Class 4 Urdu Lesson 18 - Batein Danai Ki | Digital Textbook Design Lesson No: سبق نمبر 18 | Class: 4 | Subject: اردو | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore Lesson 18 "Batein Danai Ki" for Class 4 Urdu. This professionally designed digital lesson features the parables of Sheikh Saadi, covering topics on Hard Work, Gratitude, Knowledge vs Wealth, and True Strength. Optimized for students and teachers of the SNC curriculum.
باتیں دانائی کی
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ:
- عبارت کا مقصد سمجھتے ہوئے درست تلفظ کے ساتھ روانی سے پڑھ سکیں۔
- تذکیر و تانیث (جان دار اور بے جان) کے مطابق افعال کا جملوں میں استعمال کرسکیں۔
- مترادف اور متضاد کے فرق کو سمجھ سکیں۔
- اسمِ صفت کی پہچان کرسکیں۔
- کہانی کے اجزا (آغاز، عروج، اختتام اور نتیجے) کو مدنظر رکھتے ہوئے کہانی تحریر کرسکیں۔
- اپنے سکول اور محلے کی لائبریری سے اپنی دل چسپی کی کتابیں، رسائل وغیرہ لے کر ان کا مطالعہ کرسکیں۔
- کسی بھی واقعے یا کہانی کو اپنے لفظوں میں بیان کرسکیں۔
- اپنے مسائل گھر، سکول، محلے وغیرہ میں پیش آنے والے ناپسندیدہ واقعے یا حرکت پر اشارہ/ ترغیب یا لالچ وغیرہ کے بارے میں والدین اور اساتذہ کو بلا جھجھک بتا سکیں۔
- آپ کو علم یا دولت میں سے کیا حاصل کرنے کا شوق ہے اور کیوں؟
- کیا کبھی کسی کو مصیبت میں دیکھ کر آپ نے اس کی مدد کی ہے؟
اس سبق میں موجود حکایات شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہیں۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ ایران کے شہر شیراز کے رہنے والے تھے۔ ان کا اصل نام شرف الدین تھا۔ انھوں نے بوستان اور گلستان کے نام سے فارسی زبان میں دو کتابیں لکھی ہیں۔ ان کتابوں کا اُردو ترجمہ بھی مل جاتا ہے۔
۱۔ محنت
حاتم طائی عرب کا مشہور سخی انسان تھا۔ ایک دن اس نے چالیس اونٹ ذبح کیے اور بہت سارے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی۔ کھانا شروع ہونے سے پہلے وہ کسی کام کی غرض سے جنگل میں گیا۔ وہاں اس کی نظر ایک لکڑہارے پر پڑی جو لکڑیوں کا گٹھا باندھ رہا تھا تاکہ اسے بیچ کر روزی کمائے۔ حاتم طائی نے اس سے کہا: ”آج بہت سارے لوگ حاتم کے دسترخوان پر جمع ہیں۔ تم بھی جاؤ اور حاتم کے مہمان بنو۔“ لکڑہارے نے کہا: ”جو شخص اپنی محنت سے روٹی کھاتا ہے، وہ حاتم طائی کا احسان نہیں اٹھاتا۔“
۲۔ شکر
شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حصولِ علم کے لیے شیراز سے بغداد پیدل جا رہا تھا۔ پیدل چلتے چلتے میرا جوتا گھس کر ٹوٹ گیا۔ میرے لیے اس کو پہننا ممکن نہ رہا۔ میرے پاس نئے جوتے خریدنے کے پیسے بھی نہ تھے۔ ننگے پاؤں چلتے چلتے میرے پاؤں زخمی ہو گئے۔ تھک کر میں ایک جگہ بیٹھ گیا اور دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے گلہ کرنے لگا کہ اے اللہ تعالیٰ! اگر تو نے مجھے رقم دی ہوتی تو میں یوں پیدل سفر نہ کرتا، نہ میرا جوتا ٹوٹتا، نہ میرے پاؤں زخمی ہوتے اور نہ مجھے یہ تکلیف برداشت کرنی پڑتی۔ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ مجھے ایک معذور شخص دکھائی دیا جس کے دونوں پاؤں ہی نہیں تھے۔ وہ اپنے دھڑ کی مدد سے زمین پر بیٹھ کر خود کو گھسیٹ رہا تھا۔ میں نے یہ منظر دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میرے دونوں پاؤں سلامت ہیں، میں کھڑا بھی ہو سکتا ہوں، چل پھر بھی سکتا ہوں، کام بھی کر سکتا ہوں۔ کیا ہوا جو میرے پاس رقم نہیں، سواری نہیں یا جوتے نہیں۔ اس خیال کے ساتھ ہی میں نے دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کیا۔
۳۔ علم و دولت
مصر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کو علم حاصل کرنے کا اور دوسرے کو مال و دولت جمع کرنے کا شوق تھا۔ علم کا شوقین عالم بن گیا اور مال کی محبت رکھنے والا شاہی خزانچی بن گیا۔ ایک دن دولت مند بھائی نے اپنے عالم بھائی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا: ”ہم تو خزانے کے مالک بن گئے اور تم مفلس ہی رہے۔“ عالم نے جواب دیا: ”بھائی جان! میں تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے پیغمبروں کی میراث (علم) عطا کی ہے، لیکن آپ قارون کی میراث (دولت) پر فخر کر رہے ہیں۔“
۴۔ حقیقی طاقت
ایک بزرگ نے ایک پہلوان کو دیکھا جو سخت غصے میں کسی کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا: پہلوان کو کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص نے اسے ناگوار بات کہہ دی ہے۔ بزرگ نے فرمایا: ”یہ کم بخت دو چار من کا وزن تو اٹھا لیتا ہے لیکن ایک چھوٹی سی بات برداشت نہیں کر سکتا۔“
- محنت کرنے والا انسان کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔
- انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
- علم پیغمبروں کی میراث ہے، اس لیے علم کو دولت پر برتری حاصل ہے۔
- حقیقی طاقت وہ ہے جس میں صبر اور برداشت کا مادہ ہو۔
تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے سبق کے ’حاصلاتِ تعلم‘ دیے جا رہے ہیں جو اساتذہ کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔ سبق کا متن پڑھانے سے قبل ’سوچیں اور بتائیں‘ کے سوالات بچوں سے پوچھیں تاکہ وہ پڑھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو سکیں۔ ’ٹھہریں اور بتائیں‘ کے سوالات متن پڑھانے کے دوران میں بچوں سے پوچھیں۔ ’کیا آپ جانتے ہیں؟‘ میں دی گئی اضافی معلومات بھی بچوں کو موقع محل کے مطابق دی جائیں۔ سبق پڑھاتے وقت الفاظ کے درست تلفظ اور عبارت میں روانی کا خصوصی خیال رکھیں۔ بچوں سے حکایات کے اخلاقی سبق پر بات چیت کریں۔ روز مرہ کی مثالوں کے ذریعے سے علم حاصل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالیں۔
Comments
Post a Comment