Explore Lesson 6 of Class 4 Social Studies on Means of Communication. Learn about the evolution from ancient arts to modern internet and mobile phones with EOLS.
ذرائع ابلاغ
(Means of Communication)
حاصلاتِ تعلم (Students' Learning Outcomes)
اس باب کی تکمیل کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- ذرائع ابلاغ (Means of Communication) کی تعریف کر سکیں۔
- ذرائع ابلاغ (فنونِ لطیفہ، زبان، خطوط، پوسٹ کارڈ، ای میل، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، موبائل فون، کمپیوٹر وغیرہ) کی شناخت کر سکیں اور اہمیت بیان کر سکیں۔
سوچیں اور جواب دیں! (Think and Answer)
آپ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے کون کون سی زبانیں بولتے اور لکھتے ہیں؟
اپنے پسندیدہ ٹیلی ویژن پروگراموں کی فہرست بنائیں
ہم روزمرہ زندگی میں اپنے خیالات، معلومات اور اطلاعات کا تبادلہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ اس تبادلے کے لیے ہم کسی نہ کسی ذریعے کا استعمال کرتے ہیں، جیسے دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کوئی نہ کوئی زبان بولتے یا لکھتے ہیں۔ پاکستان کی اکثریت رابطے اور ابلاغ کے لیے اردو زبان استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کی معلومات ہم ٹیلی ویژن ، انٹرنیٹ یا کتابوں سے حاصل کرتے ہیں۔ زبان، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور کتب وغیرہ ابلاغ کے ذرائع ہیں۔
ذرائع ابلاغ (Means of Communication)
وہ ذرائع جن کو استعمال کرتے ہوئے ہم پیغامات، اطلاعات یا معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ (Means of Communication) کہلاتے ہیں۔ قدیم دور سے لے کر دورِ جدید تک بہت سے ذرائع ابلاغ سے ہمیں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں۔ آئیے ! ابلاغ کے چند ذرائع کے بارے میں جانتے ہیں:
فنونِ لطیفہ (Art)
فنونِ لطیفہ (Art) پیغام رسانی کا انتہائی قدیم اور اولین ذریعہ ہے۔ فنون لطیفہ کا آغاز اس وقت ہوا جب لوگ غاروں میں رہتے تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اس وقت لوگ اپنے احساسات، خیالات اور تصورات دوسروں تک پہنچانے کے لیے تصویروں کا استعمال کیا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ فنون لطیفہ نے ترقی کی اور ناول نگاری ، موسیقی ، شاعری ، مجسمہ سازی اور مصوری بھی فنون لطیفہ میں شامل ہو گئے۔
[فنونِ لطیفہ کا ایک نمونہ]
زبان (Language)
ہر شخص کسی نہ کسی زبان کے الفاظ اور جملے بول کر با آسانی اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ دنیا میں اس وقت تقریباً 6000 سے زائد زبانیں مختلف لب و لہجے کے ساتھ بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ زبان سیکھنے اور سکھانے کا عمل صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی محلے میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جب لوگوں کا آپس میں میل جول بڑھتا ہے تو وہ ایک دوسرے کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ مختلف زبانوں کے مختلف الفاظ سے مل کر ایک نئی زبان جنم لے سکتی ہے۔ برصغیر میں اردو زبان بھی ایسے ہی وجود میں آئی۔ برصغیر میں جب مسلمان آئے تو ان کی زبان عربی، ترکی اور فارسی تھی ، جب کہ مقامی لوگوں کی زبان ہندی تھی۔ لوگ ان زبانوں اور مقامی زبانوں کو ملا کر بات چیت کرنے لگے۔ اس طرح نئی زبان "اُردو" وجود میں آئی جو ہماری قومی زبان ہے۔
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
انگریزی، چینی اور عربی دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں ہیں۔
خطوط (Letters) اور پوسٹ کارڈ (Post Card)
خطوط کے ذریعے سے ایک شخص اپنا پیغام لکھ کر دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ یہ پیغام رسانی کا پرانا ذریعہ ہے۔ خطوط کو ڈاک خانے کے ذریعے سے بھیجا اور وصول کیا جاتا ہے۔ پوسٹ کارڈ، خط ہی کی ایک شکل ہے۔ پرانے وقتوں میں ڈاک خانے میں خطوط بھیجنے اور وصول کرنے والوں کا میلہ لگا رہتا تھا، ایک جگہ سے دوسری جگہ خطوط آنے جانے میں کافی دن لگتے تھے، لیکن آج کل سرکاری ڈاک خانے کی ارجنٹ میل سروس (Urgent Mail Service) کی مدد سے خط اور پارسل چند گھنٹوں یا ایک سے دو دن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ خطوط ہی کی طرح پوسٹ کارڈ بھی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ پوسٹ کارڈ کا استعمال خوشی کے موقعوں پر ہوتا تھا جیسے عید، سالگرہ اور وفات وغیرہ۔ کارڈ کے ایک طرف پیغام پہنچانے والا اپنا پیغام لکھتا تھا، جب کہ دوسری طرف جسے کارڈ بھیجنا ہو اس کا پتا لکھا جاتا تھا اور اس پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی چسپاں ہوتی تھی۔
[پوسٹ کارڈ]
ذرا رکیں اور بتائیں!
پرانے وقتوں میں پیغام رسانی کے مختلف ذرائع استعمال ہوتے تھے۔ اُن کے مقابلے میں آج کل کون سے ذرائع ابلاغ استعمال ہو رہے ہیں؟
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
کورئیر سروس (Courier) بھی پوسٹ سروس کی طرح کام کرتی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت بہت سے پرائیویٹ ادارے یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ای میل (برقی مراسلہ) (E-Mail)
دورِ جدید میں ای میل (E-Mail) پیغام پہنچانے کا ایک تیز ترین ذریعہ ہے۔ ہم خط کی جدید شکل کو ای میل بھی کہہ سکتے ہیں۔ ای میل لکھنے کے لیے عام طور پر انگریزی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اسے اردو میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ ای میل مختلف تصاویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام کے ساتھ بھیجی یا موصول کی جا سکتی ہے۔ ای میل بھیجنے کے لیے ہمارا ایک ای میل اکاؤنٹ (E-Mail Account) ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ کسی کو پیغام بھیجنا چاہتے ہیں تو کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ یا موبائل فون پر ای میل (E-Mail) ٹائپ کریں۔ ایک بٹن دباتے ہی آپ کا پیغام متعلقہ فرد یا گروپ تک پہنچ جائے گا اس کے علاوہ دفتری اور کاروباری معاملات کے لیے بھی ای میل استعمال کی جاتی ہے۔
کرتے ہیں کچھ نیا! (Let's do something new!)
کمپیوٹر لیب میں جائیں اور اپنے اساتذہ کی مدد سے اپنی کسی ہم جماعت / عزیز کو ای میل (E-Mail) کے ذریعے سے صفائی کے متعلق یا اپنی کسی کامیابی پر پیغام بھیجیں۔
ریڈیو (Radio)
ریڈیو پیغام رسانی کا ایک پرانا ذریعہ ہے۔ لوگ ریڈیو سے حالاتِ حاضرہ سے آگاہ رہنے اور موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ریڈیو پر مختلف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
ریڈیو کے موجد مارکونی (Marconi) نے 1901ء میں ہوائی لہروں پر پیغام رسانی (Wireless Signals Transmission) کا تجربہ کیا۔ ٹیلی ویژن کی ایجاد سے ریڈیو کی مقبولیت میں کمی آگئی ہے ، لیکن اب بھی لوگ خبریں (News)، موسم کا حال اور نغمے وغیرہ ریڈیو سے ہی سننا پسند کرتے ہیں۔
ٹیلی ویژن (Television)
ٹیلی ویژن پر آواز کے ساتھ رنگ برنگی ویڈیو یا نشریات کے ذریعے سے مختلف پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ بچوں کے لیے کارٹون ہوں یا تفریحی پروگرام، بڑوں کے لیے خبریں ہوں یا کاروباری معلومات ، خواتین کے لیے پکوانوں کی نت نئی ترکیبیں ہوں یا مزے مزے کے ڈرامے ہوں، ہر طرح کے پروگرام ٹیلی ویژن پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ایل سی ڈی (LCD) اور ایل ای ڈی (LED) ٹیلی ویژن کی نشریات دکھانے کی جدید ترین شکلیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم پوری دنیا میں ہونے والے واقعات اور پروگرام گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
سکاٹ لینڈ کے ایک موجد جان بیئرڈ لوگی (John Baird Logie) نے (1925ء تا 1926ء) ٹیلی ویژن پر متحرک تصاویر دکھائیں۔ 1929ء میں اس نے اپنے سٹوڈیو سے لندن سینما تک ایک بی بی سی ٹی وی شو کی پہلی عوامی نشریات جاری کیں۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کی باقاعدہ نشریات کا آغاز 1964ء میں لاہور سے ہوا۔
موبائل فون (Mobile Phone)
موبائل فون (Mobile Phone) بھی پیغام رسانی کا آسان اور تیز ترین ذریعہ ہے۔ ٹیلی فون (Telephone) کے بجائے موبائل فون کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ موبائل فون سے کسی بھی وقت کسی سے بھی بغیر تار (Wireless) رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ اس کے جدید خصوصیات (Smart Features) اور ایپلی کیشنز (Applications) ہیں، جیسا کہ تصویر بنانے کے لیے کیمرہ، حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹر ، مشکل الفاظ کے معانی کے لیے لغت ، سفر کے دوران میں کسی جگہ کی سمت معلوم کرنے کے لیے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS)، کیلنڈر، قرآن مجید کی تلاوت اور کھیل وغیرہ۔
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
موبائل فون کو سیل فون (Cell Phone) یا سمارٹ فون (Smart Phone) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا برقی آلہ ہے جس کے ذریعے سے بغیر تار باہمی بات چیت اور رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
کمپیوٹر (Computer)
کمپیوٹر ابلاغ اور معلومات حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ گھر ہو یا سکول، دفتر ہو یا بینک یا پھر ہسپتال؛ زندگی کے ہر شعبے میں اس کا استعمال تقریباً عام ہے۔ کمپیوٹر کے ساتھ اگر انٹرنیٹ (Internet) کی سہولت موجود ہو تو ہم کسی بھی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ دنیا کے کسی خطے یا ملک کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی ہو یا کوئی تعلیمی اور کاروباری معلومات درکار ہوں تو اس سے با آسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی مدد سے اخبارات، رسائل اور کہانیوں کو بھی پڑھا جا سکتا ہیں۔
کرتے ہیں کچھ نیا!
اپنے سکول کی کمپیوٹر لیب میں کمپیوٹر کی مدد سے تلاش کریں کہ آپ کمپیوٹر سے اور کون کون سے کام لے سکتے ہیں اور یہ آپ کے کس کس کام آتا ہے۔ ان کاموں کی فہرست بنائیں اور کمرہ جماعت میں ایک دوسرے کے سامنے فہرست پیش کریں۔
کیا آپ مزید جاننا چاہتے ہیں؟
چارلس بیج (Charles Babbage) نے متعدد تجربات کے بعد انیسویں صدی میں کمپیوٹر ایجاد کیا۔
ذرا رکیں اور بتائیں!
آپ کے پاس کتابوں کی لائبریری نہیں ہے تو اس کی غیر موجودگی میں آپ کس ذریعے سے کتابیں اور کہانیاں پڑھ سکتے ہیں؟
میں نے سیکھا! (I have learnt!)
- پیغام رسانی سے مراد خیالات، تصورات اور پیغامات کا باہمی تبادلہ ہے۔
- وہ ذرائع جن کو استعمال کر کے ہم پیغامات، اطلاعات یا معلومات کا باہمی تبادلہ کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ کہلاتے ہیں۔
- فنونِ لطیفہ، زبان، خط، پوسٹ کارڈ، ای میل (برقی مراسلہ)، موبائل فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ ذرائع ابلاغ کی اقسام ہیں۔
Comments
Post a Comment