Explore the engaging story of Lesson 14 for Class 5 Urdu, "Aao Bacho! Suno Kahani." Learn about honesty, the wisdom of a king, and the consequences of greed through the story of two butchers and a deceitful beggar. Created by Excellence Online Learning School (EOLS).
آؤ بچو! سنو کہانی
(برائے مطالعہ)- آپ کو کس طرح کی کہانیاں سننا اور پڑھنا پسند ہیں؟ وجہ بھی بتائیں۔
- اگر آپ کو کوئی کہانی لکھنے کے لیے کہا جائے تو آپ کیسی کہانی لکھنا چاہیں گے؟
یہ کہانی ہے پرانے زمانے کے دو دوستوں کی۔ دونوں کاروبار کے سلسلے میں اپنے ہمسایہ ملک گئے۔ شروع میں تو انھیں کوئی خاص روزگار نہ ملا اور وہ چھوٹے موٹے کاموں سے گزارا کرتے رہے۔ انھوں نے پھر قصاب کا پیشہ اختیار کیا اور گوشت فروخت کرنے لگے۔ کچھ مدت کے بعد جب ان کے پاس خاصی رقم جمع ہو گئی تو انھوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنی ساری کمائی ایک تھیلی میں ڈالی اور واپسی کی راہ لی۔
راستے میں انھوں نے ایک اندھے فقیر کو صدا لگاتے دیکھا: ”ہائے میری قسمت! آنکھوں کی روشنی بھی گئی اور دولت بھی۔ کاش! مجھے ایک بار پھر اپنے ہاتھ پر روپیہ رکھنے کا موقع مل جائے“ وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ ان دونوں نے اندھے فقیر کی گریہ وزاری سنی تو اس سے پوچھا: ”بھائی! تم ہو کون اور قسمت سے یوں شکوہ کیوں کر رہے ہو؟“
اندھے فقیر نے ایک آہ بھری اور کہا: ”کیا بتاؤں بھائیو! ایک وقت تھا، میں بھی تمھاری طرح سکھی تھا۔ میری بھی بہت سی جائیداد تھی۔ میری بدقسمتی کہ سب کچھ تباہ ہو گیا اور میں امیر سے فقیر ہو گیا۔“ ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے کہا: ”مگر تم یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ کاش! ایک بار پھر اپنے ہاتھ پر روپیہ رکھنے کا موقع مل جائے؟“
اندھے فقیر نے کہا: ”کبھی میرے پاس ہزاروں روپے ہوتے تھے۔ اب جی چاہتا ہے کہ اپنا نہ سہی، دوسروں کا روپیہ ہی اپنے ہاتھ پر رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے جی خوش کر لوں۔“
وہ دونوں بہت رحم دل تھے۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنی تھیلی فقیر کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا: ”لو بھائی! تم اپنا دل خوش کر لو۔“
اندھے فقیر نے ان کا شکریہ ادا کیا اور تھیلی کھول کر سکے ٹولنے لگا. تھوڑی دیر بعد دونوں دوستوں نے اپنی تھیلی فقیر سے واپس مانگی۔ یہ سنتے ہی فقیر کے تیور بدل گئے۔ اس نے کہا: ”تھیلی۔۔۔۔ کون سی تھیلی؟ کس کی تھیلی؟“ وہ کہنے لگے: ”بس! اب بہت ہو گیا مذاق۔ ہماری تھیلی واپس کرو ہمیں اپنے وطن واپس جانا ہے۔“
فقیر نے تھیلی کو مضبوطی سے تھام لیا اور کہنے لگا: ”کیا زمانہ آگیا ہے! ساری عمر بھیک مانگ کر میں نے پیسا جمع کیا اور تم میری عمر بھر کی کمائی چھیننا چاہتے ہو۔“ اتنا کہہ کر فقیر چل دیا۔ ان دونوں نے فقیر سے اپنی تھیلی چھیننے کی کوشش کی تو وہ زور زور سے چلانے لگا: ”ارے لوگو! مجھے بچاؤ۔۔۔ یہ ڈاکو مجھے لوٹ رہے ہیں۔“
فقیر کی چیخ پکار سن کر لوگ دوڑے چلے آئے اور ان دونوں کو ڈاکو سمجھ کر پکڑ لیا۔ وہ بے چارے لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ پیسا ان کا ہے، فقیر نے دھوکے سے ہتھیایا ہے مگر ان کی بات کسی نے نہ سنی۔ جب مسئلے کا کوئی حل نہ نکلا تو لوگ اس فقیر اور دونوں آدمیوں کو بادشاہ کے دربار میں لے گئے۔ بادشاہ بہت عقل مند تھا۔ اس نے پہلے فقیر اور پھر دونوں آدمیوں کی کہانی سنی۔ کچھ دیر غور کرنے کے بعد اس نے ایک بڑی سی کڑاہی منگوائی اور حکم دیا کہ اس کڑاہی میں پانی ڈال کر گرم کیا جائے۔
دونوں آدمی بادشاہ کا حکم سن کر ڈر گئے۔ ان کا خیال تھا کہ بادشاہ انھیں کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر مار دے گا۔ موت کے خیال سے وہ لرز گئے۔ بادشاہ کی سخت گیری اور انصاف پسندی بہت مشہور تھی۔ کڑاہی میں پانی ابلنے لگا. بادشاہ نے حکم دیا: ”تھیلی کھول کر سارے سکے پانی میں ڈال دو۔“ بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی اور سارے سکے پانی میں ڈال دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کو کڑاہی سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا اور خود کڑاہی کے پاس جا کر پانی کی سطح کو غور سے دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ واپس اپنے تخت پر جا بیٹھا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا: ”کڑاہی کا پانی گرا دیا جائے۔ روپے ان دونوں کے حوالے کر دیے جائیں۔ فقیر جھوٹا ہے اسے قید میں ڈال دیا جائے۔“
بادشاہ کا فیصلہ سن کر دونوں آدمیوں کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شاہی فیصلے کے مطابق انھیں ان کا روپیہ واپس مل گیا۔ دونوں بادشاہ کو دعائیں دیتے رخصت ہو گئے۔ فقیر کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
دربار میں موجود ہر شخص حیران تھا کہ بادشاہ کو ان آدمیوں کی سچائی اور فقیر کے جھوٹ کا کیسے پتا چلا؟ لوگ یہ بات جاننے کے لیے بے چین تھے۔ آخر قاضی نے ہمت کر کے پوچھا تو بادشاہ نے کہا: ”ہم نے گرم پانی کی سطح پر گوشت کی چکنائی دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ روپیہ ان دونوں نے گوشت فروخت کر کے کمایا ہے۔“ بادشاہ کی بات سن کر دربار میں موجود ہر شخص بادشاہ کی دانائی اور انصاف پسندی پر اش اش کر اٹھا۔ سچ ہے سانچ کو آنچ نہیں۔
سمجھیں اور بتائیں
- دونوں دوستوں نے کون سا پیشہ اختیار کیا؟
- اندھے فقیر نے کس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؟
- بادشاہ نے مسئلے کا حل کیسے نکالا؟
- اندھا فقیر کون سے الفاظ بار بار دہرا رہا تھا؟
- اگر آپ بادشاہ کی جگہ ہوتے تو سچائی کا کھوج کیسے لگاتے؟
- اس کہانی میں کیا اخلاقی سبق پوشیدہ ہے؟
Comments
Post a Comment