا ہوا مگر ان پہنچا۔ مکر ان کی سرحد عبور کرنے کے بعد لسبیلہ کے پہاڑی علاقے میں اُسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھیم سنگھ ہیں ہزار فوج کے ساتھ لسبیلہ کے سندھی گورنر کی اعانت کے لیے پہنچ چکا تھا۔ اُس نے ایک مضبوط پہاڑی قلعے کو اپنا مرکز بنا کر تمام راستوں پرا استوں پر اپنے تیر انداز بٹھا دیے۔ اپنے باپ کی مخالفت کے باوجود وہ راجا کو اس بات کا یقین دلا چکا تھا کہ اُس کے ہیں ہزار سپاہی بارہ ہزار مسلمانوں کو لسبیلہ سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ مسلمانوں کے پہاڑی علاقے میں داخل ہوتے ہی بھیم سنگھ کے سپاہیوں نے انکار کا حملے شروع کر دیے۔ تمہیں چالیس سپاہیوں کا گروہ اچانک کسی ٹیلے یا پہاڑی کی چوٹی پر نمودار ہوتا اور آن کی آن میں محمد بن قاسم کی فوج کے کسی حصے پر تیر اور پتھر برسا کر غائ ر برسا کر غائب ہو جاتا ۔ گھوڑوں کے سوار ادھر اُدھر ہٹ کر اپنا بچاؤ کر لیتے لیکن شتر سوار دستوں کے لیے یہ حملے بڑی حد تک پریشان کن ثابت ہوئے ۔ بعض اوقات برک کر ادھر اُدھر بھاگنے والے اونٹوں کو منظم کرنا حملہ کرنے والوں کے تعاقب سے زیادہ ۔ یادہ منتقل ہو جاتا ۔ محمد بن قاسم نے یہ دیکھ کر ہر اول کے پیادہ دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا لیکن حملہ آوروں کی ایک جماعت آگے سے کترا کر بھاگتی اور دوسری جماعت پیچھے سے حملہ کر دیتی ۔ ایک گروہ کسی ٹیلے پر چڑھ کر لشکر کے دائیں بازو کو اپنی طرف متوجہ کرتا اور دوسرا بائیں بازو پر حملہ کر دیتا۔ جوں جوں محمد بن قاسم کی فوج آگے بڑھتی گئی ، ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ رات کے وقت پڑاؤ ڈالنے کے بعد شب خون کے ڈر سے کم از کم ایک چوتھائی فوج کو آس پاس کے ٹیلوں پر قابض ہو کر پہرہ دینا پڑتا ۔ ایک شام محمد بن قاسم کو ایک جاسوس نے اطلاع کی کہ شمال کی طرف میں کوس کے فاصلے پر ایک مضبوط قلعہ اس لشکر کا مستقر ہے۔ محمد بن قاسم نے اپنے تجربہ کار سالاروں کی ایک مجلس شورای بلائی ۔ بعض سالاروں کی یہ صلاح تھی کہ اس راستے کو چھوڑ کر سمندر کے ساحل کے ساتھ ساتھ نسبتاً ہموار راستہ اختیار کیا جائے ۔ ہم اس قلعے سے جس قدر دور ہوں گے اسی قدر ان حملوں سے محفوظ رہیں گے لیکن محمد بن قاسم ان سے متفق نہ ہوا۔ اس نے کہا:
ایک بوڑھے سالار نے کہا: مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی کوئی تدبیر غلط نہ ہو گی لیکن سپہ سالار کا فوج کے ساتھ رہنا ہی مناسب ہے۔ سپہ سالار کی جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔ وہ فوج کا آخری سہارا ہوتا ہے۔ اگر اس خطر ناک مہم میں آپ کو کوئی حادثہ پیش آ گیا تو محمد بن قاسم نے جواب دیا :
زبیر نے کہا: میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں ۔ محمد بن قاسم نے جواب دیا: نہیں میں ایک قلعہ فتح کرنے کے لیے دودماغوں کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ میری غیر حاضری میں تمھارا فوج کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ میں اپنی جگہ محمد بن ہارون کو مقرر کرتا ہوں اور تم اس کے نائب ہو ۔
( محمد بن قاسم )
خلاصہ: یہ سبق محمد بن قاسم کی سندھ کی مہم کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے جس میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں، بصیرت اور مسلمانوں کے جذبہء جہاد کو دکھایا گیا ہے۔ نسیم حجازی نے ثابت کیا ہے کہ مسلمان شخصیات کے بجائے نظریات اور اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں۔
Comments
Post a Comment