A high-quality digital textbook recreation of Class 9 Biology Chapter 4 (Cell Cycle) in Urdu. Covers Mitosis, Meiosis, Cell Cycle phases (G1, S, G2, G0), and the significance of cell division.
سیل سائیکل (Cell Cycle)
یہ باب پڑھنے کے بعد طلبہ اس قابل ہوں گے کہ:
- سیل سائیکل کی وضاحت کریں۔
- مائی ٹوسس اور اس کے مراحل کی وضاحت کریں (ڈیاگرامز کے ساتھ)۔
- می اوسس اور اس کے مراحل کی وضاحت کریں (ڈیاگرامز کے ساتھ)۔
- مائی ٹوسس اور می اوسس کے عمل کا موازنہ کریں۔
- مائی ٹوسس اور می اوسس کی اہمیت بیان کریں۔
ایک سیل کی زندگی واقعات کے ایک سلسلے کے تحت گزرتی ہے جسے ”سیل سائیکل“ کہا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ سیل کی نشوونما، مواد کی تیاری، اور سیل کی تقسیم (سیل ڈویژن) پر مشتمل ہے۔ سیل ڈویژن کی دو بنیادی اقسام ہیں یعنی مائی ٹوسس اور می اوسس۔ مائی ٹوسس میں سیلز اپنی جیسی نقول بناتے ہیں۔ می اوسس میں سیلز خصوصی سیلز بناتے ہیں جن میں جینیاتی مواد آدھا ہوتا ہے اور یہ ریپروڈکشن کے لیے ضروری ہیں۔ مائی ٹوسس جسم کی نشوونما اور مرمت کے لیے ضروری ہے جبکہ می اوسس ریپروڈکشن کے سیلز (انڈے اور سپرم) بنانے کے لیے اہم ہے۔ یہ دونوں عمل جانداروں کی نشوونما، زخم بھرنے، اور اگلی نسل کو خصوصیات منتقل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس باب میں ہم سیل سائیکل اور سیل ڈویژن یعنی مائی ٹوسس اور می اوسس کے مراحل کا مطالعہ کریں گے۔
69
4.1 سیل سائیکل CELL CYCLE
انٹر فیز Interphase
یہ مرحلہ سیل سائیکل کے مکمل دورانیے کے کم از کم 90 فیصد پر محیط ہے۔ انٹر فیز کے دوران سیل اپنی سپیشلائزیشن (specialization) کے مطابق زندگی کے افعال سرانجام دیتا ہے اور اپنے آپ کو نئی ڈویژن کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔ انٹر فیز میں مندرجہ ذیل تین مراحل ہوتے ہیں۔
- G-1 مرحلہ (First Gap Phase): یہ مائی ٹوسس کے مرحلے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اسے بڑھوتری یعنی نشوونما کا مرحلہ بھی کہتے ہیں۔ اس مرحلے کے دوران سیل اپنی پروٹینز اور آرگنلیز بناتا ہے۔ اس لیے سیل کی جسامت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیل ایسے اینزائمز بھی بناتا ہے جو اگلے مرحلہ یعنی S- فیز میں DNA کی نقل تیار کرنے یعنی اس کی ریپلی کیشن (replication) کے لیے ضروری ہیں۔
- S مرحلہ (Synthesis Phase): اس مرحلے میں، ہر کروموسوم کے DNA کی نقل تیار کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کروموسومز کی ڈوپلی کیشن (duplication) ہو جاتی ہے جس کے بعد ہر کروموسوم دو سسٹر (sister) کروماٹڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ سیل میں کروموسومز کی مکمل تعداد اتنی ہی رہتی ہے جتنی اس ڈوپلی کیشن سے پہلے ہوتی ہے۔
- G-2 مرحلہ (Second Gap Phase): سیل اس مرحلے میں اپنی نشوونما جاری رکھتا ہے اور مائی ٹوسس کے لیے ضروری پروٹینز تیار کرتا ہے۔ سیل DNA میں کسی بھی ممکنہ خرابی کی جانچ کرتا ہے جو نقل کے دوران ہوئی ہو اور ضروری مرمت کرتا ہے۔ یہ مائی ٹوسس کی تیاری کے لیے اپنے مواد کو دوبارہ ترتیب دینا بھی شروع کرتا ہے۔
70
(لیبلز: G-0 مرحلہ، ڈویژن کا عارضی یا مکمل اختتام، G-1 مرحلہ، پروٹینز اور آرگنلیز بننا، سیل کے سائز میں اضافہ، ڈویژن مرحلہ، سیل ڈویژن، S مرحلہ، کروموسومز کی ڈوپلی کیشن، G-2 مرحلہ، سیل کے سائز میں مزید اضافہ، ڈویژن کے لیے ضروری پروٹینز کی تیاری، سینٹر و میئر، 1 کروماٹڈ، دو کروماٹڈز)
انٹر فیز کے بعد سیل اپنی ڈویژن فیز میں داخل ہو جاتا ہے اور دو ڈاٹر سیلز میں تقسیم ہوتا ہے۔ مخصوص جینز (genes) سیل سائیکل کے تمام مراحل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ مراحل ایک ترتیب سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
G-0 مرحلہ G-0 Phase
کئی سیلز تقسیم ہونا روک دیتے ہیں اور مخصوص افعال سرانجام دیتے ہیں۔ سیل سائیکل میں اس مرحلے کو G-0 فیز کہتے ہیں۔ بہت سے سیلز (مثلاً نیورونز) اس مرحلے میں غیر معین عرصہ تک رہتے ہیں۔ کچھ سیلز (مثلاً جگر اور گردے کے سیلز) عارضی طور پر G-0 فیز میں داخل ہوتے ہیں۔ دوسرے سیلز (مثلاً اپنی تھلیل سیلز) G-0 فیز میں داخل نہیں ہوتے اور تمام عمر تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔
| مرحلہ | بیان |
|---|---|
| انٹر فیز (Interphase) | سیل اپنی تقسیم کی تیاری کرتا ہے اور جسامت میں بڑھتا ہے۔ سیل کے DNA کی ریپلی کیشن بھی ہوتی ہے۔ |
| G-1 مرحلہ (First Gap Phase): | سیل جسامت میں بڑھتا ہے اور معمول کے افعال سرانجام دیتا ہے۔ سیل DNA کی ریپلی کیشن کی تیاری کرتا ہے۔ |
| S مرحلہ (Synthesis Phase): | سیل اپنے DNA کی ریپلی کیشن کرتا ہے، جس سے اس کے جینیاتی مواد کی عین نقل بنتی ہے۔ |
71
| G-2 مرحلہ (Second Gap Phase): | سیل مزید نشوونما کرتا ہے۔ وہ بات یقینی بناتا ہے کہ تقسیم کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ |
| G0 فیز (G0 Phase) | سیل اپنے سیل سائیکل سے باہر نکل جاتا ہے، تقسیم رک جاتی ہے، اپنے خصوصی افعال انجام دینے کے لیے (تمام سیلز اس مرحلے میں نہیں داخل ہوتے)۔ |
| ڈویژن مرحلہ (Division phase) | سیل اپنے جینیاتی مواد کو دو ایک جیسے نئے سیلز میں برابر تقسیم کرتا ہے۔ |
4.2 مائی ٹوسس MITOSIS
مائی ٹوسس سیل ڈویژن کی وہ قسم ہے جس میں ایک آبائی یعنی پیرنٹ سیل (parent) دو ڈاٹر سیلز میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ڈاٹر سیل میں کروموسومز کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ پیرنٹ سیل میں تھی۔ مائی ٹوسس یوکیریوٹس کے جسمانی یعنی سومیٹک (somatic) سیلز میں ہوتی ہے۔ پروکیریوٹس بھی تقسیم ہو کر ایک جیسے سیلز بناتے ہیں۔ لیکن ان کی تقسیم کے واقعات مائی ٹوسس سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہم اسے بائنری فشن (binary fission) کہتے ہیں۔
مائی ٹوسس کے مراحل Phases of Mitosis
1880 کی دہائی میں ایک جرمن بائیولوجسٹ، والدر فلیمنگ (Walther Flemming)، نے مائی ٹوسس کے مراحل دریافت کیے۔ مائی ٹوسس کے دو بڑے مراحل ہیں: کیریو کائینیسز (karyokinesis) یعنی نیوکلیئس کی تقسیم اور سائٹو کائینیسز (cytokinesis) یعنی سائٹو پلازم کی تقسیم۔
A- کیریو کائینیسز (Karyokinesis):
اس کا مطلب ہے نیوکلیئس کی تقسیم۔ یوکیریوٹک مائی ٹوسس میں مزید 4 مراحل ہیں۔
- پروفیز Prophase: پروفیز میں دھاگے نما کروماٹین (chromatin) سکڑ کر موٹا ہوتا ہے۔ اس طرح کروماٹین دکھائی دینے والی موٹی ساختوں یعنی کروموسومز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہر کروموسوم میں دو سسٹر کروماٹڈز (sister chromatids) ہوتے ہیں جو ایک سینٹر و میئر (centromere) سے جڑے ہوتے ہیں۔ پروفیز کے دوران، نیوکلیئر اینویلپ اور نیوکلیولس (nucleolus) ٹوٹ جاتے ہیں۔ سیل کا سینٹروسوم دو میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ دونوں سینٹروسومز نیوکلیئس کی مخالف سمتوں میں جاتے ہیں۔ اس دوران وہ خاص مائیکرو ٹیوبولز یعنی سپنڈل فائبرز (spindle fibers) کا ایک جال بناتے ہیں۔ مکمل جال کو مائی ٹوٹک سپنڈل (mitotic spindle) کہتے ہیں۔ پودوں کے سیلز میں سینٹروسوم نہیں ہوتا۔ ان کا مائی ٹوٹک سپنڈل سائٹو پلازم میں پڑے سپنڈل فائبرز کے اکٹھا ہونے سے بنتا ہے۔
72
- میٹافیز Metaphase: اس مرحلے میں، کچھ سپنڈل فائبرز کروموسومز کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ وہ سینٹر و میئر پر ایسے مقام پر جڑتے ہیں جہاں خاص کائنیٹو کور (kinetochore) پروٹینز لگی ہوتی ہیں۔ دونوں اطراف سے دو سپنڈل فائبرز ایک کروموسوم کے ساتھ جڑتے ہیں۔ سپنڈل فائبرز کے ساتھ لگے کروموسومز اپنے آپ کو سیل کے خطِ استوا پر ترتیب دے دیتے ہیں۔ اس طرح یہاں ایک پلیٹ بنتی ہے جسے میٹافیز پلیٹ (metaphase plate) کہتے ہیں۔
- اینافیز Anaphase: کروموسومز کے ساتھ لگے سپنڈل فائبرز کناروں (poles) کی طرف کھنچتے ہیں۔ اس کھنچاؤ کی وجہ سے ہر کروموسوم کے سسٹر کروماٹڈز الگ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کروماٹڈز کے دو ایک جیسے سیٹ بن جاتے ہیں جو سیل کے مخالف کناروں کی جانب چلے جاتے ہیں۔
- ٹیلوفیز Telophase: اس مرحلے میں کروموسومز کے الگ الگ ہو جانے والے ہر سیٹ کے ارد گرد نیا نیوکلیئر اینویلپ بن جاتا ہے۔ دونوں سیٹ کے کروموسومز دوبارہ کھل کر کروماٹین بن جاتے ہیں۔
73
(لیبلز: انٹرفیز Interphase، سینٹروسوم، نیوکلیولس، کروماٹین، ڈائٹر سیلز، پروفیز Prophase، کائنیٹو کور، کروموسوم، سائٹو کائینیسز Cytokinesis، جڑا ہوا سپنڈل، میٹافیز Metaphase، آزاد سپنڈل، ٹیلوفیز Telophase، اینافیز Anaphase)
B- سائٹو کائینیسز (Cytokinesis):
سائٹو کائینیسز کا لفظی مطلب ہے سائٹو پلازم کی تقسیم۔ جانور کے سیل میں سائٹو کائینیسز کے دوران سیل کے خط استوا میں ایک جھری (furrow) بنتی ہے۔ اس جھری کے مقام پر سائٹو پلازم میں مائیکرو فلامنٹس کا ایک رنگ (ring) ہوتا ہے۔ یہ رنگ سکڑتا ہے اور جھری اندر کی جانب دبتی ہے۔ اس طرح پیرنٹ سیل درمیان سے دب کر دو میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
74
(لیبلز: تقسیم کی جھری، مائیکروفلامنٹس کا رنگ، ڈائٹر سیلز، سیل وال، سیل پلیٹ، ویسیکلز)
پودے کے سیل میں گالجی اپریٹس چھوٹی ویسیکلز (vesicles) بناتا ہے۔ یہ ویسیکلز سیل کے وسط میں آتی ہیں اور ضم ہو کر ایک پلیٹ بناتی ہیں جسے فریگموپلاسٹ (phragmoplast) کہتے ہیں۔ یہ پلیٹ سائز میں باہر کی طرف بڑھتی ہے اور اس کی ممبرینز سیل ممبرین کے ساتھ ضم ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دو ڈاٹر سیلز بن جاتے ہیں۔
مائی ٹوسس کی اہمیت Significance of Mitosis
- نشوونما (Growth): جانداروں میں نشوونما سے مراد ہے جسامت میں اضافہ۔ یہ اضافہ دراصل نئے سیلز بننے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نئے سیلز مائی ٹوسس سے بنتے ہیں جو بالکل پہلے سے موجود سیلز جیسے ہوتے ہیں۔ اس طرح مائی ٹوسس نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- سیلز کی تبدیلی (Cell replacement): ہمارے جسم میں ہر وقت بہت سیلز مر رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ریڈ بلڈ سیلز اور آنتوں کی دیواروں کے سیلز اور جلد کے سیلز۔ ان سیلز کے بدلے نئے سیلز بنتے رہتے ہیں جو بالکل پرانے سیلز جیسے ہی ہوتے ہیں۔ نئے سیلز مائی ٹوسس سے بنتے ہیں۔
- ری جنریشن (Regeneration): چند جاندار اپنے جسم کے حصوں کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے بقیہ حصوں میں مائی ٹوسس کر کے نئے سیلز بناتے ہیں۔
(Labels: ٹوٹا ہوا بازو، بازو دوبارہ بن گیا)
75
- اے سیکسول ری پروڈکشن (Asexual reproduction): جانداروں میں اے سیکسول ری پروڈکشن مائی ٹوسس کے ذریعے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائیڈرا (Hydra) اے سیکسول ری پروڈکشن کے لیے بڈنگ (budding) کرتا ہے۔ اس دوران مائی ٹوسس سے ہائیڈرا کی سطح پر سیلز کا ایک مجموعہ بنتا ہے جسے بڈ (bud) کہتے ہیں۔ بڈ کے سیلز میں مائی ٹوسس جاری رہتی ہے اور یہ سائز میں بڑھ کر نیا ہائیڈرا بنا دیتی ہے۔
(Labels: بڈ، نیا ہائیڈرا)
مائی ٹوسس میں غلطیاں Errors in Mitosis
بعض اوقات مائی ٹوسس کے عمل میں خرابی آجاتی ہے۔ مثال کے طور پر مائی ٹوسس کے اینافیز مرحلے کے دوران کروموسومز کے سسٹر کروماٹڈز الگ ہونے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ڈاٹر سیل میں تو دونوں سسٹر کروماٹڈز چلے جاتے ہیں اور دوسرے میں کوئی نہیں جاتا۔ مائی ٹوسس کے دوران کروموسومز ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔ اگر مائی ٹوسس کو کنٹرول کرنے والے جینز (genes) میں تبدیلی یعنی میوٹیشن (mutation) ہو جائے، تو سیلز تقسیم ہونا جاری رکھتے ہیں۔ اس بے قابو تقسیم کی وجہ سے سیلز کے ڈھیر بن جاتے ہیں۔ ان ڈھیروں کو رسولیاں یعنی ٹیومرز (tumors) کہتے ہیں۔ اگر ٹیومرز اپنی جگہ ہی رہیں تو انھیں بی نائن (benign) ٹیومرز کہتے ہیں۔ اگر یہ جا کر دوسرے ٹشوز پر حملہ کر دیں، تو انھیں میلیگنینٹ (malignant) ٹیومرز یعنی کینسر (cancer) کہتے ہیں۔ بی نائن ٹیومر سے میلیگنینٹ ٹیومر بننے کو بیماری کا پھیلنا یعنی میٹاسٹیسس (metastasis) کہتے ہیں۔
4.3 می اوسس MEIOSIS
76
می اوسس کے مراحل Phases of Meiosis
1876 میں جرمن بائیولوجسٹ آسکر ہرٹ وگ (Oscar Hertwig) نے می اوسس کو دریافت کیا۔ می اوسس کے دوران ایک پیرنٹ سیل دو مرتبہ تقسیم ہوتا ہے۔ اس طرح می اوسس دو ڈویژن پر مشتمل ہے یعنی می اوسس-I اور می اوسس-II۔
می اوسس- I Meiosis-I
می اوسس-I میں کروموسومز کے ہر جوڑے کے کروموسومز الگ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہر ڈاٹر سیل میں جوڑے کا ایک کروموسوم آتا ہے۔ می اوسس-I کے مزید مراحل ہیں پروفیز-I، میٹافیز-I، اینافیز-I اور ٹیلوفیز-I۔
پروفیز- I Prophase-I
اس مرحلے کے دوران کروماٹین سکڑتا ہے اور کروموسومز کی شکل اختیار کرتا ہے۔ می اوسس سے پہلے DNA ڈگنا ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر کروموسوم میں دو سسٹر کروماٹڈز ہوتے ہیں۔ ہومولوگس کروموسومز قریب آکر لمبائی کے رخ ایک دوسرے کے ساتھ لگ جاتے ہیں۔ اس عمل کو سائی نیپس (synapsis) کہتے ہیں۔ ساتھ لگے کروموسومز کے ہر جوڑے کو ٹیٹریڈ (tetrad) کہتے ہیں۔ اب ہومولوگس کروموسومز کے نان سسٹر (non-sister) کروماٹڈز آپس میں ”لپ“ ہو کر X- شکل کی ساختیں بناتے ہیں جنھیں کیا زمیٹا (chiasmata) کہتے ہیں۔ ہر کیا زما (chiasma) کراسنگ اوور کا مقام ہوتا ہے۔ کراسنگ اوور (crossing over) سے مراد ہے نان سسٹر کروماٹڈز کے درمیان کروموسوم کے حصوں کا تبادلہ۔ کراسنگ اوور سے جینیاتی مواد کی نئی تراکیب بنتی ہیں یعنی ری کمبینیشن (recombination) ہوتا ہے۔
(Labels: نان سسٹر کروماٹڈز، سسٹر کروماٹڈز، سینٹر و میئر، کیا زمیٹا، حصوں کا تبادلہ)
77
پروفیز- I کے دوسرے واقعات مائی ٹوسس کی پروفیز جیسے ہی ہیں۔ نیوکلیولائی اور نیوکلیئر اینویلپ ٹوٹ جاتے ہیں۔ سینٹروسوم دو میں تقسیم ہوتا ہے۔ دونوں سینٹروسومز سیل کے مخالف کناروں کی طرف جاتے ہیں اور سپنڈل فائبر بناتے ہیں۔ سپنڈل فائبرز کے ساتھ کروموسومز جڑ جاتے ہیں۔
میٹافیز- I Metaphase-I
سپنڈل فائبرز کے ساتھ جڑے ٹیٹریڈز (tetrads) سیل کے خط استوا کے ساتھ ترتیب پاتے ہیں۔ اس طرح وہ میٹافیز پلیٹ (metaphase plate) بنا دیتے ہیں۔ می اوسس-I کی میٹافیز پلیٹ میں ہومولوگس کروموسومز کے ہر جوڑے کے ساتھ کناروں سے آنے والے دو سپنڈل فائبرز جڑے ہوتے ہیں۔
اینافیز- I Anaphase-I
کروموسوم کے ساتھ جڑا ہر سپنڈل فائبر اپنے کنارے کی طرف کھنچتا ہے۔ اس طرح جوڑے میں لگے کروموسوم الگ ہو جاتے ہیں۔ ہر جوڑے کا ایک کروموسوم ایک کنارے کی طرف جبکہ دوسرا کروموسوم دوسرے کنارے کی طرف کھنچتا ہے۔ اس طرح کروموسومز کے دو ہیپلائڈ سیٹ بن جاتے ہیں۔ ہر کروموسوم میں ابھی بھی دو سسٹر کروماٹڈز ہوتے ہیں۔
ٹیلوفیز- I Telophase-I
سپنڈل ختم ہو جاتے ہیں اور کروموسومز کے ہر ہیپلائڈ سیٹ کے گرد نیوکلیئر اینویلپ بن جاتا ہے۔ کروموسومز دوبارہ کھل کر کروماٹین بن جاتے ہیں۔ سائٹو کائینیسز کا عمل ہوتا ہے اور دو ڈاٹر سیلز بن جاتے ہیں۔
(Labels: سینٹروسوم، نیوکلیولس، کروماٹین، آبائی سیل، کراسنگ اوور، پروفیز-I، سپنڈل، میٹافیز-I، اینافیز-I، ٹیلوفیز-I)
78
می اوسس- II Meiosis-II
می اوسس-II کے مراحل مائی ٹوسس جیسے ہی ہیں۔ اس کے مزید مراحل ہیں پروفیز- II، میٹافیز- II، اینافیز-II اور ٹیلوفیز- II۔ پروفیز- II میں نیوکلیولائی اور نیوکلیئر اینویلپ غائب ہو جاتے ہیں اور کروماٹین سکڑتا ہے۔ سینٹر یول کناروں کی طرف جاتے ہیں اور سپنڈل فائبرز بناتے ہیں۔ میٹافیز- II میں سپنڈل فائبرز کروموسومز کے کائنیٹو کور کے ساتھ جڑتے ہیں۔ کروموسومز سیل کے خط استوا پر ترتیب پاتے ہیں۔ اینافیز- II میں سپنڈل فائبرز سسٹر کروماٹڈز کو مخالف قطبین کی جانب کھینچ کر الگ کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ٹیلوفیز- II میں کروموسومز دوبارہ کھل جاتے ہیں اور کروماٹین بن جاتے ہیں۔ نیوکلیئر اینویلپ دوبارہ بن جاتے ہیں اور سائٹو کائینیسز ہو جاتی ہے۔ اس طرح، 4 ڈاٹر سیلز بن جاتے ہیں۔ ہر ڈاٹر سیل میں کروموسومز کی ہیپلائڈ تعداد ہوتی ہے۔
(Labels: پروفیز-II، میٹافیز-II، اینافیز-II، ٹیلوفیز-II، سائٹو کائینیسز)
79
می اوسس کی اہمیت Significance of Meiosis
- می اوسس کی وجہ سے کروموسومز کی تعداد مستقل رہتی ہے: جانوروں کے تولیدی اعضا یعنی ری پروڈکٹو آرگنز میں موجود مخصوص سیلز میں می اوسس ہوتی ہے۔ بننے والے ڈاٹر سیلز یعنی گیمیٹس (gametes) میں کروموسومز کی تعداد دوسرے جسمانی سیلز کی نسبت آدھی ہوتی ہے۔ سیکسول ری پروڈکشن کے دوران نر اور مادہ گیمیٹس مل کر نئی نسل کا پہلا سیل یعنی زائیگوٹ بناتے ہیں، جس میں کروموسوم کی تعداد دوبارہ مکمل ہو جاتی ہے۔ زائیگوٹ میں کئی مرتبہ مائی ٹوسس ہوتی ہے اور یہ نئے جاندار میں نمو پا جاتا ہے۔
- می اوسس سے وراثتی تغیرات پیدا ہوتے ہیں: کراسنگ اوور سے کروموسومز پر جینز (genes) کی نئی تراکیب (combinations) بنتی ہیں۔ گیمیٹ میں موجود ہر کروموسوم کے پاس جینز کا ایک منفرد امتزاج ہوتا ہے۔ جب دو والدین کے وراثتی والے گیمیٹس ملتے ہیں تو نتیجے میں بننے والا زائیگوٹ وراثتی طور پر دونوں والدین سے مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح، پاپولیشن میں وراثتی تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔
(Labels: والدین کے سیلز، می اوسس، گیمیٹس، زائیگوٹ)
80
3. می اوسس میں غلطیاں
می اوسس- I میں کروموسومز الگ الگ ہوتے ہیں جبکہ می اوسس- II میں سسٹر کروماٹڈز الگ الگ ہوتے ہیں۔ اسے ڈس جنکشن (disjunction) کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ علیحدگی نہیں ہو پاتی۔ اسے نان ڈس جنکشن (non-disjunction) کہتے ہیں۔ نان ڈس جنکشن کی وجہ سے ڈاٹر سیلز یعنی گیمیٹس میں کروموسومز کی تعداد نارمل سے زیادہ یا کم ہو جاتی ہے۔ اگر ایسے گیمیٹس کا ملاپ ہو تا ہے تو زائیگوٹ میں کروموسومز کی درست تعداد نہیں آتی۔ اگر ایسا اب نارمل زائیگوٹ نمو پاتا ہے تو بننے والا نیا جاندار شدید طبی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔
4.4 می اوسس اور مائی ٹوسس کا موازنہ
مماثلت
- می اوسس اور مائی ٹوسس سے پہلے انٹر فیز (S- فیز) میں DNA کی ریپلی کیشن (replication) ہوتی ہے۔
- دونوں ڈویژن ایسے پیرنٹ سیل سے شروع ہوتی ہیں جس میں کروموسومز جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔
- دونوں میں پروفیز کے دوران کروماٹین سکڑتا ہے اور کروموسومز واضح ہو جاتے ہیں۔
- دونوں میں سپنڈل اپریٹس بنتا ہے۔
- دونوں میں پروفیز، میٹافیز، اینافیز، اور ٹیلوفیز مراحل شامل ہیں، تاہم می اوسس میں دو بڑے مراحل ہوتے ہیں یعنی می اوسس- I اور می اوسس- II۔
- دونوں میں سسٹر کروماٹڈز الگ ہو جاتے ہیں۔ مائی ٹوسس میں یہ اینافیز کے دوران ہوتا ہے، جبکہ می اوسس میں یہ اینافیز- II دوران ہوتا ہے۔
- دونوں کے اختتام پر سائٹو کائینیسز ہوتی ہے، جس میں سائٹو پلازم تقسیم ہو کر دو نئے سیلز بنتے ہیں۔
81
فرق
| مائی ٹوسس: Mitosis | می اوسس: Meiosis |
|---|---|
| ایک پیرنٹ سیل صرف ایک بار تقسیم ہوتا ہے اور دو ڈاٹر سیلز پیدا ہوتے ہیں۔ | ایک پیرنٹ سیل دو بار تقسیم ہوتا ہے اور چار ڈاٹر سیلز پیدا ہوتے ہیں۔ |
| ڈاٹر سیلز میں کروموسومز کی تعداد پیرنٹ سیل کے برابر رہتی ہے۔ | ڈاٹر سیلز میں کروموسومز کی تعداد پیرنٹ سیل کی نسبت آدھی ہو جاتی ہے۔ |
| تغیرات نہیں پیدا ہوتے۔ | کراسنگ اوور کی وجہ سے تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ |
| سومیٹک (somatic) سیلز میں ہوتی ہے۔ | جرم لائن (germ-line) سیلز میں ہوتی ہے۔ |
| ہومولوگس کروموسومز جوڑے نہیں بناتے۔ | ہومولوگس کروموسومز جوڑے بناتے ہیں۔ |
| پروفیز کے دوران کراسنگ اوور نہیں ہوتی۔ | پروفیز کے دوران کراسنگ اوور ہوتی ہے۔ |
82
(لیبلز: ہومولوگس کروموسومز، مائی ٹوسس، می اوسس- I، سائی نیپس اور کراسنگ اوور، می اوسس- II، سپنڈل کے ساتھ جڑے کروموسومز کے جوڑے، الگ الگ جڑے ہوئے ہومولوگس کروموسومز)
اہم نکات
- سیل سائیکل ان واقعات کا سلسلہ ہے جو سیل ڈویژن کے بعد سے لے کر اگلی ڈویژن تک محیط ہیں۔
- مائی ٹوسس میں ایک سیل دو ڈاٹر سیلز میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ڈاٹر سیل میں کروموسومز کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ پیرنٹ سیل میں تھی۔
- مائی ٹوسس کی پروفیز میں کروماٹین سکڑ کر کروموسومز کی شکل اختیار کرتا ہے۔ سینٹریولز دوگنے ہو کر سپنڈل فائبرز بناتے ہیں۔
- مائی ٹوسس کی میٹافیز میں ہر کروموسوم دونوں کناروں سے آنے والے دو سپنڈل فائبرز کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
- مائی ٹوسس کی اینافیز میں کروموسومز کے سینٹر و میئرز تقسیم ہوتے ہیں اور سسٹر کروماٹڈز الگ الگ ہو جاتے ہیں۔
- مائی ٹوسس کی ٹیلوفیز میں کروموسومز کے ہر سیٹ کے گرد نیا نیوکلیئر اینویلپ بنتا ہے۔
- نمو، نشوونما، سیلز کی تبدیلی، ری جنریشن اور اے سیکسول ری پروڈکشن کے دوران مائی ٹوسس ہوتی ہے۔
- می اوسس سیل کی ایسی تقسیم ہے جس میں بننے والے ہر ڈاٹر سیل میں پیرنٹ سیل کی نسبت کروموسومز کی آدھی تعداد آتی ہے۔
- می اوسس کی پروفیز- I میں ہومولوگس کروموسومز جوڑے بناتے ہیں۔ ہومولوگس کروموسومز کے نان سسٹر کروماٹڈز کراسنگ اوور میں اپنے حصوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔
- می اوسس کی میٹافیز- I میں ہومولوگس کروموسومز کا ہر جوڑا مخالف کناروں سے آنے والے دو سپنڈل فائبرز کے ساتھ جڑتا ہے۔
- می اوسس کی اینافیز- I میں ہومولوگس کروموسومز کا ایک دوسرے سے دور کھینچ لیا جاتا ہے اور اس طرح مخالف کناروں پر کروموسومز کے دو ہیپلائڈ سیٹ بن جاتے ہیں۔
- می اوسس کی ٹیلوفیز- I میں سپنڈل فائبر ختم ہو جاتے ہیں اور ہر ہیپلائڈ سیٹ کے گرد نیا نیوکلیئر اینویلپ بن جاتا ہے۔
- می اوسس ہیپلائڈ گیمیٹس بناتی ہے اور اس طرح اگلی نسل میں کروموسومز کی تعداد کو مستقل رکھتی ہے۔ می اوسس سے اگلی نسل میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔
83
Comments
Post a Comment