Class 4 Social Studies - Diversity and Tolerance | Digital Lesson Chapter 2 Lesson No: باب نمبر 2 | Class: 4 | Subject: مواشرتی علوم | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore the concepts of Diversity (تنوع) and Tolerance (رواداری) for Class 4 Social Studies. This interactive digital textbook lesson covers peace and conflict resolution, civic sense, and WASH guidelines according to the Single National Curriculum.
باب نمبر 2
تنوع اور رواداری
(Diversity and Tolerance)
حاصلاتِ تعلم (Students' Learning Outcomes)
اس باب کی تکمیل کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- تنوع (Diversity) کی تعریف کر سکیں اور معاشرے میں مختلف گروہوں کی اہم خصوصیات کی نشان دہی کر سکیں۔
- معاشرے کی خوش حالی میں تنوع کے کردار کو واضح کر سکیں۔
- رواداری (Tolerance) کی تعریف کر سکیں۔
- معاشرتی اور ثقافتی فرق قبول کرتے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی (Harmony) سے رہنے کی اہمیت کی وضاحت کر سکیں۔
- گھر اور محلے کی سطح پر ذاتی اور گروہی اختلافات پیدا ہونے کی وجوہات کی وضاحت کر سکیں۔
- امن (Peace) اور تنازع (Conflict) کی اصطلاحات کی تعریف کر سکیں۔
- رویوں کے فرق سے تنازع پیدا ہوتا ہے اور امن متاثر ہوتا ہے، اس کی وضاحت کر سکیں۔
- بات چیت کے ذریعے سے تنازعات کو حل کر سکیں۔
- تمدنی شعور (Civic Sense) کو مثالوں کے ذریعے سے واضح کر سکیں: ٹریفک کے قوانین (Traffic Rules)، ماحول کی صفائی، واش (WASH)، عمومی آداب (Common Etiquettes) مثلاً اخلاق و شائستگی، بڑوں کا احترام، دوسروں کی مدد، محنت کی عظمت اور نظم وضبط وغیرہ کی شناخت کر سکیں۔
پاکستان میں مختلف رنگ، نسل، مذہب، زبان اور علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ پاکستان کی طرح دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں مختلف رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ یہ لوگ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا (America)، کینیڈا (Canada)، اسپین (Spain)، نائیجیریا (Nigeria) اور سنگاپور (Singapore) وغیرہ ایسے ممالک ہیں جہاں مختلف رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آپس میں مل جل کر زندگی گزار رہے ہیں۔
سوچیں اور جواب دیں! (Think and Answer)
کیا آپ دوستوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں؟_____________________
مل جل کر رہنے کے کوئی سے دو فائدے لکھیں۔
i _________________________________________________________________
ii ________________________________________________________________
لوگوں کا ایک دوسرے سے رنگ، نسل، مذہب، زبان اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہونا تنوع (Diversity) کہلاتا ہے۔
معاشرے میں مختلف عقیدوں، نظریات اور رویوں کا احترام رواداری (Tolerance) کہلاتا ہے۔
حسن اسلام آباد میں رہتا ہے۔ اس کے ابو سرکاری ملازم ہیں۔ حسن کے خاندان کی طرح اور بھی بہت سے خاندان یہاں رہتے ہیں۔ شام کو سب کے بچے پارک میں جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کھیلتے ہیں۔ مائیکل، انجلی، ہرجیت سنگھ اور یویان سے حسن کی گہری دوستی ہے۔ عید کے موقع پر سب اُسے مبارک باد دینے آتے ہیں۔ حسن بھی ان کے تہواروں کرسمس (Christmas)، دیوالی (Diwali)، بیساکھی (Baisakhi) اور بہار کے میلے (Spring Festival) پر ان کے گھر جاتا ہے۔ سب ایک دوسرے کی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ اسلام آباد کی طرح دنیا میں اور بھی بہت سے ایسے شہر اور جگہیں ہیں جہاں مختلف رنگ، نسل، مذہب، زبان اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ معاشرے میں رہنے والے لوگ الگ الگ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ملک میں ایسے لوگ موجود ہوں جو کم وقت اور اعلیٰ درجے میں تشکیل پاتا ہے، جس سے ملک ترقی کرتا ہے اور امن کی فضا قائم ہوتی ہے۔
امن اور تنازع (Peace and Conflict)
امن (Peace) کے معنی سکون اور آپس میں صلح صفائی سے رہنے کے ہیں۔ امن سے معاشرے میں اعتماد، احترام اور سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں چوں کہ مختلف پس منظر کے لوگ اکٹھے رہتے ہیں اس لیے کبھی کبھار ایک دوسرے کی باتوں سے اختلاف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگوں میں اصولوں اور مفادات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلاف کو تنازع (Conflict) کہتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اختلاف تنازع کی شکل اختیار نہ کرے۔ ہر قسم کے اختلاف کو امن و سکون اور بات چیت سے دور کیا جائے۔
دوسروں کے بارے میں ہماری سوچ اور خیالات ہمارے رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ روز مرہ زندگی میں ہمارے رویے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی کے بارے میں منفی رویہ رکھتے ہیں تو ہم اسے ہمیشہ غلط ہی سمجھیں گے۔ ہمارے اس رویے سے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثبت رویہ دوسروں کے بارے میں مثبت رائے اور اچھے نتائج سوچ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یوں مثبت رویوں کی وجہ سے امن اور سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ہم اپنے رویوں میں بہتری لا کر تمام تنازعات اور معاملات حل کر سکتے ہیں، خواہ وہ گھر یلو سطح کے ہوں یا محلے کی سطح کے۔ ہم میں سے کوئی بھی لڑائی جھگڑے کو پسند نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ تنازعات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ امن سے رہ سکیں۔ تنازعات لمبے عرصے تک موجود رہیں تو کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپس کے تنازعات ختم کر کے امن وامان سے رہیں۔ اختلافات کو دور کر کے اور مثبت رویے اختیار کر کے ہم اچھے انسان اور اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ اختلافات دور کرنے کا بہترین حل بات چیت ہے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا ہے۔
امن کا پیغام
ہم درج ذیل طریقوں سے تنازعات ختم کر سکتے ہیں:
- بات کرنا کسی بھی مسئلے کے حل کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہم اپنی سوچ اور احساسات کو مناسب الفاظ میں بیان کر کے بات چیت کا آغاز کر سکتے ہیں۔
- سب سے پہلے دوسرے شخص کی بات توجہ سے سنیں، اسے بات مکمل کرنے کا موقع دیں، پھر اپنی بات بیان کریں۔
- دوسروں کی بات کو سمجھنا سیکھیں۔ اس سے معاملات بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
- اگر تنازع خود ختم نہ کر سکیں تو کسی تیسرے فرد کو ثالث بنا کر فیصلہ کروائیں اور ثالث کا فیصلہ خوش دلی سے قبول کریں۔
ذرا رکیں اور بتائیں! (Hold on please and tell!)
معاشرتی تنازع کو کس طرح حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے؟
تمدنی شعور (Civic Sense)
امن سے رہنا ایک اچھے شہری کی خصوصیات میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شہری میں تمدنی شعور کا موجود ہونا معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ کسی معاشرے میں رہتے ہوئے جب لوگوں میں آداب و اخلاقیات کا شعور پیدا ہو جائے تو وہ تمدنی شعور (Civic Sense) کہلاتا ہے۔
تمدنی شعور کے آداب (Ethics of Civic Sense)
- گھر، محلے اور شہر کی صفائی کا خیال رکھنا اور ماحول کو بہتر بنانا
- ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا
- صحت و صفائی کا خیال رکھنا
ذرا رکیں اور بتائیں! (Hold on please and tell!)
آپ خود کو اور ماحول کو صاف رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
WASH (Water, Sanitation and Hygiene) کا مخفف ہے۔ یہ ایک عالمی پروگرام ہے جو صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورت حال اور جان لیوا بیماریوں کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے۔ اس پروگرام کے بنیادی مقاصد یہ ہیں:
- پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی
- جسمانی صفائی ستھرائی (رفع حاجت کی اہمیت سے واقفیت)
- حفظان صحت کے اصولوں (صابن سے ہاتھ دھونا) پر عمل کرنا
عمومی آداب (Common Etiquettes)
جس طرح ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنا اور ماحول کو صاف رکھنا ایک اچھے شہری کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسی طرح چند عمومی آداب ہیں جو کسی بھی فرد کو اچھا شہری بنانے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ چند عام آداب یہ ہیں:
- نرم لہجے میں بات کرنا
- اپنی غلطی تسلیم کرنا
- سب کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا
- وقت کی پابندی کرنا
- اپنا کام محنت اور ایمان داری سے کرنا
- کسی کو برا بھلا نہ کہنا
- بولنے سے پہلے سوچنا
- دوسروں کی مدد کرنا
- عوامی مقامات پر قطار بنانا
- اجنبی لوگوں سے محتاط ہو کر بات چیت کرنا
کرتے ہیں کچھ نیا! (Let's do something new!)
آپ نے کرونا (Corona) کی وبا کے دوران میں اچھے شہری ہونے کا ثبوت کیسے دیا؟ اس کے بارے میں اپنے ساتھی طلبہ کو بتائیں۔
میں نے سیکھا! (I have learnt!)
- ایک دوسرے سے رنگ، نسل، مذہب، زبان اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہونا تنوع (Diversity) کہلاتا ہے۔
- معاشرے میں مختلف عقیدوں، نظریات اور رویوں کا احترام کرنا رواداری (Tolerance) کہلاتا ہے۔
- ہم آہنگی سے ایک مستحکم معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
- بات چیت کے طریقے سے ہم تنازعات کو ختم کر سکتے ہیں۔
- ٹریفک کے قوانین کی پابندی، دوسروں کی مدد، ماحول کی صفائی اور نظم وضبط اچھے شہریوں کے آداب میں شامل ہیں۔
میرے کرنے کے کام (Work for me to do)
-1 دیے گئے سوالات کے مختصر جواب تحریر کریں۔
i امن اور تنازع کی تعریف کریں۔
ii تنازعات حل کرنے کا بہترین طریقہ کون سا ہے؟
iii کوئی سے ایسے تین آداب لکھیں جن پر آپ عمل کرتے ہیں۔
- طلبہ کو بتائیں کہ اچھا شہری ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرتا ہے۔ اپنے گھر, محلے اور شہر کو صاف ستھرا رکھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگاتا ہے۔ کوڑا، کوڑے دان میں ڈالتا ہے۔ اپنی شہری رفع حاجت کے لیے بیت الخلا کا استعمال کرتا ہے۔
- طلبہ کو بتائیں کہ دوسروں کی مدد کے مختلف طریقے ہیں جیسا کہ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلہ یا وبا کی صورت میں متاثرہ افراد کے لیے خوراک، پناہ گاہ اور دوائیں مہیا کرنے میں حکومت کا ساتھ دینا۔
- طلبہ کو سماجی جگہوں کے بارے میں بتائیں، جہاں قطار بنائی جا سکتی ہے، جیسا کہ ٹکٹ گھر میں ٹکٹ لینے کے لیے، بینک میں رقم جمع کروانے یا نکلوانے، بل جمع کروانے کے لیے یا بس کے علاوہ بس یا ریل میں سوار ہونے کے لیے بھی قطار بنائی جا سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment