ہوائی
حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)
- طلبہ اردو سفرنامہ نگاری کے اسلوب سے واقف ہو سکیں۔
- مشاہدات کو قلمبند کرنے اور جزئیات نگاری کے فن کو سمجھ سکیں۔
- بیگم اختر ریاض الدین کے شگفتہ طرزِ تحریر کا مطالعہ کر سکیں۔
دنیا کے حسین سفر ہمیشہ مجھ پر مسلط رہے ہیں یہ ایک اور سہی۔ کچھ اتنے لمبے ہوائی سفر کا ڈر، کچھ ایک صاحبہ نے ڈرایا کہ ٹوکیو سے ہونو لولو ۱؎ تک نیچے بحرالکاہل ہوتا ہے اور اوپر خدا۔ کہیں زمین کا ذرا سا ٹکڑا بھی ڈھارس کے لیے دکھائی نہیں دیتا اور معمول کے مطابق اگر طوفان آجائے تو پھر الامان! سفر اللہ اللہ کرتے گزرتا ہے۔ پیٹ میں ہول اٹھے۔ لیکن میرے میاں تو تین مہینے پہلے جا چکے تھے۔ اس لیے مراجعت ناممکن تھی۔ اوکھلی میں سر دیا تو ان دھمکوں سے کیا ڈرنا۔ بوریا بستر باندھا (بستر تو ہوتا ہی نہیں یہ محاورے کی بات ہے) گھر سمیٹ کر ایک گیراج میں بند کیا۔ گھر سمیٹنے میں اب طاق ہوگئی ہوں۔ اس طرح پل بھر میں اس کی گٹھڑی باندھ کر الگ کرتی ہوں کہ گویا کبھی تھا ہی نہیں ۔ سب سے چھوٹی بیٹی جو اب کالج کے پہلے سال میں تھی ، ساتھ ہوئی باقی دو لڑکیوں کے بی اے کے امتحان تھے ان کو ڈھائی مہینے بعد آنا تھا۔ کراچی پہنچ کر بی او اے سی کا ٹکٹ بک کرایا۔ اس غریب لائن سے اگر جانا ہو تو ۲۲ گھنٹے کی گنجائش رکھنی چاہیے۔ اگر ۲۶ کو جانا ہو تو ۲۵ کی سیٹ بک کراؤ۔ کیونکہ وہ چودہ سو چالیس منٹ سے کم لیٹ ہونا کسر شان سمجھتی ہے لیکن میں پھر بھی ہمیشہ اسی ہوائی کمپنی کو چھانٹتی ہوں، کیونکہ اس کی نشست آرام دہ ہوتی ہے اور عملہ تمیز دار ۔ تو خیر ہم نے پہلی ٹھیکی کلکتے ۲؎ میں لگائی۔ کلکتہ میری جائے پیدائش ہے، حالانکہ میں صرف ایک سال کی شیر خوار وہاں سے لے آئی گئی تھی لیکن پھر بھی اس جگہ سے انس تھا۔ اس کو دیکھنے کا ارمان تھا لیکن میرے جذبات نے مجھے ہمیشہ دھکے کھلوائے ۔ ایئر پورٹ سے لے کر پولیس اسٹیشن تک جو میرا اور باقی مجھ جیسے سیاحوں کا حال ہوا وہ نا گفتہ بہ ہے۔ خدا کسی شریف انسان کو کلکتے نہ لے جائے ۔ اگر مرزا غالب نے اس میں کچھ دیکھا تو ہندوستانی کسٹم آفیسر اور بنیا پولیس سے پہلے دیکھا ہوگا۔ قصہ کوتاہ ہم نے جلدی سے اپنی جان چھڑائی اور ہانگ کانگ ۳؎ روانہ ہوئے۔ وہاں جا کر روح خوش ہوجاتی ہے۔ تازہ دم ہو کر ٹوکیو روانہ ہوئے۔ راستہ سخت طوفانی تھا۔ کمبخت ’’پین ایم‘‘ ۴؎ کھٹارا جہاز چار گھنٹے لرزتا رہا اور ہمیں لرزاتا رہا۔ ساتھ بیٹھا جاپانی تاجر تسلی دیتے ہوئے بولا: ’’یہ تو کچھ بھی نہیں ۔ جب ٹوکیو سے ہوائی جاؤ گی تو ہوائی جہاز ایسے اچھلے گا جیسے چھاج میں گیہوں۔‘‘ ہم نے انا للہ پڑھ لیا اور ارادہ کر لیا کہ میاں کو ہوائی میں ہی رہنے دیں اور ہم ٹوکیو میں ان کی واپسی کا انتظار کریں ، لیکن خاک چھاننے کا شوق خوف و خطر پر غالب آگیا اور جنرل شیخ اور بیگم شیخ کی خاطر مدارات کا مزا چکھ کر ، دو دن ٹوکیو ٹھہر کر جل تو جلال تو کہتے ہوئے جاپان ایئر لائنز میں بیٹھ گئے۔ ہوائی جہاز
رات کو ساڑھے دس بجے ہمارا جہاز ہوائی کے دارالسلطنت ہونو لولو میں اترا۔ میاں کو تار دے دیا تھا۔ امید تھی کہ ہوائی اڈے پر ہار لے کر پہنچیں گے۔ جزیرہ ہوائی کی یہ ایک رسم دیرینہ ہے کہ ہر آنے والے کا پھولوں کے حسین گجروں سے استقبال کیا جاتا ہے، اس لیے ارمان تھا کہ کم از کم میاں تو پھول نچھاور کرنے پہنچ جائیں گے ، لیکن میاں ریاض الدین صاحب حسب معمول غائب ، رات کا وقت ، مجھے ان کا پتا بھی نہیں معلوم ۔ جناب بلی کی طرح تین گھر تبدیل کر چکے تھے۔ ہوائی کی یونیورسٹی میں فون کیا تو انھوں نے کہا ، ایسٹ ویسٹ سنٹر ۱؎ سے پوچھو۔ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آگے بڑھا ، میں وہاں تک آپ کو لے جاتا ہوں ، باقی پھر دیکھا جائے گا۔ ہائی رائز ہوسٹل ۲؎ تک پہنچے تو اونچی اونچی عمارات ، بتیاں جل رہی ہیں ، طلبہ پڑھ رہے ہیں لیکن ہمارے میاں ندارد ۔ غصہ اور پریشانی دونوں مل گئے۔ یہ اچھا استقبال ہورہا ہے۔ رات کے بارہ بجے ! تین مہینے بعد بیوی آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اتنے میں ایک کار لڑکیوں سے لدی پھندی چینخنی چلاتی آن کر رکی۔ انجان شکلوں نے میرے گلے میں ہار ڈالے ۔ پیچھے ایک اور کار اس میں گٹار پر کچھ نوجوان ہوائی کے گیت گاتے ہوئے اترے اور ان نوجوانوں میں چھپے ہوئے میاں ریاض الدین مسکراتے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ اس پہلے کہ میں حسب معمول برستی ، ان کی سہیلیوں نے سمجھایا کہ تار پڑھنے میں غلط فہمی ہوگئی۔ ہوائی کا وقت جاپان کے وقت سے ۲۴ گھنٹے پیچھے ہے اس لیے اکثر تاریخوں میں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ ہم نے جل کر کہا کہ اصل گڑ بڑ تو ہماری شادی کی تاریخ سے شروع ہوئی تھی ، بہرحال خدا کا شکر ادا کیا، ٹیکسی والے کا شکریہ ادا کیا۔ پھر گھر روانہ ہوئے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
جزیرہ ہوائی میں خوش آمدید کہنے کے لیے پھولوں کے ہار استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں "Leis" کہا جاتا ہے۔ یہ وہاں کی ایک قدیم اور خوبصورت ثقافتی روایت ہے۔مجھے گھر دیکھنے کا شوق لیکن ریاض صاحب ٹالتے جائیں کہ تم صبح آرام سے دیکھنا۔ ابھی کمروں میں بتی مت جلاؤ اور اس کی وجہ سمجھ میں آئی جب گھر کے ہر کونے میں منوں کوڑا اور گرد و غبار دیکھا۔ ہر دراز سے میلے موزے اور رومال، ہر جیب سے تھیٹر ، سنیما فلور شو کی پرچیاں اور ریز گاری۔ پینٹری ۳؎ میں پانچ دن سے برتن بغیر دھلے پڑے تھے۔ میاں بجائے برتن دھونے کے نئے برتن نکال نکال کر استعمال کرتے جاتے تھے۔ اس طرح درجنوں موزے ، رومال ، بنیان خرید ڈالے تاکہ پرانے دھونے نہ پڑیں۔ بہرحال رات کو دو بجے تک اودھم مچتا رہا، پھر ہمسائے کی گرج دار آواز آئی : ’’خاموش!‘‘ ہم عموماً ہمسائے کی بات نہیں سنتے۔ لیکن یہ ہمسایہ ہوائی کا مشہور پہلوان اور ہاوی ویٹ چیمپیئن تھا اور نام بھی تھا ہارڈ بائلڈ ہیگرٹی ۴؎ اس لیے اس کی ایک تنبیہ ہی کافی تھی۔ دو منٹ کے اندر سب لڑکے لڑکیاں غائب ، خیر ہم تھکے ہارے سو گئے۔ واللہ اعلم کب اٹھے ، میاں
دفتر جا چکے تھے۔ ناشتا خود بنایا زندگی میں پہلی دفعہ خود کھانا پکانا تھا ، اس لیے کام کا پتا ہی نہ چلا۔ اب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ میری بیٹی ناز اور میں نے کمر کس کر سارا دن گھر کی صفائی کی اور لنچ قریبی ہوٹل میں جا کر کھایا۔ رات کو بھی کچھ نہ پکایا۔ جالے ، چیونٹیاں اور گرد ہٹا ہٹا کر کمر دکھ رہی تھی۔ یہ جو میاں کی سات پشتوں پر احسان کیا تھا۔ شام کو ہم جزیرے کا اولین معائنہ کرنے کار میں گئے۔ ڈھلتے سورج میں بحرالکاہل کروٹیں بدل رہا تھا اور چاروں طرف زمرد کی آمریت مستحکم ہو چکی تھی۔ تا حد نظر سبزہ ہی سبزہ ، یوں احساس ہوا کہ جزیرے او واہو ۱؎ میں گہنہ مشق کائنات نئے سرے سے شباب پر آئی ہے۔ اس کے ننھے منے رقبے میں فطرت کا ہر رنگ ہرانگ پایا جاتا ہے۔ سمندر یہاں عمیق تر ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ جنوبی یورپ کے آبی کناروں سے زیادہ نیلا اور چمکیلا ہے۔ دو پہر کے وقت اس نیلم کی بھڑک آنکھیں خیرہ کردیتی ہے۔ میں نے وجدانی حسن میں اس طرح ڈوبے ہوئے ساحل بہت کم دیکھے ہیں۔
یہاں کے کوہساروں نے اس جزیرے کے گول چہرے کو ایک نیا زاویہ بخشا ہے۔ یہ کہیں سنگلاخ ہیں اور کہیں اتنے سبز کہ ازلی برساتوں کا رین بسیرا معلوم ہوتے ہیں۔ اگلے دن ہم سب نے ہنوما بے پر پکنک منائی۔ یہ جگہ مجھے ایسی بھائی کہ دوڑی چھوٹی ادھر ہی کا رخ کرتی تھی۔ یہاں پانی سب سے مہذب اور شفاف تھا۔ یہ ساحل آبی مخلوق کے لیے مشہور تھا اور ہوائی کی یونیورسٹی دنیا بھر میں علوم سمندر ۲؎ میں سبقت لے گئی ہے۔
غرض یہ کہ اول تو قدرت نے اپنے حسن کے لنگر یہاں جاری کر دیے تھے، جو کچھ کمی تھی وہ انسان نے پوری کر دی۔ اس شام ہم گھر کا سارا سودا لینے سپر مارکیٹ گئے۔ بہت سے صاحبان اس ادارے کو جانتے ہیں لیکن بہت سی میری ہم وطن بہنیں اس کے متعلق جاننا چاہیں گی۔ تو سنیے سپر مارکیٹ امریکن سرمایہ داری کا مکمل مظاہرہ اور امریکن طرز حیات کا بنیادی قلعہ اور اس کی لامحدود افراط کا ذخار ہے۔ جب سے یہ بروئے زمین برسرپیکار ہوا، منھنی منھنی دکانیں اور چھوٹے چھوٹے بساطی پنساری دیوالیہ ہو گئے۔ یہ سپر مارکیٹ دس بازاروں کا مہاگرو ہے۔ ساری انارکلی اور مال روڈ کی دکانوں کا سامان اس کی ایک لپیٹ میں سما جائے۔ آپ جب داخل ہوں تو فوراً چار پہیوں والی ٹرالی ساتھ لے لیں کہ ہفتے دو ہفتے کا راشن اس میں ڈالتی جائیں اور جب خود چلتے چلتے تھک جائیں تو اس میں بیٹھ جائیں اور کسی اور سے کہیں کہ آپ کو کھینچے۔ صرف یہ آخری نصیحت میری اختراع ہے، ورنہ درحقیقت سپر مارکیٹ ایسی شیطان کی آنت ہے کہ دل چاہتا ہے کہ خود ٹرالی میں لٹک جائیں۔ اس ادارے کی افراط دیکھ کر انسان ایشیا ، افریقہ کی بھوک اور قحط بھول جاتا ہے۔ اس جگہ بلا ارادہ اور بلا ضرورت خریداری کرنی پڑتی ہے۔ ہر شے کی پچاس قسمیں اور ہر قسم چھت تک چنی ہوئی ہے۔ ہر دوسرے قدم میں سیل ۱؎ لکھا ہوا۔ اگر نقد نہیں تو ادھار لیجیے۔
سپر مارکیٹ میں جا کر عورت کی آنکھیں اور بٹوے کھل جاتے ہیں۔ میں نے پہلے ہی ہلے میں ۳۲ ڈالر کی کھانے پینے کی چیزیں لے لیں۔ کار بھر گئی ۔ اس مارکیٹ میں الگ نرسری بھی ہوتی ہے، جہاں عورتیں اپنے بچے چھوڑ کر اطمینان سے شاپنگ کرتی ہیں۔ میاں نے ہمارے پیچھے کچھ گھر کا سامان مثلاً سیکنڈ ہینڈ کار، ٹیلی وژن ، صوفہ، گراموفون ، ٹیپ ریکارڈر اور باغ کی ہلکی کرسیاں وغیرہ خرید رکھا تھا۔ اتنا سلیقہ میرے میاں میں کہاں سے آگیا۔ مجھے نہیں معلوم۔ لیکن یہ سب ایک دکان کے توسل سے ہوا ہے جو غریبوں ، مفلوجوں اور یتیموں کے لیے چلائی گئی تھی۔ اس لیے میرے میاں نے خیرات کے جذبے میں اپنے گھر کو کباڑ فرنیچر سے بھر لیا۔ کار ۱۸۸۵ء کا ماڈل تھی۔ جب چلتی تو دنیا دیکھتی تھی اور جب رکتی تو دنیا شکر کرتی تھی۔ اس کے پر اسرار پٹاخے نہ معلوم کہاں سے چھوٹتے تھے، ہم نے جاتے ہی کام بانٹ لیے ، میں کھانا پکاؤں گی ، بیٹی صفائی کرے گی۔ میاں بولے ، ہم تمھاری ڈرائیوری کریں گے۔ ہم لاجواب ہوگئے۔ اس لیے کوئی اور کام ان کو نہ دیا کیونکہ اس کار کو چلانا انھی کا کام تھا۔ میں باہر ملک میں اگر کار چلاؤں تو کم سے کم مانوس ڈھانچہ تو ہو۔ اس کم بخت کے گیئر کدھر اور بریک کدھر۔ بالکل بے سروپا۔ لیکن شاباش ہے اس کار پر کہ ہزاروں میل سیریں کیں لیکن اس نے ایک دفعہ بھی دغا نہ دی۔ پرانا ٹیلی وژن کچھ ایسا برا نہ تھا۔ دودھیا گرم کمبل ڈالو تو اس کے کالے سفید تر مرے ناچنے بند ہو جاتے تھے۔ پھر گھنٹوں صحیح چلتا تھا۔ جب تک کہ چینل نہ بدلو۔ چینل بدلی اور پھر وہی دھمو کے تھپڑ ، گرم پانی کی بوتل ، وہ پھر چل پڑا۔
تو صاحب یہ تو ہوائی کا ازدواجی رخ تھا۔ اب تک گربہ کستن ماں ، بیوی ، بول رہی تھی۔ لیکن یہ گربہ کستن ماں بیوی دو وقت بلکہ اگلے دو دن کا اکٹھا کھانا پکا کر ریفریجریٹر میں بھر کر آزادی کا سانس بھی لیتی تھی۔ جگہ جگہ سیر پر خود نکل جاتی تھی۔ لائبریریوں سے گود بھر بھر کر جزائر ہوائی بلکہ سارے بحرالکاہل کے جزائر پر کتابیں لاتی تھی۔ آہستہ آہستہ لوگوں سے ملاقات ، پروفیسر صاحبان سے گفتگو، سیاحوں اور طلبہ سے میل جول ، بہت اچھا وقت گزرا۔ ہونولولو کے مختلف مدارج ابھرنے شروع ہوئے۔ اس کی ہمہ گوں زندگی کی چاشنی کا چسکا لگ گیا۔
دس مہینے یا سال کورس کی میعاد ہوتی ہے۔ اس دوران میں جو مرضی آئے کیجیے، پڑھیے لکھیے ، ریسرچ کیجیے، تاثرات قلمبند کیجیے، کوئی پابندی نہیں ، کوئی امتحان نہیں ، کوئی کلاس نہیں ، کوئی وقت نہیں۔ میرے میاں اس آزادی پر مگن تھے۔ آپ کا آرام دہ کمرہ ، ٹائپ رائٹر ، غسل خانہ، بہترین لائبریری ، ساتھ ہی سستا اور مزے کا ریستوران ، ارد گرد لڑکے لڑکیاں ، آزادی کی فضا اکثر عالم سگریٹ کا دھواں اور غپ اڑاتے پائے جاتے تھے لیکن کوئی رپورٹ کرنے والا نہیں تھا۔ کچھ عالم کتابیں بھی لکھ جاتے ہیں جو یہ مرکز بہت فخریہ شائع کرتا ہے۔
ہاں تو ایسٹ ویسٹ سنٹر اور ہوائی کی یونیورسٹی میں یوں تو ارضی قربت ہے لیکن ازلی رقابت بھی ہے۔ کسی حد تک یہ رقابت صحت مند بھی ہے۔ امریکہ کے بہترین پروفیسر اور اعلیٰ ذہن سردی گرمی لیکچر کے لیے بلائے جاتے ہیں۔ طرح طرح کی نمائشیں ، فلم ، جشن منائے جاتے ہیں۔ اس کی جدید عمارات کے سامنے لمبی سے لمبی موٹریں جو آدھی طلبہ کی اور آدھی پروفیسروں کی ہوتی ہیں ، امریکہ کی افراط کا صحیح ثبوت ہیں ۔
اس مغرب و مشرق کے مرکز کا ایک جاپانی باغ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اتنا ’’ایمان شکن‘‘ ہے کہ میں اکثر لائبریری جاتے جاتے اس میں گھس جاتی تھی۔ جزائر ٹیٹی کے پھول خصوصاً گارڈینیا ، زرد چنبیلی ، کنول ، کچا کچا سبزہ ، نڈھال پانی اور رنگین مچھلیاں اور اس کی پشت پر متنوع درختوں کا ذخیرہ۔
اس ایسٹ ویسٹ سنٹر کے علاوہ یونیورسٹی کا میلوں میں پھیلا ہوا احاطہ بھی ایک دیدہ زیب سبزہ زار ہے۔ ہر قدم پر گل آویزاں روشیں اور بتدریج باڑیں ، لیکن اس کے علاوہ جو سب سے دل پذیر عنصر اس فضا میں پایا جاتا تھا وہ تھا بین الاقوامی طلبا کا ربط ضبط ۔ جنوبی بحرالکاہل سے لے کر جاپان ، انڈونیشیا ، برما ، ملایا ، فلپائن ، کوریا ، ویتنام ، فجی کے جزائر، آسٹریلیا ، پاکستان ، ہندوستان ، یورپ اور امریکہ کے جواں سال جویندگانِ علم ، یہ معاشرتی تنوع بھی ایک تعلیمی حیثیت رکھتا تھا۔
مشکل الفاظ کے معنی (Glossary)
| لفظ | معنی | لفظ | معنی |
|---|---|---|---|
| مراجعت | واپسی | طاق ہونا | ماہر ہونا |
| ناگفتہ بہ | جو بیان نہ کیا جا سکے | ذخار | بڑا سمندر / بہت زیادہ |
| عمیق | گہرا | توسل | ذریعہ / وسیلہ |
| گربہ کستن | رعب جمانا / دھونس | افراط | بہتات / زیادتی |
اہم نکات (Key Points)
- بیگم اختر ریاض الدین کا یہ سفرنامہ ان کی کتاب "دھنک پر قدم" سے ماخوذ ہے۔
- مصنفہ نے ٹوکیو، کلکتہ اور ہانگ کانگ کے سفر کے بعد ہوائی پہنچنے کا حال بیان کیا ہے۔
- ہوائی کے دارالحکومت "ہونولولو" کی ثقافت اور وہاں کی یونیورسٹی کا تذکرہ موجود ہے۔
- امریکی سپر مارکیٹ اور وہاں کی سرمایہ دارانہ زندگی پر طنز و مزاح کے پیرائے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
- "ایسٹ ویسٹ سنٹر" کی تعلیمی اور تحقیقی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
Comments
Post a Comment