اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
اردو | پریپ کلاس
سبق نمبر 5
ایکسلنس آن لائن لرننگ اسکول
- کلاس روم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے طریقے سیکھ سکیں۔
- کھیل کے دوران ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں۔
- اچھی عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔
کلاس رُوم اور کھیل کے آداب
ہم خاموش رہیں گے
میں اپنی باری پر پڑھوں گی
ہم چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھیں گے
ہم جماعت کو صاف رکھیں گے
ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے
کھیل
ہم مسکرا کر ملیں گے
ہم کسی کو دھکا نہیں دیں گے
ہم اپنی باری کا انتظار کریں گے
ہم مل جل کر کھیلیں گے
Comments
Post a Comment