Class 5 Urdu Lesson 5 | Jo Wada Karo So Poora Karo | Digital Textbook Layout Lesson No: سبق نمبر 5 | Class: 5 | Subject: اردو | Topic: جو وعدہ کرو سو پورا کرو | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore the inspiring stories of Hazrat Umar Farooq (RA) and the importance of fulfilling promises in this digital version of Class 5 Urdu Lesson 5. Designed for Excellence Online Learning School with clear Nastaliq typography and pedagogical notes.
جو وعدہ کرو سو پورا کرو
حاصلاتِ تعلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- اُردو زبان کے حوالے سے برقی میڈیا سے اپنی پسند کا مواد سُن کر سمجھیں اور دہرا سکیں۔
- جماعت پنجم کا متن کم از کم سو (۱۰۰) الفاظ فی منٹ کی شرح سے درستی کے ساتھ پڑھ سکیں۔
- لکھتے وقت واقعات کی ترتیب کا خیال رکھ سکیں۔
- اپنی تحریر کو عنوان، آغاز، پیش کش اور اختتامیہ وغیرہ کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
- رموزِ اوقاف (واوین) کا استعمال کر سکیں۔
- اسمِ معرفہ اور اسمِ نکرہ کا درست استعمال کر سکیں۔
- اُردو کے فروغ کے لیے جدید ذرائع ابلاغ (ٹی وی، موبائل فون، ٹیبلیٹ، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ وغیرہ) کا استعمال کر سکیں۔
- وہ کون سی اچھی عادات ہیں، جو آپ اپنے دوست میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ وجہ بھی بتائیں۔
- وعدہ پورا کرنا کسے کہتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں وعدہ پورا کرنے کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: ’’اور عہد کی پابندی کرو کیوں کہ عہد کے بارے میں تم سے سوال ہوگا۔‘‘ (سورہ: بنی اسرائیل: ۳۴)
نبی کریم خاتمُ النبیین ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘ (مُسند احمد)
جو وعدہ کرو سو پورا کرو
| شِکست | صادر | خلیفہ | وُسعت | ضمانت | پاس داری |
چھٹی کے روز دادا جان ہمیں دل چسپ واقعات اور سبق آموز کہانیاں سناتے ہیں۔ آج بھی محلے کے بچے ہمارے گھر اکٹھے ہوئے تاکہ دادا جان سے کوئی نئی کہانی یا واقعہ سیکھیں۔ جیسے ہی دادا جان بیٹھک میں داخل ہوئے، دانش نے بے چینی سے پوچھا: ’’دادا جان! آج آپ کون سی کہانی سنائیں گے؟‘‘
دادا جان (مسکراتے ہوئے): آج میں آپ کو دو واقعات سناؤں گا، جنھیں سننے کے بعد آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے ان سے کیا سبق سیکھا۔
ہم سب دادا جان کی بات پر راضی ہو گئے۔ دادا جان نے واقعہ سنانا شروع کیا۔
دادا جان: ملکِ ایران کے ایک صوبے کا حاکم کا نام تھا: ’’ہُرمزان‘‘۔ مسلمانوں کے ساتھ ایک جنگ میں اُسے شِکست ہو گئی۔ ہُرمزان جنگی قیدی کی حیثیت سے خلیفہ وقت کے دربار میں پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے اُس کے سامنے ایک شرط رکھی کہ اگر وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے اور اسلام قبول کر لے تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اُسے بخش دے۔ اسی میں اُس کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے، اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو پھر اسے اس کے جرائم کی سزا ملے گی۔ ہرمزان نے خلیفہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ خلیفہ نے ہرمزان کو قتل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ جب جلاد آ گیا تو ہرمزان نے پانی پینے کی درخواست کی اور خلیفہ سے کہا کہ جب تک میں پانی نہ پی لوں، آپ مجھے قتل نہیں کروائیں گے۔ خلیفہ نے وعدہ کر لیا کہ ہاں تمھیں پانی پینے سے پہلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہرمزان نے یہ سنتے ہی پانی زمین پر پھینک دیا۔
(دادا جان اتنا واقعہ سنا کر خاموش ہو گئے۔)
دانش: دادا جان! پھر کیا ہوا؟ کیا ہرمزان کو دوبارہ پانی دیا گیا یا اسے سزا دے دی گئی؟
دادا جان: بیٹا! خلیفہ کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ وعدہ کر چکے تھے اور اسلام میں وعدے کی پاس داری کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے خلیفہ نے جلاد کو واپس جانے کا حکم دیا۔ جب جلاد واپس چلا گیا تو ہرمزان نے خلیفہ کے سامنے اسلام قبول کر لیا اور کہا: ’’میں ایمان لاتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور حضرت محمد (خاتمُ النبیین ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘
خلیفہ اس کے ایمان لانے پر خوش ہوئے اور اسے پوچھا کہ پہلے تم نے انکار کیا اور اب اسلام قبول کر رہے ہو، اس کی کیا وجہ ہے؟ ہرمزان نے جواب دیا: ’’اے مسلمانوں کے خلیفہ! میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں تلوار کے ڈر سے مسلمان ہو رہا ہوں۔ آپ ایک سچے مسلمان ہیں، جو اپنا وعدہ نہیں توڑتے، اس لیے میں نے پانی زمین پر گرا دیا تھا۔ آپ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ اب میں اپنی خوشی سے اسلام قبول کر رہا ہوں۔‘‘
دادا جان نے واقعہ سنا کر ہم سے پوچھا۔ بچو! بھلا بتاؤ تو وہ کون سے خلیفہ تھے؟
ماجد: دادا جان! کوئی اشارہ دیجیے۔
دادا جان: وہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان کے دور میں اسلامی سلطنت نے خوب وُسعت اختیار کی۔ ہم سب نے ایک ساتھ جوش سے جواب دیا۔ ’’حضرت عُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘
’’شاباش!‘‘ دادا جان نے ہم سب کو شاباش دی۔
’’دادا جان! آپ نے دو واقعات سنانے کا وعدہ کیا تھا،‘‘ میں نے دادا جان کو ان کا وعدہ یاد کروایا۔
دادا جان: کیوں نہیں بیٹا! لو پھر سنو! حضرت عُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت کا ذکر ہے کہ دو نوجوان آپ کے پاس ایک شخص کی شکایت لے کر آئے کہ اس نے ہمارے والد کی جان لی ہے۔ وہ آدمی بھی وہیں پر موجود تھا۔ خلیفہ کے پوچھنے پر وہ کہنے لگا: ’’اے امیر المؤمنین! ان کا والد اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں گھس آیا تھا۔ میرے منع کرنے پر بھی وہ باز نہ آیا۔ میں نے ایک پتھر اٹھا کر اسے مارا، وہ پتھر اس کے سر میں لگا اور وہ وہیں مر گیا۔‘‘ وہاں موجود سب لوگ خلیفہ کے انصاف اور عدل کے بارے میں جانتے تھے۔ پتھر مارنے والے شخص کو موت کی سزا سنا دی گئی۔ اس شخص نے خلیفہ سے درخواست کی کہ مجھے صرف اتنی مُہلت دے دیں کہ اپنے گھر والوں کا بندوبست کر آؤں اور انھیں اپنی سزا کے بارے میں بتا آؤں۔ میرے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔ ایک بزرگ صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی ضمانت دی۔ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر یہ شخص واپس نہ آیا تو اس کے بدلے میں انھیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
- ہرمزان نے اسلام کیوں قبول کرنے کی کیا وجہ بتائی؟
- اس سبق میں کس خلیفہ کا ذکر کیا گیا ہے؟
- ضمانت دینے والے صحابی کا کیا نام تھا؟
Comments
Post a Comment