Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Deputy Nazir Ahmad Dehlvi - Class 12 Urdu Lesson 12 Summary

 

Maulvi Nazir Ahmad Dehlvi biography, Class 12 Urdu Lesson 12 notes, Shahid Ahmad Dehlvi essays, Deputy Nazir Ahmad Urdu novel writer, Quran translation by Nazir Ahmad Dehlvi, Urdu literature class 12, EOLS Urdu lessons, Ganjina-e-Gohar summary, Urdu education Pakistan, Nazir Ahmad Dehlvi personality traits

Explore the life and literary legacy of Deputy Nazir Ahmad Dehlvi. This post summarizes his struggles, his oratorical skills, and his famous Urdu translation of the Quran as described in the Class 12 Urdu syllabus.


جماعت: بارہویں | مضمون: اردو (لازمی)
سبق نمبر: 12

مولوی نذیر احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی (۱۹۰۶ء ۔ ۱۹۶۷ء)

حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)

  • خاکہ نگاری کے فن اور اس کی خوبیوں سے واقف ہو سکیں۔
  • مولوی نذیر احمد دہلوی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی جدوجہد کا مطالعہ کر سکیں۔
  • اردو نثر میں شاہد احمد دہلوی کے اسلوبِ بیاں کی سادگی اور سلاست کو سمجھ سکیں۔

میں نے مولوی نذیر احمد کو صرف پانچ برس کی عمر میں آخری بار دیکھا۔ اس سے پہلے دیکھا تو ضرور ہوگا مگر مجھے بالکل یاد نہیں۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ ہم تین بھائی ابا۱ کے ساتھ حیدرآباد دکن سے دلی آئے تھے تو کھاری باؤلی کے مکان میں گئے تھے۔ ڈیوڑھی کے آگے صحن میں سے گزر کر پیش دالان میں گئے۔ یہاں دو تین آدمی بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ پچھلے دالان کے دروں میں کواڑوں کی جوڑیاں چڑھی ہوئی تھیں جن کے اوپر رنگ بہ رنگ شیشوں کے بستے بنے ہوئے تھے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
ڈپٹی نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا ناول "مراۃ العروس" ۱۸۶۹ء میں شائع ہوا۔

یہ تین دروازے تھے، جن میں دو کھلے ہوئے تھے اور ایک دائیں جانب کا بند تھا۔ اس کمرے نما دالان میں ہم ابا کے ساتھ داخل ہوئے تو سامنے پلنگ پر ایک بڑے میاں دکھائی دیے۔ ان کی سفید داڑھی اور کنٹوپ صرف یاد ہے۔ ابا جلدی سے آگے بڑھ کر ان سے لپٹ کر رونے لگے اور ہم حیران کھڑے رہے۔ جب ان کے دل کی بھڑاس نکل گئی تو ہمیں حکم ہوا کہ دادا ابا کو سلام کرو۔ ہم نے سلام کیا، انھوں نے پیار کیا۔ ایک ایک اشرفی سب کو دی اور ہم کمرے کے اندھیرے سے گھبرا کر باہر نکل آئے اور کھیل کود میں لگ گئے، اس کے بعد انھیں پھر دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔

مولوی نذیر احمد کو زمانہ سازی بالکل نہیں آتی تھی۔ سچی بات کہنے میں انھیں باک نہ ہوتا تھا۔ حیدر آباد دکن میں بڑے بڑے عہدوں پر مامور ہوئے مگر خوش کسی کو نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے زیادہ عرصے تک وہاں نہ رہ سکے اور پنشن لے کر دلی چلے آئے۔ ان کے لیے ’’غیور جنگ‘‘ کا خطاب تجویز ہوا تھا، مگر انھوں نے قبول نہیں کیا۔ نواب افتخار علی خاں والی ریاست جاورہ کے بھائی نواب سرفراز علی خاں مرحوم بہت بیمار تھے۔ ان کے لیے طبیبوں کی کیا کمی تھی؟ دنیا بھر کے علاج کرائے مگر شفا نہ ہوئی۔ ایک دن انھوں نے مولوی نذیر احمد کو خواب میں دیکھا کہ ان سے کہہ رہے ہیں: ’’ہمارے قرآن کا ترجمہ چھپوالو، اچھے ہو جاؤ گے۔‘‘

نواب صاحب نے میرے والد کو دلی خط لکھا اور اس خواب کی روداد بیان کر کے ترجمہ شائع کرنے کی اجازت مانگی۔ والد صاحب نے اجازت دے دی اور صرف ترجمہ قرآن دو بڑی خوبصورت جلدوں میں ریاست جاورہ کے چھاپہ خانے سے شائع ہوا۔ خدا کی شان کہ نواب صاحب بالکل تندرست ہو گئے اور جب اس واقعے کے کوئی بیس سال بعد میں ان سے ملا تو ستر سے بہتر ہو چکے تھے۔

مولوی احمد حسن صاحب احسن التفاسیر، مولوی نذیر احمد کے خویش تھے۔ ایک دن مولوی نذیر احمد کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مولوی احمد حسن نے دیکھا کہ ڈپٹی صاحب کی کہنیاں بہت میلی ہو رہی ہیں اور ان پر میل کی ایک تہ چڑھی ہوئی ہے۔ مولوی صاحب سے نہ رہا گیا، بولے: ’’اگر آپ اجازت دیں تو جھانوے سے آپ کی کہنیاں ذرا صاف کردوں۔‘‘ ڈپٹی صاحب نے اپنی کہنیوں کی طرف دیکھا اور ہنس کر کہنے لگے: ’’میاں احمد حسن! یہ میل نہیں ہے۔ میں جب بجنور سے آکر پنجابی کٹرے کی مسجد میں طالب علم بنا تھا تو رات رات بھر مسجد کے فرش پر کہنیاں ٹکائے پڑھا کرتا تھا۔ پہلے ان کہنیوں میں زخم پڑے اور پھر گھٹے پڑ گئے۔ لو دیکھ لو، اگر تم انھیں صاف کر سکتے ہو تو صاف کر دو۔‘‘ اس کے بعد اپنا وہ زمانہ یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے اور مولوی احمد حسن بھی رونے لگے۔

مولوی صاحب بڑے فخر سے اپنے بچپن کے مصائب بیان کرتے تھے۔ جس مسجد میں ٹھہرے تھے اس کا مُلّا بڑا بد مزاج اور بے رحم تھا۔ کڑکڑاتے جاڑوں میں ایک ٹاٹ کی صف میں یہ لپٹ جاتے اور ایک میں ان کے بھائی۔ سات آٹھ سال کے بچے کی بساط ہی کیا؟ علی الصباح اگر آنکھ نہ کھلتی تو مسجد کا مُلّا ایک لات رسید کرتا اور یہ لڑھکتے چلے جاتے اور صف بھی بچھ جاتی۔ اس زمانے کے طالب علموں کی طرح انھیں بھی محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانی پڑتی تھی۔ دن اور گھر بندھے ہوئے تھے۔ انہی گھروں میں سے ایک گھر مولوی عبدالقادر صاحب کا بھی تھا۔

روٹی کے سلسلے میں جب ان کے ہاں آنا جانا ہو گیا تو نذیر احمد سے اوپر کے کام بھی لیے جانے لگے۔ مثلاً بازار سے سودا سلف لانا، مسالا پیسنا، لڑکی کو بہلانا۔ لڑکی بڑی ضدّن تھی۔ ان کا کولہا توڑتی اور انھیں مارتی پیٹتی رہتی۔ ایک دفعہ مسالا پیسنے میں مرچوں کا بھرا ہوا ڈبا چھین کر ان کے ہاتھ کچل ڈالے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہی لڑکی آگے چل کر مولانا کی بیوی بنی۔

مولوی نذیر احمد بڑے غیور آدمی تھے۔ سسرال والے خاصے مرفہ الحال تھے، مگر انھوں نے اسے گوارا نہ کیا کہ سسرال والوں کے ٹکڑوں پر پڑ رہیں۔ جب ان کی شادی ہوئی تو غالباً پندرہ روپے کے ملازم تھے۔ اسی میں الگ ایک کھنڈلا لے کر رہتے تھے۔ میں نے بڑی بوڑھیوں سے سنا ہے کہ ان کے گھر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی جوتی تھی۔ کبھی بیوی ان لیتڑوں کو بدلگا لیتیں کبھی میاں۔

دلی کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھیں کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملی تو سخت برہم ہوئے۔ پرنسپل سے جا کر ایک دن بولے: ’’مجھے سرکاری ملازمت اگر نہیں دی گئی تو اپلوں کی ڈنڈی کھولوں گا اور اس پر دلی کالج کی سند لگا دوں گا،‘‘ مگر اس کی نوبت نہیں آئی اور انھیں ملازمت مل گئی۔

مولوی عنایت اللہ مرحوم فرماتے تھے کہ جب ہم لاہور سے دلی واپس آ رہے تھے تو ایک ہی ڈبے میں سب سوار تھے۔ سرسید احمد خاں نے کسی بات کے سلسلے میں کہا: ’’مولوی صاحب! میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ آپ کے جوتے کے تسمے باندھوں۔‘‘ مولوی نذیر احمد کھڑے ہوئے اور تعظیماً تین آداب بجا لائے۔ سرسید احمد خاں عمر میں مولوی نذیر احمد سے بیس بائیس سال بڑے تھے اور عوام کے علاوہ انگریزی حکام میں بھی بہت معزز تھے۔ مولوی نذیر احمد بھی ان کی بڑی عزت کرتے اور دامے درمے، قدمے سخنے ان کی مدد کرتے۔

ایک دفعہ علی گڑھ کالج میں ایک ہندو محاسب نے لاکھوں روپے کا غبن کیا اور کالج جاری رکھنا محال ہو گیا۔ اس خبر کو سن کر مولوی نذیر احمد دلی سے علی گڑھ پہنچے اور ہر طرح کی ڈھارس بندھائی۔ بولے: ’’اگر روپے کی ضرورت ہو تو یہ روپیہ اس وقت موجود ہے، لے لو اور بھی دوں گا اور اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘ سرسید اس خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔

مولوی نذیر احمد علی گڑھ کے لیے چندہ اگاہنے کے سلسلے میں بہت کارآمد آدمی تھے، اس لیے جہاں تک ممکن ہوتا سرسید انھیں اپنے دوروں میں ساتھ رکھتے اور ان سے تقریریں کراتے۔ نذیر احمد کی قوتِ تقریر کے متعلق کہا جاتا تھا کہ انگلستان کا مشہور مقرر برک بھی اُن سے زیادہ مؤثر تقریر نہیں کر سکتا تھا۔ اب بھی اگلے وقتوں کے لوگ، جنھوں نے مولوی صاحب کے لیکچر سنے ہیں، کہتے ہیں کہ یا تو ہم نے ڈپٹی صاحب کو دیکھا یا اب اخیر میں بہادر یار جنگ مرحوم کو دیکھا کہ سامعین پر جادو سا کر دیتے اور جو کام ان سے چاہتے لے لیتے۔ جب چاہا انھیں ہنسا دیا اور جب چاہا ان کی جیبیں خالی کرا لیں اور عورتوں کے زیور تک اتروا لیا کرتے تھے۔

مولوی نذیر احمد عربی میں غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔ کئی کئی سال سے لوگوں کا ان پر تقاضا تھا کہ قرآن مجید کا ترجمہ کرو مگر وہ پس و پیش کرتے اور کہتے کہ یہ کام ان لوگوں کا ہے جو خدمتِ دین میں اپنی ساری ساری عمر صرف کر چکے ہیں مگر جب پنشن لے کر وہ دلی آ گئے تو تیسیر کا ترجمہ شروع کیا اور اس سلسلے میں اکثر آیات قرآنی کا ترجمہ بھی کرنا پڑا۔ اس سے انھیں اندازہ ہوا کہ یہ کام اتنا دشوار نہیں ہے جتنی کہ طبیعت میں ہچکچاہٹ ہے۔

چنانچہ کئی مولویوں اور عالموں کے مشوروں سے انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کرنا شروع کیا۔ ایک ایک لفظ پر ردّ و قدح ہوتی اور بالآخر ایک رائے ہو کر ترجمہ لکھ لیا جاتا۔ ترجمہ مکمل ہونے کے بعد بھی ایک نابینا جید عالم کو پڑھ کر سنایا گیا اور ایک اور عالم کو نظرِ ثانی کے لیے باہر بھیجا گیا۔ جب کاپیوں کی تصحیح ہوئی اور پروف دیکھے گئے، تب بھی ان میں ترمیم کی گئی اور جب تک اس کی طرف سے پورا پورا اطمینان نہیں ہو گیا، اسے شائع نہیں کیا گیا۔ اس میں ڈھائی سال لگ گئے مگر ترجمہ بھی ایسا شستہ و رفتہ اور بامحاورہ ہوا کہ اب پچھلے پچاس برس میں کوئی اور ترجمہ اس سے بہتر شائع نہیں ہو سکا۔ خود مولوی صاحب کو اپنی تمام کتابوں میں ’’ترجمۂ قرآن‘‘ ہی پسند تھا اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے اور سب کتابیں دوسروں کے لیے لکھی ہیں اور یہ ترجمہ اپنے لیے کیا ہے کہ یہی میرا توشۂ آخرت ہے۔

۱۔ مولوی نذیر احمد کے اکلوتے بیٹے بشیر الدین احمد
(ماخذ: گنجینۂ گوہر)
فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی)
باک: ڈر، خوف
غیور: غیرت مند
خویش: رشتہ دار
آب دیدہ ہونا: آنکھوں میں آنسو آ جانا
بساط: طاقت، حیثیت
مرفہ الحال: خوش حال
رد و قدح: بحث و تکرار
توشۂ آخرت: آخرت کا سامان

اہم نکات (Key Points)

  • شاہد احمد دہلوی نے مولوی نذیر احمد کے بچپن کی مشقتوں اور علمی لگن کو بیان کیا ہے۔
  • مولوی نذیر احمد سچی بات کہنے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے۔
  • انھوں نے قرآن مجید کا نہایت شستہ اور بامحاورہ ترجمہ کیا جو ان کے نزدیک ان کا اصل سرمایہ ہے۔
  • سرسید احمد خاں اور مولوی نذیر احمد کے درمیان باہمی احترام اور علی گڑھ کے لیے ان کی خدمات مثالی تھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...