Detailed educational post for Class 9 Urdu Lesson 5 "Kaleem and Mirza Zahir Daar Baig" by Deputy Nazir Ahmed. Explore characters, moral lessons, and literary style for exam preparation.
کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ
- ۱۔ طلبہ کو اُردو ناول نگاری کی ابتدائی صورت حال سے آگاہ کرنا۔
- ۲۔ طلبہ کو ڈپٹی نذیر احمد کے سوانحی حالات سے آگاہ کرتے ہوئے یہ بتانا کہ ان کا شمار اُردو کے پہلے ناول نگار کے طور پر کیا جاتا ہے۔
- ۳۔ طلبہ کو ڈپٹی نذیر احمد کے زمانے کی معاشرت سے آگاہ کرنا اور انھیں یہ بتانا کہ انھوں نے اپنے تمام ناول اصلاحِ معاشرہ کے مقصد کے تحت لکھے تھے۔
- ۴۔ طلبہ کو ناول "توبۃ النصوح" کے کرداروں کی مثال دے کر بتانا کہ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کے تمام کردار اسم بامسمیٰ ہیں یعنی جیسا نام ویسا کام۔
- ۵۔ طلبہ کو روز مرہ اور محاورہ کی تعریف بتانا اور ان پر واضح کرنا کہ روز مرہ اور محاورہ کے حوالے سے ڈپٹی نذیر احمد کی زبان سند کی حیثیت رکھتی ہے۔
بار بار پکارنے کنڈی کھٹکھٹانے سے دو لونڈیاں چراغ لیے ہوئے اندر سے نکلیں اور اُن میں سے ایک نے پوچھا:
”کون صاحب ہیں؟ اور اتنی رات گئے کیا کام ہے؟“
لونڈی: یہاں کوئی ظاہر دار بیگ نہیں ہے۔
اتنا کہہ کر قریب تھا کہ لونڈی پھر کواڑ بند کر لے کہ کلیم نے کہا:
کیوں جی! کیا یہ جمعدار صاحب کی محل سرائیں ہے؟
لونڈی: ہے کیوں نہیں؟
کلیم: پھر تم نے یہ کہا کہ یہاں کوئی ظاہر دار بیگ نہیں۔ کیا ظاہر دار بیگ جمعدار کے وارث اور جانشین نہیں ہیں؟
لونڈی: جمعدار کے وارثوں کو خدا سلامت رکھے۔ مُوا مرزا ظاہر دار بیگ جمعدار کا وارث بننے والا کون ہوتا ہے؟
دوسری لونڈی: اری کم بخت! یہ کہیں مرزا بانکے کے بیٹے کو نہ پوچھتے ہوں۔ وہ ہر جگہ اپنے تئیں جمعدار کا بیٹا بتایا کرتا ہے (کلیم سے مخاطب ہو کر) کیوں میاں! وہی ظاہر دار بیگ ناں جن کی رنگت زرد زرد ہے۔ آنکھیں کرنجی، چھوٹا قد، دبلا ڈیل۔ اپنے تئیں بہت بنائے سنوارے رہا کرتے ہیں۔
لونڈی: تو میاں اس مکان کے پچھواڑے اُپلوں کی ٹال کے برابر ایک چھوٹا سا کچا مکان ہے، وہ اس میں رہتے ہیں۔
کلیم نے وہاں جا کر آواز دی تو کچھ دیر بعد مرزا صاحب لنگی وبنیان پہنے ہوئے باہر تشریف لائے اور کلیم کو دیکھ کر شرمائے اور بولے:
آہا! آپ ہیں۔ معاف کیجیے گا میں سمجھا کوئی اور صاحب ہیں۔ بندے کو کپڑے پہن کر سونے کی عادت نہیں۔ میں ذرا کپڑے پہن آؤں تو آپ کے ہم رکاب چلوں۔
کلیم نے جو مسجد میں آکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ نہایت پرانی چھوٹی سی مسجد ہے، مسجدِ ضرار کی طرح ویران و وحشت ناک۔ نہ کوئی حافظ ہے، نہ طالب علم، نہ مسافر۔ ہزار ہا چمگادڑیں اس میں رہتی ہیں کہ ان کی تسبیح بے ہنگام سے کان کے پردے پھٹے جاتے ہیں۔ فرش پر اس قدر ریت پڑی ہے کہ بجائے خود کھٹر نچے کا فرش بن گیا ہے۔ مرزا کے انتظار میں چاروں ناچار اسی مسجد میں ٹھہرنا پڑا۔ مرزا آئے بھی تو اتنی دیر کے بعد کہ کلیم مایوس ہو چکا تھا۔ قبل اس کے کہ کلیم شکایت کرے مرزا صاحب بطورِ دفع دخل مقدر فرمانے لگے کہ بندے کے گھر میں کئی دن سے طبیعت علیل ہے۔ خفقان کا عارضہ، اختلاج قلب کا روگ ہے۔ اب جو میں آپ کے پاس سے گیا تو اُن کو غشی میں پایا۔ اس وجہ سے دیر ہوئی۔ پہلے تو یہ فرمایئے کہ اس وقت بندہ نوازی فرمانے کی کیا وجہ ہے؟
کلیم نے باپ کی طلب، اپنا انکار، بھائی کی التجا، ماں کا اصرار، تمام ماجرا کہہ سنایا۔
کلیم: یہ کیا ماجرا ہے؟ تم تو کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہاں دوہری محل سرائیں، متعدد دیوان خانے، کئی پائیں باغ ہیں۔ حوض اور حمام اور کٹرے اور گنج اور دکانیں اور سرائیں، میں تو جانتا ہوں کہ عمارت کی قسم کی کوئی چیز ایسی نہ ہو گی جس کو تم نے اپنی ملک نہ بتایا ہو، یا یہ حال ہے کہ ایک متنفس کے واسطے ایک شب کے لیے تم کو جگہ میسر نہیں۔ جو جو حالات تم نے اپنی زبان سے بیان کیے، ان سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ جمعدار کے تمام ترکے پر تم قابض اور متصرف ہو لیکن میں اس جاہ و حشمت کا ایک شمہ بھی نہیں دیکھتا۔
مرزا: آپ کو میری نسبت سخن سازی کا احتمال ہونا سخت تعجب کی بات ہے۔ اتنی مدت مجھ سے آپ سے صحبت رہی، مگر افسوس ہے کہ آپ نے میری طبیعت اور میری عادت کو نہ پہچانا۔ یہ اختلافِ حالت جو آپ دیکھتے ہیں، اس کی ایک وجہ ہے۔ بندے کو جمعدار صاحب مرحوم و مغفور نے متبنیٰ کیا تھا اور اپنا جانشین کر مرے تھے۔ شہر کے گل رؤسا اس سے واقف اور آگاہ ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس میں رشتہ اندازیاں کیں۔ بندے کو آپ جانتے ہیں کہ بکھیڑے سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ صحبتِ ناملائم دیکھ کر کنارہ کش ہو گیا۔ لیکن کسی کو انتظام کا سلیقہ، بندوبست کا حوصلہ نہیں۔ اسی روز سے اندر باہر واویلا مچی ہوئی ہے اور اس بات کے مشورے ہو رہے ہیں کہ بندے کو منائے جائیں۔
کلیم: لیکن آپ نے اس کا تذکرہ کبھی نہیں کیا۔
مرزا: اگر میں آپ سے یا کسی سے تذکرہ کرتا تو استقلال مزاج سے بے بہرہ اور غیرت وحمیت سے بے نصیب ٹھهرتا۔ اب آپ کو کھڑے رہنے میں تکلیف ہوتی ہے، اجازت دیجیے کہ میں جا کر بچھونا بھجوا دوں اور مریضہ کی تیار داری کروں۔
کلیم: خیر، مقام مجبوری ہے لیکن پہلے ایک چراغ تو بھیج دیجیے، تاریکی کی وجہ سے طبیعت اور بھی گھبراتی ہے۔
مرزا: چراغ کیا میں نے تو لیمپ روشن کرانے کا ارادہ کیا تھا لیکن گرمی کے دن ہیں، پروانے بہت جمع ہو جائیں گے اور آپ زیادہ پریشان ہو جئیے گا اور اس مکان میں ابابیلوں کی کثرت ہے، روشنی دیکھ کر گرنے شروع ہو جائیں گے اور آپ کا بیٹھنا دشوار کر دیں گے۔ تھوڑی دیر صبر کیجیے کہ ماہتاب نکلا آتا ہے۔
اہم نکتہ:
مرزا ظاہر دار بیگ کا کردار مبالغہ آرائی اور جھوٹی شان و شوکت کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ کلیم کی حالتِ زار اس کی نافرمانی اور جلد بازی کا نتیجہ ہے۔
کلیم جب گھر سے نکلا تو کھانا تیار تھا لیکن وہ اس قدر طیش میں تھا کہ اس نے کھانے کی مطلق پروا نہ کی اور بے کھائے نکل کھڑا ہوا۔ مرزا سے ملنے کے بعد وہ منتظر تھا کہ آخر مرزا خود پوچھیں گے ہی تو کہہ دوں گا۔ مرزا کو بہر چند کھانے کی نسبت پوچھنا ضرور تھا، کیوں کہ اوّل تو کچھ ایسی رات زیادہ نہیں گئی تھی، دوسرے یہ اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ کلیم گھر سے لڑ کر نکلا ہے، تیسرے دونوں میں بے تکلفی غایت درجے کی تھی لیکن مرزا قصدًا اس بات سے متعرض نہ ہوا اور کلیم بے چارے کا بھوک کے مارے یہ حال کہ مسجد میں آنے سے پہلے اس کی انتڑیوں نے قُلْ ھُوَ اللہُ پڑھنی شروع کر دی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ مرزا کسی طرح اس پہلو پر نہیں آتا اور عنقریب تمام شب کے واسطے رخصت ہوا چاہتا ہے، تو بے چارے نے بے غیرت بن کر خود ہی کہہ دیا کہ سنو یار، میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔
مرزا: تو مردِ خدا، آتے ہی کیوں نہ کہا؟ اب اتنی رات گئے کیا ہو سکتا ہے۔ دکانیں سب بند ہو گئیں اور جو دو ایک کھلی بھی ہوں تو باسی چیزیں رہ گئی ہوں گی، جس کے کھانے سے فاقہ بہتر ہے۔ گھر میں آج آگ تک نہیں سلگی۔ مگر ظاہر ا تم سے بھوک کی سہار ہونی مشکل معلوم ہوتی ہے۔ دیوالیہ کو وزیر بننا بڑی ہمت والوں کا کام ہے۔ ایک تدبیر سمجھ میں آتی ہے کہ جاؤں چھدامی بھر بھونجے کے یہاں سے گرم گرم خستہ چنے کی دال بنوا لاؤں۔ بس ایک دھیلے کی مجھ کو، تم کو دونوں کو کافی ہو گی، رات کا وقت ہے۔
ابھی کلیم کچھ کہنے بھی نہیں پایا تھا کہ مرزا جلدی سے اٹھ باہر گئے اور چشم زدن میں چنے بھنوا لائے۔ مگر دھیلے کا کہہ کر گئے تھے، یا تو کم کے لائے یا راہ میں دو فار پھنکے لگا لیے، اس واسطے کہ کلیم کے روبرو دو تین مٹھی چنے سے زیادہ نہ تھے۔
مرزا: یار، ہو تم بڑے خوش قسمت کہ اس وقت بھاڑ مل گیا۔ ذرا، واللہ ہاتھ تو لگاؤ، دیکھو تو کیسے بھلس رہے ہیں اور سوندھی سوندھی خوش بو بھی عجب جی دل فریب ہے کہ بس بیان نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ لوگوں نے خس اور مٹی کا عطر نکالا مگر بھنے ہوئے چنوں کی طرف کسی کا ذہن منتقل نہیں ہوا۔ کوئی فن ہو، کمال بھی کیا چیز ہے۔ دیکھیے، اتنی رات گئی ہے مگر چھدامی کی دکان پر بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ بندے نے یہ تحقیق سنا ہے کہ حضور والا کے خاصے میں چھدامی کی دکان کا چنا بلا ناغہ لگ کر جاتا ہے۔ اور واقعی میں آپ ذرا غور سے دیکھیے، کیا کمال کرتا ہے کہ بھوننے میں چنوں کو سنڈول بنا دیتا ہے۔ بھئی! تمھیں میرے سر کی قسم سچ کہنا، ایسے خوب صورت، خوش قطع، سنڈول چنے تم نے پہلے کبھی بھی دیکھے تھے؟ دال بنانے میں اس کو یہ کمال حاصل ہے کہ کسی دانے پر خراش تک نہیں، ٹوٹنے پھوٹنے کا کیا مذکور اور دانوں کی رنگت دیکھیے۔ کوئی پستنی ہے، کوئی پستنی غرض دونوں رنگ خوش نما۔ یوں تو صدہا قسم کے غلے اور پھل زمین سے اگتے ہیں لیکن چنے کی لذت کو کوئی نہیں پاتا۔
غرض، مرزا نے اپنی چرب زبانی سے چنوں کو گھی کی تلی دال بنا کر اپنے دوست کلیم کو کھلایا۔ کلیم بھوکا تو تھا ہی، اس کو بھی ہمیشہ سے کچھ زیادہ مزے دار معلوم ہوئے۔
مرزا نے گھر جا کر ایک میلی دری اور ایک کثیف تکیہ بھیج دیا۔ دوہی گھڑی میں کلیم کی حالت کا اس قدر متغیر ہونا عبرت کا مقام ہے۔ یا تو خلوت خانہ اور عشرت منزل میں تھا یا اب ایک مسجد میں آکر پڑا اور مسجد بھی ایسی جس کا تھوڑا سا حال ہم نے اوپر بیان کیا۔ گھر کے الوانِ نعمت کو لات مار کر نکلا تھا تو پہلے ہی وقت چنے چبانے پڑے۔ نہ چراغ نہ چار پائی، نہ بہن نہ بھائی، نہ مونس نہ غم خوار، نہ نوکر نہ خدمت گار۔ مسجد میں اکیلا بیٹھا تھا جیسے قید خانے میں حاکم کا گنہگار، یا قفس میں مرغِ نو گرفتار۔ اور کوئی ہوتا تو اس حالت پر نظر کر کے تنبیہ پکڑتا، اپنی حرکت سے توبہ اور اپنے افعال سے استغفار کرتا، اور اسی وقت نہیں تو سویرے گجر دم باپ کے ساتھ نمازِ صبح میں جا شریک ہوتا۔ لیکن کلیم کو اور بہت سے مضمون سوچنے کو تھے۔
صبح ہوتے آنکھ لگ گئی، تو معلوم نہیں مرزا یا محلے کا کوئی اور عیار، ٹوپی، جوتی، رومال، چھڑی، تکیہ، دری، یعنی جو چیز کلیم کے بدن سے منفک اور اس کے جسم سے جدا تھی، لے کر چمپت ہوا۔ یوں بھی کلیم بہت دیر کو سو کر اٹھتا تھا اور آج تو ایک وجہ خاص تھی۔ کوئی پہر سوا پہر دن چڑھے جاگا تو دیکھتا کیا ہے کہ فرش مسجد پر پڑا ہے اور نیند کی حالت میں جو کروٹیں لی ہیں تو سیروں گرد کا بھبھوت اور چمگاڈروں کی بیٹ کا خضاب بدن پر تھپا ہوا ہے۔ حیران ہوا کہ قلب ماہیت ہو کر میں کہیں بھتنا تو نہیں بن گیا۔ مرزا کو اِدھر اِدھر دیکھا، کہیں پتا نہیں۔ مسجد تھی ویران، اس میں پانی کہاں۔ صبر کر کے بیٹھ رہا کہ کوئی اللہ کا بندہ ادھر کو آئے تو اس کے ہاتھ مرزا کو بلواؤں اور ہاتھ دھو کر خود مرزا تک جاؤں۔ اس میں دو پہر ہونے کو آئی۔ بارے ایک لڑکا کھیلتا ہوا آیا۔ جوں ہی زینے پر چڑھا کہ کلیم اس سے عرض مطلب کرنے کے لیے لپکا۔ وہ لڑکا اس کی ہیئت کذائی دیکھ کر ڈر بھاگا۔ خدا جانے اس نے اس کو بھوت سمجھا یا سڑی خیال کیا۔ کلیم نے بہتیر اپکارا اس لڑکے نے پیٹھ پھیر کر نہ دیکھا۔
ناچار کلیم نے بے ہزار مصیبت دوسرے فاقے سے شام پکڑئی اور جب اندھیرا ہوا تو الو کی طرح اپنے نشیمن سے نکلا۔ سیدھا مرزا کے مکان پر گیا اور آواز دی تو یہ جواب ملا کہ وہ تو بڑے سویرے کے قطب صاحب سدھارے ہیں۔ کلیم نے چاہا کہ اپنا تعارف ظاہر کر کے ممکن ہو تو منھ ہاتھ دھونے کو پانی مانگے اور مرزا کی پھٹی پرانی جوتی اور ٹوپی، تاکہ کسی طرح گلی کوچے میں چلنے کے قابل ہو جائے۔
یہ سوچ کر اس نے کہا:
”کیوں حضرت، آپ مجھ سے بھی واقف ہیں؟“
اندر سے آواز آئی: ”ہم تمھاری آواز تو نہیں پہچانتے، اپنا نام نشان بتاؤ تو معلوم ہو۔“
کلیم: میر انام کلیم ہے، اور مجھ سے اور مرزا ظاہر دار بیگ سے بڑی دوستی ہے۔ بلکہ شب کو میں مرزا صاحب ہی کی وجہ سے مسجد میں تھا۔
گھر والے: وہ دری اور تکیہ کہاں ہے جو تمھارے سونے کے لیے بھیجا گیا تھا؟
تکیہ اور دری کا نام سن کر تو کلیم بہت چکرایا اور ابھی جواب دینے میں متامل تھا کہ اندر سے آواز آئی: ”مرزا زبردست بیگ! دیکھنا، یہ مردوا کہیں چل نہ دے۔ دوڑ کر تکیہ دری تو اس سے لو۔“
کلیم یہ سن کر بھاگا۔ ابھی گلی کی نکر تک نہیں پہنچا تھا کہ زبردست نے ”چور چور“ کر کے جا لیا۔ ہر چند کلیم نے مرزا ظاہر دار بیگ کے ساتھ اپنے حقوقِ معرفت ثابت کیے مگر زبردست کا ٹھیگا سر پر، اس نے ایک نہ مانی اور پکڑ کر کوتوالی لے گیا۔ کوتوال نے سرسری طور پر دونوں کا بیان سنا اور کلیم سے اس کا حسب نسب پوچھا۔ ہر چند، کلیم اپنا پتا بتانے میں جھجکتا تھا مگر چار و ناچار اس کو بتانا پڑا۔ لیکن اس کی حالتِ ظاہری ایسی ابتر ہو رہی تھی کہ اس کا سچ بھی جھوٹ معلوم ہوتا تھا۔ کوتوال نے سن کر یہی کہا کہ میاں نصوح جن کو تم اپنا والد بتاتے ہو، میں ان کو خوب جانتا ہوں اور یہ بھی مجھ کو معلوم ہے کہ ان کے بڑے بیٹے کا یہی نام ہے جو تم نے اپنا بیان کیا ہے۔ محلے کا پتا، گھر کا نشان بھی جو تم نے کہا، سب ٹھیک ہے۔ مگر کلیم تو ایک مشہور و معروف آدمی ہے۔ آج شہر میں اس کی شاعری کی دھوم ہے۔ تمھاری یہ حیثیت کہ ننگے سر، ننگے پاؤں، بدن پر کیچڑ تھپی ہوئی۔ مجھ کو باور نہیں ہوتا۔ ان کو حوالات میں رکھو۔ صبح ہو تو میں ان کے والد کو بلواؤں تو ان کے بیان کی تصدیق ہو۔
کلیم یہ سن کر رو دیا اور کہا کہ میں وہی بد نصیب ہوں جس کی ہجو گوئی کا شہرہ آپ نے سنا ہے۔ آپ کو یقین نہ ہو تو میں اپنے افکارِ تازہ سناؤں۔ چناں چہ کل شب کو جو کچھ مسجد و مرزا کی شان میں کہا تھا، سنایا۔ اس پر کوتوال نے اتنی رعایت کی کہ دو سپاہی کلیم کے ساتھ کیے اور ان کو حکم دیا کہ ان کو میاں نصوح کے پاس لے جاؤ، اگر وہ ان کو اپنا فرزند بتائیں تو چھوڑ دینا، ورنہ واپس لاکر حوالات میں رکھنا۔
Comments
Post a Comment