اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
Explore the digital book version of the Class 5 Urdu lesson "Aik Gaye aur Bakri" by Allama Muhammad Iqbal. Designed in the premium SNC textbook style for Pakistani students and teachers, featuring Noto Nastaliq Urdu typography, learning objectives, and teacher notes for Excellence Online Learning School.
جماعت: پنجم
مضمون: اردو
ایکسلنس آن لائن لرننگ اسکول
سبق ۱۰
ایک گائے اور بکری
حاصلاتِ تعلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- سنی ہوئی چیزوں کی تفہیم کر کے بتا سکیں۔
- نظم پڑھ کر اس کے کرداروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکیں۔
- شعر یا نظم پڑھ کر اس کا مفہوم تحریر کر سکیں۔
- واحد کو جمع میں تبدیل کر کے بتا/لکھ سکیں۔
- غلط جملوں کو درست کر سکیں۔
سوچیں اور بتائیں
- اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات کا شکر کیسے ادا کرنا چاہیے؟
- چند ایسے جانوروں کے نام بتائیں جن کا ہم دودھ پیتے ، گوشت کھاتے اور ان کی کھال کو بھی استعمال میں لاتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
- علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھی ہیں، جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: بچے کی دُعا، ماں کا خواب، ہمدردی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک مکڑا اور مکھی، پرندے کی فریاد وغیرہ۔
- علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو جنوری ۱۹۲۳ء میں ’سر‘ کا خطاب ملا۔ ان کی کئی کتب کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔
(برائے اساتذہ کرام: تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے سبق کے ”حاصلاتِ تعلم“ دیے جا رہے ہیں، جو اساتذہ کرام کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ سبق کا متن پڑھانے سے قبل ”سوچیں اور بتائیں“ کے سوالات بچوں سے پوچھیں تا کہ وہ پڑھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو سکیں۔ ”ٹھہریں اور بتائیں“ کے سوالات متن پڑھانے کے دوران میں بچوں سے پوچھیں۔ ”کیا آپ جانتے ہیں؟“ میں دی ہوئی معلومات بھی بچوں کو موقع محل کے مطابق دی جائیں۔)
۶۴
ایک گائے اور بکری
تلفظ سیکھیںچراگاہ | سراپا | سلیقے | دہائی | ماجرا | زیبا | پچھتائی
اک چراگاہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر ادھر اُدھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں؟
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں
کٹ رہی ہے بُری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے، خدا نہ کرے
دُودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دُبلی تو بیچ کھاتا ہے
اس کے بچوں کو پالتی ہوں میں
دُودھ سے جان ڈالتی ہوں میں
بدلے نیکی کے یہ بُرائی ہے
میرے اللہ! تیری دہائی ہے
(برائے اساتذہ کرام: بچوں سے درست تلفظ اور روانی سے نظم کی خواندگی کروائیں۔ مشکل الفاظ دو سے تین بار بلند آواز سے خود پڑھیں پھر نظم بچوں سے پڑھوائیں۔ نظم کی طوالت کی وجہ سے منتخب اشعار دیے گئے ہیں۔ اساتذہ کرام مناسب سمجھیں تو مکمل نظم بچوں کو پڑھا / سنا سکتے ہیں۔)
ٹھہریں اور بتائیں
- اس نظم میں کن دو کرداروں کے درمیان مکالمہ پیش کیا گیا ہے اور تیسرا کردار کس کا ہے؟
- بکری نے گائے کی بات سُن کر کیا کہا؟
سُن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی، ایسا گلہ نہیں اچھا
بات سچی ہے بے مزہ لگتی
میں کہوں گی مگر خدا لگتی
یہ چراگاہ یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایہ
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں!
یہ کہاں، بے زباں غریب کہاں
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گلہ اس کا
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا گلہ نہ کرو
گائے سُن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گلے سے پچھتائی
دل میں پرکھا بھلا بُرا اس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
(علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ)
ہم نے سیکھا
- ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
- اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں پر خوش ہونا چاہیے۔
- اگر کسی پر احسان کریں تو اسے جتانا نہیں چاہیے۔
Comments
Post a Comment