شان دار فیصلے
حاصلاتِ تعلم
اس سبق کے مطالعے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدل و انصاف اور اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں جان سکیں۔
- حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو "فاروق" کیوں کہا جاتا ہے؟
- امیر المومنین کس کا لقب ہوتا ہے؟
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دین اسلام کی مکمل اطاعت اور اتباع میں پیش پیش رہتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں عدل و انصاف کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ عدل کے معاملے میں، خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ذات کو کبھی کوئی اہمیت نہ دیتے۔ اللہ اور اس کے رسول خاتم النبیین ﷺ کے معاملے میں وہ کسی کی نہ سنتے۔ حق، سچ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے انھیں 'فاروق' یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا، کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شان دار فیصلوں اور اطاعت رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
درج ذیل دو واقعات سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اعلیٰ کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ مثالی کردار اصل اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبیین ﷺ کی کامل اطاعت کا روشن باب ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف ہو گیا۔ اس مسئلے کے حل اور فیصلے کے لیے دونوں اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنا معاملہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گئے تاکہ وہ ان کے معاملے کا فیصلہ انصاف کے سنہری اصولوں کے مطابق کریں۔ جب دونوں اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم، حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر المومنین ہونے کی وجہ سے اپنے برابر بٹھانا چاہا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کو اپنے لیے پسند نہ کیا اور فرمایا:
مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قسم آئی تھی مگر قاضی صاحب (حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے احتراماً حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ چاہیں تو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قسم نہ لیں۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ صرف قسم اٹھائی بلکہ یہ بھی فرمایا:
اسی طرح ایک دوسرا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اطاعت اور عشق رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کی خوب صورت مثال ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی ذات بابرکات کا کس قدر پاس تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ایک روز نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے صاف ستھرے لباس میں ملبوس جا رہے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پرنالے سے ذبح کیے گئے پرندوں کا خون گرا جس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے خراب ہو گئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً پرنالے کو اُس جگہ سے اکھاڑنے کا حکم دے دیا اور گھر جا کر اپنا لباس تبدیل کر کے نماز جمعہ کی غرض سے مسجد میں تشریف لے گئے۔
جب نماز جمعہ ادا ہو گئی تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو پرنالہ اتروایا ہے وہ نبی کریم خاتم النبیین ﷺ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے لگایا تھا۔ یہ سننا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی اور انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی کیا اور پرنالہ دوبارہ اسی مقام پر لگا دیا گیا۔
- (الف) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اختلاف کس سے ہوا تھا؟
- (ب) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کن کو اپنا قاضی اور ثالث مقرر کیا؟
- (ج) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے برابر کیوں بٹھانا چاہا؟
- (د) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا فرمایا؟
- (ہ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر کن کے گھر کے پاس سے ہوا؟
- (و) پرنالے سے کس چیز کے گرنے کی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے خراب ہو گئے؟
- (ز) جب پرنالہ اتروایا گیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا کہا؟
- (ح) حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پرنالہ دوبارہ اسی مقام پر کیوں نصب کروا دیا؟
مزید تعلیمی مواد کے لیے وزٹ کریں:
excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
Comments
Post a Comment