Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 12 Urdu Lesson 9 - Maulana Zafar Ali Khan by Chiragh Hasan Hasrat | Digital Textbook

Maulana Zafar Ali Khan lesson class 12, Chiragh Hasan Hasrat urdu prose, Sarmaya-e-Urdu class 12 solutions, Urdu sketch writing Maulana Zafar Ali Khan, 12th class urdu chapter 9, Excellence Online Learning School urdu, Maulana Zafar Ali Khan poetry analysis, Urdu literature sketches, 2nd year urdu syllabus Pakistan, digital urdu textbook SNC.

 

Explore the sketch of Maulana Zafar Ali Khan's dynamic personality written by Chiragh Hasan Hasrat. A high-quality digital textbook resource for Class 12 Urdu (SNC), covering Maulana's political life, poetry, and disciplined daily routine.


بارہویں جماعت
سرمائہ اردو
سبق نمبر 9
چراغ حسن حسرت
مولانا ظفر علی خاں
حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives)
  • خاکہ نگاری کے اسلوب سے واقفیت حاصل کرنا۔
  • مولانا ظفر علی خاں کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنا۔
  • چراغ حسن حسرت کی ظرافت نگاری اور شگفتہ بیانی کو سمجھنا۔

اب سے کوئی دس سال ادھر کا ذکر ہے کہ میں اخبار ”نئی دنیا“ کے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اتنے میں کسی نے آکے کہا کہ ”زمیندار صاحب آئے ہیں“ میں لنگی باندھے بیٹھا تھا۔ سر کے بال پریشان، ڈاڑھی کئی دن کی بڑھی ہوئی، ”زمیندار“ کا نام سنتے ہی ہڑ بڑا کے اٹھا، پوچھا ”کون زمیندار صاحب؟“ وہ بے چارا کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ مولانا شائق احمد عثمانی آئے اور کہنے لگے: ”بئی، مولانا ظفر علی خاں آئے ہیں۔“ چا صدیق انصاری نے، جو اپنے گدیلے پر بیٹھے پانوں کی جگالی فرما رہے تھے، انگڑائی لی اور نیم باز آنکھوں سے، ادھر ادھر دیکھ کر ایک اور گلوری کلے میں دبائی۔ ان دنوں ”نئی دنیا“ کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک طرف عصرِ جدید پریس، دوسری طرف حکیم غلام مصطفیٰ کا مطب۔ دروازے سے اندر گھسو تو دہنی طرف نئی دنیا آباد تھی اور بائیں طرف مولانا شائق احمد عثمانی نے پرانی دنیا بسا رکھی تھی، یعنی اپنے اہل وعیال اور عربی کی بھاری بھرکم کتابوں سمیت رہتے تھے۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبس^1 تھا اور مقالۂ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ فکاہات کی کشتی بھی چلاتا تھا، افسوس کہ یہ محفل سال بھر کے اندر اندر برہم ہوگئی، نہ نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا، رہے نام اللہ کا۔

تھوڑی دیر میں مولانا ظفر علی خاں کھٹ کھٹ کرتے تشریف لائے۔ میں نے انھیں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تصویریں ضرور دیکھی تھیں لیکن تصویروں سے کسی شخص کی صورت شکل کے متعلق صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا، بہر حال اتنا تو یقین تھا کہ ان کی توند تو ضرور بڑھی ہوئی ہوگی۔ آخر جب معمولی کارکنوں کا یہ عالم گنبدِ فلک سے ہمسری کرتا ہے تو مولانا ظفر علی خاں کو، جنھیں آل انڈیا لیڈر کی حیثیت حاصل ہے، ایک عدد گرانڈیل توند کا مالک ہونا چاہیے لیکن انھیں دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ توند نہ عمامہ، آخر یہ کیسے مولانا اور کیسے لیڈر ہیں؟ یہ راز لاہور کے کھلا کہ مولانا توند سے کیوں محروم رہے؟

دلچسپ معلوماتکولمبس (Christopher Columbus) ایک مشہور اطالوی سیاح تھا جس نے امریکہ دریافت کیا۔ یہاں مصنف نے خود کو مزاحیہ طور پر "نئی دنیا" کا کولمبس قرار دیا ہے۔

غرض مولانا تشریف لائے اور آتے ہی سائمن کمیشن، ہندوستان کی جدید اصلاحات، راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور کامل آزادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ مولانا شائق احمد عثمانی ان دنوں کانگریس سے باغی ہو چکے تھے اور سائمن کمیشن سے تعاون کے حامی تھے۔ اُن سے اس مسئلے پر بحثیں رہتی تھیں۔ اب مولانا نے یہ حکایت شروع کی تو پھر وہی بحث چھڑ گئی لیکن دراصل مجھے اس بحث سے چنداں دلچسپی نہ تھی۔

مولانا کے نزدیک آئینی کمیشن کا ہندوستان آنا بہت اہم واقعہ تھا اور ہمارے نزدیک مولانا ظفر علی خاں کا کلکتے تشریف لانا بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اب کھینچاتانی شروع ہوئی۔ میں چاہتا تھا کہ مولانا شعر و شاعری کی طرف آئیں اور مولانا ہم سب کو سیاست کی طرف کھینچے لیے جاتے تھے۔ میں نے غالب کا نام لیا، مولانا نے برکن ہیڈ کا ذکر شروع کر دیا۔ بس اب یہ کیفیت تھی کہ میں انھیں میر کی طرف لاتا ہوں اور وہ مجھے بالڈون کی طرف لیے جاتے ہیں، میں کہتا ہوں غالب، وہ فرماتے ہیں سائمن، غرض دیر تک یہی جھگڑا رہا، آخر مولانا کو فتح ہوئی، یعنی ہم نے مجبوراً شعر و ادب کا پنڈ چھوڑا اور خاموشی سے اُن کی باتیں سننے لگے۔

میں لاہور آیا تو کچھ دنوں زمیندار کے دفتر میں بھی قیام رہا۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ کسی نے پچھلے پہر میرا شانہ ہلایا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ لیکن ابھی صبحِ کاذب تھی، ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ کوئی شخص میرے سرھانے کھڑا ہے، میں گھبرایا کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے، اتنے میں مولانا کی آواز آئی کہ اٹھو میرے ساتھ سیر کو چلو۔ میں سمجھ گیا کہ مولانا سیر کو جا رہے ہیں اور مجھے شرفِ رفاقت بخشنا چاہتے ہیں، لیکن خدا بھلا کرے قاضی احسان اللہ مرحوم کا، انھوں نے مجھے پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ اگر مولانا تمھیں اپنے ساتھ سیر کو لے جانا چاہیں تو ہرگز نہ جائیو، میں نے پوچھا، یہ کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پچھلے پہر اٹھ کر نہر کے کنارے میلوں دوڑتے ہی چلے جاتے ہیں، پھر ڈنڈ پیلتے ہیں، تم ساتھ گئے تو تمھیں بھی دوڑائیں گے اور جب تم نڈھال ہو جاؤ گے تو اپنے ساتھ نماز پڑھائیں گے۔ اب جو مولانا نے ساتھ چلنے کو کہا تو قاضی صاحب کی نصیحت یاد آگئی اور آنکھوں تلے موت کا نقشہ پھر گیا۔ میں نے نہایت مضمحل آواز میں کہا کہ ”مولانا! میں تو... میں تو سخت بیمار ہوں۔ رات بخار ہو گیا تھا۔ اب سر میں سخت درد ہے۔ پیٹ میں بھی درد ہو رہا ہے۔ غالباً قولنج^1 ہے۔ مجھے پہلے بھی یہ مرض ہو چکا ہے... ہائے اللہ“ یہ کہہ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ مولانا نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی۔ علاج کے متعلق چند معقول مشورے دیے اور تشریف لے گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور جی میں تہیہ کر لیا کہ اب دفتر میں نہیں رہوں گا۔ اب یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ مولانا توند سے کیوں محروم ہیں۔

آگے چل کر معلوم ہوا کہ انھیں صرف دوڑنے اور ڈنڈ پیلنے کا ہی شوق نہیں، مگدر بھی ہلاتے ہیں، نیزہ بازی اور شہسواری میں بھی برق ہیں، تیراکی اور کشتی گیری میں بھی بد نہیں، نشانہ بھی اچھا لگاتے ہیں۔ حیدر آباد کی ملازمت کے زمانے میں کچھ دن فوج میں بھی رہے۔ یہ قصہ عجیب ہے، سپاہی نیزہ بازی کے کرتب دکھا رہے تھے ان کی بھی طبیعت لہرائی۔ گھوڑے پر سوار ہو کے نیزہ تانا اور آن کی آن میں میخ اکھیڑ لی۔ ہر طرف سے تحسین و آفرین کا غلغلہ ہوا اور ان کی خدمات فوج کے صیغے میں منتقل کر دی گئیں، لیکن افسر الملک سے نباہ نہ ہو سکا اس لیے استعفا دے دیا۔

ایک مرتبہ ایک صاحب کہنے لگے کہ مولانا ظفر علی زبان اور محاورے کے استاد ہیں۔ اشعار کی بندش خوب ہوتی ہے لیکن ان کے ہاں حقیقی شاعری بہت کم ہے۔ میں نے کہا ذرا ”بہ خیرِ قلزم“، ”لندن کی ایک صبح“، ”رامائن کا ایک سین“ پڑھ کر دیکھیے۔ کہنے لگے، ”میں نے تو یہ نظمیں نہیں پڑھیں لیکن مولانا کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قلب عشق و محبت کے لطیف جذبات سے خالی ہے۔“ میں نے گفتگو کا پہلو بدل کر شعر خوانی شروع کر دی۔ پہلے فارسی کے ایک دو شعر سنائے۔ جب وہ جھومنے لگے تو شاد کا یہ شعر پڑھا۔

دیکھا کیے وہ مست نگاہوں سے بار بارجب تک شراب آئی کئی دور ہو گئے

انھوں نے دو تین مرتبہ یہ شعر پڑھوایا۔ میں نے پھر کہا۔

سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر سکتی ہے محفل میںنگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

وہ شعر سن کر تڑپ گئے۔ کہنے لگے ”کس کا شعر ہے؟“ میں نے پوچھا ”جو شخص ایسا شعر کہہ سکتا ہے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے ”اس کے شاعر ہونے میں کیا شک ہے۔“ میں نے کہا ”تو پھر سن لیجیے کہ یہ شعر مولانا ظفر علی خاں کا ہے۔“ یہ سن کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور تلے کا تلے رہ گیا۔

دراصل مولانا کی شاعری پر تنقید کرنا میرا موضوع نہیں۔ یونہی برسبیل تذکرہ یہ باتیں آگئیں۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ مولانا نے اپنی تمام نظمیں بہت تھوڑے وقت میں کہی ہیں۔ شاید ہی کوئی نظم ایسی ہو جو انھوں نے گھنٹے دو گھنٹے میں کہی ہو، ورنہ ایک نظم پر عموماً آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا۔ ”پتھر نکال“، ”ہمسر نکال“ بڑے معرکے کی نظم ہے۔ سترہ شعر ہیں جو گھنٹے بھر میں لکھے گئے ہیں۔ اس کا آخری شعر مجھے نہیں بھولتا۔

تو غزل خوانی پہ آجائے تو ہے خواجوئے وقتزلفِ عنبر بار سے کژدم بکھیر اژدر نکال

ہم اکثر شاعروں کو دیکھا ہے کہ شعر کہنا چاہتے ہیں تو شفا الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی سے رجوع کرتے ہیں اور ہفتے بھر کا مہل لے لیتے ہیں اور پھر فی یوم ایک شعر کے حساب سے کہتے چلے جاتے ہیں، یہ نہیں کرتے تو بیوی کو پیٹتے ہیں یا اس سے پٹتے ہیں، بچوں کو جھڑکتے ہیں، ذرا گھر میں شور ہوا اور وہ سر کے بال نوچنے لگے۔ ”ہائے عقابِ مضمون دام میں آکے چلا گیا۔ کم بختو! ملعونو! تمھارے شور نے اسے اڑا دیا۔“ مولانا ظفر علی خاں کا یہ حال نہیں، جس طرح ہم اور آپ نثر لکھتے ہیں اسی طرح وہ شعر کہتے چلے جاتے ہیں۔

مولانا جب تک دفتر میں رہتے تھے بڑی چہل پہل رہتی تھی۔ نظم لکھی اور پکار کے کہا کہ ”بلاؤ قاضی کو، بلاؤ اختر کو، کہاں ہے زاہدی، کہاں ہے حسرت؟“ سب جمع ہوئے اور مولانا نے نظم پڑھ کے سنائی اور پھر انھیں نت نئی تجویزیں سوجھتی رہتی تھیں جو دو تین دن کے چرچے میں غائب غلہ ہو جاتی تھیں۔ ہم میں سے کوئی اچھا شعر کہتا یا کوئی اچھا مضمون لکھتا، تو تعریف کر کے دل بڑھاتے اور انعام بھی دیتے۔ ایک مرتبہ راقم نے فکاہات لکھے، بہت خوش ہوئے، بٹوا نکال کے دے دیا اور کہنے لگے: ”اس میں جو کچھ ہے لے لو۔“ لیکن اکثر لوگ پھر بھی دعائیں مانگتے رہتے تھے کہ اللہ کرے مولانا کہیں دور چلے جائیں اور عموماً یہ دعائیں قبول ہی ہوتی تھیں۔

اصل میں مولانا کو اخبار کی زبان اور کتابت کی صحت کا بڑا خیال رہتا تھا۔ کاتبوں کی جان الگ آفت میں، ایڈیٹر الگ مصبیت میں مبتلا، جب تک مولانا دفتر میں ہیں، غل غپاڑا مچا ہوا ہے۔ جوں ہی کاپی پر نظر پڑی شور مچ گیا۔ ”ارے یہ کیا کیا؟ یہ عبارت تو بالکل مہمل ہے۔ اس مراسلے کی تصحیح نہیں ہوئی، یوں ہی کاتب کو دے دیا گیا ہے۔ خبروں کی عبارت چست نہیں۔ کتابت کی غلطیاں تو دیکھو، ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی عجیب ہوئی ہے، کوئی دائرہ بھی تو صحیح نہیں، غضبِ خدا کا، قرآن کی آیت غلط لکھ دی، اتنا خیال نہ آیا کہ کلامِ الٰہی ہے، ستیاناس کر دیا اخبار کا، ان تمام کاپیوں کو جلا دو، از سرِ نو اخبار مرتب نہیں ہو سکتا، اعلان کر دو کہ کل اخبار نہیں نکلے گا۔ بلاؤ اختر کو، اختر! اختر کہاں ہے؟ کہاں ہے قاضی؟ قاضی! بند کر دو جی اخبار کو! بند کر دو! میں یوں اخبار نہیں نکالنا چاہتا...“

(مردم دیدہ)
فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی)
گلوری: پان کی بنی ہوئی ڈھولی
مقالہ افتتاحیہ: اداریہ (Editorial)
فکاہات: مزاحیہ باتیں یا کالم
مضمحل: نڈھال، کمزور
قولنج: بڑی آنت کا شدید درد (Appendicitis)
تحسین و آفرین: شاباش اور تعریف
مہمل: بے معنی، فضول
برسبیل تذکرہ: بات کے دوران بات آنا
9

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...