Explore the sketch of Maulana Zafar Ali Khan's dynamic personality written by Chiragh Hasan Hasrat. A high-quality digital textbook resource for Class 12 Urdu (SNC), covering Maulana's political life, poetry, and disciplined daily routine.
- خاکہ نگاری کے اسلوب سے واقفیت حاصل کرنا۔
- مولانا ظفر علی خاں کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنا۔
- چراغ حسن حسرت کی ظرافت نگاری اور شگفتہ بیانی کو سمجھنا۔
اب سے کوئی دس سال ادھر کا ذکر ہے کہ میں اخبار ”نئی دنیا“ کے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اتنے میں کسی نے آکے کہا کہ ”زمیندار صاحب آئے ہیں“ میں لنگی باندھے بیٹھا تھا۔ سر کے بال پریشان، ڈاڑھی کئی دن کی بڑھی ہوئی، ”زمیندار“ کا نام سنتے ہی ہڑ بڑا کے اٹھا، پوچھا ”کون زمیندار صاحب؟“ وہ بے چارا کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ مولانا شائق احمد عثمانی آئے اور کہنے لگے: ”بئی، مولانا ظفر علی خاں آئے ہیں۔“ چا صدیق انصاری نے، جو اپنے گدیلے پر بیٹھے پانوں کی جگالی فرما رہے تھے، انگڑائی لی اور نیم باز آنکھوں سے، ادھر ادھر دیکھ کر ایک اور گلوری کلے میں دبائی۔ ان دنوں ”نئی دنیا“ کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک طرف عصرِ جدید پریس، دوسری طرف حکیم غلام مصطفیٰ کا مطب۔ دروازے سے اندر گھسو تو دہنی طرف نئی دنیا آباد تھی اور بائیں طرف مولانا شائق احمد عثمانی نے پرانی دنیا بسا رکھی تھی، یعنی اپنے اہل وعیال اور عربی کی بھاری بھرکم کتابوں سمیت رہتے تھے۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبس^1 تھا اور مقالۂ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ فکاہات کی کشتی بھی چلاتا تھا، افسوس کہ یہ محفل سال بھر کے اندر اندر برہم ہوگئی، نہ نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا، رہے نام اللہ کا۔
تھوڑی دیر میں مولانا ظفر علی خاں کھٹ کھٹ کرتے تشریف لائے۔ میں نے انھیں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تصویریں ضرور دیکھی تھیں لیکن تصویروں سے کسی شخص کی صورت شکل کے متعلق صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا، بہر حال اتنا تو یقین تھا کہ ان کی توند تو ضرور بڑھی ہوئی ہوگی۔ آخر جب معمولی کارکنوں کا یہ عالم گنبدِ فلک سے ہمسری کرتا ہے تو مولانا ظفر علی خاں کو، جنھیں آل انڈیا لیڈر کی حیثیت حاصل ہے، ایک عدد گرانڈیل توند کا مالک ہونا چاہیے لیکن انھیں دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ توند نہ عمامہ، آخر یہ کیسے مولانا اور کیسے لیڈر ہیں؟ یہ راز لاہور کے کھلا کہ مولانا توند سے کیوں محروم رہے؟
غرض مولانا تشریف لائے اور آتے ہی سائمن کمیشن، ہندوستان کی جدید اصلاحات، راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور کامل آزادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ مولانا شائق احمد عثمانی ان دنوں کانگریس سے باغی ہو چکے تھے اور سائمن کمیشن سے تعاون کے حامی تھے۔ اُن سے اس مسئلے پر بحثیں رہتی تھیں۔ اب مولانا نے یہ حکایت شروع کی تو پھر وہی بحث چھڑ گئی لیکن دراصل مجھے اس بحث سے چنداں دلچسپی نہ تھی۔
مولانا کے نزدیک آئینی کمیشن کا ہندوستان آنا بہت اہم واقعہ تھا اور ہمارے نزدیک مولانا ظفر علی خاں کا کلکتے تشریف لانا بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اب کھینچاتانی شروع ہوئی۔ میں چاہتا تھا کہ مولانا شعر و شاعری کی طرف آئیں اور مولانا ہم سب کو سیاست کی طرف کھینچے لیے جاتے تھے۔ میں نے غالب کا نام لیا، مولانا نے برکن ہیڈ کا ذکر شروع کر دیا۔ بس اب یہ کیفیت تھی کہ میں انھیں میر کی طرف لاتا ہوں اور وہ مجھے بالڈون کی طرف لیے جاتے ہیں، میں کہتا ہوں غالب، وہ فرماتے ہیں سائمن، غرض دیر تک یہی جھگڑا رہا، آخر مولانا کو فتح ہوئی، یعنی ہم نے مجبوراً شعر و ادب کا پنڈ چھوڑا اور خاموشی سے اُن کی باتیں سننے لگے۔
میں لاہور آیا تو کچھ دنوں زمیندار کے دفتر میں بھی قیام رہا۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ کسی نے پچھلے پہر میرا شانہ ہلایا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ لیکن ابھی صبحِ کاذب تھی، ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ کوئی شخص میرے سرھانے کھڑا ہے، میں گھبرایا کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے، اتنے میں مولانا کی آواز آئی کہ اٹھو میرے ساتھ سیر کو چلو۔ میں سمجھ گیا کہ مولانا سیر کو جا رہے ہیں اور مجھے شرفِ رفاقت بخشنا چاہتے ہیں، لیکن خدا بھلا کرے قاضی احسان اللہ مرحوم کا، انھوں نے مجھے پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ اگر مولانا تمھیں اپنے ساتھ سیر کو لے جانا چاہیں تو ہرگز نہ جائیو، میں نے پوچھا، یہ کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پچھلے پہر اٹھ کر نہر کے کنارے میلوں دوڑتے ہی چلے جاتے ہیں، پھر ڈنڈ پیلتے ہیں، تم ساتھ گئے تو تمھیں بھی دوڑائیں گے اور جب تم نڈھال ہو جاؤ گے تو اپنے ساتھ نماز پڑھائیں گے۔ اب جو مولانا نے ساتھ چلنے کو کہا تو قاضی صاحب کی نصیحت یاد آگئی اور آنکھوں تلے موت کا نقشہ پھر گیا۔ میں نے نہایت مضمحل آواز میں کہا کہ ”مولانا! میں تو... میں تو سخت بیمار ہوں۔ رات بخار ہو گیا تھا۔ اب سر میں سخت درد ہے۔ پیٹ میں بھی درد ہو رہا ہے۔ غالباً قولنج^1 ہے۔ مجھے پہلے بھی یہ مرض ہو چکا ہے... ہائے اللہ“ یہ کہہ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ مولانا نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی۔ علاج کے متعلق چند معقول مشورے دیے اور تشریف لے گئے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور جی میں تہیہ کر لیا کہ اب دفتر میں نہیں رہوں گا۔ اب یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ مولانا توند سے کیوں محروم ہیں۔
آگے چل کر معلوم ہوا کہ انھیں صرف دوڑنے اور ڈنڈ پیلنے کا ہی شوق نہیں، مگدر بھی ہلاتے ہیں، نیزہ بازی اور شہسواری میں بھی برق ہیں، تیراکی اور کشتی گیری میں بھی بد نہیں، نشانہ بھی اچھا لگاتے ہیں۔ حیدر آباد کی ملازمت کے زمانے میں کچھ دن فوج میں بھی رہے۔ یہ قصہ عجیب ہے، سپاہی نیزہ بازی کے کرتب دکھا رہے تھے ان کی بھی طبیعت لہرائی۔ گھوڑے پر سوار ہو کے نیزہ تانا اور آن کی آن میں میخ اکھیڑ لی۔ ہر طرف سے تحسین و آفرین کا غلغلہ ہوا اور ان کی خدمات فوج کے صیغے میں منتقل کر دی گئیں، لیکن افسر الملک سے نباہ نہ ہو سکا اس لیے استعفا دے دیا۔
ایک مرتبہ ایک صاحب کہنے لگے کہ مولانا ظفر علی زبان اور محاورے کے استاد ہیں۔ اشعار کی بندش خوب ہوتی ہے لیکن ان کے ہاں حقیقی شاعری بہت کم ہے۔ میں نے کہا ذرا ”بہ خیرِ قلزم“، ”لندن کی ایک صبح“، ”رامائن کا ایک سین“ پڑھ کر دیکھیے۔ کہنے لگے، ”میں نے تو یہ نظمیں نہیں پڑھیں لیکن مولانا کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قلب عشق و محبت کے لطیف جذبات سے خالی ہے۔“ میں نے گفتگو کا پہلو بدل کر شعر خوانی شروع کر دی۔ پہلے فارسی کے ایک دو شعر سنائے۔ جب وہ جھومنے لگے تو شاد کا یہ شعر پڑھا۔
انھوں نے دو تین مرتبہ یہ شعر پڑھوایا۔ میں نے پھر کہا۔
وہ شعر سن کر تڑپ گئے۔ کہنے لگے ”کس کا شعر ہے؟“ میں نے پوچھا ”جو شخص ایسا شعر کہہ سکتا ہے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے ”اس کے شاعر ہونے میں کیا شک ہے۔“ میں نے کہا ”تو پھر سن لیجیے کہ یہ شعر مولانا ظفر علی خاں کا ہے۔“ یہ سن کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور تلے کا تلے رہ گیا۔
دراصل مولانا کی شاعری پر تنقید کرنا میرا موضوع نہیں۔ یونہی برسبیل تذکرہ یہ باتیں آگئیں۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ مولانا نے اپنی تمام نظمیں بہت تھوڑے وقت میں کہی ہیں۔ شاید ہی کوئی نظم ایسی ہو جو انھوں نے گھنٹے دو گھنٹے میں کہی ہو، ورنہ ایک نظم پر عموماً آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا۔ ”پتھر نکال“، ”ہمسر نکال“ بڑے معرکے کی نظم ہے۔ سترہ شعر ہیں جو گھنٹے بھر میں لکھے گئے ہیں۔ اس کا آخری شعر مجھے نہیں بھولتا۔
ہم اکثر شاعروں کو دیکھا ہے کہ شعر کہنا چاہتے ہیں تو شفا الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی سے رجوع کرتے ہیں اور ہفتے بھر کا مہل لے لیتے ہیں اور پھر فی یوم ایک شعر کے حساب سے کہتے چلے جاتے ہیں، یہ نہیں کرتے تو بیوی کو پیٹتے ہیں یا اس سے پٹتے ہیں، بچوں کو جھڑکتے ہیں، ذرا گھر میں شور ہوا اور وہ سر کے بال نوچنے لگے۔ ”ہائے عقابِ مضمون دام میں آکے چلا گیا۔ کم بختو! ملعونو! تمھارے شور نے اسے اڑا دیا۔“ مولانا ظفر علی خاں کا یہ حال نہیں، جس طرح ہم اور آپ نثر لکھتے ہیں اسی طرح وہ شعر کہتے چلے جاتے ہیں۔
مولانا جب تک دفتر میں رہتے تھے بڑی چہل پہل رہتی تھی۔ نظم لکھی اور پکار کے کہا کہ ”بلاؤ قاضی کو، بلاؤ اختر کو، کہاں ہے زاہدی، کہاں ہے حسرت؟“ سب جمع ہوئے اور مولانا نے نظم پڑھ کے سنائی اور پھر انھیں نت نئی تجویزیں سوجھتی رہتی تھیں جو دو تین دن کے چرچے میں غائب غلہ ہو جاتی تھیں۔ ہم میں سے کوئی اچھا شعر کہتا یا کوئی اچھا مضمون لکھتا، تو تعریف کر کے دل بڑھاتے اور انعام بھی دیتے۔ ایک مرتبہ راقم نے فکاہات لکھے، بہت خوش ہوئے، بٹوا نکال کے دے دیا اور کہنے لگے: ”اس میں جو کچھ ہے لے لو۔“ لیکن اکثر لوگ پھر بھی دعائیں مانگتے رہتے تھے کہ اللہ کرے مولانا کہیں دور چلے جائیں اور عموماً یہ دعائیں قبول ہی ہوتی تھیں۔
اصل میں مولانا کو اخبار کی زبان اور کتابت کی صحت کا بڑا خیال رہتا تھا۔ کاتبوں کی جان الگ آفت میں، ایڈیٹر الگ مصبیت میں مبتلا، جب تک مولانا دفتر میں ہیں، غل غپاڑا مچا ہوا ہے۔ جوں ہی کاپی پر نظر پڑی شور مچ گیا۔ ”ارے یہ کیا کیا؟ یہ عبارت تو بالکل مہمل ہے۔ اس مراسلے کی تصحیح نہیں ہوئی، یوں ہی کاتب کو دے دیا گیا ہے۔ خبروں کی عبارت چست نہیں۔ کتابت کی غلطیاں تو دیکھو، ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی عجیب ہوئی ہے، کوئی دائرہ بھی تو صحیح نہیں، غضبِ خدا کا، قرآن کی آیت غلط لکھ دی، اتنا خیال نہ آیا کہ کلامِ الٰہی ہے، ستیاناس کر دیا اخبار کا، ان تمام کاپیوں کو جلا دو، از سرِ نو اخبار مرتب نہیں ہو سکتا، اعلان کر دو کہ کل اخبار نہیں نکلے گا۔ بلاؤ اختر کو، اختر! اختر کہاں ہے؟ کہاں ہے قاضی؟ قاضی! بند کر دو جی اخبار کو! بند کر دو! میں یوں اخبار نہیں نکالنا چاہتا...“
Comments
Post a Comment