آئیں! مدد کریں
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- سن کر گفتگو کے اہم نکات کو سمجھ کر بتا سکیں۔
- کہانی سن کر خاص خاص نکات بیان کر سکیں۔
- نصاب کے علاوہ بچوں کے اخبارات، رسائل اور جرائد سے مضامین اور کہانیاں سمجھ کر پڑھ سکیں۔
- واقعے یا ماحول کا مشاہدہ کر کے تحریری اظہار کر سکیں۔
- املا کو صحت کے ساتھ تحریر کر سکیں۔
- کسی موضوع پر مختصر مضمون تحریر کرسکیں۔
- حروفِ ندا، استعجاب، افسوس کا استعمال کر سکیں۔
- قدرتی آفات اور ہنگامی صورت حال میں اپنے اور دوسروں کے بچاؤ کی تدابیر کر سکیں۔
- ایک دوسرے کی مدد کرنا کیسا عمل ہے؟ اگر آپ نے کسی مشکل میں اپنے دوست کی مدد کی ہو تو اس کے بارے میں بتائیں۔
- پاکستان میں خدمتِ خلق کرنے والے کسی فلاحی ادارے کے بارے میں بتائیں۔
- سکاؤٹنگ تحریک کے بانی لارڈ بیڈن پاول تھے اور گرل گائیڈ تحریک کی بنیاد ان کی بہن ایگنس نے رکھی تھی۔
- ہر چار سال بعد سکاؤٹس کا ایک بین الاقوامی اجتماع منعقد ہوتا ہے، جسے "سکاؤٹ جمبوری" کہتے ہیں۔ اس میں سکاؤٹوں کے مابین مختلف مقابلے ہوتے ہیں۔
آئیں! مدد کریں
علی اور شازیہ سکول سے واپس آ رہے تھے۔ چوک میں پہنچے تو ٹریفک کی سرخ بتی جل اٹھی۔ ساری ٹریفک رک گئی۔ ابا جان بھی رک گئے لیکن ایک موٹر سائیکل سوار سرخ بتی کی پروا کیے بغیر آگے بڑھا اور دوسری طرف سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا کر دور جا گرا۔ اس کے اردگرد لوگ جمع ہو گئے۔ علی اور ابا جان بھی گاڑی سے نکلے تاکہ اس لڑکے کی مدد کی جائے۔ انھوں نے دیکھا کہ لڑکے کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور بازو کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اتنے میں ہجوم میں سے دو نوجوان آگے بڑھے، انھوں نے زخمی کے سر پر پٹی کی اور اس کے بازو کو سیدھا کر کے دو پتلی لکڑیوں سے باندھ دیا۔
علی نے ان سے پوچھا: "بھائی جان! کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟" ان میں سے ایک نوجوان نے جواب دیا: "نہیں ہم سکاؤٹ ہیں اور ہم نے ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کی ہوئی ہے۔" تھوڑی ہی دیر میں ایمبولینس بھی آگئی۔ زخمی کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔
علی اور ابا جان گاڑی میں واپس آبیٹھے۔ علی نے ابا جان سے پوچھا: "ابا جان! یہ سکاؤٹ کیا ہوتے ہیں؟" ابا جان بولے: "بیٹا! سکاؤٹ سکولوں اور کالجوں میں قائم سکاؤٹ تنظیموں کے ارکان ہوتے ہیں۔ اس میں طلبہ کو اپنے کام خود کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ جہاں کہیں بھی کوئی مشکل آئے، کوئی آفت آجائے یا کوئی حادثہ ہو، سکاؤٹ وہاں لوگوں کے کام آتے ہیں۔"
علی: ابا جان! اس تنظیم کے بارے میں کچھ اور باتیں بھی بتائیں۔ یہ تو بڑی اچھی تنظیم ہے۔
ابا جان: بیٹا! سکاؤٹ تنظیم کی بنیاد ۱۹۰۸ء میں برطانوی فوج کے ایک افسر رابرٹ بیڈن پاول نے رکھی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد نوجوانوں کو جسمانی اور دماغی طور پر مضبوط بنانا تھا تا کہ نوجوان معاشرے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر سکیں۔
علی: ابا جان! کیا میں بھی سکاؤٹ بن سکتا ہوں؟
ابا جان: (مسکراتے ہوئے) کیوں نہیں بیٹا! اس تنظیم میں عمر کے لحاظ سے سکاؤٹس کے تین درجے ہیں۔
ابا جان: ۱۔ سات سے گیارہ سال تک کے سکاؤٹ شاہین سکاؤٹس کہلاتے ہیں۔
۲۔ گیارہ سے سترہ سال تک کے سکاؤٹ بوائے سکاؤٹس کہلاتے ہیں۔
۳۔ سترہ سے پچیس سال تک کے سکاؤٹ روور سکاؤٹس (Rover scouts) کہلاتے ہیں۔
شازیہ جو کافی دیر سے چپ تھی، بولی: "ابا جان! کیا یہ تنظیم صرف لڑکوں کے لیے ہے؟"
- پاکستان میں گرل گائیڈ تنظیم کب بنائی گئی؟
- سکاؤٹ تنظیم کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
- ۲۰۰۵ء میں کون سا واقعہ پیش آیا؟
ابا جان: نہیں بیٹی! اس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ طلبہ کی تنظیم سکاؤٹنگ کہلاتی ہے، جب کہ طالبات کی تنظیم کو گرلز گائیڈ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں طالبات کی یہ تنظیم ۱۹۴۷ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس میں بھی تین درجے ہوتے ہیں:
- جونیئر گائیڈ: یہ گیارہ سال کی عمر تک کی طالبات کے لیے ہوتی ہے۔
- گرل گائیڈ: اس میں سولہ سال کی عمر تک کی طالبات شامل ہوتی ہیں۔
- سینئر گائیڈ: اس میں سترہ سے اکیس سال کی عمر تک کی طالبات شامل ہو سکتی ہیں۔
سکاؤٹنگ اور گرل گائیڈ کی تنظیموں کے رکن بچے ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ مددگار اور خوش اخلاق ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سکاؤٹس اور گرل گائیڈز سے عہد بھی لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک، تنظیم اور والدین کے وفادار رہیں گے۔ وہ جانوروں پر رحم کریں گے۔ اپنے قول و فعل اور خیالات کو ہمیشہ پاک صاف رکھیں گے۔ کفایت شعاری اختیار کریں گے۔ ہمیشہ خدمتِ خلق کے کام کریں گے۔ ہر ایک کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اور باقی سکاؤٹس کو اپنا دوست سمجھیں گے۔
علی: یہ تو بڑے اچھے اور مفید اصول ہیں۔
ابا جان: سکاؤٹ اور گرل گائیڈ اتنے خود اعتماد ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں ہمت نہیں ہارتے۔ ہر قسم کے ہنگامی حالات کے لیے تیار رہتے ہیں۔
شازیہ: ابا جان! یہ کون کون سے کام کر لیتے ہیں؟
ابا جان: ان کو مختلف قسم کے کاموں کی تربیت دی جاتی ہے۔ انھیں خیمے لگانا، مختلف گرہیں لگانا اور تیراکی کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جاتی ہے۔ انھیں ہر قسم کی مشکلات سے لڑنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں۔ ۲۰۰۵ء کے زلزلے میں انھوں نے بہت سے لوگوں کو ملبے سے نکالا اور ان کی مرہم پٹی کی۔ خاص طور پر عورتوں اور بچوں کی مدد کی اور انھیں خوراک اور ادویات بھی مہیا کیں۔
شازیہ: ابا جان! میں بھی گرل گائیڈ کی تربیت حاصل کروں گی اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کروں گی۔ علی بھی جلدی سے بولا: "میں بھی۔"
ابا جان مسکرا دیے۔
- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment