Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 9 Biology Chapter 3: Cell (سیل) - Complete Digital Textbook Lesson

 

Class 9 Biology Chapter 3 Cell Urdu, Cell definition biology in Urdu, Structure of cell Class 9 notes Urdu, Difference between plant and animal cell in Urdu, Function of Mitochondria in Urdu, Nucleus structure and function Urdu, Specialized cells biology Class 9, Stem cells definition in Urdu, SNC Class 9 Biology notes, Excellence Online Learning School Biology

Explore the comprehensive Class 9 Biology lesson on Chapter 3 'Cell'. This digital guide covers cell theory, structures like cell wall, membrane, organelles (mitochondria, nucleus), cell specialization, and stem cells in an easy-to-understand Urdu textbook format.


Excellence Online Learning School (EOLS)
بائیولوجی | کلاس 9 | سبق 3

باب 3: سیل (Cell)

یہ باب پڑھنے کے بعد طلبہ اس قابل ہوں گے کہ:
  • سیل کی وضاحت زندگی کی بنیادی اکائی کے طور پر کریں۔
  • ڈایا گرامز بنا کر جانوروں اور پودوں کے سیلز کی ساخت کا موازنہ کریں۔
  • مختلف سب سیلولر آرگنیلیز (organelles) کا خاکہ بنائیں اور ان کے افعال بیان کریں۔
  • مختلف اقسام کے سیلز (میزوفل سیل، اپی ڈرمل سیل، نیورانز، مسلز، ریڈ بلڈ سیل، جگر کے سیل) کی شناخت کریں اور ان کی ساخت کا خاکہ بنائیں۔
  • ڈویژن آف لیبر (division of labor) کے تصور کی وضاحت کریں اور یہ بتائیں کہ یہ سیلز (آرگنیلز کے درمیان) اور ملٹی سیلولر جانداروں (سیلز کے درمیان) میں کس طرح لاگو ہوتا ہے۔
  • سیل سپیشلائزیشن (specialization) کی وضاحت کریں۔
  • سٹیم سیلز (stem cells) کی غیر مخصوص شدہ سیلز کے طور پر تعریف کریں۔
سیل ایک شہر کی طرح ہے
ایک سیل ایک مصروف شہر کی طرح ہوتا ہے۔ مثلاً سیل میں وہ ساختیں ہوتی ہیں جو توانائی پیدا کرتی ہیں (جسے شہر کے پاور پلانٹس)، کچھ ساختیں مواد کو پروسیس اور منتقل کرتی ہیں (جیسے شہر کی سڑکیں اور ڈیلیوری سروسز)، اور دیگر ساختیں بے کار مادے نکالنے یا توڑنے کا کام کرتی ہیں (جیسے شہر کی ویسٹ ڈسپوزل یونٹس)۔ آخر میں، جیسے شہر کا ایک حکومتی نظام ہوتا ہے، ویسے ہی سیل میں ایک نیو کلیس ہوتا ہے جو اس کی سرگرمیوں کی رہنمائی کرتا ہے اور سیل کے ہر فنکشن کے لیے ہدایات فراہم کرتا ہے۔

3.1 سیل CELL

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کون سے چھوٹے بنیادی اجزاء تمام جاندار چیزوں کو بناتے ہیں؟ سیلز وہ خوردبینی ساختیں ہیں جو زندگی کی بنیاد بناتی ہیں۔ سیلز وہ اکائیاں ہیں جو زندگی کے تمام ضروری افعال سر انجام دیتی ہیں۔ اس باب میں ہم سیلز کی دلکش دنیا کا جائزہ لیں گے، ان کی پیچیدہ ساخت اور جاندار دنیا میں ان کے اہم کردار کا مطالعہ کریں گے۔

سیل زندگی کی بنیادی اکائی ہے۔ جیسے ایک گھر کی تعمیر کے لیے اینٹیں استعمال ہوتی ہیں، ویسے ہی سیلز جانداروں کے تعمیری بلاکس ہیں، بشمول پودوں، جانوروں اور انسانوں کے۔ سب سے چھوٹے بیکٹیریا سے لے کر سب سے بڑے وہیل تک ہر جاندار چیز سیلز سے بنی ہوتی ہے۔

زیادہ تر سیلز بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اور انھیں آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے سائز کے باوجود، سیلز بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور جانداروں کو زندہ اور فعال رکھنے کے لیے سارے ضروری افعال انجام دیتے ہیں۔

کچھ سیلز اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ انھیں آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، جیسے کہ شتر مرغ کا انڈہ، ایک یونی سیلولر الجی Acetabularia، اور یونی سیلولر دیو امیبا (giant Amoeba)۔

3.2 سیل کی ساخت STRUCTURE OF CELL

سیل کی بنیادی ساخت ایک برطانوی سائنسدان رابرٹ ہک (Robert Hooke) نے دریافت کی۔ 1665 میں، ایک سادہ مائیکروسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے، ہک نے کارک کے ایک پتلے ٹکڑے کا جائزہ لیا اور چھوٹے ڈبہ نما ساختیں دریافت کیں جنھیں اس نے سیلز کا نام دیا۔ وہ سیل کی اندرونی ساخت کی تفصیلات کا مطالعہ نہ کر سکے۔ تاہم، انیسویں صدی میں مائیکروسکوپ کے معیار میں بہتری آئی۔ 1831 میں، پودوں کے سیلز کا مائیکروسکوپ کے ذریعے مطالعہ کرتے ہوئے، سکاٹ لینڈ کے ایک سائنسدان رابرٹ براؤن (Robert Brown) نے نیو کلیس دریافت کیا۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں بہت سے آرگنیلز دریافت کیے گئے۔ آنے والے پیراگراف میں ہم سیل میں موجود ساختوں اور ان کے افعال کا مطالعہ کریں گے۔

سیلز کی دو بنیادی اقسام ہیں: پروکیر یوٹک اور یوکیریوٹک۔ پروکیر یوٹک سیلز سادہ ہوتے ہیں اور ان میں ممبرین میں لپٹے آرگنیلز نہیں ہوتے۔ یوکیریوٹک سیلز زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں ممبرین میں لپٹے آرگنیلز موجود ہوتے ہیں۔

سیل وال Cell Wall

بیکٹیریا، فنجائی، پودوں اور کچھ پروٹسٹس (الجی) کے سیلز میں سیل ممبرین کے گرد ایک سخت بے جان دیوار ہوتی ہے جسے سیل وال کہتے ہیں۔ یہ سیل کے اندر موجود زندہ مواد (پروٹوپلازم) کو شکل، مضبوطی، حفاظت اور سہارا فراہم کرتی ہے۔ پودوں کی سیل وال تین پرتوں پر مشتمل ہوتی ہے یعنی مڈل لیمیلا (middle lamella)، پرائمری وال (primary wall)، اور سیکنڈری وال (secondary wall)۔

پرائمری وال سیل ممبرین کے بالکل اوپر موجود ہوتی ہے۔ یہ سیلولوز، ہیمی سیلولوز (hemi-cellulose) اور پیکٹن (pectin) کی بنی ہوتی ہے۔ سیلولوز ریشے بناتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جال کی شکل میں پھیل کر مضبوط پرائمری وال بناتے ہیں۔ مڈل لیمیلا قریبی سیلز کی پرائمری والز کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھتی ہے۔ یہ میگنیشیم، کیلشیم اور پیکٹن پر مشتمل ہوتی ہے۔ کچھ پودوں کے سیلز مثلاً زائلم سیلز، پرائمری وال کے اندرونی جانب سیکنڈری وال بناتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیلولوز، لگنن (lignin) اور دیگر کیمیکلز پر مشتمل ہوتی ہے۔ الجی کی سیل وال بھی سیلولوز پر مشتمل ہوتی ہے۔ پروکیریوٹس کی سیل وال پیپٹائیڈو گلائیکین (peptidoglycan) سے بنی ہوتی ہے۔ یہ امینو ایسڈز اور شوگرز پر مشتمل ایک مالیکیول ہے۔ فنجائی کی سیل وال کائٹن کی بنی ہوتی ہے۔

شکل 3.1: پودے کی سیل وال کی مختلف تہیں
شکل 3.2: پرائمری وال میں سیلولوز کے ریشے

پلازموڈیسمیٹا (plasmodesmata; singular plasmodesma): سیل والز میں موجود چینلز ہیں جن کے ذریعے قریبی سیلز کے درمیان مالیکیولز کے تبادلہ ہوتا ہے۔

سیل ممبرین Cell Membrane

تمام سیلز میں سائٹو پلازم کے گرد ایک باریک لچک دار سیل ممبرین موجود ہوتی ہے۔ یہ سیلیکٹولی پرمی ایبل (selectively permeable) ہوتی ہے۔ یہ صرف چند مالیکیولز کو ہی گزرنے کی اجازت دیتی ہے جبکہ بہت سے مالیکیولز کو روک دیتی ہے۔

سیل ممبرین پروٹینز (proteins) اور لپڈز (lipids) کی بنی ہوتی ہے اور اس میں تھوڑی سی مقدار میں کاربوہائیڈریٹس بھی پائے جاتے ہیں۔ سیل ممبرین کی ساخت کو فلوئڈ موزیک ماڈل (fluid mosaic model) میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق لپڈز ایک سیال مائع (fluid) کی طرح کی دوہری تہہ (bilayer) بناتے ہیں جس میں پروٹینز کے مالیکیولز ڈوبے ہوتے ہیں۔ لپڈز اور پروٹینز حرکت کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے، لپڈز اور پروٹینز کی ترتیب یعنی "موزیک (mosaic)" تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ کاربوہائیڈریٹس پروٹینز اور لپڈز کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پروٹینز کے ساتھ جڑ کر یہ گلائیکوپروٹینز (glycoproteins) جبکہ لپڈز کی ساتھ جڑ کر گلائیکولپڈز (glycolipids) بناتے ہیں۔

یوکیریوٹک سیل میں کئی آرگنیلز کے گرد بھی ممبرین لپٹی ہوتی ہے مثلاً مائٹو کانڈریا، کلورو پلاسٹس، گالجی اپریٹس، اینڈو پلازمک ریٹی کولم، اور لائسوسومز۔

سیل ممبرین کی لپڈز کی دوہری تہہ کے اندرونی طرف ایک اور لپڈ یعنی کولیسٹرول (cholesterol) بھی پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر بیکٹیریا کی ممبرینز میں کولیسٹرول نہیں ہوتا۔
شکل 3.5: سیل ممبرین کا فلوئڈ موزیک ماڈل

سائٹو پلازم Cytoplasm

یہ جیلی جیسا (jelly-like) ایک مادہ ہے جو سیل کی اندرونی جگہ میں بھرا ہوتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ مکسچر (mixture) ہے جس میں پانی، پروٹینز، اینزائمز، نمکیات، اور دوسرے مادے شامل ہیں۔ سائٹو پلازم آرگنیلیز کو افعال سر انجام دینے اور حرکت کرنے کے لیے میڈیم (medium) فراہم کرتا ہے۔ یہ سیل میں مختلف مادوں کی نقل و حرکت میں بھی مدد دیتا ہے۔ کئی اہم میٹابولک (metabolic) ری ایکشنز بھی سائٹو پلازم میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مثلاً گلائیکولائسز (glycolysis) یعنی گلوکوز کا ٹوٹنا کے ری ایکشنز یہاں ہوتے ہیں۔ یہ خوراک اور بے کار مادوں کو ذخیرہ بھی کرتا ہے۔

سائٹو پلازم کا مائع حصہ جس میں مالیکیول اور چھوٹے ذرات مثلاً رائبو سوم (یعنی ممبرین میں لپٹے بڑے آرگنیلیز کے بغیر والا حصہ) سائٹو سول (cytosol) کہلاتا ہے۔

نیو کلیس Nucleus

تمام یوکیریوٹک سیلز میں ایک نمایاں نیو کلیس موجود ہوتا ہے۔ جانور کے سیلز میں تو یہ درمیان میں پایا جاتا ہے۔ پودے کے بالغ سیلز کے درمیان میں ایک بڑا ویکیول بن جانے کی وجہ سے نیو کلیس ایک جانب دھکیلا جاتا ہے۔ نیو کلیس کے گرد نیوکلیر ممبرین ہوتی ہے۔ یہ ایک ڈبل ممبرین ہے اور اسے نیوکلیر اینولوپ (nuclear envelope) کہتے ہیں۔ یہ بھی سیمی پرمی ایبل ہے اور اس میں کئی چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جنھیں نیوکلیئر پورز (pores) کہتے ہیں۔ نیوکلیس کے اندر جیلی جیسا مادہ نیوکلیو پلازم (nucleoplasm) کہلاتا ہے۔ نیوکلیو پلازم کے اندر ایک یا دو چھوٹے اجسام پائے جاتے ہیں جنھیں نیوکلیولائی؛ واحد نیوکلیولس (sing. nucleolus) کہتے ہیں۔ یہاں رائبو سومز تیار کیے جاتے ہیں۔

نیوکلیو پلازم میں باریک دھاگے جیسا مواد کرومیٹن (chromatin) کہلاتا ہے۔ یہ ڈی آکسی رائیبو نیوکلیک ایسڈ (Deoxyribo Nucleic Acid) یعنی ڈی این اے (DNA) اور پروٹینز کا بنا ہوتا ہے۔ جب سیل تقسیم ہونے کا عمل شروع کرتا ہے تو اس کا کرومیٹن سکڑ کر کروموسومز (chromosomes) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ڈی این اے میں جین (gene) ہوتے ہیں جو سیل کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ڈی این اے خصوصیات کو اگلی نسل میں منتقل کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ اسی لیے اسے وراثتی مادہ (hereditary material) کہتے ہیں۔

نیوکلیس سیل کے کنٹرول سینٹر کا کام کرتا ہے۔ یہ پروٹینز بنانے کی ہدایات دے کر سیل کی تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔

شکل 3.6: نیوکلیس اور کروموسوم کی ساخت
پروکیریوٹک سیلز میں واضح نیوکلیس نہیں ہوتا۔ ان کے کروموسوم میں صرف ڈی این اے ہوتا ہے جو سائٹو پلازم میں ہی ڈوبا ہوتا۔

سائٹو سکیلیٹن Cytoskeleton

یہ باریک ٹیوبز اور فلامنٹس (filaments) پر مشتمل ایک جال ہے جو سائٹو پلازم میں پھیلا ہوتا ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہے یعنی مائیکروٹیوبولز، مائیکرو فلامنٹس اور انٹرمیڈیٹ فلامنٹس۔

مائیکروٹیوبولز (microtubules): کھوکھلی ٹیوبز ہیں۔ یہ ٹیوبیولن (tubulin) پروٹین کی بنی ہوتی ہیں۔ یہ حصہ آرگنیلیز کو اپنی جگہ پر قائم رکھتا ہے، سیل کی شکل برقرار رکھتا ہے اور آرگنیلیز کے لیے رستے بناتا ہے۔ مائیکروٹیوبولز سے مائٹوسس کا سپنڈل یعنی مائٹوٹک سپنڈل (mitotic spindle)، سیلیا (cilia) اور فلے جیلا (flagella) بھی بنتے ہیں۔

مائیکرو فلامنٹس (microfilaments): مائیکروٹیوبولز کی نسبت زیادہ باریک ہوتے ہیں۔ یہ سکڑنے والی پروٹین یعنی ایکٹن (actin) کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ سیل کی حرکات میں مدد دیتے ہیں مثلاً وائٹ بلڈ سیل کے رینگنے والی حرکات اور مسل سیلز (muscle cells) کا سکڑنا۔

انٹرمیڈیٹ فلامنٹس (intermediate filaments): سلاخ نما ہوتے ہیں۔ یہ کیراٹن (keratin) اور وائمنٹین (vimentin) پروٹینز کی بنی ہوتی ہیں۔ یہ فلامنٹس نیوکلیس اور دوسرے آرگنیلز کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ سیل اور دوسرے سیلز کے درمیان جنکشن (junction) بھی بناتے ہیں۔

شکل 3.7: سائٹو سکیلیٹن

رائبو سوم Ribosome

رائبو سومز چھوٹی دانے دار ساختیں ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پروٹینز تیار ہوتی ہیں۔ یہ سائٹو پلازم میں آزادانہ تیرتے ہیں یا رف اینڈو پلازمک ریٹی کولم (rough ER) کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ رائبو سوم پروٹین اور رائبو سومل آر این اے (rRNA) کی برابر مقدار کا بنا ہوتا ہے۔ رائبو سوم کے گرد ممبرین نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ پروکیریوٹک سیلز میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یوکیریوٹک سیل کا رائبو سوم پروکیریوٹک سیل کے رائبو سوم سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے۔ ہر رائبو سوم دو چھوٹی اکائیوں (subunits) کا بنا ہوتا ہے۔ جب رائبو سوم سیل کی پروٹین تیار کر رہا ہوتا ہے تو اس کی دونوں اکائیاں جڑی ہوتی ہیں۔ جب رائبو سوم اپنا کام مکمل کر لیتا ہے تو اس کی اکائیاں دوبارہ الگ الگ ہو جاتی ہیں۔

شکل 3.8: رائبو سوم

اینڈو پلازمک ریٹی کولم Endoplasmic Reticulum

یہ ممبرینز میں لپٹی ہوئی نالیوں کا ایک جال ہے جو یوکیریوٹک سیل کے تمام سائٹو پلازم میں پھیلا ہوتا ہے۔ سیل کے اندر دو اقسام کا اینڈو پلازمک ریٹی کولم موجود ہوتا ہے۔

رف (rough) اینڈو پلازمک ریٹی کولم: اس کی سطح پر بے شمار رائبو سومز جڑے ہوتے ہیں۔ یہ پروٹینز کی تیاری کے فعل میں شامل ہوتا ہے۔

سموتھ (smooth) اینڈو پلازمک ریٹی کولم: اس کی سطح ہموار ہے کیونکہ اس کے ساتھ رائبو سومز نہیں جڑے ہوتے۔ یہ والا اینڈو پلازمک ریٹی کولم لپڈز کے میٹابولزم اور سیل کے اندر مختلف مادوں کی نقل و حمل کا ذمہ دار ہے۔ یہ سیل میں داخل ہونے والے زہریلے مادوں کا زہریلا اثر ختم کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ مسلز کے سیلز میں موجود سموتھ اینڈو پلازمک ریٹی کولم سکڑنے کے عمل میں بھی حصہ لیتا ہے۔

شکل 3.9: سموتھ اور رف اینڈو پلازمک ریٹی کولم

گالجی اپریٹس Golgi Apparatus

1898 میں ایک اطالوی فزیشن کیمیلو گالجی (Camillo Golgi) نے سائٹو پلازم میں چپٹی تھیلیوں (sacs) کا ایک سیٹ دریافت کیا۔ یہ چپٹی تھیلیاں سسٹرنی (cisternae) کہلاتی ہیں۔ بہت سے سسٹرنی ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر کی صورت میں ہوتے ہیں۔ سسٹرنی کے مکمل سیٹ کو گالجی اپریٹس کہتے ہیں۔ یہ پودوں اور جانوروں دونوں کے سیلز میں پایا جاتا ہے۔ اس کا کام رف اینڈو پلازمک ریٹی کولم سے آنے والی پروٹینز میں ردوبدل کرنا اور انھیں ممبرین میں لپیٹنا ہے۔ اس طرح یہ تھیلیاں بناتا ہے جنھیں گالجی ویزیکلز (Golgi vesicles) کہتے ہیں۔ ان تھیلیوں کو یا تو سیل میں ہی رکھا جاتا ہے یا رطوبت کی شکل میں باہر نکالا جاتا ہے۔

1906 میں گالجی کو فزیالوجی اور میڈیسن کا نوبیل پرائز (Nobel Prize) دیا گیا۔
شکل 3.10: گالجی اپریٹس

لائسوسوم Lysosome

لائسوسوم کو بیلجیم (Belgium) کے سائنسدان کرسچن رینی ڈی ڈیو (Christian Rene de Duve) نے دریافت کیا تھا۔ یہ ممبرین میں لپٹی چھوٹی تھیلیاں ہیں جن کے اندر ہضم کرنے والے یعنی ڈائی جیسٹو (digestive) اینزائم ہوتے ہیں۔ لائسوسوم بنیادی طور پر جانور کے سیل میں ہوتے ہیں۔ یہ گالجی اپریٹس سے بڈز (buds) کی شکل میں بنتے ہیں۔ سیل فوڈ ویکیول (food vacuole) کی شکل میں خوراک کو نگلتا ہے۔ لائسوسوم اس فوڈ ویکیول کے ساتھ ضم ہو جاتا ہے۔ لائسوسوم کے اینزائم فوڈ ویکیول میں موجود خوراک کو توڑ دیتے ہیں۔ لائسوسوم میں سیل کے بے کار مادوں کو توڑنے والے اینزائم بھی ہوتے ہیں۔ لائسوسوم خراب آرگنیلز کو بھی نگل کر توڑ دیتے ہیں۔ اس طرح وہ جسم کے مدافعتی نظام میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لائسوسوم ان مالیکیولز کو ذخیرہ بھی کر لیتے ہیں جنھیں بعد میں استعمال کرنا ہو۔

شکل 3.11: لائسوسوم کا بننا اور کام کرنا

مائٹو کانڈریا Mitochondria

مائٹو کانڈریا (واحد مائٹو کانڈریان: mitochondrion) سیل کے توانائی پیدا کرنے والے مراکز یعنی پاور ہاؤس (power house) ہیں۔ یہ سیل کے لیے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایروبک (aerobic) ریسپریشن کے ری ایکشن کرتے ہیں جن میں آکسیجن استعمال کر کے خوراک (گلوکوز) کو توڑا جاتا ہے اور توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ توانائی ایڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ: adenosine triphosphate یعنی ATP کی شکل میں ہوتی ہے۔

مائٹو کانڈریا ڈبل ممبرین میں لپٹی ساختیں ہیں جو صرف یوکیریوٹس میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی بیرونی ممبرین تو ہموار ہوتی ہے لیکن اندرونی ممبرین بہت سی تہیں بناتی ہے۔ ان تہوں کو کرسٹی؛ واحد کرسٹا (cristae; sing. crista) کہتے ہیں۔ یہ تہیں مائٹو کانڈریا میں ریسپریشن کے لیے سطحی رقبہ بڑھاتی ہیں۔ مائٹو کانڈریا کا اندرونی سیال مائع میٹرکس (matrix) کہلاتا ہے۔ مائٹو کانڈریا کے اندر اپنا DNA اور اپنے رائبو سوم ہوتے ہیں۔ مائٹو کانڈریا کے رائبو سوم پروکیریوٹس کے رائبو سوم سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں بہ نسبت یوکیریوٹس کے رائبو سوم کے۔

شکل 3.12: ایک مائٹو کانڈریان

پلاسٹڈز Plastids

یہ ممبرین میں لپٹے ہوئے آرگنیلیز ہیں جو پودوں اور فوٹو سنتھی سیز کرنے والے پروٹسٹس (الجی) کے سیلز میں پائے جاتے ہیں۔ پلاسٹڈز کی تین بڑی اقسام ہیں یعنی کلورو پلاسٹ، کرومو پلاسٹ اور لیو کو پلاسٹ۔

کلورو پلاسٹ (chloroplast): یہ سبز رنگ کے پلاسٹڈ ہیں اور پودے کے سبز حصوں اور الجی میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں فوٹو سنتھی سیز کے پگمنٹ (pigment) ہوتے ہیں مثلاً سبز پگمنٹ کلوروفل (chlorophyll)۔ کلورو پلاسٹ فوٹو سنتھی سیز کرتے ہیں۔ پگمنٹ کی مدد سے یہ روشنی کی توانائی کو جذب کر کے اسے کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس توانائی کو استعمال کر کے گلوکوز تیار کرتے ہیں۔

مائٹو کانڈریا کی طرح کلورو پلاسٹ بھی ڈبل ممبرین میں لپٹے ہوتے ہیں۔ کلورو پلاسٹ کی اندرونی ممبرین اندرونی طرف ڈھیر بناتی ہے۔ یہ ڈھیر گرینا؛ واحد گرینم (grana; singular granum) کہلاتے ہیں۔ ایک گرینم تھیلیوں جیسی ساختوں سے مل کر بنتا ہے جنھیں تھائیلا کوائڈز (thylakoids) کہتے ہیں۔ فوٹو سنتھی سیز کے پگمنٹ ان تھائیلا کوائڈز کی سطح پر ہوتے ہیں۔ تھائیلا کوائڈز کے گرد ایک سیال مائع ہے جسے سٹروما (stroma) کہتے ہیں۔ مائٹو کانڈریا کی طرح، کلورو پلاسٹ میں بھی DNA اور رائبو سوم ہوتے ہیں۔

شکل 3.13: ایک کلورو پلاسٹ

کرومو پلاسٹ (chromoplast): یہ ایسے پلاسٹڈ ہیں جن میں سبز کے علاوہ دوسرے مختلف چمک دار رنگوں کے پگمنٹ ہوتے ہیں۔ ان کے ایک عمومی پگمنٹ کا نام کیروٹینائڈ (carotenoid) ہے۔ کرومو پلاسٹ پھولوں کی پیٹلز (petals) اور پھلوں کے سیلز میں پائے جاتے ہیں۔ کرومو پلاسٹ ان حصوں کو رنگ دیتے ہیں۔ اس طرح، کرومو پلاسٹ پودے کی پولی نیشن (pollination) اور پھلوں اور بیجوں کی بکھراؤ میں مدد کرتے ہیں۔

لیو کو پلاسٹ (leucoplast): یہ وہ پلاسٹڈ ہیں جن میں کوئی پگمنٹ نہیں ہوتا۔ یہ سٹارچ، لپڈز اور پروٹین ذخیرہ کرتے ہیں۔ یہ پودے کے ان حصوں کے سیلز میں پائے جاتے ہیں جہاں خوراک ذخیرہ کی جاتی ہے، جیسے زیر زمین تنے، بیج، جڑیں وغیرہ۔

ویکیول Vacuoles

یہ سنگل ممبرین میں لپٹی ہوئی تھیلی نما آرگنیلیز ہیں جو فلوئڈ سے بھرے ہوتے ہیں۔ جانوروں کے سیلز میں بہت سے چھوٹے اور عارضی ویکیولز ہو سکتے ہیں۔ ان کے اندر پانی اور غذائی اجزاء ہوتے ہیں۔ تازہ پانی کے کچھ جاندار جیسے امیبا اور سپونج (sponge) میں سکڑنے والے یعنی کنٹریکٹائل ویکیول (contractile) ہوتے ہیں۔ یہ ویکیول اضافی پانی اور دیگر بے کار مادوں کو جمع کر کے باہر نکالتے ہیں۔ کچھ سیلز خوراک نگلنے کے لیے فوڈ ویکیول بناتے ہیں۔ فوڈ ویکیول خوراک کو ذخیرہ بھی کرتے ہیں۔

پودے کے اکثر بالغ سیلز میں ایک بڑا مرکزی ویکیول ہوتا ہے۔ یہ کئی چھوٹے ویکیولز کے انضمام سے بنتا ہے۔ پودے کے ویکیول کی ممبرین کو ٹونو پلاسٹ (tonoplast) کہتے ہیں۔ پودے کے ویکیول میں موجود مائع کو سیل سیپ (cell sap) کہا جاتا ہے۔ سیل سیپ پانی اور نمکیات کے محلول پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بڑے مرکزی ویکیول کی وجہ سے سیل کا سائٹو پلازم ایک طرف دھکیلا جاتا ہے اور ویکیول کی طرف سے سائٹو پلازم اور سیل وال پر باہر کی طرف پریشر لگتا ہے۔ اندر سے باہر کی طرف اس پریشر کی وجہ سے سیل تن جاتا ہے یعنی ٹرجڈ (turgid) ہو جاتا ہے۔ اس پریشر کو ٹرگر پریشر (turgor pressure) کہتے ہیں اور عمل ٹرگر کہلاتا ہے۔ ٹرگر پریشر سیلز کی شکل برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

غور کرنے کا نکتہ! ویکیول کو سیلز کا کوڑا دان کیوں کہا جاتا ہے؟
شکل 3.14: پودے اور جانور کے سیلز میں ویکیول

سینٹریول Centriole

یہ بیرل نما (barrel) آرگنیلز ہیں جو جانوروں اور زیادہ تر پروٹسٹس کے سیلز میں پائے جاتے ہیں۔ پروکیریوٹس، اعلیٰ درجے کے پودوں اور فنجائی میں سینٹریول موجود نہیں ہوتے۔ سینٹریولز ایک جوڑے کی صورت میں ہوتے ہیں جن میں دونوں سینٹریول ایک دوسرے کے ساتھ عمودی زاویہ بناتے ہیں۔ جانوروں کے سیلز میں اس جوڑے کو سینٹروسوم (centrosome) کہا جاتا ہے، جو نیوکلیر انویلپ کے قریب پایا جاتا ہے۔ ہر سینٹریول مائیکروٹیوبول کے نو (9) ٹرپلٹس (triplets) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مائیکروٹیوبولز ایک پروٹین ٹیوبیولن (tubulin) سے بنی ہوتی ہیں۔ سیل ڈویژن کے آغاز میں، سینٹریولز کا جوڑا ڈبل ہو جاتا ہے اور دونوں جوڑے سیل کے مخالف قطبوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں یہ سپنڈل فائبرز (spindle fibers) بناتے ہیں۔ سپنڈل فائبرز سیل ڈویژن کے دوران کروموسومز کو الگ الگ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جن سیلز میں سیلیا (cilia) یا فلے جیلا (flagella) ہوتے ہیں، ان میں سینٹریول سیل ممبرین کے قریب پایا جاتا ہے۔ ان سینٹریولز کو بیسل باڈیز (basal bodies) کہا جاتا ہے۔ یہ بیسل باڈیز سیلیا اور فلے جیلا بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

شکل 3.15: سینٹریول کی ساخت

ٹیبل: پودے اور جانور کے سیلز میں موازنہ

سیل کا حصہبیانموجودگیکام
سائٹو پلازمجیلی جیسا مادہ جس میں سیل کے آرگنیلیز موجود ہیںسیل ممبرین اور نیوکلیر اینویلوپ کے درمیانسیل آرگنیلیز کو جگہ فراہم کرتا ہے؛ کئی میٹابولک ری ایکشنز کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے
سیل ممبرینایک سیلیکٹولی پرمی ایبل ممبرین جو سائٹو پلازم کے گرد باؤنڈری بناتی ہےسائٹو پلازم کے گردسیل کے اندر اور باہر آنے جانے والے مادوں کو کنٹرول کرتی ہے
نیوکلیسایک گول یا بیضوی آرگنیل جس میں DNA پایا جاتا ہےجانور کے سیل میں درمیان میں؛ پودے کے سیل میں ایک طرفسیل ڈویژن کو کنٹرول کرتا ہے؛ سیل کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرتا ہے
سیل والایک سخت بے جان بیرونی دیوار جو سیلولوز کی بنی ہوتی ہےپودے کے سیل کی بیرونی جانبسیل کو سہارا فراہم کرتی ہے؛ پانی اور نمکیات کو گزرنے دیتی ہے
بڑا ویکیولسیال مائع سے بھری تھیلی جس کے گرد ممبرین ہوتی ہےپودے کے سیل کے سائٹو پلازم میںاس کے اندر نمکیات اور پانی ہے؛ پودے کے سیل کو ٹرجڈ رکھنے میں مدد دیتا ہے
کلور و پلاسٹکلوروفل رکھنے والا ایک آرگنیلپودوں کے کچھ سیلز کے سائٹو پلازم میںفوٹو سنتھی سیز کے لیے روشنی جذب کرتا ہے

سیلیا اور فلے جیلا Cilia and Flagella

کچھ سیلز میں پتلی دم جیسی ساختیں ہوتی ہیں جنہیں سیلیا (واحد: سیلیم cilium) اور فلے جیلا (واحد: فلے جیلم flagellum) کہتے ہیں۔ سیلیا لمبائی میں چھوٹے اور عام طور پر تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ فلے جیلا لمبے مگر تعداد میں کم ہوتے ہیں۔ یوکیریوٹک سیلیا اور فلے جیلا مائیکروٹیوبولز کے 9 جوڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو ایک مرکزی جوڑے کو گھیرے ہوتے ہیں۔ سیلیا اور فلے جیلا سیل کے اندر بیسل باڈی (basal body) سے جڑے ہوتے ہیں۔ پروکیریوٹک سیلز میں بھی فلے جیلا ہوتے ہیں لیکن ان کی ساخت یوکیریوٹک سیل کے فلے جیلا سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے۔ پروکیریوٹک فلے جیلا ایک پروٹین 'فلے جیلن' (flagellin) سے بنے ہوتے ہیں۔ سیلیا اور فلے جیلا کا کام حرکت کرنا ہے۔

شکل: یوگلینا (Euglena) اور پیرامیشیم (Paramecium)

3.3 پودے اور جانور کے سیلز کے ساختی فوائد

ہم نے پودوں اور جانوروں کے سیلز کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی ساخت میں واضح فرق موجود ہیں جو ان کے مخصوص افعال اور مطابقتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل پودوں اور جانوروں کے سیلز کے کچھ ساختی فوائد ہیں۔

پودے کے سیل کی ساخت کے فوائد Advantages of Plant Cell Structures

  • پودوں کے سیلز میں سیلولوز سے بنی ایک سخت سیل وال ہوتی ہے جو سیل کو سہارا اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔
  • ان سیلز میں کلورو پلاسٹ ہوتے ہیں جو فوٹو سنتھی سیز کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کلورو پلاسٹ روشنی کی توانائی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے پودے خوراک تیار کر سکتے ہیں۔
  • بڑا مرکزی ویکیول پانی، غذائی اجزاء اور بے کار مواد کو ذخیرہ کرتا ہے۔ یہ سیل میں ٹرگر پریشر بناتا ہے جو سیل کی شکل کو برقرار رکھتا ہے۔
  • پودوں کی سیل والز کے اندر سوراخ موجود ہوتے ہیں جنھیں پلازموڈیسمیٹا (plasmodesmata) کہتے ہیں۔ یہ سوراخ چینلز کے طور پر کام کرتے ہیں اور سیلز کے درمیان براہ راست رابطے اور مواد کی منتقلی کو ممکن بناتے ہیں۔

جانور کے سیل کی ساخت کے فوائد Advantages of Animal Cell Structures

  • جانوروں کے سیلز میں سینٹریول ہوتے ہیں جو سپنڈل فائبر بناتے ہیں۔ یہ سیل ڈویژن کے دوران کروموسومز کی درست تقسیم کو یقینی بناتے ہیں۔
  • ان سیلز میں لائسوسوم ہوتے ہیں، جو اینزائم سے بھرے ہوتے ہیں اور بے کار مادوں کو توڑتے ہیں۔ لائسوسوم سیل کی صفائی اور ری سائیکلنگ (recycling) میں مدد کرتے ہیں۔
  • جانوروں کے کچھ سیلز میں "فلے جیلا" اور "سیلیا" ہوتے ہیں جو حرکت کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سپرم سیلز میں ایک فلے جیلم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سپرم انڈے کی طرف حرکت کرتے ہیں تاکہ فرٹیلائزیشن ہو سکے۔
  • ان میں سخت سیل وال موجود نہیں ہوتی، جس سے یہ سیل آسانی سے شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ لچک سیل کی حرکت کے لیے بہت اہم ہے، جیسے کہ وائٹ بلڈ سیلز (white blood cells) انفیکشن یا چوٹ کی جگہوں کی طرف جاتے ہیں۔

3.4 سیل کی سپیشلائزیشن CELL SPECIALIZATION

ملٹی سیلولر جانداروں میں مختلف اقسام کے سیلز پائے جاتے ہیں۔ ہر قسم کا سیل خاص ساخت رکھتا ہے اور ایک مخصوص کام سر انجام دیتا ہے۔ سیل ڈویژن کے ذریعے جب سیلز بنتے ہیں تو وہ سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ بننے کے بعد سیلز سپیشلائزیشن یا مخصوص ہو جانے (differentiation) کے عمل سے گزرتے ہیں۔ سپیشلائزیشن کے دوران سیلز خاص جسامت، ساخت اور میٹابولک خصوصیات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ مخصوص یعنی سپیشلائزڈ (specialized) سیلز بن جاتے ہیں۔ یہاں ہم پودوں اور جانوروں کے کچھ مخصوص سیلز پر گفتگو کریں گے۔

میزوفل سیلز Mesophyll Cells

یہ سبز سیلز ہیں جو پتوں میں پائے جاتے ہیں اور فوٹو سنتھی سیز کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان سیلز میں بڑی تعداد میں کلورو پلاسٹ ہوتے ہیں۔ کلورو پلاسٹ میں روشنی کی توانائی کو جذب کرنے کے لیے ضروری سبز پگمنٹ کلوروفل ہوتا ہے۔ ان سیلز کی شکل اور پتوں میں ان کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روشنی جذب ہو سکے۔

اپی ڈرمل سیلز Epidermal Cells

یہ چپٹے اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے سیلز ہیں جو پودوں کے آرگنز کی بیرونی تہہ یعنی اپی ڈرمس (epidermis) بناتے ہیں۔ اپی ڈرمس اندرونی ٹشوز کی حفاظت کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پر اپی ڈرمل سیلز دوسرے افعال کے لیے ترمیم شدہ (modified) ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جڑ کی اپی ڈرمس میں روٹ ہیئر (root hair) سیلز ہوتے ہیں۔ یہ سیلز باریک بال نما ساختیں یعنی روٹ ہیئرز (root hairs) بناتے ہیں۔ روٹ ہیئرز مٹی سے پانی اور معدنیات کو جذب کرنے کے لیے سطحی رقبہ بڑھاتے ہیں۔ پتوں کی زیریں اپی ڈرمس میں گارڈ سیلز (guard cells) ہوتے ہیں جو سٹوماٹا (stomata) کے کھلنے اور بند ہونے کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مسل سیلز Muscle Cells

مسل سیلز جانوروں کے مخصوص سیلز ہیں جو سکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ لمبے سیلز ہوتے ہیں جو ایکٹن (actin) اور سکڑنے والی دیگر پروٹینز سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ سیلز بنیادی طور پر تین (3) اقسام کے ہیں۔ سکیلٹل مسل (skeletal muscle) سیلز لمبے اور دھاری دار ہوتے ہیں۔ یہ ہڈیوں کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ یہ مسل سیلز ارادی طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے سکڑنے سے ڈھانچے کی حرکت ہوتی ہے جس سے جسم کی نقل و حرکت ممکن ہوتی ہے۔ کارڈیک مسل (cardiac muscle) سیلز شاخ دار اور دھاری دار ہوتے ہیں۔ یہ دل کی دیواروں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ غیر ارادی طور پر کام کرتے ہیں اور ان کے سکڑنے سے دل کی دھڑکن ممکن ہوتی ہے۔ سموتھ مسل (smooth muscles) سیلز سپنڈل نما (spindle-shaped) ہوتے ہیں۔ یہ دھاری دار نہیں ہوتے اور غیر ارادی طور پر کام کرتے ہیں۔ سموتھ مسل سیلز کئی اندرونی آرگنز کی دیواروں میں پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، غذائی نالی میں موجود سموتھ مسلز غذا کو آگے بڑھانے کے لیے سکڑتے ہیں، جبکہ خون کی نالیوں میں موجود سموتھ مسلز خون کے بہاؤ کو ممکن بناتے ہیں۔

شکل 3.18: مسل سیلز

نیورانز Neurons

یہ نروس سسٹم کے مخصوص سیلز ہیں۔ نیورانز کا کام جسم کے مختلف حصوں میں پیغامات پہنچانا ہے۔ یہ پیغامات نرو امپلسز (nerve impulses) کی شکل میں پہنچائے جاتے ہیں۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لیے نیوران کی ایک منفرد ساخت ہوتی ہے۔ ایک نیوران کے دو حصے ہیں یعنی ایک سیل باڈی (cell body) اور سائٹو پلازم کی شاخیں (cytoplasmic extensions)۔ سائٹو پلازم کی شاخیں دو اقسام کی ہیں۔ ڈینڈ رائٹس (dendrites) چھوٹی شاخیں ہیں جو نرو امپلس وصول کر کے انھیں سیل باڈی تک پہنچاتی ہیں۔ ایکسون (axon) لمبی شاخیں ہیں جو نرو امپلسز کو سیل باڈی سے دور لے جاتی ہیں۔

شکل 3.19: نیوران

ریڈ بلڈ سیلز (ارتھروسائٹس) Red Blood Cells (Erythrocytes)

خون کے یہ سیلز آکسیجن کو پھیپھڑوں سے جسم کے ٹشوز (tissues) تک لے جانے کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ دو طرفہ گہرے ڈسک (biconcave disc) کی شکل کے سیلز ہیں۔ ان کی شکل آکسیجن کے جذب اور خارج ہونے کے لیے زیادہ سطح مہیا کرتی ہے۔ ریڈ بلڈ سیلز ایک پروٹین ہیموگلوبن (haemoglobin) سے بھرے ہوتے ہیں جو اصل میں آکسیجن لے جاتا ہے۔ ممالیہ جانوروں میں بالغ ریڈ بلڈ سیلز میں نیو کلیس، مائٹو کانڈریا، اور اینڈو پلازمک ریٹی کولم وغیرہ موجود نہیں ہوتے۔ یہ زیادہ ہیموگلوبن کے لیے جگہ مہیا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

شکل 3.20: ریڈ بلڈ سیلز

جگر کے سیلز Liver Cells

انھیں ہیپیٹو سائٹس (hepatocytes) بھی کہتے ہیں۔ جگر کے سیلز بہت سے اہم افعال کے لیے مخصوص ہوتے ہیں جیسے گلائیکوجن، آئرن اور کچھ وٹامنز کا ذخیرہ؛ زہریلے مادوں کا زہر ختم کرنا (detoxification)؛ خون کی کلاٹنگ (clotting) والی پروٹینز بنانا؛ پرانے ریڈ بلڈ سیلز کی ری سائیکلنگ وغیرہ۔ ان سیلز میں واضح نیو کلیس موجود ہوتا ہے تاکہ اینزائمز اور دیگر پروٹینز بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔ مائٹو کانڈریا کی بڑی تعداد زیادہ توانائی فراہم کرنے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ سموتھ اینڈو پلازمک ریٹی کولم کا وسیع نیٹ ورک زہریلے مادوں کا زہر ختم کرتا ہے اور لپڈ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جگر کے سیلز میں ایک آرگنیل کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جسے پر آکسی سوم (peroxisome) کہتے ہیں۔ پر آکسی سوم کے پاس زہریلے مادوں کو بے اثر کرنے والے اینزائمز ہوتے ہیں۔ جگر کے سیلز کے درمیان چھوٹے نالی نما راستے موجود ہوتے ہیں جو ان کی رطوبت (بائل) کو جمع کر کے بائل ڈکٹس تک پہنچاتے ہیں۔

جگر میں زہریلے امونیا کو کم زہریلے یوریا میں تبدیل کیا جاتا ہے؛ اس طرح جگر گردے کے افعال میں مدد فراہم کرتا ہے۔
شکل 3.21: جگر کے سیل

سیلز کے اندر اور ان کے درمیان کام کی تقسیم Division of Labour within and across Cells

کام کی تقسیم سے مراد کسی سسٹم کے حصوں کا مخصوص (specialized) ہو جانا ہے تاکہ مخصوص کام زیادہ مؤثر طریقے سے سر انجام دیے جا سکیں۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے جو بائیولوجیکل سسٹمز (سیلز کے اندر اور ان کے درمیان) میں کارکردگی اور فعالیت کو بڑھاتا ہے۔

سیلز کے اندر کام کی تقسیم: سیل کے اندر کام کی تقسیم کی مثال کئی آرگنیلز ہیں۔ ہر آرگنیل سیل کی بقا کے لیے ضروری افعال سر انجام دیتا ہے۔ مثلاً، مائٹو کانڈریا توانائی پیدا کرتے ہیں، اینڈو پلازمک ریٹی کولم پروٹین اور لپڈز بناتے ہیں، اور لائسوسوم بے کار مواد کو توڑتے ہیں۔ اس طرح، ہر آرگنیلی کا کام سیل کی مجموعی بقا، نشو و نما، اور فعالیت میں معاون ہوتا ہے۔

سیلز کے درمیان کام کی تقسیم: ملٹی سیلولر جانداروں میں سیلز کے درمیان بھی کام کی تقسیم پائی جاتی ہے۔ ہر قسم کا سیل مخصوص فعل سر انجام دیتا ہے اور جاندار کے مجموعی افعال میں حصہ لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسل سیلز سکڑنے اور حرکت کے لیے مخصوص ہیں، نرو (nerve) سیلز یعنی نیوران پیغامات پہنچانے کے لیے، اور ریڈ بلڈ سیلز آکسیجن لے جانے کے لیے مخصوص ہیں۔ سیلز کے مابین یہ cellular تخصیص یعنی سپیشلائزیشن پیچیدہ جانداروں کو وسیع اقسام کے افعال انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔

3.5 سٹیم سیلز STEM CELLS

جنسی تولید یعنی سیکسوئل ری پروڈکشن کرنے والے جانداروں میں تمام مختلف اقسام کے سیلز ایک ہی سیل (زائیگوٹ) سے پیدا ہوتے ہیں۔ زائیگوٹ ایک غیر مخصوص (unspecialized) سیل ہے۔ لیکن زائیگوٹ میں ایسے سیلز بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے جو تفریق (differentiation) کے بعد مخصوص سیلز بن جاتے ہیں۔ ایسا غیر مخصوص سیل جو مختلف اقسام کے مخصوص سیلز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو، سٹیم سیل (stem cell) کہلاتا ہے۔

جاندار کی نمو (development) کے دوران، جب سب سے پہلا سٹیم سیل (زائیگوٹ) تقسیم ہوتا ہے تو یہ مختلف سیل لائنز (lines) بناتا ہے۔ ہر سیل لائنز میں موجود سیلز ایک مخصوص قسم میں تفریق پا جاتے ہیں جیسے جلد کے سیلز، مسلز کے سیلز، نرو سیلز، اور بلڈ سیلز وغیرہ۔

شکل 3.22: سٹیم سیل سے مخصوص سیلز کا بننا (سٹیم سیل سے بننے والے سیلز: گیمیٹس، بلڈ سیلز، چربی کا سیل، ایپی تھیلیل سیل، مسل کے سیلز، نرو سیل)

سٹیم سیلز جسم کے مختلف حصوں میں زندگی بھر بھی موجود رہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز تقسیم ہو سکتے ہیں اور جسم کی ضرورت کے مطابق مخصوص سیلز میں تفریق پا سکتے ہیں۔ سٹیم سیلز خراب شدہ ٹشوز کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔ مثلاً، جلد میں موجود سٹیم سیلز زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جگر میں موجود سٹیم سیلز نقصان کے بعد جگر کی مرمت میں معاون ہوتے ہیں۔ ہڈی کے گودے میں موجود سٹیم سیلز مختلف اقسام کے بلڈ سیلز اور مدافعتی یعنی امیون (immune) سیلز بنانے کے لیے تفریق پاتے ہیں۔

شکل 3.23: بلڈ سیلز بنانے والے سٹیم سیلز (ہڈیوں کا سرخ گودا -> سٹیم سیلز -> وائٹ بلڈ سیلز، پلیٹ لٹس، ریڈ بلڈ سیلز)

جسم کے کچھ حصوں میں، جیسے آنت اور ہڈی کا گودا، بالغ سٹیم سیلز باقاعدگی سے تقسیم ہوتے ہیں تاکہ دیکھ بھال اور مرمت کے لیے نئے ٹشوز پیدا کیے جا سکیں۔

اہم نکات

  • سیل زندگی کی بنیادی تعمیراتی اکائی ہے۔
  • سیل وال کی پرائمری وال سیلولوز اور ہیمی سیلولوز پر مشتمل ہوتی ہے۔
  • سیکنڈری سیل وال لگنن سے بنی ہوتی ہے۔
  • سیل ممبرین لپڈ بائی لیئر اور اس میں جڑی پروٹینز پر مشتمل ہوتی ہے۔
  • سائٹو سکیلیٹن مائیکرو فلامنٹس، مائیکروٹیوبولز اور انٹرمیڈیٹ فلامنٹس کے نیٹ ورک پر مشتمل ہوتا ہے۔
  • رائبو سوم رائبو سومل آر این اے (rRNA) اور پروٹین سے بنے ہوتے ہیں۔
  • گالجی اپریٹس کئی چپٹی تھیلیوں (سسٹرنی) پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر لگ کر گٹھا بناتی ہیں۔
  • لائسوسوم مضبوط انہضامی اینزائمز رکھتے ہیں جو مختلف بائیو مالیکیولز کو سادہ مرکبات میں توڑنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو سیل استعمال کر سکتا ہے۔
  • مائٹو کانڈریا کو سیل کا "پاور ہاؤس" کہتے ہیں کیونکہ یہ سیلولر ریسپریشن کے ذریعے توانائی پیدا کرتے ہیں۔
  • کلورو پلاسٹ فوٹو سنتھی سیز کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
  • سینٹریول مائیکروٹیوبول ٹرپلٹس کے 9 گروپس سے بنتے ہیں جو ٹیوبیولن پروٹین پر مشتمل ہوتے ہیں۔
  • نیوکلیس گول یا بیضوی شکل کا ہوتا ہے اور دوہری جھلی (نیوکلیئر اینویلوپ) سے گھرا ہوتا ہے۔
  • کروموسومز ڈی آکسی رائیبو نیوکلیک ایسڈ (DNA) اور پروٹینز سے بنے ہوتے ہیں۔
  • میزوفل سیلز پودوں کے پتوں میں پائے جاتے ہیں اور فوٹو سنتھی سیز کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
  • اپی ڈرمل سیلز پودوں کے ٹشوز کی سب سے بیرونی تہہ بناتے ہیں، جو ماحول کے خلاف حفاظتی رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔
  • نیوران اعصابی نظام کے خصوصی سیلز ہیں جو پورے جسم میں نرو امپلسز منتقل کرتے ہیں۔
  • مسل سیلز حرکت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
  • ریڈ بلڈ سیلز خون کی ایک قسم ہیں جو آکسیجن کو پھیپھڑوں سے جسم کے ٹشوز تک لے جاتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں تک واپس لے جاتے ہیں۔
  • سٹیم سیلز غیر تفریق شدہ یا غیر مخصوص سیلز ہیں جو مخصوص سیلز میں تفریق کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...