اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore Class 9 Urdu Lesson 2 "Naat" by Maulana Zafar Ali Khan. Learn about poetic terms like Qafiya and Radeef, literary services of the author, and detailed explanations of verses. Provided by Excellence Online Learning School (EOLS).
Excellence Online
اردو | جماعت: نہم
Excellence Online Learning School
excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
سبق: ۲
نعت
مقاصدِ تدریس:
- ۱- طلبہ کو صنف نظم اور نعت گوئی کے فن کے بارے میں آگاہ کرنا۔
- ۲- طلبہ کو مولانا ظفر علی خاں کی مختصر علمی و ادبی خدمات سے روشناس کرنا۔ طلبہ کو مولانا ظفر علی خاں کی نعت گوئی کی نمایاں خصوصیات کے بارے میں بتانا۔
- ۳- طلبہ میں نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت اور اطاعت و اتباع کے جذبات کو اُجاگر کرنا۔
- ۴- طلبہ کو شعری اصطلاحات: مصرع، شعر اور قافیہ، ردیف سے روشناس کرنا اور شعر کی تشریح کرنا سکھانا۔
شاعر کا تعارف: مولانا ظفر علی خاں اردو ادب اور صحافت کا ایک معتبر نام ہیں۔ ان کی نعت گوئی میں جوش، ولولہ اور عقیدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ آپ کو "بابائے صحافت" بھی کہا جاتا ہے۔
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمھیں تو ہو
پھوٹا جو سینہِ شبِ تارِ اَلَسْت سے
اُس نورِ اَوّلیں کا اُجالا تمھیں تو ہو
سب کچھ تمھارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولٰی تمھیں تو ہو
جلتے ہیں جبریلؑ کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمھیں تو ہو
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاج دارِ یثرب و بطحا تمھیں تو ہو
دنیا میں رحمتِ دو جہاںؐ اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمھیں تو ہو
(بہارستان)
فرہنگ (مشکل الفاظ کے معانی)
| لفظ | معنی | لفظ | معنی |
|---|---|---|---|
| شبِ تارِ اَلَسْت | ازل کی تاریک رات | غایتِ اولٰی | سب سے بڑی غرض یا مقصد |
| شناسا | واقف، جاننے والا | نورِ اوّلیں | سب سے پہلا نور |
| یثرب و بطحا | مدینہ اور مکہ کے قدیم نام | نظیر | مثال |
اس نعت میں مولانا ظفر علی خاں نے حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو کائنات کا مرکز و محور قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جن کے لیے یہ کائنات تخلیق کی گئی۔ معراج کے مقام پر جہاں حضرت جبریلؑ کے پر جلتے ہیں، وہاں بھی صرف آپ ﷺ کی رسائی ہے۔ آپ ﷺ بے سہاروں کا سہارا اور دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔
Comments
Post a Comment