Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Muhammad bin Qasim: The First Victory | Class 12 Urdu Lesson 6 Notes

 

Muhammad bin Qasim Sindh conquest, Class 12 Urdu Lesson 6 summary, Pehli Fatah Nasim Hijazi explanation, Urdu notes for 2nd year, Muhammad bin Qasim age 17, Lasbela battle history Urdu, Excellence Online Learning School Urdu, Muhammad bin Qasim strategy, Islamic history Urdu lessons, Nasim Hijazi historical novels summary.

Discover the inspiring story of Muhammad bin Qasim's conquest of Sindh in Class 12 Urdu Lesson 6, "Pehli Fatah" by Nasim Hijazi. Learn about his leadership and strategic brilliance.


اردو (لازمی) | بارہویں جماعت
Excellence Online Learning School (EOLS)
سبق نمبر: 6
حاصلاتِ تعلم:
  • تاریخی مضمون کے ذریعے اسلاف کے کردار سے آگاہی حاصل کرنا۔
  • نسیم حجازی کے اسلوبِ نگارش اور تاریخی ناول نگاری سے واقفیت۔
  • جذبہء جہاد، ایثار اور اسلامی سپہ سالاری کے اوصاف کو سمجھنا۔
نسیم حجازی (۱۹۹۶-۱۹۱۴ء)

پہلی فتح

صبح کی نماز کے بعد دمشق کے لوگ بازاروں اور مکانوں کی چھتوں پر کھڑے محمد بن قاسم کی فوج کا جلوس دیکھ رہے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ فوج کی قیادت ایک سترہ سالہ نوجوان کے سپر تھی ۔ دمشق سے لے کر بصرہ تک راستے کے ہر شہر اور بستی سے کئی کم سن لڑکے ، نو جوان اور بوڑھے اس فوج میں شامل ہوئے ۔ کوفہ اور بصرہ میں محمد بن قاسم کی روانگی کی اطلاع مل چکی تھی اور نوجوان عورتیں اپنے شوہروں ، مائیں اپنے بیٹوں اور لڑکیاں اپنے بھائیوں کونو جوان سالار کا ساتھ دینے کے لیے تیار رہنے پر آمادہ کر رہی تھیں۔ غیور قوم کی ایک بے کسی بیٹی کی فریاد بصرہ اور کوفہ کے ہر گھر میں پہنچ چکی تھی ۔ بھرے کی عورتوں میں زبیدہ کی تبلیغ کے باعث یہ جذبہ پیدا ہو چکا تھا کہ ناہید کا مسئلہ قوم کی ہر بہو بیٹی کا مسئلہ ہے ۔ نوجوان لڑکیاں مختلف محلوں اور کوچوں سے زبیدہ کے گھر آئیں اور اس کی تقاریر سے ایک نیا جذبہ لے کر واپس جاتیں۔ خرابی صحت کے باوجود محمد بن قاسم کی والدہ بصرہ کی معمر عورتوں کی ایک ٹولی کے ساتھ جہاد کی تبلیغ کے لیے ہر محلے کی عورتوں کے پاس پہنچتی ۔ زبیدہ نے چند نئے سپاہیوں کو گھوڑے اور اسلحہ جات بہم پہنچانے کے لیے اپنے تمام زیورات بیچ ڈالے ۔ بصرہ کے تمام امیر و غریب گھرانوں کی لڑکیوں نے اس کی تقلید کی اور مجاہدین کی اعانت کے لیے بصرہ کے بیت المال کو چند دنوں میں سونے اور چاندی سے بھر دیا۔ عراق کے دوسرے شہروں کی خواتین نے اس کارخیر میں بصرہ کی عورتوں سے پیچھے رہنا گوارا نہ کیا اور وہاں بھی لاکھوں روپے جمع ہو گئے ۔ محمد بن قاسم نے بصرہ میں تین دن قیام کیا ۔ اس کی آمد سے پہلے بصرہ میں حجاج بن یوسف کے پاس مکران کے گورنر محمد بن ہارون کا یہ پیغام پہنچ چکا تھا کہ عبید اللہ کی قیادت میں میں آدمیوں کا جو وفد دیبل بھیجا گیا تھا، اس میں سے صرف دونو جوان جان بچا کر مکران پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ باقی تمام دیبل کے گورنر نے قتل کر دیے ہیں۔ اس خبر نے بصرہ کے عوام میں انتظام کی سلگتی ہوئی آگ پر تیل کا کام دیا۔ دمشق سے روانگی کے وقت محمد بن قاسم کی فوج کی تعداد کل پانچ ہزار تھی لیکن جب وہ بھرے سے روانہ ہوا تو اس کے لشکر کی مجموعی تعداد بارہ ہزار تھی جن میں سے چھے ہزار سپاہی گھر سوار تھے، تین ہزار پیدل اور تین ہزار سامان رسد کے اونٹوں کے ساتھ تھے۔

سوال برائے مطالعہ:ا۔ وہ خاتون جس نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا تھا۔ (ناہید)
34

محمد بن قاسم شیراز سے ہوتا ہوا مگر ان پہنچا۔ مکر ان کی سرحد عبور کرنے کے بعد لسبیلہ کے پہاڑی علاقے میں اُسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھیم سنگھ ہیں ہزار فوج کے ساتھ لسبیلہ کے سندھی گورنر کی اعانت کے لیے پہنچ چکا تھا۔ اُس نے ایک مضبوط پہاڑی قلعے کو اپنا مرکز بنا کر تمام راستوں پرا استوں پر اپنے تیر انداز بٹھا دیے۔ اپنے باپ کی مخالفت کے باوجود وہ راجا کو اس بات کا یقین دلا چکا تھا کہ اُس کے ہیں ہزار سپاہی بارہ ہزار مسلمانوں کو لسبیلہ سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ مسلمانوں کے پہاڑی علاقے میں داخل ہوتے ہی بھیم سنگھ کے سپاہیوں نے انکار کا حملے شروع کر دیے۔ تمہیں چالیس سپاہیوں کا گروہ اچانک کسی ٹیلے یا پہاڑی کی چوٹی پر نمودار ہوتا اور آن کی آن میں محمد بن قاسم کی فوج کے کسی حصے پر تیر اور پتھر برسا کر غائ ر برسا کر غائب ہو جاتا ۔ گھوڑوں کے سوار ادھر اُدھر ہٹ کر اپنا بچاؤ کر لیتے لیکن شتر سوار دستوں کے لیے یہ حملے بڑی حد تک پریشان کن ثابت ہوئے ۔ بعض اوقات برک کر ادھر اُدھر بھاگنے والے اونٹوں کو منظم کرنا حملہ کرنے والوں کے تعاقب سے زیادہ ۔ یادہ منتقل ہو جاتا ۔ محمد بن قاسم نے یہ دیکھ کر ہر اول کے پیادہ دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا لیکن حملہ آوروں کی ایک جماعت آگے سے کترا کر بھاگتی اور دوسری جماعت پیچھے سے حملہ کر دیتی ۔ ایک گروہ کسی ٹیلے پر چڑھ کر لشکر کے دائیں بازو کو اپنی طرف متوجہ کرتا اور دوسرا بائیں بازو پر حملہ کر دیتا۔ جوں جوں محمد بن قاسم کی فوج آگے بڑھتی گئی ، ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ رات کے وقت پڑاؤ ڈالنے کے بعد شب خون کے ڈر سے کم از کم ایک چوتھائی فوج کو آس پاس کے ٹیلوں پر قابض ہو کر پہرہ دینا پڑتا ۔ ایک شام محمد بن قاسم کو ایک جاسوس نے اطلاع کی کہ شمال کی طرف میں کوس کے فاصلے پر ایک مضبوط قلعہ اس لشکر کا مستقر ہے۔ محمد بن قاسم نے اپنے تجربہ کار سالاروں کی ایک مجلس شورای بلائی ۔ بعض سالاروں کی یہ صلاح تھی کہ اس راستے کو چھوڑ کر سمندر کے ساحل کے ساتھ ساتھ نسبتاً ہموار راستہ اختیار کیا جائے ۔ ہم اس قلعے سے جس قدر دور ہوں گے اسی قدر ان حملوں سے محفوظ رہیں گے لیکن محمد بن قاسم ان سے متفق نہ ہوا۔ اس نے کہا:

” جب تک یہ علاقہ دشمن سے پاک نہیں ہوتا ۔ ہمارا آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں ۔ یہ قلعہ ان کے دفاع کی اہم چوکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس قلعے کے فتح ہو جانے کے بعد دشمن یہ تمام علاقہ خالی کرنے پر مجبور ہو جائے گا اور دشمن . خالی کرنے پر مجبور ہو جائے گا اور دشمن کے جو سپاہی یہاں سے فرار ہوں گے، وہ دیبل پہنچ کر ایک شکست خوردہ ذہنیت کا مظاہرہ کریں گے لیکن اگر ہم یہاں سے کترا کر نکل گئے تو ان کے حوصلے بڑھ جائیں گے اور ہمارا عقب ہمیشہ غیر محفوظ رہے گا۔ ہمارا پہلا مقصد اس قلعے کو فتح کرنا ہے۔ اس قلعے کی فتح کے بعد اگر پہاڑیوں میں پھیلے ہوئے لشکر کی تعداد کافی ہوئی تو وہ اس علاقے میں ہمارے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑنے کی کوشش کرے گا اور اس میں بھی ہماری بہتری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری پیش قدمی روکنے کے لیے اس قلعے کے محافظوں کی زیادہ تعداد آس پاس کی پہاڑیوں پر منقسم ہے۔ میں آج سورج نکلنے سے پہلے اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں اور اس مقصد کے لیے میں اپنے ساتھ فقط پانچ سو پیادہ سپاہی لے جانا چاہتا ہوں ۔ آپ باقی فوج کے ساتھ رات بھر پیش قدمی جاری رکھیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ چاروں اطراف کا خیال چھوڑ کر آپ کا راستہ روکنے کی فکر کریں گے۔ چاندنی رات میں آپ کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ زیادہ خطرناک ثابت ہو گا ۔ اگر صبح تک آپ کو قلعہ فتح ہو جانے کی خبر پہنچ جائے تو آپ پیش قدمی روک کر میرے احکام کا انتظار کریں۔ اگر قلعہ فتح ہو جانے کے بعد دشمن نے کسی جگہ منظم ہو کر مقابلے کی ہمت کی تو میں قلعے کی حفاظت کے لیے چند آدمی چھوڑ کر آپ کے ساتھ آملوں گا اور اگر انھوں نے قلعے کو دوبارہ فتح کرنا چاہا تو آپ وہاں پہنچ جائیں ۔ “
35

ایک بوڑھے سالار نے کہا: مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی کوئی تدبیر غلط نہ ہو گی لیکن سپہ سالار کا فوج کے ساتھ رہنا ہی مناسب ہے۔ سپہ سالار کی جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔ وہ فوج کا آخری سہارا ہوتا ہے۔ اگر اس خطر ناک مہم میں آپ کو کوئی حادثہ پیش آ گیا تو محمد بن قاسم نے جواب دیا :

” قادسیہ کی جنگ میں ایرانیوں کو اپنے زبردست لشکر کے با لشکر کے باوجود اس لیے شکست ہوئی کہ انھوں نے اپنی طاقت سے زیادہ رستم کی شخصیت سے امیدیں وابستہ کیں۔ رستم مارا گیا تو وہ مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کے مقابلے سے بھاگ نکلے لیکن اس کے برعکس مسلمانوں کے سپہ سالا رسعد بن وقاص گھوڑے پر چڑھنے کے قابل نہ تھے اور انھیں میدان سے الگ ایک طرف بیٹھنا پڑا لیکن مسلمانوں کی خود اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ انھیں اپنے سپہ سالار کی عدم موجودگی کا احساس تک بھی نہ تھا۔ ہماری تاریخ میں آپ کو کوئی ایسا واقعہ نہیں ملے گا ، جب سالار کی شہادت سے بد دل ہو کر مجاہدوں نے ہتھیار ڈال دیے ہوں ۔ ہم بادشاہوں اور سالاروں کے لیے نہیں لڑتے ۔ ہم خدا کے لیے لڑتے ہیں ۔ بادشاہوں اور سالاروں پر بھروسہ کرنے والے ان کی موت کے بعد مایوس ہو سکتے ہیں لیکن ہمارا خدا ہر وقت موجود ہے۔ قرآن میں ہمارے لیے اس کے احکام موجود ہیں ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے قوم کے لیے رستم نہ بنائے بلکہ مجھے شنی بننے کی توفیق دے جن کی شہادت نے ہر مسلمان کو جذبہ شہادت سے سرشار کر دیا تھا۔ میرے لیے اس سپہ سالار کی جان کی کوئی قیمت نہیں جو اُسے اپنے سپاہیوں کی تلواروں کے پہرے میں چھپا کر رکھتا ہے اور اپنے بہادروں کو جان کی بازی لگانے کے بجائے جان بچانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر اس قلعے کو فتح کرنا اس قدرا ہم نہ ہوتا تو میں یہ مہم شاید کسی اور کے سپرد کر دیتا لیکن اس مہم کا خطرہ اور اس کی اہمیت دونوں اس بات کے متقاضی ہیں کہ میں خود اس کی رہنمائی کروں ۔ “

زبیر نے کہا: میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں ۔ محمد بن قاسم نے جواب دیا: نہیں میں ایک قلعہ فتح کرنے کے لیے دودماغوں کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ میری غیر حاضری میں تمھارا فوج کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ میں اپنی جگہ محمد بن ہارون کو مقرر کرتا ہوں اور تم اس کے نائب ہو ۔

( محمد بن قاسم )

اہم نکات و مشکل الفاظ:
سپرد ہونا: حوالے ہونا
بہم پہنچانا: مہیا کرنا / فراہم کرنا
شب خون: رات کا اچانک حملہ
اعانت: مدد کرنا
مجلسِ شوریٰ: مشاورتی کمیٹی
مستقر: ٹھکانہ / مرکز

خلاصہ: یہ سبق محمد بن قاسم کی سندھ کی مہم کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے جس میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں، بصیرت اور مسلمانوں کے جذبہء جہاد کو دکھایا گیا ہے۔ نسیم حجازی نے ثابت کیا ہے کہ مسلمان شخصیات کے بجائے نظریات اور اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...