Class 5 Urdu Lesson 6 - Qaumi Tehwar (National Festivals) | Digital Textbook Design Lesson No: سبق نمبر 6 | Class: 5 | Subject: اردو | Topic: قومی تہوار | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore the significance of Pakistan's National Festivals (Qaumi Tehwar) in this beautifully designed digital lesson for Class 5 Urdu. Learn about Independence Day (August 14), Pakistan Day (March 23), Defence Day (September 6), and the birthdays of Quaid-e-Azam and Allama Iqbal. Perfect for students and teachers following the SNC curriculum.
قومی تہوار
- تہوار کسے کہتے ہیں؟
- آپ کس تہوار کے آنے پر سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں؟
- سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیاں کس تہوار پر لہرائی جاتی ہیں؟
رضا اور آمنہ کے دادا ساجد صاحب نے پاکستان بنتے دیکھا تھا۔ ان کے بزرگوں نے حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا اور تکلیفیں برداشت کیں۔ پاکستان کے قیام سے پہلے وہ موجودہ بھارت میں رہتے تھے۔ پاکستان بنا تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور آگئے۔ ہجرت کا یہ سفر بہت کٹھن تھا۔ وہ بہت مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے لاہور پہنچے تھے۔ وہ اپنے اس سفر کی داستان سب کو سنایا کرتے ہیں۔ وہ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔
۱۴ اگست کی تقریبات شروع ہوتی ہیں تو خوشی سے ان کا چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آج ۱۴ اگست کو ساجد صاحب حسبِ معمول تیار ہو کر گاڑی میں نکلے۔ رضا اور آمنہ کو ساتھ لے کر وہ سب سے پہلے مزارِ اقبال پہنچے۔ انھوں نے مزار پر فاتحہ پڑھی۔ شہر بھر میں جشن کا سماں تھا، گھر، بازار، گلیاں، دکانیں اور سڑکیں رنگا رنگ جھنڈوں اور جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ بچوں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ مینارِ پاکستان پر اس قدر ہجوم تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ نوجوان موٹر سائیکلوں کو پاکستانی جھنڈوں سے سجائے گھوم رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ساجد صاحب بہت خوش ہو رہے تھے۔ انھیں آزادی کی نعمت کا صحیح شعور تھا۔ وہ بچوں کو ساتھ لیے جشنِ آزادی کی تقریبات کے مختلف مناظر دیکھتے رہے۔
شام سے ذرا پہلے وہ مال روڈ سے ہوتے ہوئے گھر لوٹ آئے۔ گھر واپس آئے تو رضا کی امی جان نے پُر تکلف چائے کا انتظام کر رکھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے رضا نے دادا جان سے پوچھا: ”دادا جان! یہ تہوار اور جشن کیوں منائے جاتے ہیں؟“
دادا جان: جس طرح لوگ اپنی زندگی کے اہم دنوں کو یاد رکھتے اور ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھی بعض دن اہمیت رکھتے ہیں۔ قومیں ایسے دنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ ان دنوں کو یاد رکھنے کے لیے جشن اور تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہ سب قومی تہوار کہلاتے ہیں۔ آج کے دن ہمیں آزادی ملی تھی، اسی نسبت سے اس قومی تہوار کو ”یومِ آزادی“ کہا جاتا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی اور قومی تہوار کا نام بتا سکتے ہیں؟
رضا: دادا جان! ہم ہر سال ۲۳ مارچ کو یومِ پاکستان مناتے ہیں۔
دادا جان: شاباش بیٹا! ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو منٹو پارک لاہور میں قرار دادِ پاکستان پیش ہوئی تھی۔ اس دن کی یاد میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ اس دن اسلام آباد میں فوجی پریڈ ہوتی ہے۔ ہمارا ایک اور قومی تہوار ”یومِ قائدِ اعظم“ ہے۔ یہ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن ہر سال ۲۵ دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ ۶ ستمبر کو ہمارے ملک میں ”یومِ دفاع“ منایا جاتا ہے۔ ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو ہماری بہادر فوج نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور انھیں شکستِ فاش دی تھی۔ اس کے علاوہ ۹ نومبر کو ”یومِ اقبال“ منایا جاتا ہے۔ یہ ہمارے قومی شاعر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش کا دن ہے، جنھوں نے علیحدہ ملک پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔
آمنہ: آج ۱۴ اگست ہے، اس دن کی اہمیت اور پیغام کیا ہے؟
دادا جان: ۱۴ اگست کا دن ہمارے لیے کوئی عام دن نہیں ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ دن بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے اس روز انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ آج ہی کے دن دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست ابھری تھی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مل جل کر کوشش کرنے سے ہم اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔
آمنہ: دادا جان! پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
دادا جان: آمنہ تمھارا سوال بہت اہم ہے۔ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل تھا، جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ مسلمانانِ ہند نے اس مقصد کو ایک نعرے میں سمیٹ دیا تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ“۔
آمنہ: دادا جان! پاکستان کی خاطر لوگوں نے قربانیاں بھی تو بہت پیش کی تھیں۔
ساجد صاحب (دادا جان) تھوڑی دیر کے لیے ماضی کی یادوں میں کھو گئے، پھر کہنے لگے۔
دادا جان: پاکستان کی خاطر مسلمانوں نے دن رات ایک کر دیا، اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کیا۔ کروڑوں کی جائیدادیں اور کئی نسلوں سے آباد گھروں کو پاکستان کی خاطر چھوڑ دیا اور خالی ہاتھ سرزمینِ پاکستان آن پہنچے۔
رضا: پاکستان بننے کے بعد اب ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟
دادا جان: ۱۴ اگست کو ہم نے آزادی حاصل کی تو نشانِ منزل تک پہنچے۔ اس مقصد اور منزل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ ۱۴ اگست کو آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے آزادی کا یہ اصل مقصد کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ آزادی حاصل کرنا جتنا مشکل اور صبر آزما مرحلہ ہے، آزادی کو برقرار رکھنا اس سے بھی مشکل ہے۔ اس لیے ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔
- آپ یومِ آزادی کس طرح مناتے ہیں اور اس دن کیا خاص اہتمام کرتے ہیں؟
- تاریخِ پاکستان میں ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کی کیا اہمیت ہے؟
- ۲۵ دسمبر اور ۹ نومبر کن عظیم پاکستانی رہنماؤں سے منسوب ہیں اور کیوں؟
- یومِ آزادی کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے؟
- یومِ دفاع کب اور کیوں منایا جاتا ہے؟
- پاکستان کے قیام کا اصل مقصد کیا تھا؟
Comments
Post a Comment