Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Introduction to Biology - Class 9 Biology Lesson 1 Urdu Guide (Part 1)

 

Class 9 Biology Chapter 1 Urdu, Introduction to Biology notes, Branches of Biology definition, Careers in Biology for Class 9, Relation of Biology with other sciences, Zoology and Botany in Urdu, Bio-physics and Bio-chemistry Urdu, Importance of Biology, PCTB Biology Class 9, Excellence Online Learning School.

Explore the foundations of life with our Class 9 Biology Lesson 1 summary. Learn about the branches of biology, its relation to other sciences, and potential careers in Urdu.

بائیولوجی | کلاس: 9Excellence Online Learning School
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

بائیولوجی

9

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ، لاہور

یہ نصابی کتاب پاکستان کے 2023 کے اپ ڈیٹ شدہ نظر ثانی شدہ قومی نصاب کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

جملہ حقوق (کاپی رائٹ) بحق پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ، لاہور محفوظ ہیں۔

یہ کتاب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی تیار کردہ ہے۔ تحریری اجازت کے بغیر اس کتاب کا کوئی حصہ کسی امدادی کتاب، خلاصہ، ماڈل پیپرز، گائیڈ وغیرہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔


مصنفین:

ڈاکٹر راحیلہ ندیم (رجسٹرار/پروفیسر UBAS، لاہور)، ڈاکٹر عدنان احمد رانا (سینئر ریسرچ آفیسر PCSIR، لاہور)، ڈاکٹر روبیلہ شبیر (سبجیکٹ سپیشلسٹ بائیولوجی، پی سی ٹی بی، لاہور)، ذوالنورین احمد (کنسلٹنٹ بائیولوجی، پی سی ٹی بی، لاہور)، محمد نوید اصغر (سینئر بائیولوجی ٹیچر LGS، لاہور)


ایڈیٹرز:

ڈاکٹر عاطف یعقوب (پروفیسر بائیولوجی GCU، لاہور)، ڈاکٹر روبیلہ شبیر (سبجیکٹ سپیشلسٹ بائیولوجی، پی سی ٹی بی، لاہور)، ذوالنورین احمد (کنسلٹنٹ بائیولوجی، پی سی ٹی بی، لاہور)

مترجم: ندیم اصغر | ڈپٹی ڈائریکٹر (مسودات): مہر صفدر ولید | کوآرڈینیٹر: فریدہ صادق | ڈیزائن اینڈ لے آؤٹ: مس سمیرا اسماعیل

ناشر: بیلنس پبلسٹی لاہور | تاریخ اشاعت: مئی 2025ء | ایڈیشن: اول | طباعت: اول | تعداد: 10,000 | قیمت: 198.00

فہرست

باب نمبرعنواناتنمبر شمار
1بائیولوجی کی سائنس04
2بائیو ڈائیورسٹی26
3سیل44
4سیل سائیکل69
5ٹشوز، آرگنز اور آرگن سسٹمز87
6بائیو مالیکیولز104
7اینزائمز124
8بائیوانرجیٹکس136
9پودوں کی فزیالوجی152
10پودوں میں ریپروڈکشن173
11بائیوسٹیٹسٹکس192
فرہنگ204
باب 1

بائیولوجی کی سائنس
(The Science of Biology)

حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives):

یہ باب پڑھنے کے بعد طلبہ اس قابل ہوں گے کہ:

  • بائیولوجی کی تعریف کریں۔
  • بیان کریں کہ قرآن مجید زندگی کی تعلیم کی وضاحت کرتا ہے۔
  • بائیولوجی کے بڑے شعبوں کی تعریف کریں جیسے باٹنی، ذوالوجی، اور مائیکرو بیالوجی۔
  • بائیولوجی کے ذیلی شعبوں کی تعریف کریں۔
  • بیان کریں کہ بائیولوجی دیگر قدرتی سائنس سے کس طرح منسلک ہے۔
  • وسیع موضوعات کے لحاظ سے مختلف شعبوں (بائیو فزکس، بائیو کیمسٹری، کمپیوٹیشنل بائیولوجی، بائیو جیو گرافی، بائیو سٹیٹسٹکس، بائیوٹیکنالوجی، بائیو اکنامکس) کی پہچان کریں۔
  • بائیولوجی سے منسلک کیریئرز کی نشاندہی کریں۔
  • مثالوں کے ساتھ وضاحت کریں کہ بائیولوجی قدرتی سائنسز اور لائف سائنسز کا ایک ذیلی حصہ ہے۔
  • مثالوں سے ثابت کریں کہ سائنس ایک باہمی تعاون پر مبنی میدان ہے جس میں مختلف شعبوں کے محققین ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور نظریات پر تنقید کرتے ہیں۔
  • سائنسی طریقہ کار کے مراحل بیان کریں۔
  • قدرتی سائنس میں تحقیق کے حوالہ سے ہائپو تھیسس، تھیوری اور قانون کی اصطلاحات کی وضاحت کریں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پودے کیسے بڑھتے ہیں یا جانور کسی خاص طریقے سے کیوں برتاؤ کرتے ہیں؟ سائنس ان حیرت انگیز رازوں کو جاننے کا ذریعہ ہے! یہ مشاہدے اور تجربات کے ذریعے قدرتی دنیا کا منظم طریقے سے مطالعہ کرنے کا نام ہے۔ سیکھنے میں آسانی کے لیے سائنس کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے بائیولوجی، فزکس، کیمسٹری، اور میتھ۔ اس باب میں ہم بائیولوجی کی دلچسپ دنیا کے بارے میں جانیں گے، جو جانداروں کا مطالعہ ہے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ بائیولوجی کے ماہرین کس طرح سائنسی طریقہ کار استعمال کرتے ہیں تاکہ بائیولوجی سے متعلقہ مسائل کا حل تلاش کریں۔

1.1 بائیولوجی اور اس کی شاخیں (BIOLOGY AND ITS BRANCHES)

بائیولوجی زندگی کی سائنس ہے۔ "بائیولوجی" کا لفظ دو یونانی الفاظ سے آیا ہے، یعنی "بائیوس" (bios) جس کے معنی زندگی ہیں اور "لوگوس" (logos) جس کے معنی مطالعہ ہیں۔ یہ جانداروں کی ساخت، افعال، اور باہمی تعلقات کا علم ہے۔ بائیولوجی کی تعلیم ہمیں صحت، خوراک، اور ماحول سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بائیولوجی دریافتوں کا ایک دلچسپ سفر پیش کرتی ہے، جو بیکٹیریا کی خوردبینی دنیا سے لے کر ہمارے سیارے کے وسیع ایکو سسٹمز (ecosystems) تک پھیلا ہوا ہے۔

بائیولوجی کے اہم شعبے (Major Fields of Biology)

بائیولوجی ایک وسیع میدان ہے جس میں زمین پر زندگی کے حیرت انگیز تنوع (diversity) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس پیچیدگی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے بائیولوجی کو تین اہم شعبوں میں تقسیم کیا ہے:

  • ذوالوجی (Zoology): یہ جانوروں کا مطالعہ ہے۔ اس میں جانوروں کی ساخت، افعال، برتاؤ، اور تنوع کا علم شامل ہے۔
  • باٹنی (Botany): یہ پودوں کا مطالعہ ہے۔ اس میں پودوں کی ساخت، نشوونما، تولید، اور ماحول کے ساتھ ان کے تعاملات کا علم شامل ہے۔
  • مائیکروبائیولوجی (Microbiology): خوردبینی جانداروں مثلاً بیکٹیریا اور فنجائی کے مطالعہ کو مائیکروبائیولوجی کہتے ہیں۔ اس میں خوردبینی جانداروں کی ساخت، افعال، مسکن، تولید، اور صحت و ماحول پر ان کے اثرات کا مطالعہ شامل ہے۔

بائیولوجی کی شاخیں یا ذیلی شعبے (Branches or Sub-Fields of Biology)

زندگی کے پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بائیولوجی کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

مارفولوجی (Morphology): یہ جانداروں کی بناوٹ (form) اور ساخت (structure) کے مطالعے کا علم ہے۔ اس شاخ میں بیرونی شکل و صورت (جیسے شکل، رنگ، پیٹرن وغیرہ) کے ساتھ ساتھ اندرونی ساختوں، جیسے اعضاء کا بھی مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ایناٹومی (Anatomy): یہ بائیولوجی کی وہ شاخ ہے جس میں جانداروں، خاص طور پر انسانوں کی اندرونی جسمانی ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ بیماریوں کی تشخیص، طبی آلات کی تیاری، اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، مثلاً نظامِ انہضام کے اعضاء کا مطالعہ۔

فزیالوجی (Physiology): بائیولوجی کی یہ شاخ جسمانی حصوں کے افعال کے مطالعہ سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر، خون کی گردش کا نظام کیسے پورے جسم میں ضروری اجزاء منتقل کرتا ہے۔

ہسٹولوجی (Histology): بافتوں یعنی ٹشوز (tissues) کا خوردبینی مطالعہ ہسٹولوجی کہلاتا ہے۔ ٹشو سے مراد ایک جیسے سیلز کا گروہ ہے جو ایک ہی فعل سرانجام دیتے ہیں۔ ٹشوز کا تجزیہ بیماریوں کی تشخیص، ادویات کے مطالعہ، اعضاء کی ساخت اور افعال کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

سائٹولوجی (Cytology): سیلز یعنی زندگی کی بنیادی اکائیوں کا مطالعہ سائٹولوجی کہلاتا ہے۔ سائٹولوجسٹس سیلز اور ان کے آرگنیلز (organelles) کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کے لیے تحقیق کرتے ہیں۔ وہ سیلز کی تقسیم کے عمل کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ (انسانی جسم میں 30 کھرب سے زیادہ سیلز موجود ہیں، اور مختلف اقسام کے سیلز منفرد ساخت رکھتے ہیں)۔

مالیکیولر بائیولوجی (Molecular Biology): یہ بائیو مالیکیولز (biomolecules) مثلاً کاربوہائیڈریٹس (carbohydrates)، پروٹینز (proteins)، لپڈز (lipids)، اور نیوکلیک ایسڈز (nucleic acids) کا مطالعہ ہے۔ مالیکیولر بائیولوجسٹس زندگی کے افعال کا مطالعہ کرتے ہیں، دوائیں تیار کرتے ہیں، اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جاندار تخلیق کرتے ہیں۔

ایمبریولوجی (Embryology): فرٹیلائزڈ انڈے (fertilized egg) سے ایک مکمل جاندار بننے کے عمل کے مطالعہ کو ایمبریولوجی کہتے ہیں۔ اس شعبے میں سائنسدان ٹشوز اور اعضاء کے بننے کا مطالعہ، پیدائشی نقائص کی نشاندہی، اور طبی علاج کے طریقے تیار کرتے ہیں۔

جینیٹکس (Genetics): یہ بائیولوجی کی وہ شاخ ہے جس میں والدین کی خصوصیات کا اولاد میں منتقلی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جینیٹکس میں سائنسدان جینیاتی بیماریوں کے اسباب کا مطالعہ کرتے ہیں اور پودوں اور جانوروں کی بہتر اقسام تیار کرتے ہیں۔

پیلی انٹولوجی (Palaeontology): یہ بائیولوجی کی وہ شاخ ہے جس میں فوسلز (fossils) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ فوسلز کے تجزیے سے سائنسدان جانداروں کی ارتقائی تاریخ کو جان سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ڈائنوسارز کے فوسلز اس بات کے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ زمین پر لاکھوں سال پہلے دیوہیکل رینگنے والے جاندار موجود تھے۔ (فوسلز پودوں اور جانوروں کی باقیات ہیں جو چٹانوں اور دیگر ارضیاتی تشکیلوں میں محفوظ ہو گئے تھے۔ سب سے قدیم معلوم فوسل ایک سائیانو بیکٹیریم (Cyanobacterium) ہے، جو قریباً 3.5 ارب سال پرانا ہے)۔

ٹیکسانومی (Taxonomy): یہ بائیولوجی کی وہ شاخ ہے جس میں مماثلتوں اور اختلافات کی بنیاد پر جانداروں کو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جانداروں کی کلاسیفیکیشن (classification) سے زندگی کی تنوع کو منظم اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے، نئی اقسام کی شناخت کی جاتی ہے، اور ارتقائی تعلقات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ایکالوجی (Ecology): یہ شاخ جانداروں اور ان کے ماحول کے مابین تعلقات سے متعلق ہے۔ ایکالوجی سے جانداروں کے تنوع (biodiversity) کو بچانے اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فوڈ چین (food chain) اس بات کی مثال ہے کہ جاندار کس طرح توانائی اور غذا کے لیے آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔

میرین بیالوجی (Marine Biology): یہ بائیولوجی کی وہ شاخ ہے جس میں سمندروں کے پانی میں زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ سمندری جانداروں کے تنوع کو سمجھنے، نئی اقسام دریافت کرنے، اور سمندری تحفظ کے مسائل حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، کورل ریف (coral reefs) سمندری جانداروں کی وسیع اقسام کو سہارا دیتے ہیں۔

پیتھالوجی (Pathology): یہ بیماریوں، ان کے اسباب، اور اثرات کا مطالعہ ہے۔ پیتھالوجی سے بیماری کی تشخیص، روک تھام، اور علاج میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر، پیتھالوجسٹ یہ مطالعہ کرتے ہیں کہ سیلز کی بے قابو تقسیم اور پھیلاؤ کس طرح کینسر کا سبب بنتا ہے۔

امیونالوجی (Immunology): یہ وہ شاخ ہے جس میں مدافعتی نظام (immune system) کے حصوں اور بیماریوں کے خلاف ان کے کردار کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ امیونالوجسٹ ویکسین تیار کرنے، خودکار مدافعتی بیماریوں (autoimmune disease) کا علاج کرنے، اور انفیکشنز کے خلاف مدافعتی رد عمل کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق کرتے ہیں۔

فارماکولوجی (Pharmacology): یہ وہ شاخ ہے جس میں ادویات اور جسم پر ان کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ نئی ادویات کی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر نئے اینٹی بائیوٹکس (antibiotics) تیار کیے جاتے ہیں جو بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو مارنے اور بیکٹیریل انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

یہ بائیولوجی کی بہت سی شاخوں میں سے چند ہیں۔ ہر شاخ زندگی کی حیرت انگیز دنیا میں منفرد بصیرت فراہم کرتی ہے اور ہمارے سیارے کی پیچیدگی اور خوبصورتی کو سمجھنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔

1.2 بائیولوجی کا دوسرے سائنسی علوم سے تعلق (RELATION OF BIOLOGY WITH OTHER SCIENCES)

بائیولوجی دیگر سائنسز جیسے کیمسٹری، فزکس، اور زمینی سائنسز (Earth sciences) وغیرہ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ تعلق زندگی کے افعال، ماحولیاتی تعاملات (interactions)، اور جانداروں کی ساخت میں پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ذیل میں بائیولوجی کے دیگر سائنسز کے ساتھ تعلق کی چند مثالیں دی گئی ہیں:

  1. بائیو کیمسٹری (Biochemistry): بائیو کیمسٹری جانداروں میں موجود مختلف کیمیائی مادوں کی ساخت اور ان کے کیمیکل ری ایکشنز کا مطالعہ ہے۔ فوٹو سنتھی سیز (photosynthesis) اور ریسپریشن (respiration) کے کیمیکل ری ایکشنز کا مطالعہ بائیو کیمسٹری کی مثالیں ہیں۔
  2. بائیو فزکس (Biophysics): یہ فزکس کے ان اصولوں کا مطالعہ ہے جو جانداروں میں ہونے والے افعال پر لاگو ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بائیو فزکس میں ہم پٹھوں یعنی مسلز (muscles)، ہڈیوں، اور جوڑوں کے افعال کو سمجھنے کے لیے لیور (lever) اور حرکت کے اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
  3. کمپیوٹیشنل بائیولوجی (Computational Biology): کمپیوٹیشنل بائیولوجی میں سائنسدان زندگی کے نظاموں اور تعلقات کو سمجھنے کے لیے ریاضیاتی ماڈلز، الگورتھمز (algorithms)، اور کمپیوٹر سمولیشنز (simulations) استعمال کرتے ہیں۔ اس میں بائیو لوجیکل ڈیٹا جیسے پروٹین میں امینو ایسڈز (amino acids) کی ترتیب کا مطالعہ شامل ہے۔
  4. بائیو جیو گرافی (Biogeography): دنیا کے مختلف جغرافیائی علاقوں میں جانداروں کی تقسیم کا مطالعہ بائیو جیو گرافی کہلاتا ہے۔ اس میں یہ مطالعہ بھی کیا جاتا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی (climate change) کس طرح جانداروں کی تقسیم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
  5. بائیو سٹیٹسٹکس (Biostatistics): یہ جانداروں سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے اور تشریح کے لیے شماریات (statistics) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ بائیو لوجیکل تحقیق، صحت، اور عوامی صحت جیسے شعبوں میں بائیو سٹیٹسٹکس اہم کردار ادا کرتی ہے۔
  6. بائیو ٹیکنالوجی (Biotechnology): بائیو ٹیکنالوجی میں خورد بینی جانداروں کو صنعتی پیمانے پر استعمال کر کے انسان کے لیے فائدہ مند پراڈکٹس تیار کی جاتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی صحت، زراعت، اور ماحولیاتی انتظام جیسے شعبوں میں کام آتی ہے۔ مثال کے طور پر بائیو ٹیکنالوجسٹس بیکٹیریا کو استعمال کر کے ایک ہارمون انسولین (insulin) تیار کرتے ہیں۔ یہ ہارمون ذیابیطس (diabetes) بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  7. بائیو اکنامکس (Bio-economics): یہ اقتصادی نقطہ نظر سے جانداروں کا مطالعہ کرنے سے متعلق ہے۔ بائیو اکنامکس میں سائنسدان حیاتیاتی منصوبوں جیسے فصلوں کی نئی اقسام کی پیداوار وغیرہ کی لاگت اور منافع کا حساب لگاتے ہیں۔
(شکل 1.1 بائیولوجی کا دیگر سائنسز کے ساتھ تعلق: اس شکل میں بائیولوجی کو مرکز میں دکھایا گیا ہے جس کا تعلق کیمسٹری، فزکس، جغرافیہ، شماریات اور اکنامکس سے واضح کیا گیا ہے)

1.3 بائیولوجی سے منسلک پیشے (CAREERS IN BIOLOGY)

بائیولوجی کے طلبہ زندگی کے مختلف مظاہر (phenomena) کا علم حاصل کرتے ہیں۔ بائیولوجی مضمون کے ساتھ ایف ایس سی (FSc) کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ مختلف پیشوں کے لیے مزید تعلیم کا انتخاب کر سکتے ہیں، جیسے کہ:

  1. میڈیسن اور سرجری (Medicine and Surgery): میڈیسن کا شعبہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج سے متعلق ہے۔ سرجری میں جسم کے خراب حصوں کی مرمت، تبدیلی یا جسم سے نکال دیا جانا شامل ہے۔ اس پیشے کے لیے طلبہ کو 5 سالہ بیچلر آف میڈیسن اور بیچلر آف سرجری (MBBS) کی ڈگری مکمل کرنا ہوتی ہے۔
  2. ڈینٹسٹری (Dentistry): ڈینٹسٹ دانتوں اور منھ کی صحت (Dental health) میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ دانتوں کی بیماریوں کی تشخیص، علاج اور سرجری کرتے ہیں۔ اس پیشے کے لیے طلبہ 4 سالہ بیچلر آف ڈینٹل سرجری (BDS) کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔
  3. فارماکولوجی (Pharmacology): فارماکولوجی نئی ادویات کی تیاری اور ان کے انسانی جسم پر اثرات کا مطالعہ ہے۔ اس پیشے کے لیے فارمیسی (pharmacy) میں بیچلر آف اسٹڈیز (BS) کی ڈگری یا ڈاکٹر آف فارمیسی (D. Pharm) کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔
  4. فزیوتھراپی (Physiotherapy): یہ طریقہ علاج بیماری یا چوٹ کے باعث متاثرہ جسمانی حرکت اور افعال کو بحال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فزیوتھراپسٹ جسمانی ورزش اور جسمانی طریقہ علاج (جیسے مالش) کا استعمال کرتے ہیں تاکہ مریض کی جسمانی حرکت کو بہتر بنایا جا سکے۔ فزیوتھراپسٹ بننے کے لیے فزیکل تھراپی یا فزیوتھراپی میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔
  5. فشریز اور وائلڈ لائف (Fisheries and Wildlife): فشریز اور محکمہ جنگلی حیات، ماہی گری یا ایکوا کلچر (aquaculture) میں بی ایس (BS) اور ماسٹر آف اسٹڈیز (MS) کی ڈگری رکھنے والے بائیولوجسٹ کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
  6. زراعت (Agriculture): زرعی سائنسدان کھیتی باڑی کے طریقوں، فصلوں کی پیداوار، اور پائیدار زرعی تکنیکوں کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے لیے زراعت میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔
  7. حیوانیات پروری (Animal Husbandry): یہ شعبہ مویشیوں کی افزائشِ نسل اور دیکھ بھال سے متعلق ہے تاکہ ان کے معیار اور پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے لیے طلبہ حیوانیات پروری میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔
  8. ہارٹیکلچر (Horticulture): ہارٹیکلچر یعنی باغبانی کے ماہرین پھل، سبزیاں، پھول، اور آرائشی پودے اگاتے ہیں۔ اس کے لیے ہارٹیکلچر میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔
  9. فوریسٹری (Forestry): فوریسٹری کے ماہرین جنگلات اور جنگلی حیات کا انتظام اور تحفظ کرتے ہیں۔ اس شعبے کے لیے فوریسٹری میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری ضروری ہے۔
  10. فارمنگ (Farming): فارمنگ کے پیشہ ور فارم تیار کرتے ہیں، جیسے جانوروں کے فارمز، پولٹری فارمز، اور پھلوں کے فارمز۔ ان فارمز میں وہ خوراک اور دیگر مصنوعات کے لیے فصلیں اگاتے اور جانور پالتے ہیں۔ اس پیشے کے لیے زراعت میں 4 سالہ بی ایس (BS) یا مخصوص فارمنگ کے کورسز درکار ہیں۔

بائیولوجی سے منسلک مزید پیشے

پیشہاہم کام
وٹرنری میڈیسن (Veterinary Medicine)جانوروں میں بیماریوں کی تشخیص اور علاج اور سرجری
ماحولیاتی سائنس (Environmental Science)آلودگی اور قدرتی وسائل سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا
مائیکروبائیولوجی (Microbiology)مائیکرو آرگنززمز پر تحقیق کرنا تاکہ ان کے اثرات کو سمجھا جا سکے
جینیٹک کاؤنسلنگ (Genetic Counselling)جینیاتی مسائل پر لوگوں کو مدد فراہم کرنا اور ٹیسٹنگ کے ذریعے رہنمائی کرنا
غذائیت اور ڈائٹیٹکس (Nutrition and Dietetics)صحت کو بہتر بنانے کے لیے مناسب غذائی عادات پر مشورہ دینا
پبلک ہیلتھ (Public Health)تعلیم، پالیسی سازی اور تحقیق کے ذریعے کمیونٹیز کی صحت کو بہتر بنانا
بائیو میڈیکل انجینئرنگ (Biomedical Engineering)طبی آلات کا ڈیزائن اور تیاری تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال میں بہتری لائی جا سکے
بائیو انفارمیٹکس (Bioinformatics)کمپیوٹیشنل ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ

11. بائیو ٹیکنالوجی (Biotechnology): بائیو ٹیکنالوجسٹ خوردبینی جانداروں کو استعمال کرتے ہوئے طبی، زرعی، اور دیگر شعبوں کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ اس پیشے کے لیے بائیوٹیکنالوجی میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری ضروری ہے۔

12. فرانزکس (Forensics): فرانزک سائنسدان جرائم کی تحقیقات میں جائے وقوعہ سے حاصل کردہ طبعی شواہد کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے فرانزک سائنس میں 4 سالہ بی ایس (BS) کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...