Class 4 Urdu Lesson 19 - Raaye Ka Ehtiram (Respecting Opinions) | Digital Textbook Lesson No: سبق نمبر 19 | Class: 4 | Subject: اردو | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore the SNC Class 4 Urdu lesson "Raaye Ka Ehtiram" (Respecting Opinions). Learn about the democratic process, voting ethics, and the importance of mutual consultation through an engaging dialogue between Adnan and his mother. Perfect for teachers and students of Excellence Online Learning School.
رائے کا احترام
حاصلاتِ تعلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- ہدایات یا علامات سن کر ان پر عمل کر سکیں۔
- کسی بھی کہانی کو اپنے لفظوں میں بیان کر سکیں۔
- عبارت کا مقصد سمجھتے ہوئے درست تلفظ کے ساتھ روانی سے پڑھ سکیں۔
- عددی ترتیب (مثلاً اٹھارواں، اٹھارہویں، انیسواں، انیسویں) کا فرق سمجھ سکیں۔
- گھر اور سکول میں پیش آنے والے مسائل کا حل اتفاقِ رائے سے تلاش کریں۔
- اپنے مشاہدات اور خیالات کو مربوط، رواں اور موزوں انداز میں لکھ سکیں۔
- سابقے اور لاحقے کی مدد سے نئے الفاظ بنا سکیں۔
سوچیں اور بتائیں
- آپ کے دوست اگر آپ کی رائے سے اختلاف کریں تو آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہمارے پیارے ملک کا سرکاری نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے۔
تلفظ سیکھیں
”آج ہم نے ایک نئی بات سنی ہے۔۔۔ بڑے مزے کی بات“
عدنان نے گھر میں داخل ہوتے ہی بڑی خوشی سے امی کو بتایا۔
امی نے پوچھا: کون سی نئی بات؟
عدنان کہنے لگا: ہمارے استاد ظفر علی صاحب نے بتایا کہ کل کلاس کے مانیٹر کا الیکشن ہو گا۔ عدیم اور راشد میں مقابلہ ہو گا۔
امی جان: واہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔
عدنان: لیکن میرے ذہن میں یہ سوال ہے کہ عدیل پہلے سے کلاس کا مانیٹر تھا، اسے ہی رہنے دیتے۔ اگر مانیٹر بدلنا ہی تھا تو کسی اور کو مقرر کر دیتے۔ الیکشن کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی؟
امی جان: بیٹا! ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر کام باہمی مشورے سے کیا کرو۔ کلاس کے الیکشن کا مقصد بھی یہی ہے کہ مانیٹر کے انتخاب میں سب کی رائے لی جائے۔ اسی طرح کوئی اچھا طالب علم پوری کلاس کا نمائندہ بنے۔
ٹھہریں اور بتائیں
- الیکشن کیوں کروائے جاتے ہیں؟
- ووٹ حقیقت میں کیا ہے؟
عدنان: امی جان! ہمارے استاد صاحب نے تو کہا تھا کہ آپ ووٹ دیں گے۔
امی جان: بیٹا! استاد صاحب نے درست کہا ہے۔ ووٹ حقیقت میں رائے اور مشورہ ہی تو ہے۔
عدنان: امی جان! میں کس کو ووٹ دوں؟
امی جان: بیٹا! آپ جس کو بھی ووٹ دیں اس میں چند خوبیاں ہونی چاہئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جس کام کے لیے اس کو ووٹ دیا جاتا ہے وہ اس کا اہل ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ دیانت دار ہو اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہو۔
عدنان: امی! میں تو راشد کو ووٹ دوں گا۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ وہ سچ بولتا ہے۔ کسی کو تنگ نہیں کرتا اور ہر لڑکے کی مدد کرتا ہے۔ جب دو لڑکے آپس میں لڑ پڑیں تو وہ دونوں میں صلح کرا دیتا ہے اور ان کو کہتا ہے کہ ہمیں لڑنا نہیں چاہیے، ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
امی جان: شاباش بیٹا! آپ جس کو موزوں سمجھتے ہیں اسی کو ووٹ دیں اور دوسرے طلبہ کو بھی اُس کی اچھائی کی وجہ سے اُسے ووٹ دینے کے لیے آمادہ کریں۔
آمادہ کریں لیکن یاد رکھیں کہ ہر معاملے میں ہر شخص کی رائے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ آپ کے بہترین دوست بھی بہت سے معاملات میں آپ کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔ اگر کسی کی رائے ہماری رائے سے مختلف ہو تو ہمیں اس سے جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ اس کی رائے کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اصول یہ ہے کہ آپ اپنی رائے دیں لیکن کثرتِ رائے سے جو فیصلہ ہو، اسے خوش دلی سے قبول کریں۔ اسی کو ”جمہوری رویہ“ کہتے ہیں۔
عدنان: امی جان! یہ تو بہت اچھی عادت ہے۔
امی جان: جی بیٹا! اس اچھی عادت کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ آپ لوگوں کو بھی یہ اچھی عادت ابھی سے اپنائی چاہیے۔ آپ کے استاد صاحب کلاس کا الیکشن اس لیے کروا رہے ہیں تاکہ آپ لوگ وہ باتیں سیکھ لیں جو آنے والی زندگی میں آپ کے کام آئیں گی۔
عدنان (معصومیت سے): امی جان! کون سی باتیں؟
امی جان: ہمارے ملک کا پورا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے۔ جمہوریہ اس ملک کو کہتے ہیں جہاں عوام کی اکثریت کے مشورے سے حکومت بنائی جاتی ہے۔ عوام سے ووٹ کی صورت میں رائے لی جاتی ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں بھی اسی طرح ہوتا ہے، جیسے کل آپ کلاس کے مانیٹر کے انتخاب کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔
عدنان: امی جان! اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹ کی بہت اہمیت ہے۔
امی جان: جی بیٹا! ووٹ کا استعمال ہر فرد کو کرنا چاہیے اور ہمیشہ بہترین نمائندے کو ووٹ دینا چاہیے۔
عدنان (پُرجوش انداز): میں ان باتوں پر خود بھی عمل کروں گا اور سکول میں سارے دوستوں کو بھی ان باتوں کی ترغیب دوں گا۔
ہم نے سیکھا
- نمائندے یا لیڈر کا انتخاب سب کی رائے اور مشورے سے ہونا چاہیے۔
- نمائندگی کے لیے اہل اور دیانت دار فرد کے حق میں اپنی رائے دینی چاہیے۔
- دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
- اکثریت کی رائے کو خوش دلی سے قبول کرنا جمہوری رویہ کہلاتا ہے۔
Comments
Post a Comment