Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 5 Urdu Lesson 14 - Aao Bacho Suno Kahani | Moral Story & Analysis

 

Explore the engaging story of Lesson 14 for Class 5 Urdu, "Aao Bacho! Suno Kahani." Learn about honesty, the wisdom of a king, and the consequences of greed through the story of two butchers and a deceitful beggar. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).

Explore the engaging story of Lesson 14 for Class 5 Urdu, "Aao Bacho! Suno Kahani." Learn about honesty, the wisdom of a king, and the consequences of greed through the story of two butchers and a deceitful beggar. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).

جماعت: پنجم
سبق نمبر: ۱۴
مضمون: اردو

آؤ بچو! سنو کہانی

(برائے مطالعہ)
سوچیں اور بتائیں
  • آپ کو کس طرح کی کہانیاں سننا اور پڑھنا پسند ہیں؟ وجہ بھی بتائیں۔
  • اگر آپ کو کوئی کہانی لکھنے کے لیے کہا جائے تو آپ کیسی کہانی لکھنا چاہیں گے؟

یہ کہانی ہے پرانے زمانے کے دو دوستوں کی۔ دونوں کاروبار کے سلسلے میں اپنے ہمسایہ ملک گئے۔ شروع میں تو انھیں کوئی خاص روزگار نہ ملا اور وہ چھوٹے موٹے کاموں سے گزارا کرتے رہے۔ انھوں نے پھر قصاب کا پیشہ اختیار کیا اور گوشت فروخت کرنے لگے۔ کچھ مدت کے بعد جب ان کے پاس خاصی رقم جمع ہو گئی تو انھوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنی ساری کمائی ایک تھیلی میں ڈالی اور واپسی کی راہ لی۔

راستے میں انھوں نے ایک اندھے فقیر کو صدا لگاتے دیکھا: ”ہائے میری قسمت! آنکھوں کی روشنی بھی گئی اور دولت بھی۔ کاش! مجھے ایک بار پھر اپنے ہاتھ پر روپیہ رکھنے کا موقع مل جائے“ وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ ان دونوں نے اندھے فقیر کی گریہ وزاری سنی تو اس سے پوچھا: ”بھائی! تم ہو کون اور قسمت سے یوں شکوہ کیوں کر رہے ہو؟“

اندھے فقیر نے ایک آہ بھری اور کہا: ”کیا بتاؤں بھائیو! ایک وقت تھا، میں بھی تمھاری طرح سکھی تھا۔ میری بھی بہت سی جائیداد تھی۔ میری بدقسمتی کہ سب کچھ تباہ ہو گیا اور میں امیر سے فقیر ہو گیا۔“ ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے کہا: ”مگر تم یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ کاش! ایک بار پھر اپنے ہاتھ پر روپیہ رکھنے کا موقع مل جائے؟“

اندھے فقیر نے کہا: ”کبھی میرے پاس ہزاروں روپے ہوتے تھے۔ اب جی چاہتا ہے کہ اپنا نہ سہی، دوسروں کا روپیہ ہی اپنے ہاتھ پر رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے جی خوش کر لوں۔“

وہ دونوں بہت رحم دل تھے۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنی تھیلی فقیر کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا: ”لو بھائی! تم اپنا دل خوش کر لو۔“

اندھے فقیر نے ان کا شکریہ ادا کیا اور تھیلی کھول کر سکے ٹولنے لگا. تھوڑی دیر بعد دونوں دوستوں نے اپنی تھیلی فقیر سے واپس مانگی۔ یہ سنتے ہی فقیر کے تیور بدل گئے۔ اس نے کہا: ”تھیلی۔۔۔۔ کون سی تھیلی؟ کس کی تھیلی؟“ وہ کہنے لگے: ”بس! اب بہت ہو گیا مذاق۔ ہماری تھیلی واپس کرو ہمیں اپنے وطن واپس جانا ہے۔“

برائے اساتذہ: اس بات کو یقینی بنائیں کہ مختلف کہانیاں اور واقعات پڑھ کر یا سن کر بچے اپنے ردعمل کا اظہار کر سکیں۔ بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ مثبت عادات اپنائیں۔ دھوکا دہی، جھوٹ بولنے ، کسی کا مال ہتھیانے جیسی عادات کو برا جانیں۔

فقیر نے تھیلی کو مضبوطی سے تھام لیا اور کہنے لگا: ”کیا زمانہ آگیا ہے! ساری عمر بھیک مانگ کر میں نے پیسا جمع کیا اور تم میری عمر بھر کی کمائی چھیننا چاہتے ہو۔“ اتنا کہہ کر فقیر چل دیا۔ ان دونوں نے فقیر سے اپنی تھیلی چھیننے کی کوشش کی تو وہ زور زور سے چلانے لگا: ”ارے لوگو! مجھے بچاؤ۔۔۔ یہ ڈاکو مجھے لوٹ رہے ہیں۔“

فقیر کی چیخ پکار سن کر لوگ دوڑے چلے آئے اور ان دونوں کو ڈاکو سمجھ کر پکڑ لیا۔ وہ بے چارے لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ پیسا ان کا ہے، فقیر نے دھوکے سے ہتھیایا ہے مگر ان کی بات کسی نے نہ سنی۔ جب مسئلے کا کوئی حل نہ نکلا تو لوگ اس فقیر اور دونوں آدمیوں کو بادشاہ کے دربار میں لے گئے۔ بادشاہ بہت عقل مند تھا۔ اس نے پہلے فقیر اور پھر دونوں آدمیوں کی کہانی سنی۔ کچھ دیر غور کرنے کے بعد اس نے ایک بڑی سی کڑاہی منگوائی اور حکم دیا کہ اس کڑاہی میں پانی ڈال کر گرم کیا جائے۔

دونوں آدمی بادشاہ کا حکم سن کر ڈر گئے۔ ان کا خیال تھا کہ بادشاہ انھیں کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر مار دے گا۔ موت کے خیال سے وہ لرز گئے۔ بادشاہ کی سخت گیری اور انصاف پسندی بہت مشہور تھی۔ کڑاہی میں پانی ابلنے لگا. بادشاہ نے حکم دیا: ”تھیلی کھول کر سارے سکے پانی میں ڈال دو۔“ بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی اور سارے سکے پانی میں ڈال دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کو کڑاہی سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا اور خود کڑاہی کے پاس جا کر پانی کی سطح کو غور سے دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ واپس اپنے تخت پر جا بیٹھا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا: ”کڑاہی کا پانی گرا دیا جائے۔ روپے ان دونوں کے حوالے کر دیے جائیں۔ فقیر جھوٹا ہے اسے قید میں ڈال دیا جائے۔“

بادشاہ کا فیصلہ سن کر دونوں آدمیوں کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شاہی فیصلے کے مطابق انھیں ان کا روپیہ واپس مل گیا۔ دونوں بادشاہ کو دعائیں دیتے رخصت ہو گئے۔ فقیر کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

دربار میں موجود ہر شخص حیران تھا کہ بادشاہ کو ان آدمیوں کی سچائی اور فقیر کے جھوٹ کا کیسے پتا چلا؟ لوگ یہ بات جاننے کے لیے بے چین تھے۔ آخر قاضی نے ہمت کر کے پوچھا تو بادشاہ نے کہا: ”ہم نے گرم پانی کی سطح پر گوشت کی چکنائی دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ روپیہ ان دونوں نے گوشت فروخت کر کے کمایا ہے۔“ بادشاہ کی بات سن کر دربار میں موجود ہر شخص بادشاہ کی دانائی اور انصاف پسندی پر اش اش کر اٹھا۔ سچ ہے سانچ کو آنچ نہیں۔

❦❦❦

سمجھیں اور بتائیں

  1. دونوں دوستوں نے کون سا پیشہ اختیار کیا؟
  2. اندھے فقیر نے کس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؟
  3. بادشاہ نے مسئلے کا حل کیسے نکالا؟
  4. اندھا فقیر کون سے الفاظ بار بار دہرا رہا تھا؟
  5. اگر آپ بادشاہ کی جگہ ہوتے تو سچائی کا کھوج کیسے لگاتے؟
  6. اس کہانی میں کیا اخلاقی سبق پوشیدہ ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...