Urdu lesson Hasan e Suluk explanation, SNC Urdu class 5 notes Punjab board, Importance of good conduct in Urdu, Zafar and Abid story Urdu class 5.
حُسنِ سلوک
حاصلاتِ تعلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- مرکب جملے سُن کر سمجھ سکیں اور دہرا سکیں۔
- کسی بھی واقعے یا کہانی کو اپنے لفظوں میں درست لب و لہجے کے ساتھ بیان کر سکیں۔
- عبارت (نثر) پڑھ کر اس کے بارے میں موجود معلومات اور تصورات اخذ کر کے بیان کر سکیں۔
- اپنی تحریر کو عنوان، آغاز، پیشکش اور اختتامیہ وغیرہ کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
- اعراب کے بدلنے سے معانی کی تبدیلی کو سمجھ سکیں۔
- حروفِ شرط و جزا کا درست استعمال کر سکیں۔
- دوسروں کو تہنیت کارڈ تحریر کر سکیں۔
نیکی اور بھلائی سے کیا مراد ہے؟ آپ دوسروں کے ساتھ کس طرح کی نیکی کرتے ہیں؟
حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے: نیکی حسنِ اخلاق ہے۔ (صحیح مسلم)
تلفظ سیکھیں:
ظفر کے ابا جان ایک دفتر میں بڑے افسر تھے۔ وہ ایک شان دار مکان میں پُرسکون زندگی بسر کر رہے تھے۔ ظفر ان کا اکلوتا بیٹے تھا۔ اُسے ہر طرح کا عیش و آرام حاصل تھا۔ عام طور پر ماں باپ کا بے جا لاڈ پیار بچوں کی عادتیں بگاڑ دیتا ہے۔ وہ ضدی اور مغرور بن جاتے ہیں، لیکن ظفر ایسا نہ تھا۔ وہ ہر لحاظ سے ایک اچھا بچہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے ماں باپ بہت نیک دل اور مہربان تھے اور اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔
A high-quality 3D digital educational illustration of a kind young Pakistani boy named Zafar standing near a humble neighborhood, looking with empathy at a blind boy sitting on a wooden bench, bright and hopeful atmosphere, soft lighting, modern textbook art style.
ظفر کے گھر کے قریب ایک کچی آبادی تھی۔ وہ اس کچی آبادی کے پاس سے گزر کر سکول جاتا تھا۔ کچی آبادی کے بچوں کے پاس نہ کھلونے ہوتے اور نہ صاف ستھرے کپڑے۔ ویسے تو ظفر کو اس بستی کے سب ہی بچوں کے ساتھ ہمدردی تھی، مگر عابد کی حالت نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ غریب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نابینا بھی تھا۔ صرف دو برس کی عمر میں ایک مہلک بیماری کی وجہ سے اس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی۔ اب اس کی عمر گیارہ برس کے قریب تھی اور وہ ٹٹول ٹٹول کر چلتا تھا۔ جب اس کے ساتھی کھیل گود میں مصروف ہوتے تو وہ ایک طرف بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتا رہتا۔ ظفر جب بھی اسے دیکھتا تو تھوڑی دیر اس کے پاس رُک جاتا اور ہمدردانہ لہجے میں اس کا حال احوال پوچھتا۔
ایک دن ظفر نے اپنی اُردو کی کتاب میں سفید چھڑی کے بارے میں پڑھا جو آنکھوں سے محروم لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ نابینا لوگوں کے ہاتھ میں مضبوط چھڑی دیکھ کر دوسرے لوگ سڑک پار کرنے یا راستہ طے کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ظفر کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیا ہی اچھا ہو جو ایک سفید چھڑی عابد کو بھی مل جائے۔ وہ اس بات پر کئی دن تک غور کرتا رہا پھر اُس نے یہ عزم کیا کہ وہ اپنے جیب خرچ میں سے پیسے بچا کر عابد کے لیے ایک سفید چھڑی ضرور خریدے گا۔ اگلے دن اس کے چچا جان کوئٹہ سے لاہور آئے اور ظفر کی تعلیم میں نمایاں کارکردگی کا حال سُن کر ایک ہزار روپے کا نوٹ انعام کے طور پر دیا۔ ظفر انعام پا کر بہت خوش ہوا اور اُس...
نے چچا جان کا شکریہ ادا کیا۔ ان پیسوں سے اُس نے سفید چھڑی خرید کر عابد کو دے دی۔ عابد کو چھڑی دینے کے بعد ظفر کو ایسی خوشی کا احساس ہوا جو اس سے پہلے اسے کبھی نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف عابد بھی چھڑی پا کر بہت خوش تھا۔ ظفر کے ابا جان کا تبادلہ لاہور سے اسلام آباد ہو گیا۔ ظفر بھی ان کے ساتھ چلا گیا۔ پھر ظفر کے ابا جان کا تبادلہ جس شہر میں ہوتا، ظفر بھی ان کے ساتھ ساتھ جاتا۔ یوں وہ مختلف شہروں کے سکولوں میں پڑھتا رہا۔ نئے نئے دوست بناتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ لاہور کی وہ کچی آبادی اور اس میں رہنے والا عابد اسے یاد ہی نہ رہا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کوشش کر رہا تھا کہ کسی اچھے دفتر میں ملازمت کر لے۔
A professional 3D digital illustration of two young Pakistani men in a modern office. One is a successful officer sitting behind a desk, and the other is Zafar standing, both smiling warmly as they reunite after many years, representing a story of kindness and success, clean composition, vibrant colors.
ایک دن ظفر نے اخبار میں اشتہار دیکھ کر درخواست دی۔ کچھ دنوں بعد انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ انٹرویو کے لیے ظفر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک خوب صورت اور بارعب نوجوان ایک بڑی سی میز کے پیچھے گھومنے والی کرسی پر بیٹھا ہے۔ جب ظفر نے اس نوجوان کو غور سے دیکھا تو بولا: "اگر میں غلطی پر نہیں تو آپ کا نام عابد ہے؟"
اُس نے ہاں میں سر ہلایا اور کہنے لگا: "آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟" ظفر بولا: "بہت عرصہ پہلے میں لاہور میں رہتا تھا، میرا نام ظفر ہے۔" یہ سُن کر وہ نوجوان فوراً کھڑا ہو گیا اور ظفر سے گلے ملا۔ وہ نوجوان عابد ہی تھا۔ اس نے ظفر کو اپنی کہانی سنائی: "میں تمھاری دی ہوئی چھڑی لیے سڑک پار کر رہا تھا کہ ایک خاتون نے مجھے روک لیا۔ وہ میرے ساتھ گھر تک آئیں اور ابا جان سے بات کرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ لے گئیں۔ وہ خاتون ایک سکول کی پرنسپل تھیں، جہاں نابینا بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ انھوں نے مجھے سکول میں داخل کر لیا اور میں خوب دل لگا کر پڑھنے لگا۔"
ٹھہریں اور بتائیں:
- عابد کی بینائی کیوں ختم ہوگئی تھی؟
- ظفر، عابد سے کیوں ہمدردی رکھتا تھا؟
- سفید چھڑی کون لوگ استعمال کرتے ہیں؟
- عابد کی بینائی واپس کیسے آئی؟
وہ بول رہا تھا کہ کچھ عرصے بعد ایک ڈاکٹر صاحب ہمارے سکول میں آئے اور پرنسپل صاحبہ کی اجازت کے ساتھ مجھے اپنے ساتھ ہسپتال لے گئے۔ انھوں نے میری آنکھوں کا علاج کیا اور اس طرح میری بینائی واپس آگئی۔ ظفر عابد کی روداد سُن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا: "سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید چھڑی دی ہے، یعنی نیکی کے راستے پر چلنے کی سوچ۔ جو بھی اس راہ پر چلے گا فائدے میں رہے گا۔"
دونوں اس بات پر خوش تھے کہ نیکی کے چھوٹے چھوٹے کاموں سے بڑی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ دونوں نے مل کر اسی طرح دوسروں کی مدد جاری رکھنے کا عہد کیا۔
ہم نے سیکھا
- نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
- حسنِ سلوک سے زندگیاں بدلی جا سکتی ہیں۔
Comments
Post a Comment