Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Lesson 8 Hawai - Class 12 Urdu Chapter Summary

 

Sarmaya e Urdu Class 12 Lesson 8, Hawai lesson notes Urdu, Begum Akhtar Riazuddin travelogue summary, 12th class Urdu book solutions, Hawai chapter important questions, Excellence Online Learning School Urdu, Hawaii travelogue analysis, 2nd year Urdu lesson 8, Urdu literature Class 12, Punjab Board Urdu notes.


Excellence Online Learning School (EOLS)سرمائہ اردو - بارہویں جماعت
سبق نمبر: 8 | صنف: سفرنامہ
بیگم اختر ریاض الدین
(ولادت : ۱۹۲۸ء)

ہوائی

حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)

  • طلبہ اردو سفرنامہ نگاری کے اسلوب سے واقف ہو سکیں۔
  • مشاہدات کو قلمبند کرنے اور جزئیات نگاری کے فن کو سمجھ سکیں۔
  • بیگم اختر ریاض الدین کے شگفتہ طرزِ تحریر کا مطالعہ کر سکیں۔

دنیا کے حسین سفر ہمیشہ مجھ پر مسلط رہے ہیں یہ ایک اور سہی۔ کچھ اتنے لمبے ہوائی سفر کا ڈر، کچھ ایک صاحبہ نے ڈرایا کہ ٹوکیو سے ہونو لولو ۱؎ تک نیچے بحرالکاہل ہوتا ہے اور اوپر خدا۔ کہیں زمین کا ذرا سا ٹکڑا بھی ڈھارس کے لیے دکھائی نہیں دیتا اور معمول کے مطابق اگر طوفان آجائے تو پھر الامان! سفر اللہ اللہ کرتے گزرتا ہے۔ پیٹ میں ہول اٹھے۔ لیکن میرے میاں تو تین مہینے پہلے جا چکے تھے۔ اس لیے مراجعت ناممکن تھی۔ اوکھلی میں سر دیا تو ان دھمکوں سے کیا ڈرنا۔ بوریا بستر باندھا (بستر تو ہوتا ہی نہیں یہ محاورے کی بات ہے) گھر سمیٹ کر ایک گیراج میں بند کیا۔ گھر سمیٹنے میں اب طاق ہوگئی ہوں۔ اس طرح پل بھر میں اس کی گٹھڑی باندھ کر الگ کرتی ہوں کہ گویا کبھی تھا ہی نہیں ۔ سب سے چھوٹی بیٹی جو اب کالج کے پہلے سال میں تھی ، ساتھ ہوئی باقی دو لڑکیوں کے بی اے کے امتحان تھے ان کو ڈھائی مہینے بعد آنا تھا۔ کراچی پہنچ کر بی او اے سی کا ٹکٹ بک کرایا۔ اس غریب لائن سے اگر جانا ہو تو ۲۲ گھنٹے کی گنجائش رکھنی چاہیے۔ اگر ۲۶ کو جانا ہو تو ۲۵ کی سیٹ بک کراؤ۔ کیونکہ وہ چودہ سو چالیس منٹ سے کم لیٹ ہونا کسر شان سمجھتی ہے لیکن میں پھر بھی ہمیشہ اسی ہوائی کمپنی کو چھانٹتی ہوں، کیونکہ اس کی نشست آرام دہ ہوتی ہے اور عملہ تمیز دار ۔ تو خیر ہم نے پہلی ٹھیکی کلکتے ۲؎ میں لگائی۔ کلکتہ میری جائے پیدائش ہے، حالانکہ میں صرف ایک سال کی شیر خوار وہاں سے لے آئی گئی تھی لیکن پھر بھی اس جگہ سے انس تھا۔ اس کو دیکھنے کا ارمان تھا لیکن میرے جذبات نے مجھے ہمیشہ دھکے کھلوائے ۔ ایئر پورٹ سے لے کر پولیس اسٹیشن تک جو میرا اور باقی مجھ جیسے سیاحوں کا حال ہوا وہ نا گفتہ بہ ہے۔ خدا کسی شریف انسان کو کلکتے نہ لے جائے ۔ اگر مرزا غالب نے اس میں کچھ دیکھا تو ہندوستانی کسٹم آفیسر اور بنیا پولیس سے پہلے دیکھا ہوگا۔ قصہ کوتاہ ہم نے جلدی سے اپنی جان چھڑائی اور ہانگ کانگ ۳؎ روانہ ہوئے۔ وہاں جا کر روح خوش ہوجاتی ہے۔ تازہ دم ہو کر ٹوکیو روانہ ہوئے۔ راستہ سخت طوفانی تھا۔ کمبخت ’’پین ایم‘‘ ۴؎ کھٹارا جہاز چار گھنٹے لرزتا رہا اور ہمیں لرزاتا رہا۔ ساتھ بیٹھا جاپانی تاجر تسلی دیتے ہوئے بولا: ’’یہ تو کچھ بھی نہیں ۔ جب ٹوکیو سے ہوائی جاؤ گی تو ہوائی جہاز ایسے اچھلے گا جیسے چھاج میں گیہوں۔‘‘ ہم نے انا للہ پڑھ لیا اور ارادہ کر لیا کہ میاں کو ہوائی میں ہی رہنے دیں اور ہم ٹوکیو میں ان کی واپسی کا انتظار کریں ، لیکن خاک چھاننے کا شوق خوف و خطر پر غالب آگیا اور جنرل شیخ اور بیگم شیخ کی خاطر مدارات کا مزا چکھ کر ، دو دن ٹوکیو ٹھہر کر جل تو جلال تو کہتے ہوئے جاپان ایئر لائنز میں بیٹھ گئے۔ ہوائی جہاز

چلا تو ہم نے اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگی کہ یا رب ہماری عزت رکھ لے اور خیر سے سفر پورا کر دے۔ میرے مولا نے میری مراد ایسی پوری کی کہ سارا سفر آسمانوں میں ریشم کی طرح سرسر کرتا گزر گیا۔ میں نے اتنے خوش گوار پچھلے گھنٹے کبھی نہیں گزارے تھے۔

رات کو ساڑھے دس بجے ہمارا جہاز ہوائی کے دارالسلطنت ہونو لولو میں اترا۔ میاں کو تار دے دیا تھا۔ امید تھی کہ ہوائی اڈے پر ہار لے کر پہنچیں گے۔ جزیرہ ہوائی کی یہ ایک رسم دیرینہ ہے کہ ہر آنے والے کا پھولوں کے حسین گجروں سے استقبال کیا جاتا ہے، اس لیے ارمان تھا کہ کم از کم میاں تو پھول نچھاور کرنے پہنچ جائیں گے ، لیکن میاں ریاض الدین صاحب حسب معمول غائب ، رات کا وقت ، مجھے ان کا پتا بھی نہیں معلوم ۔ جناب بلی کی طرح تین گھر تبدیل کر چکے تھے۔ ہوائی کی یونیورسٹی میں فون کیا تو انھوں نے کہا ، ایسٹ ویسٹ سنٹر ۱؎ سے پوچھو۔ اتنے میں ایک ٹیکسی والا آگے بڑھا ، میں وہاں تک آپ کو لے جاتا ہوں ، باقی پھر دیکھا جائے گا۔ ہائی رائز ہوسٹل ۲؎ تک پہنچے تو اونچی اونچی عمارات ، بتیاں جل رہی ہیں ، طلبہ پڑھ رہے ہیں لیکن ہمارے میاں ندارد ۔ غصہ اور پریشانی دونوں مل گئے۔ یہ اچھا استقبال ہورہا ہے۔ رات کے بارہ بجے ! تین مہینے بعد بیوی آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اتنے میں ایک کار لڑکیوں سے لدی پھندی چینخنی چلاتی آن کر رکی۔ انجان شکلوں نے میرے گلے میں ہار ڈالے ۔ پیچھے ایک اور کار اس میں گٹار پر کچھ نوجوان ہوائی کے گیت گاتے ہوئے اترے اور ان نوجوانوں میں چھپے ہوئے میاں ریاض الدین مسکراتے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ اس پہلے کہ میں حسب معمول برستی ، ان کی سہیلیوں نے سمجھایا کہ تار پڑھنے میں غلط فہمی ہوگئی۔ ہوائی کا وقت جاپان کے وقت سے ۲۴ گھنٹے پیچھے ہے اس لیے اکثر تاریخوں میں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ ہم نے جل کر کہا کہ اصل گڑ بڑ تو ہماری شادی کی تاریخ سے شروع ہوئی تھی ، بہرحال خدا کا شکر ادا کیا، ٹیکسی والے کا شکریہ ادا کیا۔ پھر گھر روانہ ہوئے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

جزیرہ ہوائی میں خوش آمدید کہنے کے لیے پھولوں کے ہار استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں "Leis" کہا جاتا ہے۔ یہ وہاں کی ایک قدیم اور خوبصورت ثقافتی روایت ہے۔

مجھے گھر دیکھنے کا شوق لیکن ریاض صاحب ٹالتے جائیں کہ تم صبح آرام سے دیکھنا۔ ابھی کمروں میں بتی مت جلاؤ اور اس کی وجہ سمجھ میں آئی جب گھر کے ہر کونے میں منوں کوڑا اور گرد و غبار دیکھا۔ ہر دراز سے میلے موزے اور رومال، ہر جیب سے تھیٹر ، سنیما فلور شو کی پرچیاں اور ریز گاری۔ پینٹری ۳؎ میں پانچ دن سے برتن بغیر دھلے پڑے تھے۔ میاں بجائے برتن دھونے کے نئے برتن نکال نکال کر استعمال کرتے جاتے تھے۔ اس طرح درجنوں موزے ، رومال ، بنیان خرید ڈالے تاکہ پرانے دھونے نہ پڑیں۔ بہرحال رات کو دو بجے تک اودھم مچتا رہا، پھر ہمسائے کی گرج دار آواز آئی : ’’خاموش!‘‘ ہم عموماً ہمسائے کی بات نہیں سنتے۔ لیکن یہ ہمسایہ ہوائی کا مشہور پہلوان اور ہاوی ویٹ چیمپیئن تھا اور نام بھی تھا ہارڈ بائلڈ ہیگرٹی ۴؎ اس لیے اس کی ایک تنبیہ ہی کافی تھی۔ دو منٹ کے اندر سب لڑکے لڑکیاں غائب ، خیر ہم تھکے ہارے سو گئے۔ واللہ اعلم کب اٹھے ، میاں

دفتر جا چکے تھے۔ ناشتا خود بنایا زندگی میں پہلی دفعہ خود کھانا پکانا تھا ، اس لیے کام کا پتا ہی نہ چلا۔ اب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ میری بیٹی ناز اور میں نے کمر کس کر سارا دن گھر کی صفائی کی اور لنچ قریبی ہوٹل میں جا کر کھایا۔ رات کو بھی کچھ نہ پکایا۔ جالے ، چیونٹیاں اور گرد ہٹا ہٹا کر کمر دکھ رہی تھی۔ یہ جو میاں کی سات پشتوں پر احسان کیا تھا۔ شام کو ہم جزیرے کا اولین معائنہ کرنے کار میں گئے۔ ڈھلتے سورج میں بحرالکاہل کروٹیں بدل رہا تھا اور چاروں طرف زمرد کی آمریت مستحکم ہو چکی تھی۔ تا حد نظر سبزہ ہی سبزہ ، یوں احساس ہوا کہ جزیرے او واہو ۱؎ میں گہنہ مشق کائنات نئے سرے سے شباب پر آئی ہے۔ اس کے ننھے منے رقبے میں فطرت کا ہر رنگ ہرانگ پایا جاتا ہے۔ سمندر یہاں عمیق تر ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ جنوبی یورپ کے آبی کناروں سے زیادہ نیلا اور چمکیلا ہے۔ دو پہر کے وقت اس نیلم کی بھڑک آنکھیں خیرہ کردیتی ہے۔ میں نے وجدانی حسن میں اس طرح ڈوبے ہوئے ساحل بہت کم دیکھے ہیں۔

یہاں کے کوہساروں نے اس جزیرے کے گول چہرے کو ایک نیا زاویہ بخشا ہے۔ یہ کہیں سنگلاخ ہیں اور کہیں اتنے سبز کہ ازلی برساتوں کا رین بسیرا معلوم ہوتے ہیں۔ اگلے دن ہم سب نے ہنوما بے پر پکنک منائی۔ یہ جگہ مجھے ایسی بھائی کہ دوڑی چھوٹی ادھر ہی کا رخ کرتی تھی۔ یہاں پانی سب سے مہذب اور شفاف تھا۔ یہ ساحل آبی مخلوق کے لیے مشہور تھا اور ہوائی کی یونیورسٹی دنیا بھر میں علوم سمندر ۲؎ میں سبقت لے گئی ہے۔

غرض یہ کہ اول تو قدرت نے اپنے حسن کے لنگر یہاں جاری کر دیے تھے، جو کچھ کمی تھی وہ انسان نے پوری کر دی۔ اس شام ہم گھر کا سارا سودا لینے سپر مارکیٹ گئے۔ بہت سے صاحبان اس ادارے کو جانتے ہیں لیکن بہت سی میری ہم وطن بہنیں اس کے متعلق جاننا چاہیں گی۔ تو سنیے سپر مارکیٹ امریکن سرمایہ داری کا مکمل مظاہرہ اور امریکن طرز حیات کا بنیادی قلعہ اور اس کی لامحدود افراط کا ذخار ہے۔ جب سے یہ بروئے زمین برسرپیکار ہوا، منھنی منھنی دکانیں اور چھوٹے چھوٹے بساطی پنساری دیوالیہ ہو گئے۔ یہ سپر مارکیٹ دس بازاروں کا مہاگرو ہے۔ ساری انارکلی اور مال روڈ کی دکانوں کا سامان اس کی ایک لپیٹ میں سما جائے۔ آپ جب داخل ہوں تو فوراً چار پہیوں والی ٹرالی ساتھ لے لیں کہ ہفتے دو ہفتے کا راشن اس میں ڈالتی جائیں اور جب خود چلتے چلتے تھک جائیں تو اس میں بیٹھ جائیں اور کسی اور سے کہیں کہ آپ کو کھینچے۔ صرف یہ آخری نصیحت میری اختراع ہے، ورنہ درحقیقت سپر مارکیٹ ایسی شیطان کی آنت ہے کہ دل چاہتا ہے کہ خود ٹرالی میں لٹک جائیں۔ اس ادارے کی افراط دیکھ کر انسان ایشیا ، افریقہ کی بھوک اور قحط بھول جاتا ہے۔ اس جگہ بلا ارادہ اور بلا ضرورت خریداری کرنی پڑتی ہے۔ ہر شے کی پچاس قسمیں اور ہر قسم چھت تک چنی ہوئی ہے۔ ہر دوسرے قدم میں سیل ۱؎ لکھا ہوا۔ اگر نقد نہیں تو ادھار لیجیے۔

سپر مارکیٹ میں جا کر عورت کی آنکھیں اور بٹوے کھل جاتے ہیں۔ میں نے پہلے ہی ہلے میں ۳۲ ڈالر کی کھانے پینے کی چیزیں لے لیں۔ کار بھر گئی ۔ اس مارکیٹ میں الگ نرسری بھی ہوتی ہے، جہاں عورتیں اپنے بچے چھوڑ کر اطمینان سے شاپنگ کرتی ہیں۔ میاں نے ہمارے پیچھے کچھ گھر کا سامان مثلاً سیکنڈ ہینڈ کار، ٹیلی وژن ، صوفہ، گراموفون ، ٹیپ ریکارڈر اور باغ کی ہلکی کرسیاں وغیرہ خرید رکھا تھا۔ اتنا سلیقہ میرے میاں میں کہاں سے آگیا۔ مجھے نہیں معلوم۔ لیکن یہ سب ایک دکان کے توسل سے ہوا ہے جو غریبوں ، مفلوجوں اور یتیموں کے لیے چلائی گئی تھی۔ اس لیے میرے میاں نے خیرات کے جذبے میں اپنے گھر کو کباڑ فرنیچر سے بھر لیا۔ کار ۱۸۸۵ء کا ماڈل تھی۔ جب چلتی تو دنیا دیکھتی تھی اور جب رکتی تو دنیا شکر کرتی تھی۔ اس کے پر اسرار پٹاخے نہ معلوم کہاں سے چھوٹتے تھے، ہم نے جاتے ہی کام بانٹ لیے ، میں کھانا پکاؤں گی ، بیٹی صفائی کرے گی۔ میاں بولے ، ہم تمھاری ڈرائیوری کریں گے۔ ہم لاجواب ہوگئے۔ اس لیے کوئی اور کام ان کو نہ دیا کیونکہ اس کار کو چلانا انھی کا کام تھا۔ میں باہر ملک میں اگر کار چلاؤں تو کم سے کم مانوس ڈھانچہ تو ہو۔ اس کم بخت کے گیئر کدھر اور بریک کدھر۔ بالکل بے سروپا۔ لیکن شاباش ہے اس کار پر کہ ہزاروں میل سیریں کیں لیکن اس نے ایک دفعہ بھی دغا نہ دی۔ پرانا ٹیلی وژن کچھ ایسا برا نہ تھا۔ دودھیا گرم کمبل ڈالو تو اس کے کالے سفید تر مرے ناچنے بند ہو جاتے تھے۔ پھر گھنٹوں صحیح چلتا تھا۔ جب تک کہ چینل نہ بدلو۔ چینل بدلی اور پھر وہی دھمو کے تھپڑ ، گرم پانی کی بوتل ، وہ پھر چل پڑا۔

تو صاحب یہ تو ہوائی کا ازدواجی رخ تھا۔ اب تک گربہ کستن ماں ، بیوی ، بول رہی تھی۔ لیکن یہ گربہ کستن ماں بیوی دو وقت بلکہ اگلے دو دن کا اکٹھا کھانا پکا کر ریفریجریٹر میں بھر کر آزادی کا سانس بھی لیتی تھی۔ جگہ جگہ سیر پر خود نکل جاتی تھی۔ لائبریریوں سے گود بھر بھر کر جزائر ہوائی بلکہ سارے بحرالکاہل کے جزائر پر کتابیں لاتی تھی۔ آہستہ آہستہ لوگوں سے ملاقات ، پروفیسر صاحبان سے گفتگو، سیاحوں اور طلبہ سے میل جول ، بہت اچھا وقت گزرا۔ ہونولولو کے مختلف مدارج ابھرنے شروع ہوئے۔ اس کی ہمہ گوں زندگی کی چاشنی کا چسکا لگ گیا۔

ہوائی میں امریکہ کی فیڈرل گورنمنٹ ۲؎ نے ایک عظیم الشان مرکز کھولا ہے جسے ’’ایسٹ ویسٹ سنٹر‘‘ کہتے ہیں۔ اس کی حسین حدود اور عمارات میں مغرب اور مشرق کے عالم مدعو کیے جاتے ہیں ۔ جو سینئر سکالر ۳؎ کہلاتے ہیں۔ وہ مرکز کے خرچ پر آتے ہیں۔ ہزار بارہ سو ڈالر کا وظیفہ ہر مہینے پاتے ہیں۔ اس ننھے سے وظیفے میں ایک خاندان ٹھاٹ کرسکتا ہے۔

دس مہینے یا سال کورس کی میعاد ہوتی ہے۔ اس دوران میں جو مرضی آئے کیجیے، پڑھیے لکھیے ، ریسرچ کیجیے، تاثرات قلمبند کیجیے، کوئی پابندی نہیں ، کوئی امتحان نہیں ، کوئی کلاس نہیں ، کوئی وقت نہیں۔ میرے میاں اس آزادی پر مگن تھے۔ آپ کا آرام دہ کمرہ ، ٹائپ رائٹر ، غسل خانہ، بہترین لائبریری ، ساتھ ہی سستا اور مزے کا ریستوران ، ارد گرد لڑکے لڑکیاں ، آزادی کی فضا اکثر عالم سگریٹ کا دھواں اور غپ اڑاتے پائے جاتے تھے لیکن کوئی رپورٹ کرنے والا نہیں تھا۔ کچھ عالم کتابیں بھی لکھ جاتے ہیں جو یہ مرکز بہت فخریہ شائع کرتا ہے۔

ہاں تو ایسٹ ویسٹ سنٹر اور ہوائی کی یونیورسٹی میں یوں تو ارضی قربت ہے لیکن ازلی رقابت بھی ہے۔ کسی حد تک یہ رقابت صحت مند بھی ہے۔ امریکہ کے بہترین پروفیسر اور اعلیٰ ذہن سردی گرمی لیکچر کے لیے بلائے جاتے ہیں۔ طرح طرح کی نمائشیں ، فلم ، جشن منائے جاتے ہیں۔ اس کی جدید عمارات کے سامنے لمبی سے لمبی موٹریں جو آدھی طلبہ کی اور آدھی پروفیسروں کی ہوتی ہیں ، امریکہ کی افراط کا صحیح ثبوت ہیں ۔

اس مغرب و مشرق کے مرکز کا ایک جاپانی باغ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اتنا ’’ایمان شکن‘‘ ہے کہ میں اکثر لائبریری جاتے جاتے اس میں گھس جاتی تھی۔ جزائر ٹیٹی کے پھول خصوصاً گارڈینیا ، زرد چنبیلی ، کنول ، کچا کچا سبزہ ، نڈھال پانی اور رنگین مچھلیاں اور اس کی پشت پر متنوع درختوں کا ذخیرہ۔

اس ایسٹ ویسٹ سنٹر کے علاوہ یونیورسٹی کا میلوں میں پھیلا ہوا احاطہ بھی ایک دیدہ زیب سبزہ زار ہے۔ ہر قدم پر گل آویزاں روشیں اور بتدریج باڑیں ، لیکن اس کے علاوہ جو سب سے دل پذیر عنصر اس فضا میں پایا جاتا تھا وہ تھا بین الاقوامی طلبا کا ربط ضبط ۔ جنوبی بحرالکاہل سے لے کر جاپان ، انڈونیشیا ، برما ، ملایا ، فلپائن ، کوریا ، ویتنام ، فجی کے جزائر، آسٹریلیا ، پاکستان ، ہندوستان ، یورپ اور امریکہ کے جواں سال جویندگانِ علم ، یہ معاشرتی تنوع بھی ایک تعلیمی حیثیت رکھتا تھا۔

(دھنک پر قدم)

مشکل الفاظ کے معنی (Glossary)

لفظمعنیلفظمعنی
مراجعتواپسیطاق ہوناماہر ہونا
ناگفتہ بہجو بیان نہ کیا جا سکےذخاربڑا سمندر / بہت زیادہ
عمیقگہراتوسلذریعہ / وسیلہ
گربہ کستنرعب جمانا / دھونسافراطبہتات / زیادتی

اہم نکات (Key Points)

  • بیگم اختر ریاض الدین کا یہ سفرنامہ ان کی کتاب "دھنک پر قدم" سے ماخوذ ہے۔
  • مصنفہ نے ٹوکیو، کلکتہ اور ہانگ کانگ کے سفر کے بعد ہوائی پہنچنے کا حال بیان کیا ہے۔
  • ہوائی کے دارالحکومت "ہونولولو" کی ثقافت اور وہاں کی یونیورسٹی کا تذکرہ موجود ہے۔
  • امریکی سپر مارکیٹ اور وہاں کی سرمایہ دارانہ زندگی پر طنز و مزاح کے پیرائے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
  • "ایسٹ ویسٹ سنٹر" کی تعلیمی اور تحقیقی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر: ۱

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...