Explore the complete digital lesson on 'Mwasalat ke Jadeed Zarai' (Modern Means of Communication) for 12th class Urdu. Learn about the history of communication, radio, TV, and fiber optics.
سبق نمبر: 11
excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
مواصلات کے جدید ذرائع
- طلبہ مواصلات کی تاریخ اور ارتقائی مراحل سے واقف ہو سکیں۔
- جدید سائنسی ایجادات (ریڈیو، ٹی وی، کمپیوٹر) کے طریقہ کار کو سمجھ سکیں۔
- پیغام رسانی کے قدیم اور جدید طریقوں کے فرق کو واضح کر سکیں۔
مواصلات شروع سے انسان کی ایک ضرورت رہی ہے۔ پہلے اس کام کے لیے خط دے کر قاصد بھیجے جاتے تھے، پھر گھڑ سوار دوڑائے جانے لگے۔ گھڑ سواروں کے ذریعے بہت دور دور تک پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ دور دراز تک پیغامات بھیجنے کے لیے دس دس، بارہ بارہ میل پر منزلیں بنی ہوتی تھیں، جہاں تازہ دم گھوڑے موجود ہوا کرتے تھے۔ گھڑ سوار خطوط کا تھیلا لے کر اگلی منزل کو جاتے اور اسے وہاں کے گھڑ سوار کے حوالے کر کے واپس لوٹ آتے۔ اگلی منزل کا گھڑ سوار بھی ایسا ہی کرتا۔ اس طریقے سے سیکڑوں میل دوری تک خط پہنچائے جاتے۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنے زمانے میں گھڑ سواری کے ذریعے مواصلات کے نظام کو بہت ترقی دی تھی۔ اس کے لیے ایک جداگانہ محکمہ قائم کر دیا تھا جو ’’دیوان البرید‘‘ کہلاتا تھا۔
بہت زمانے تک مواصلات یا پیغام رسانی کا کام کبوتروں سے بھی لیا گیا۔ خط اس کی گردن میں یا اس کے بازو میں باندھ دیا جاتا اور وہ اسے منزل مقصود پر پہنچا دیتا۔ ان کے ذریعے سیکڑوں سال تک پیغام رسانی ہوئی ہوئی۔ انھیں پہلی بار کس نے استعمال کیا، اس کا تو علم نہیں مگر یہ بات تاریخ کی کتابوں میں بہ کثرت موجود ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے انھیں پورے بلادِ اسلامیہ میں استعمال کیا ہے۔ شام، عراق، مصر اور ایران وغیرہ میں۔ ہندوستان کے مغل فرماں روا جہانگیر نے بھی اس کام کے لیے کبوتر پال رکھے تھے۔ بعد میں یورپ کے حکمرانوں نے بھی پیغام رسانی کے لیے انھیں استعمال کیا۔
جب سائنس کا دور شروع ہوا تو دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ مواصلات میں بھی بڑی ترقی ہوئی۔ گذشتہ صدی میں موٹر اور ریل ایجاد ہوگئی۔ اس کے بعد ڈاک بھی اس کے ذریعے بھیجی جانے لگی۔ انہی برسوں میں ایک ایسا آلہ ایجاد ہو گیا جس نے موٹر اور ریل کی محتاجی ختم کر دی کیونکہ اس آلے کے ذریعے دور دور تک پیغام رسانی کی جانے لگی۔ وہ آلہ ٹیلی گرافی کہلاتا تھا۔ جسے ۱۸۳۸ء میں فنلے مورس نے ایجاد کیا۔ پھر ۱۸۹۵ء میں وائرلیس ایجاد ہو گیا جو کسی تار کو واسطہ بنائے بغیر، فضا میں پائی جانے والی ریڈیائی لہروں کے ذریعے پیغامات پہنچانے لگا۔ ان آلات کے ذریعے پیغام رسانی کے لیے وقت کا عامل بھی ختم ہو گیا کیونکہ یہ جن لہروں پر بھیجی جاتی ہیں، ان کے سفر کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل (تین لاکھ کلو میٹر) فی سیکنڈ ہے جبکہ زمین کا قطر اس سے بہت کم صرف چند ہزار میل ہے۔
وائرلیس کی ایجاد کا اصول یہ ہے کہ سورج سے نکلنے والی تین قسم کی لہروں میں سے ایک قسم برقی مقناطیسی لہریں ہیں جو ریڈیائی لہریں بھی کہلاتی ہیں جبکہ بقیہ دو لہریں روشنی اور حرارت ہیں۔ ان لہروں کو سمجھنے کے لیے آپ پانی کی سطح پر اٹھنی رہنے والی لہروں کو تصور میں لائیں۔ تالاب میں ڈھیلا پھینکتے ہی اس کے پانی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے، جس سے اس کے چاروں طرف پے درپے لہریں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ یکے بعد دیگرے تالاب کے کناروں کی طرف پھیلنے لگتی ہیں۔ فضا میں بھی پانی کی لہروں کی طرح کی ریڈیائی لہریں ہوتی ہیں۔ خاموش فضا میں کسی بھی قسم کی آواز، ان لہروں میں تالاب کے پانی کی طرح کا خلل پیدا کر دیتی ہے۔ اس خلل کے رونما ہوتے ہی ریڈیائی لہریں اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خواہ وہ جگہ بہت دور ہو۔
وائرلیس جو اس اصول پر کام کرتا ہے، اس کے ذریعے پیغام صرف بھیجا نہیں جاتا بلکہ وصول بھی کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کرنے کے لیے وائرلیس کے دو سیٹوں کا ہونا ضروری ہے۔ ان میں ایک سیٹ فرض کیجیے کہ کراچی میں ہے اور دوسرا حیدر آباد میں، دونوں سیٹوں کی بناوٹ بالکل ایک جیسی ہوگی اور دونوں ایک اصول پر کام کریں گے۔ دونوں سیٹوں میں ایک ایک مائیکروفون ہوتا ہے۔ وہ بجلی کے تار سے منسلک ہوتا ہے جو بیٹری سے بھی کام کر لیتا ہے۔ تار اپنے دوسرے سرے پر ایک ٹرانسمٹر سے منسلک ہوتا ہے۔ ٹرانسمٹر کے دوسرے سرے پر ایریل کا تار منسلک ہوتا ہے۔ کوئی پیغام دوسرے وائرلیس سیٹ پر بھیجنے کے لیے اپنے وائرلیس سیٹ کو منہ کے قریب لا کر پیغام کے جو الفاظ منہ سے ادا کیے جاتے ہیں وہ سب سے پہلے اس کے مائیکروفون میں داخل ہوتے ہیں۔ مائیکروفون سے وہ ارتعاش میں تبدیل ہو کے اندرونی تار کے ذریعے وائرلیس کے ٹرانسمٹر میں پہنچتے ہیں۔ وہاں سے وہ باہر نکل کر ریڈیائی لہروں کی صورت میں ہوا میں چاروں طرف پھیل جاتے ہیں۔ حیدر آباد میں رکھے ہوئے اسی بناوٹ کے وائرلیس سیٹ میں جو ریسیور ہوتا ہے، وہ اس آواز کو ریڈیائی لہروں کی صورت میں وصول کرتا ہے۔ وائرلیس سیٹ کے اندر جو ایمپلی فائر ہوتا ہے، ان لہروں کو طاقتور بنا دیتا ہے۔ پھر وہ لہریں وائرلیس سیٹ کے لاؤڈ اسپیکر میں پہنچتی ہیں جو اسے سننے کے لائق بنا دیتا ہے۔
مارکونی نے وائرلیس بنانے میں پہلی کامیابی ۱۸۹۵ء میں حاصل کی۔ مگر اس وقت تک اس کے ذریعے الفاظ نہیں بلکہ صرف ’’کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ‘‘ کی آواز بھیجنے میں کامیابی حاصل کی اور وہ بھی صرف چند گز کی دوری تک۔ پھر اس نے ٹرانسمٹر میں ایریل کا تار لگایا تو آواز بہت دور تک جانے لگی۔ ایریل کی مدد سے اسی سال اس نے ڈیڑھ سو میل تک آواز پہنچا دی۔
وائرلیس کو سب سے پہلے بحری جہازوں کے درمیان پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ واقعہ ۱۸۹۷ء کا ہے، پھر اسے زیادہ عام استعمال کی خاطر ٹیلی گرام بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کی خاطر جگہ جگہ تار گھر قائم کیے گئے۔
پہلا تار ۲۷ مارچ ۱۸۹۹ء کو اٹلی سے فرانس بھیجا گیا۔
پھر وائرلیس ٹیلی گرافی کے آلات کو اور ترقی دی گئی تو یورپ سے بحر اوقیانوس کے اس پار امریکہ تک تار بھیجے جانے لگے۔ اوقیانوس کے اس پار پہلا پیغام ۱۲ نومبر ۱۹۰۱ء کو بھیجا گیا۔
تین سال بعد ۱۹۰۴ء میں ایک انگریز سائنس دان ڈاکٹر فلیمنگ نے وائرلیس کے لیے ایک والو (Valve) ایجاد کیا۔ اس میں خوبی یہ تھی کہ یہ وائرلیس سیٹ میں داخل ہونے والی ریڈیائی لہروں کو جو بہت خفیف ہوتی ہیں، طاقتور بنا دیتا ہے، لہٰذا وہ لہریں لاؤڈ اسپیکر میں پہنچ کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ صاف سنائی دینے لگیں۔ والو کا آگے چل کر یہ فائدہ ہوا کہ محض ’’کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ‘‘ کی آوازوں کے علاوہ انسان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ یعنی گفتگو بھی سنائی دینے لگی۔ یہی کامیابی ریڈیو کی ایجاد کا پیش خیمہ بنی۔ جب تک صرف ’’کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ‘‘ وغیرہ کی آواز سنائی دیتی رہی، اس وقت تک وائرلیس سیٹ کو صرف بحری جہازوں کے درمیان اشاراتی پیغام رسانی کے لیے یا ٹیلی گرافی وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ ایجاد عام آدمی کے کام کی چیز نہ تھی کیونکہ اس میں انگریزی حرف A سے لے کر Z تک جدا جدا قسم کی ’’کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ ٹک ٹک‘‘ کے اشارات مقرر کرائے گئے تھے اور بس سمندر میں خطرے میں گھرا ہوا جہاز دوسرے جہاز کو مدد کے لیے بلانے کی خاطر وائرلیس پر فرض کیجیے کہ لفظ "HELP" کا پیغام بھیجنا چاہتا تو وہ اس لفظ کے چاروں حروف کے لیے مخصوص کیے ہوئے جدا جدا ’’کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ ٹک ٹک‘‘ جیسی آوازوں کے اشارے اپنے وائرلیس سے ارسال کرتا ہے۔ وہ اشارے دوسرے جہاز کے وائرلیس پر بعینہٖ موصول ہو جاتے ہیں۔ وصول کرنے والا جہاز ان اشارات سے اخذ ہونے والے حروف کو اس ترتیب سے یکجا کر کے پڑھ لیتا کہ "HELP" مانگی گئی ہے۔
ریڈیو ایجاد تو بلا شبہ مارکونی نے ہی کیا مگر ریڈیائی لہروں کو دریافت کرنے والا کوئی اور تھا اس کا نام ہرٹز تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہرٹز نے جن ریڈیائی لہروں کو دریافت کیا، ان کے وجود کی پیشین گوئی ایک انگریز ماہر طبیعیات میکس ول نے محض اپنے نظریے کے زور پر کر دی تھی اور ان فوائد کی بھی پیشین گوئی کر دی تھی جو اس کی دریافت کے بعد اس سے حاصل ہوئے۔ مختصر یہ کہ مارکونی کی ایجاد میکس ول کے نظریے اور ہرٹز کی دریافت کی مرہون منت ہے۔
ریڈیائی مواصلات کو مارکونی کے علاوہ دوسرے بہت سے لوگوں نے بھی ترقی دی۔ ان میں سے ایک ترقی تو والو کی ایجاد تھی جو ڈاکٹر فلیمنگ کے ہاتھوں ہوئی۔ پھر والو سے بھی بہتر چیز ایجاد ہوئی جو ٹرانسسٹر کہلاتی ہے۔ اسے جون ۱۹۴۸ء میں دو امریکی سائنسدانوں بارڈین اور برٹین نے ایجاد کیا۔
یہ ہے وائرلیس اور ریڈیو کی ایجاد کی مختصر داستان۔ آگے بڑھنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ آپ جدید ریڈیو کے کام کرنے کے اصول کو مختصر سمجھ لیں تاکہ ٹیلی وژن کی کارکردگی بھی آپ آسانی سے سمجھ سکیں۔
ریڈیو اسٹیشن میں پروگرام کرنے والے کی آواز سب سے پہلے مائیکروفون میں داخل ہوتی ہے جو اس کے منہ کے آگے ہی رکھا ہوتا ہے۔ مائیکروفون کے اندر ڈایافرام (Diaphragm) یعنی ایک پردہ ہوتا ہے جو کان کے پردے کی طرح حساس ہوتا ہے۔ آواز ڈایافرام سے ٹکرا کر اس میں اسی قسم کا ارتعاش پیدا کرتی ہے جیسا کہ کان کے پردے میں ہوتا ہے۔ ڈایافرام کا ارتعاش مائیکروفون سے لگے ہوئے بجلی کے تاروں میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں داخل ہو کے یہ برقی لہروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بجلی کا تار ایک ایمپلی فائر سے منسلک ہوتا ہے جو ان برقی لہروں کو طاقتور بنا دیتا ہے۔ پھر وہ طاقتور برقی لہریں بجلی ہی کے تار کے ذریعے ٹرانسمٹر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہاں ان کو مزید طاقتور بنایا جاتا ہے۔ ٹرانسمٹر سے یہ برقی لہریں ریڈیائی لہریں بن کے ایریل کے تار میں پہنچائی جاتی ہیں۔ ایریل کا تار بہت اونچے اونچے کھمبوں پر تنا ہوتا ہے۔ اس تار کے ذریعے ریڈیائی لہریں فضا میں منتشر کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ چاروں طرف دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔ یہ لہریں صوتی اشارے (Sound Signals) بھی کہلاتی ہیں۔ راستے میں جہاں جہاں ریڈیو ہوتے ہیں وہ ان صوتی اشاروں کو پکڑ لیتے ہیں۔ انھیں پکڑنے کے لیے ریڈیو کے اندر ریسیور ہوتا ہے۔
صوتی اشارے ریڈیو کے والو میں داخل ہو کے آواز بن جاتے ہیں۔ یہ آواز اس وقت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ صاف سنائی دینے کے لائق نہیں ہوتی۔ لہٰذا ریڈیو کے اندر ہی ایک لاؤڈ اسپیکر نصب ہوتا ہے۔ والو سے نکلنے والی آواز لاؤڈ اسپیکر میں داخل ہوتی ہے۔ اس کے اندر بھی مائیکروفون کی طرح کا ڈایافرام ہوتا ہے جس میں آواز کی لہروں سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور آواز صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ جدید ریڈیو میں والو کی جگہ ٹرانسسٹر ہوتا ہے کیونکہ اس کی کارکردگی والو سے بہت بہتر ہوتی ہے۔
ریڈیو کی ایجاد سے طرح طرح کے جو فائدے حاصل ہوئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ طیارے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے ریڈیائی لہروں سے رہبری حاصل کرتے ہیں۔ طیارے کی منزل جس سمت میں ہوتی ہے، اس سمت میں وہ پرواز کے دوران میں ریڈیائی لہریں پیدا کرنے لگتا ہے۔ اس سے ہوائی جہاز کی آخری منزل تک ایک ’’ہوائی سڑک‘‘ بن جاتی ہے جو اپنی منزل (ائیر پورٹ) تک پہنچنے میں اس کے لیے رہبر کا کام دیتی ہے۔ ہوائی اڈوں پر لگے ہوئے راڈار بھی ریڈیائی لہروں کی مدد سے آنے اور جانے والے جہازوں کا علم حاصل کرتے ہیں۔
مواصلات کے لیے ریڈیو سے بھی زیادہ کارآمد ایجاد ٹیلی وژن ہے۔ اسے جان بیئرڈ نامی ایک انگریز نے ایجاد کیا۔ ٹیلی وژن بالکل ریڈیو کے اصول پر کام کرتا ہے۔ اس میں بھی آواز کی لہریں صوتی اشاروں کی صورت میں ریڈیائی لہروں کے ذریعے فضا میں بکھیری جاتی ہیں۔ اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ آواز کے ساتھ تصویر بھی ارسال کی جاتی ہے۔ تصویریں صوتی اشاروں کی طرح اشاروں کی شکل میں تبدیل کر کے فضا میں بکھیری جاتی ہیں۔ جو بصری اشارے (Video Signals) کہلاتی ہیں۔
اشارے (ویڈیو سگنلز) کہلاتی ہیں۔ راستے میں جہاں جہاں ٹیلی وژن سیٹ ہوتے ہیں وہ صوتی اشاروں کے ساتھ ساتھ بصری اشاروں کو بھی وصول کر لیتے ہیں پھر انھیں روشنی کی لہروں میں تبدیل کرنے کے بعد تصویر کی لہروں میں تبدیل کر کے ٹیلی وژن کی اسکرین پر دکھاتے ہیں۔
اس پورے کام کے لیے ٹیلی وژن کے علاوہ کیمرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیلی وژن دیکھنے والے کے گھر میں ہوتا ہے جبکہ ٹیلی وژن کیمرہ ٹیلی وژن اسٹیشن میں ہوتا ہے۔ ٹیلی وژن کیمرے میں فلم کی ریل یا فیتہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ فلم بنانے یا ٹیپ کرنے کا کام نہیں کرتا بلکہ تصویروں کو برقی لہروں میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے۔ برقی لہروں کو بجلی کے تاروں کے ذریعے ٹیلی وژن اسٹیشن سے باہر پہنچا کر ایریل کے ذریعے فضا میں بصری اشاروں کی صورت میں بکھیر دیتا ہے۔ جہاں جہاں ٹیلی وژن ہوتا ہے، وہ اپنے ریسیور کے ذریعے ان بصری اشاروں کو وصول کرتا ہے، ان کو طاقتور بناتا ہے، پھر ان اشاروں کو روشنی کی لہروں میں بدل دیتا ہے۔ روشنی کی لہریں تصویروں کی شکل میں تبدیل کی جاتی ہیں۔ ادھر صوتی اشارے ٹیلی وژن کے ریسیور میں ریڈیو کے اصول پر پہنچتے ہیں پھر بیک وقت تصویریں اسکرین پر اور آوازیں ٹیلی وژن کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دکھائی اور سنائی دیتی ہیں۔
ٹیلی فون، ریڈیو اور ٹیلی وژن سے بھی زیادہ پرانی ایجاد ہے۔ یہ بھی مواصلات کا نہایت اہم ذریعہ ہے۔ اسے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر دو باتوں میں سبقت حاصل ہے۔ اس کے ذریعے دو طرفہ پیغام رسانی ہوتی ہے اور وہ بھی ضرورتوں میں بھی کام آتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں اسے کئی طریقوں پر بہتر بنایا گیا ہے۔ پہلے یہ آپریٹر کا محتاج تھا مگر اب اس میں ڈائل لگا کے اسے خود کار بنا دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹ ڈائلنگ کر کے اب دوسرے شہروں، دوسرے ملکوں اور دوسرے براعظموں سے بھی گفتگو کی جانے لگی ہے۔ دوسرے ملکوں اور براعظموں سے زیادہ آسانی کے ساتھ ٹیلی فونی رابطہ قائم کرنے کے لیے گذشتہ برسوں میں مائیکرو ویو لنکس اور مصنوعی سیارے کام میں لائے گئے ہیں۔ ٹیلی فون سیٹ کے ساتھ کارڈلیس (Cordless) سیٹ کا اضافہ بھی ٹیلی فون کی سہولت میں ایک اہم اضافہ ہے۔
۱۹۸۴ء میں موبائل ٹیلی فون ایجاد ہو گیا جسے کار فون بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے کار میں سفر کے دوران بھی نمبر ملا کے بات کی جا سکتی ہے۔ اسے کارڈ لیس کی ترقی یافتہ شکل کہنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ٹیلی فون اور وائرلیس کا امتزاج ہے۔
ٹیلی فون میں مزید تبدیلیاں لانے پر کام ہو رہا ہے۔ موجودہ کوششیں دو اصولوں پر مبنی ہیں: ایک یہ کہ پیغام رسانی کے لیے تانبے کی تاروں کے بجائے بصری ریشے (Optic Fibres) استعمال کیے جائیں اور دوسرا یہ کہ پیغامات کو برقی لہروں میں تبدیل کرنے کے بجائے لیزر کی شعاعوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک ریشہ کئی ہزار ٹیلی فون تاروں کا بدل ہوگا۔ اس وقت دو شہروں کے درمیان ایک تار پر ایک وقت میں صرف دو آدمی گفتگو کر سکتے ہیں۔ بصری ریشوں اور لیزر شعاعوں کے ذریعے ایک تار (بصری ریشے) پر جدا جدا نمبروں سے ایک وقت میں کئی ہزار آدمی گفتگو کر سکیں گے۔ اس سے وقت کی بہت بچت ہوگی۔
بصری ریشہ ۱۹۰۶ء کی ایجاد ہے، بال کی طرح باریک ریشہ ہے مگر بہت مضبوط ہوتا ہے۔ کمپیوٹر جو بظاہر حساب کتاب کی مشین ہے، ایک مواصلاتی مشین بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعے حساب کتاب یا کسی اور قسم کی معلومات پل بھر میں دور سے دور تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اپنی میکانیت کے لحاظ سے یہ مشین وائرلیس آلات کی توسیع ہے کیونکہ اس میں بھی پیغامات کو برقی لہروں کی شکل میں تبدیل کر کے بھیجا جاتا ہے۔ فرق اس بات میں ہے کہ اس کے ذریعے پیغامات آواز کی شکل میں نہیں بلکہ تحریر کی شکل میں بھیجے جاتے ہیں۔
کمپیوٹر کے کام کرنے کا اصول یہ ہے کہ کمپیوٹر سے پوچھا جانے والا سوال، جواب حاصل کرنے کی خاطر کمپیوٹر کے ایک حصے ’’ان پٹ‘‘ (مدخل) میں ٹائپ کرنے کے طریقے پر تحریری شکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان پٹ میں داخل ہونے کے بعد وہ سوال بجلی کی لہروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہروں کی صورت میں یہ کمپیوٹر کے پروسیسنگ یونٹ میں پہنچتا ہے۔ یہ وہاں سوراخ دار مقناطیسی فیتے کے ذریعے پہنچتا ہے۔ پروسیسنگ یونٹ میں کئی حصے ہوتے ہیں جن میں سے ایک اس کی میموری ہے۔ سوال سب سے پہلے وہاں پہنچتا ہے۔ میموری اسے پروسیسنگ یونٹ کے حسابی یونٹ میں بھیجتی ہے۔ وہاں اس کا جواب تیار ہوتا ہے اور پھر وہ کمپیوٹر کے آؤٹ پٹ (مخرج) پر نمودار ہوتا ہے۔ آؤٹ پٹ سے اسے مقناطیسی فیتے پر یا مشین کے اسکرین پر یا کاغذ کے ورق پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ٹیلی فیکس، جسے مختصراً فیکس کہا جاتا ہے، مواصلات کا وہ نظام ہے جو کسی بھیجنے والے کے خط کی فوٹو کاپی تیار کر کے چند منٹوں میں پانے والے کے ہاتھ میں پہنچا دیتا ہے۔ اس مشین کو ٹیلی پرنٹر یا ٹیلی گرام پر یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہ بھیجنے والے کے خط کو اس کی اپنی تحریر میں جوں کا توں پہنچاتی ہے جبکہ ٹیلی گرام اور ٹیلی پرنٹر بھیجنے والے کی تحریر کو اپنی ٹیلی پرنٹر مشین کے ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کر کے پہنچاتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر خط پانے والا بھیجنے والے کی تحریر کو پہچانتا ہے تو خط دیکھ کر وہ حتمی رائے قائم کر سکتا ہے کہ یہ خط اصلی ہے یا جعلی۔
ٹیلی فیکس کی مشین جسامت میں فوٹو کاپی کی مشین کے برابر ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے پیغام رسانی کے لیے دو مشینیں ہونی چاہئیے، ایک بھیجنے والے کے پاس اور دوسری پانے والے کے پاس۔ بھیجنے والا جس خط کو بھیجنا چاہتا ہے اسے وہ فیکس کی مشین میں داخل کر کے پانے والے کی مشین کا نمبر ملاتا ہے۔ پھر وہ خط آہستہ آہستہ مشین کے اندر داخل ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے حروف پہلے روشنی کی لہروں میں تبدیل ہوتے ہیں پھر روشنی کی لہریں بجلی کی لہروں میں تبدیل ہو کے فضا میں بکھر جاتی ہیں اور ریڈیائی لہروں کے ذریعے اشارات (سگنلز) کی شکل میں دوسری مشین تک خواہ وہ ہزاروں کلو میٹر دور رکھی ہو پہنچ جاتی ہیں۔ خط کے حروف کو روشنی کی لہروں میں تبدیل کرنے کے لیے بھیجے جانے والی فیکس مشین کے اندر ایک فلوریسنٹ بلب ہوتا ہے جس سے بہت تیز روشنی نکلتی ہے۔ یہ روشنی جب خط پر پڑتی ہے تو اس کے حروف منعکس ہو کر اس مشین کے اندر لگے ہوئے لائٹ سینسر پر پڑتے ہیں۔
لائٹ سنسر ان حروف کو برقی لہروں (برقی اشارات) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ اشارات وہاں سے ایمپلی فائر میں پہنچتے ہیں جو ان لہروں کو طاقتور بنا کر فضا میں بکھیر دیتا ہے۔ ادھر وصول کرنے والی فیکس مشین میں بھی ایک ایمپلی فائر اور ایک سنسر ہوتا ہے، جو بجلی کے اشارات کو طاقتور بنا کے اور پھر انھیں روشنی کی لہروں میں تبدیل کر کے اسے کاغذ کے ایک سادہ ورق پر سطر بہ سطر تحریر کی صورت میں بعینہٖ اتارتا چلا جاتا ہے۔ نقل اتارنے والا یہ کاغذ خاص قسم کا ہوتا ہے اور ’’تھرمل پیپر‘‘ کہلاتا ہے۔ فوٹو کاپی کا ورق آہستہ آہستہ مشین کے باہر آ جاتا ہے۔
مواصلات کے مذکورہ بالا جدید ذرائع کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ پہلے زمانے میں بھیجنے والے کا پیغام کبھی صرف تحریر کی صورت میں یا قاصد کی زبانی پہنچا کرتا تھا، مگر جدید زمانے میں اب وہ ان دونوں طریقوں کے علاوہ خود اپنی زبان میں اور اپنی تحریر میں بھی پہنچنے لگا ہے۔ علاوہ ازیں پہلے ان کاموں میں وقت لگتا تھا مگر اب وقت بالکل نہیں لگتا۔ مستقبل قریب اس سے بھی بڑی خوشخبری کی بشارت دے رہا ہے کہ اکیسویں صدی کے آتے آتے مواصلات پر پیغام بھیجنے والے کی تصویریں بھی دکھائی دینے لگیں گی۔ وہ اسی وقت کمپیوٹر میں محفوظ بھی کر لی جائیں گی اور ایک تار پر ایک وقت میں دو کے بجائے ہزاروں آدمی پیغام رسانی کر سکیں گے۔ (الحمد اللہ! یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے)
- قدیم دور میں مواصلات کے لیے قاصد، گھڑ سوار اور کبوتر استعمال ہوتے تھے۔
- ٹیلی گرافی ۱۸۳۸ء میں فنلے مورس نے ایجاد کی۔
- ریڈیائی لہروں کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔
- ریڈیو مارکونی، ٹیلی وژن جان بیئرڈ اور موبائل فون ۱۹۸۴ء کی ایجاد ہے۔
- مستقبل میں بصری ریشے (Optic Fibres) مواصلات کا اہم ذریعہ ہوں گے۔
Comments
Post a Comment