📖 آتے ہیں کام دوسروں کے
🎯 حاصلاتِ تعلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- 🗣️ کسی بھی موضوع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اردو مباحثے میں حصہ لے سکیں۔
- 📖 تین پیرا گراف پر مشتمل کہانی لکھ سکیں۔
- 📝 اسم ضمیر کی (حالت فاعلی) پہچان کر درست استعمال کر سکیں۔
- 🌿 ارد گرد کے ماحول سے متعلق بات چیت میں حصہ لے سکیں۔
- 🆘 ہنگامی صورت حال (حادثہ، سیلاب، زلزلہ وغیرہ) میں اپنی حفاظت کے ساتھ دوسروں کی مدد کر سکیں۔
- 🎭 کہانیوں اور نظموں میں دیے گئے فطری مناظر ، کیفیات اور حالات پر اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں۔
- 🔤 اعراب کی تبدیلی سے معنی کی تبدیلی کو پہچان سکیں۔
💭 سوچیں اور بتائیں
🌟 کیا آپ جانتے ہیں؟
حکیم محمد سعید، نعمت اللہ خان، عبد الستار ایدھی اور ڈاکٹر رتھ فاؤ نے خدمت خلق کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ یہ عظیم شخصیتیں ہمیشہ دوسروں کی مدد کی روشنی بنی رہیں۔
🗣️ تلفظ سیکھیں | اہم الفاظ
دیکھتے ہی دیکھتے کرونا وبا پوری دنیا میں پھیل گئی۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔ مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت نے سکولوں میں چھٹیاں کر دیں اور تمام سرکاری اور نجی ادارے بند کر دیے۔ لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے۔ گلی کوچے ویران اور سڑکیں سنسان تھیں۔ بعض لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا۔ غریب لوگوں کی زندگی خاص طور پر بہت مشکل ہوگئی۔
📖 کہانی: احسان اور خدمتِ خلق
ایک دن احسان کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ احسان کے ابا جان صدیق صاحب باہر نکلے، احسان بھی ان کے ساتھ تھا۔ باہر دو افراد منہ پر ماسک چڑھائے دور دور کھڑے تھے۔ صدیق صاحب نے ان دونوں افراد کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر ان دونوں افراد نے گاڑی سے سامان نکالا۔ صدیق صاحب نے گھر سے ایک تھیلا آٹا، کھانے پینے کا سامان لیا اور ان کی گاڑی میں ڈال دیا اور صدیق صاحب نے انہیں کچھ رقم بھی دی، جس کا انہوں نے شکریہ ادا کیا اور چل دیے۔
صدیق صاحب نے مزید بتایا: اس وبا سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو دن کو محنت مزدوری کر کے شام کو اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرتے تھے۔ اب انہیں کام نہیں مل رہا، وہ خالی ہاتھ ہیں۔ یہ لوگ ضرورت کی چیزیں ایسے لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں تاکہ ان کی ضروریات پوری ہوسکیں۔
احسان نے پوچھا کہ کیا یہ تنظیمیں صرف وبا کے موقع پر کام کرتی ہیں؟ صدیق صاحب نے بتایا: یہ تنظیمیں ہر قسم کی قدرتی آفات میں لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے کام آتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تنظیمیں عام حالات میں بھی لاچار، بیمار اور غریب لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینس مہیا کرتی ہیں، خون کا بندوبست کرتی ہیں، ہسپتال بناتی ہیں، غریب طالب علموں کو وظائف دیتی ہیں اور بے روزگاروں کو قرضے فراہم کرتی ہیں۔
احسان نے کچھ دیر سوچا پھر اپنی جیب سے سو روپے کا نوٹ نکالا اور اپنے ابا جان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: "اگلی دفعہ جب یہ لوگ آئیں تو ان کو میری طرف سے دے دیجیے گا۔"
📌 ہم نے سیکھا
✨ انسان کی عظمت کا راز
انسان کی عظمت کا راز دوسروں کی خدمت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اردو کی چوتھی کتاب کا سبق نمبر 9 "آتے ہیں کام دوسروں کے" ہمیں یہی سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔ اس سبق میں خاص طور پر کرونا وبا کے دوران پیش آنے والے حالات اور سماجی تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
❓ ٹھہریں اور بتائیں
✨ نتیجہ: "آتے ہیں کام دوسروں کے" محض ایک سبق نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اچھا انسان وہی ہے جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالیں۔
📖 آتے ہیں کام دوسروں کے
سبق نمبر ۹ | خدمتِ خلق کی راہیں | جماعت چہارم
📚 تعلیمی وسائل اور مزید رہنمائی کے لیے آپ Excellence Online Learning School سے رجوع کر سکتے ہیں جہاں طلبہ کے لیے بہترین مواد دستیاب ہے۔
⭐ کلاس 4 کے دیگر اسباق، مشقی سوالات اور اردو گرامر کے لیے وزٹ کریں۔
Comments
Post a Comment