Explore the life and literary legacy of Deputy Nazir Ahmad Dehlvi. This post summarizes his struggles, his oratorical skills, and his famous Urdu translation of the Quran as described in the Class 12 Urdu syllabus.
مولوی نذیر احمد دہلوی
حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)
- خاکہ نگاری کے فن اور اس کی خوبیوں سے واقف ہو سکیں۔
- مولوی نذیر احمد دہلوی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی جدوجہد کا مطالعہ کر سکیں۔
- اردو نثر میں شاہد احمد دہلوی کے اسلوبِ بیاں کی سادگی اور سلاست کو سمجھ سکیں۔
میں نے مولوی نذیر احمد کو صرف پانچ برس کی عمر میں آخری بار دیکھا۔ اس سے پہلے دیکھا تو ضرور ہوگا مگر مجھے بالکل یاد نہیں۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ ہم تین بھائی ابا۱ کے ساتھ حیدرآباد دکن سے دلی آئے تھے تو کھاری باؤلی کے مکان میں گئے تھے۔ ڈیوڑھی کے آگے صحن میں سے گزر کر پیش دالان میں گئے۔ یہاں دو تین آدمی بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ پچھلے دالان کے دروں میں کواڑوں کی جوڑیاں چڑھی ہوئی تھیں جن کے اوپر رنگ بہ رنگ شیشوں کے بستے بنے ہوئے تھے۔
ڈپٹی نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا ناول "مراۃ العروس" ۱۸۶۹ء میں شائع ہوا۔
یہ تین دروازے تھے، جن میں دو کھلے ہوئے تھے اور ایک دائیں جانب کا بند تھا۔ اس کمرے نما دالان میں ہم ابا کے ساتھ داخل ہوئے تو سامنے پلنگ پر ایک بڑے میاں دکھائی دیے۔ ان کی سفید داڑھی اور کنٹوپ صرف یاد ہے۔ ابا جلدی سے آگے بڑھ کر ان سے لپٹ کر رونے لگے اور ہم حیران کھڑے رہے۔ جب ان کے دل کی بھڑاس نکل گئی تو ہمیں حکم ہوا کہ دادا ابا کو سلام کرو۔ ہم نے سلام کیا، انھوں نے پیار کیا۔ ایک ایک اشرفی سب کو دی اور ہم کمرے کے اندھیرے سے گھبرا کر باہر نکل آئے اور کھیل کود میں لگ گئے، اس کے بعد انھیں پھر دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
مولوی نذیر احمد کو زمانہ سازی بالکل نہیں آتی تھی۔ سچی بات کہنے میں انھیں باک نہ ہوتا تھا۔ حیدر آباد دکن میں بڑے بڑے عہدوں پر مامور ہوئے مگر خوش کسی کو نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے زیادہ عرصے تک وہاں نہ رہ سکے اور پنشن لے کر دلی چلے آئے۔ ان کے لیے ’’غیور جنگ‘‘ کا خطاب تجویز ہوا تھا، مگر انھوں نے قبول نہیں کیا۔ نواب افتخار علی خاں والی ریاست جاورہ کے بھائی نواب سرفراز علی خاں مرحوم بہت بیمار تھے۔ ان کے لیے طبیبوں کی کیا کمی تھی؟ دنیا بھر کے علاج کرائے مگر شفا نہ ہوئی۔ ایک دن انھوں نے مولوی نذیر احمد کو خواب میں دیکھا کہ ان سے کہہ رہے ہیں: ’’ہمارے قرآن کا ترجمہ چھپوالو، اچھے ہو جاؤ گے۔‘‘
نواب صاحب نے میرے والد کو دلی خط لکھا اور اس خواب کی روداد بیان کر کے ترجمہ شائع کرنے کی اجازت مانگی۔ والد صاحب نے اجازت دے دی اور صرف ترجمہ قرآن دو بڑی خوبصورت جلدوں میں ریاست جاورہ کے چھاپہ خانے سے شائع ہوا۔ خدا کی شان کہ نواب صاحب بالکل تندرست ہو گئے اور جب اس واقعے کے کوئی بیس سال بعد میں ان سے ملا تو ستر سے بہتر ہو چکے تھے۔
مولوی احمد حسن صاحب احسن التفاسیر، مولوی نذیر احمد کے خویش تھے۔ ایک دن مولوی نذیر احمد کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مولوی احمد حسن نے دیکھا کہ ڈپٹی صاحب کی کہنیاں بہت میلی ہو رہی ہیں اور ان پر میل کی ایک تہ چڑھی ہوئی ہے۔ مولوی صاحب سے نہ رہا گیا، بولے: ’’اگر آپ اجازت دیں تو جھانوے سے آپ کی کہنیاں ذرا صاف کردوں۔‘‘ ڈپٹی صاحب نے اپنی کہنیوں کی طرف دیکھا اور ہنس کر کہنے لگے: ’’میاں احمد حسن! یہ میل نہیں ہے۔ میں جب بجنور سے آکر پنجابی کٹرے کی مسجد میں طالب علم بنا تھا تو رات رات بھر مسجد کے فرش پر کہنیاں ٹکائے پڑھا کرتا تھا۔ پہلے ان کہنیوں میں زخم پڑے اور پھر گھٹے پڑ گئے۔ لو دیکھ لو، اگر تم انھیں صاف کر سکتے ہو تو صاف کر دو۔‘‘ اس کے بعد اپنا وہ زمانہ یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے اور مولوی احمد حسن بھی رونے لگے۔
مولوی صاحب بڑے فخر سے اپنے بچپن کے مصائب بیان کرتے تھے۔ جس مسجد میں ٹھہرے تھے اس کا مُلّا بڑا بد مزاج اور بے رحم تھا۔ کڑکڑاتے جاڑوں میں ایک ٹاٹ کی صف میں یہ لپٹ جاتے اور ایک میں ان کے بھائی۔ سات آٹھ سال کے بچے کی بساط ہی کیا؟ علی الصباح اگر آنکھ نہ کھلتی تو مسجد کا مُلّا ایک لات رسید کرتا اور یہ لڑھکتے چلے جاتے اور صف بھی بچھ جاتی۔ اس زمانے کے طالب علموں کی طرح انھیں بھی محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانی پڑتی تھی۔ دن اور گھر بندھے ہوئے تھے۔ انہی گھروں میں سے ایک گھر مولوی عبدالقادر صاحب کا بھی تھا۔
روٹی کے سلسلے میں جب ان کے ہاں آنا جانا ہو گیا تو نذیر احمد سے اوپر کے کام بھی لیے جانے لگے۔ مثلاً بازار سے سودا سلف لانا، مسالا پیسنا، لڑکی کو بہلانا۔ لڑکی بڑی ضدّن تھی۔ ان کا کولہا توڑتی اور انھیں مارتی پیٹتی رہتی۔ ایک دفعہ مسالا پیسنے میں مرچوں کا بھرا ہوا ڈبا چھین کر ان کے ہاتھ کچل ڈالے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہی لڑکی آگے چل کر مولانا کی بیوی بنی۔
مولوی نذیر احمد بڑے غیور آدمی تھے۔ سسرال والے خاصے مرفہ الحال تھے، مگر انھوں نے اسے گوارا نہ کیا کہ سسرال والوں کے ٹکڑوں پر پڑ رہیں۔ جب ان کی شادی ہوئی تو غالباً پندرہ روپے کے ملازم تھے۔ اسی میں الگ ایک کھنڈلا لے کر رہتے تھے۔ میں نے بڑی بوڑھیوں سے سنا ہے کہ ان کے گھر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی جوتی تھی۔ کبھی بیوی ان لیتڑوں کو بدلگا لیتیں کبھی میاں۔
دلی کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھیں کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملی تو سخت برہم ہوئے۔ پرنسپل سے جا کر ایک دن بولے: ’’مجھے سرکاری ملازمت اگر نہیں دی گئی تو اپلوں کی ڈنڈی کھولوں گا اور اس پر دلی کالج کی سند لگا دوں گا،‘‘ مگر اس کی نوبت نہیں آئی اور انھیں ملازمت مل گئی۔
مولوی عنایت اللہ مرحوم فرماتے تھے کہ جب ہم لاہور سے دلی واپس آ رہے تھے تو ایک ہی ڈبے میں سب سوار تھے۔ سرسید احمد خاں نے کسی بات کے سلسلے میں کہا: ’’مولوی صاحب! میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ آپ کے جوتے کے تسمے باندھوں۔‘‘ مولوی نذیر احمد کھڑے ہوئے اور تعظیماً تین آداب بجا لائے۔ سرسید احمد خاں عمر میں مولوی نذیر احمد سے بیس بائیس سال بڑے تھے اور عوام کے علاوہ انگریزی حکام میں بھی بہت معزز تھے۔ مولوی نذیر احمد بھی ان کی بڑی عزت کرتے اور دامے درمے، قدمے سخنے ان کی مدد کرتے۔
ایک دفعہ علی گڑھ کالج میں ایک ہندو محاسب نے لاکھوں روپے کا غبن کیا اور کالج جاری رکھنا محال ہو گیا۔ اس خبر کو سن کر مولوی نذیر احمد دلی سے علی گڑھ پہنچے اور ہر طرح کی ڈھارس بندھائی۔ بولے: ’’اگر روپے کی ضرورت ہو تو یہ روپیہ اس وقت موجود ہے، لے لو اور بھی دوں گا اور اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘ سرسید اس خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔
مولوی نذیر احمد علی گڑھ کے لیے چندہ اگاہنے کے سلسلے میں بہت کارآمد آدمی تھے، اس لیے جہاں تک ممکن ہوتا سرسید انھیں اپنے دوروں میں ساتھ رکھتے اور ان سے تقریریں کراتے۔ نذیر احمد کی قوتِ تقریر کے متعلق کہا جاتا تھا کہ انگلستان کا مشہور مقرر برک بھی اُن سے زیادہ مؤثر تقریر نہیں کر سکتا تھا۔ اب بھی اگلے وقتوں کے لوگ، جنھوں نے مولوی صاحب کے لیکچر سنے ہیں، کہتے ہیں کہ یا تو ہم نے ڈپٹی صاحب کو دیکھا یا اب اخیر میں بہادر یار جنگ مرحوم کو دیکھا کہ سامعین پر جادو سا کر دیتے اور جو کام ان سے چاہتے لے لیتے۔ جب چاہا انھیں ہنسا دیا اور جب چاہا ان کی جیبیں خالی کرا لیں اور عورتوں کے زیور تک اتروا لیا کرتے تھے۔
مولوی نذیر احمد عربی میں غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔ کئی کئی سال سے لوگوں کا ان پر تقاضا تھا کہ قرآن مجید کا ترجمہ کرو مگر وہ پس و پیش کرتے اور کہتے کہ یہ کام ان لوگوں کا ہے جو خدمتِ دین میں اپنی ساری ساری عمر صرف کر چکے ہیں مگر جب پنشن لے کر وہ دلی آ گئے تو تیسیر کا ترجمہ شروع کیا اور اس سلسلے میں اکثر آیات قرآنی کا ترجمہ بھی کرنا پڑا۔ اس سے انھیں اندازہ ہوا کہ یہ کام اتنا دشوار نہیں ہے جتنی کہ طبیعت میں ہچکچاہٹ ہے۔
چنانچہ کئی مولویوں اور عالموں کے مشوروں سے انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کرنا شروع کیا۔ ایک ایک لفظ پر ردّ و قدح ہوتی اور بالآخر ایک رائے ہو کر ترجمہ لکھ لیا جاتا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد بھی ایک نابینا جید عالم کو پڑھ کر سنایا گیا اور ایک اور عالم کو نظرِ ثانی کے لیے باہر بھیجا گیا۔ جب کاپیوں کی تصحیح ہوئی اور پروف دیکھے گئے، تب بھی ان میں ترمیم کی گئی اور جب تک اس کی طرف سے پورا پورا اطمینان نہیں ہو گیا، اسے شائع نہیں کیا گیا۔ اس میں ڈھائی سال لگ گئے مگر ترجمہ بھی ایسا شستہ و رفتہ اور بامحاورہ ہوا کہ اب پچھلے پچاس برس میں کوئی اور ترجمہ اس سے بہتر شائع نہیں ہو سکا۔ خود مولوی صاحب کو اپنی تمام کتابوں میں ’’ترجمۂ قرآن‘‘ ہی پسند تھا اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے اور سب کتابیں دوسروں کے لیے لکھی ہیں اور یہ ترجمہ اپنے لیے کیا ہے کہ یہی میرا توشۂ آخرت ہے۔
(ماخذ: گنجینۂ گوہر)
اہم نکات (Key Points)
- شاہد احمد دہلوی نے مولوی نذیر احمد کے بچپن کی مشقتوں اور علمی لگن کو بیان کیا ہے۔
- مولوی نذیر احمد سچی بات کہنے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے۔
- انھوں نے قرآن مجید کا نہایت شستہ اور بامحاورہ ترجمہ کیا جو ان کے نزدیک ان کا اصل سرمایہ ہے۔
- سرسید احمد خاں اور مولوی نذیر احمد کے درمیان باہمی احترام اور علی گڑھ کے لیے ان کی خدمات مثالی تھیں۔
Comments
Post a Comment