دستک
- ڈراما نگاری کے فن اور لوازمات سے آگاہ ہونا۔
- کردار نگاری اور مکالمہ نگاری کے اسلوب کو سمجھنا۔
- انسانی ضمیر کی آواز اور سماجی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا۔
ڈاکٹر زیدی، بیگم زیدی، ڈاکٹر برہان
ڈاکٹر زیدی کا کمرہ
(ڈاکٹر صاحب پلنگ پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ عمر پچپن کے لگ بھگ، فرنچ کٹ ڈاڑھی، چہرے پر نقاہت نمایاں، اس وقت انھوں نے کمبل لپیٹ رکھا ہے۔ پلنگ کے پاس چھوٹی میز پر مختلف شیشیاں پڑی ہیں۔ رات طوفانی، تیز و تند ہوا کا مستقل شور ہو رہا ہے۔ بیگم زیدی آرام کرسی پر بیٹھی کسی رسالے کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ عمر پچاس کے قریب۔ سردی کی وجہ سے شال اوڑھ رکھی ہے۔ ڈاکٹر کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یکا یک ان کی نظر سامنے والے دروازے پر جا پڑتی ہے۔ جس پر نیلے رنگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ بیگم انھیں دیکھتی ہیں اور پھر رسالے کی ورق گردانی کرنے لگتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کچھ کہتے ہیں مگر بہت آہستہ۔ صرف ان کے ہونٹ حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر کمبل اپنے جسم سے ہٹانے لگتے ہیں۔ بیگم کی نظر پڑتی ہے۔)
بیگم: کیا ہے زیدی؟
زیدی: دستک سنی؟
بیگم: دستک!
زیدی: سنی نہیں تم نے؟
(ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ رک جاتے ہیں)
بیگم: ہو تو سنوں بھی! کہاں ہے دستک؟
زیدی: کہاں ہے دستک! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟ دیکھو تو جا کر۔ کوئی آیا ہے دروازے پر۔ کوئی کھٹکھٹا رہا ہے دروازہ!
بیگم: کوئی نہیں ہے۔
زیدی: صاف آواز آرہی ہے۔ نہیں جانا چاہتیں تو میں خود........
(ڈاکٹر صاحب کمبل ہٹانے لگتے ہیں)
(بیگم رسالہ کرسی پر رکھ کر اٹھتی ہیں اور ان کی طرف آتی ہیں)
بیگم: کیا کر رہے ہیں آپ؟
زیدی: دیکھتا ہوں دروازے پر کون ہے۔ تم تو جاتی ہی نہیں!
بیگم: مہربانی کر کے بیٹھے رہیے! دروازے پر کوئی بھی نہیں ہے۔
زیدی: تو یہ دستک!
(بیگم ان کے گرد کمبل لپیٹنے لگتی ہے)
بیگم: تیز ہوا کا شور ہے۔
زیدی: تیز ہوا دروازے پر دستک دیا کرتی ہے! تم جا کے دیکھو تو ذرا۔
بیگم: میں کہتی ہوں کوئی نہیں ہے۔ خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں!
زیدی: ذرا سنو تو۔ صاف بالکل صاف۔ دستک نہیں تو اور کیا ہے؟
بیگم: آپ کا وہم ہے!
زیدی: دیکھو! اب زیادہ زور سے ہونے لگی ہے۔ یہ وہم ہے کیا؟
(پھر اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیگم ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے)
بیگم: خدا کے لیے لیٹے رہیے! آپ تو خود ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر ہو کر ایسی حرکتیں کر رہے ہیں! اپنی حالت کا کچھ تو خیال کریں۔
زیدی: تم ایک مرتبہ جا کر دیکھ کیوں نہیں آتیں!
بیگم: میں جانتی ہوں دروازے پر کوئی نہیں، خیر دیکھ آتی ہوں۔
(یوں سر کو جنبش دیتی ہیں جیسے اس کام کو بیکار سمجھ رہی ہیں، دروازے کی طرف جاتی ہیں۔ زیدی انھیں ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے ہیں، بیگم پردے کے پیچھے چلی جاتی ہیں، دو تین لمحوں کے بعد پردے سے باہر آتی ہیں۔)
زیدی: کون ہے؟
بیگم: کون ہوگا!
(بیگم واپس آتی ہیں)
زیدی: تم نے دروازہ کھولا تھا؟
بیگم: (ذرا غصے سے) تو کیا دروازہ کھولے بغیر ہی کہہ رہی ہوں۔ نہ جانے بیٹھے بیٹھے کیا ہو جاتا ہے آپ کو۔ کوئی آئے گا تو کال بیل نہیں دیکھے گا۔ دروازے پر ہی دستک دے گا۔
(ڈاکٹر اور بیگم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر کی نظروں میں بے اعتباری سی ہے اور بیگم کی نظروں میں شکایت)
زیدی: مگر یہ دستک!
بیگم: (الفاظ کاٹتے ہوئے) آپ آرام نہیں کریں گے، ڈاکٹر ہو کر۔
زیدی: (بیوی کے الفاظ کاٹ کر) بار بار مجھے کیوں بتا رہی ہو کہ میں ڈاکٹر ہوں۔
بیگم: وہ اس لیے کہ آپ کو عام لوگوں سے بالکل مختلف ہونا چاہیے، اگر ڈاکٹر بھی کسی واہمے کا شکار ہو جائے تو پھر اس کے علم سے کیا فائدہ۔
زیدی: شاید تم سچ ہی کہتی ہو۔
بیگم: (آواز میں نرمی) آپ خود ہی بتائیے ایک ڈاکٹر حقیقت پسند نہیں ہوگا تو اور کون ہوگا؟
زیدی: دروازے پر دستک کی آواز سننا حقیقت کے خلاف ہے؟
بیگم: جب دستک ہی نہ ہو اور اصرار کیا جائے کہ آواز سنی ہے، اس وقت آواز سننا کس طرح حقیقت ہوئی؟
(ڈاکٹر سر جھکا کر اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ بیگم انھیں دیکھتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی نظریں بے اختیار سامنے پردے پر پڑتی ہیں۔ تیز و تند ہوا کا شور بڑھ گیا ہے۔ شاید بارش شروع ہوگئی ہے۔)
لیٹ جائیں نا! (ڈاکٹر صاحب اپنے خیال میں غرق ہیں)
زیدی: کیا کہا؟
بیگم: لیٹ جائیے!
زیدی: تم نے دروازہ کھول کر دیکھا تھا نا؟
بیگم: حد ہوگئی ہے۔ آپ لیٹ کیوں نہیں جاتے، آدھی رات ہو چکی ہے ابھی تک جاگ رہے ہیں۔ ڈاکٹر برہان نے کہا تھا آپ کو مکمل آرام کی ضرورت ہے!
زیدی: یہ بات میں خود نہیں جانتا؟
بیگم: کیوں نہیں جانتے۔ جانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔ ڈاکٹر برہان نے کہا تھا میں خود آ کر دوا پلاؤں گا۔ یاد نہیں رہا اسے۔ صبح آئے گا۔
زیدی: اچھا لڑکا ہے۔
بیگم: میں نے اتنا ذمے دار اور فرض شناس نوجوان آج تک نہیں دیکھا۔ سوائے کام کے اور کچھ سوجھتا ہی نہیں اسے۔ ہر وقت کام۔ دن ہو یا رات۔ کام کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں! یہ ہے فرض شناسی!
زیدی: ڈاکٹر کو فرض شناس ہی ہونا چاہیے!
(یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر صاحب پھر سامنے پردے کو دیکھنے لگتے ہیں)
بیگم: آپ پھر۔ توبہ ہے۔ ڈاکٹر برہان آئیں گے تو کہوں گی!
زیدی: کیا کہو گی؟
بیگم: یہ بھی تو ایک بیماری ہے۔ دروازے پر کوئی ہے نہیں اور آپ ہیں کہ دستک کی آواز سن رہے ہیں۔ ایک بار نہیں کئی بار ایسا ہوا ہے۔
(دروازے کی گھنٹی بجتی ہے)
زیدی: اب تو آیا ہے کوئی!
بیگم: شاید ڈاکٹر برہان ہیں!
(بیگم دروازے کی طرف جاتی ہیں اور پردے کے پیچھے غائب ہو جاتی ہیں۔ چند لمحوں کے بعد جب باہر نکلتی ہیں تو ان کے ساتھ ڈاکٹر برہان بھی آتے ہیں۔ ڈاکٹر برہان عمر کے لحاظ سے بالکل نوجوان ہیں، ہاتھ میں ڈاکٹروں والا بیگ، برساتی پہن رکھی ہے)
برہان: (دوری سے) السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!
زیدی: وعلیکم السلام! بڑی تکلیف کی بیٹا! اس وقت آنے کی کیا ضرورت تھی۔ صبح دیکھ لیا جاتا۔
برہان: کوئی بات نہیں۔
بیگم: ہاں بیٹا! اس وقت بھلا کیا ضرورت تھی آنے کی۔
برہان: آج شام سے پہلے دو کیس ایسے آگئے کہ فرصت ہی نہ ملی، بڑا مصروف رہا۔
(برہان آگے بڑھتے ہیں۔ بیگ چھوٹی میز پر رکھ دیتے ہیں)
کہیے ٹمپریچر لیا؟
بیگم: تھوڑی دیر پہلے لیا تھا۔ سو (100) ہے۔
برہان: سینے میں تو درد نہیں؟
زیدی: نہیں۔
برہان: شکر ہے اور کوئی بات؟
بیگم: گھبراہٹ سی ہے۔
برہان: کوئی بات نہیں۔ میرا خیال ہے انجکشن میں ناغہ کر دیا جائے۔
زیدی: یہ ٹھیک ہے۔
(بیگم جلدی سے بائیں دروازے میں سے دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہیں۔ برہان ایک بوتل اٹھاتے ہیں۔)
برہان: سیرپ ختم ہو گیا ہے۔ کل آؤں گا تو لے آؤں گا۔
زیدی: تو آپ چلے؟
برہان: جی ہاں!
بیگم: (دوسرے کمرے سے) ڈاکٹر صاحب!
برہان: جی!
بیگم: ذرا ٹھہریے۔
برہان: مجھے جلدی ہے ذرا۔
بیگم: بس ایک دو منٹ، چائے لا رہی ہوں۔
برہان: اوہو آپ نے کیوں تکلیف کی؟
(بیگم آتی ہیں)
بیگم: آپ بھی تو سردی میں آئے ہیں۔ برساتی اتار دیجیے۔
(برہان برساتی اتار کر کرسی کے بازو پر پھیلا دیتے ہیں۔ بیگم چلی جاتی ہیں)
زیدی: بیٹھ جائیے نا۔
(برہان کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں)
برہان: اور تو کوئی تکلیف نہیں؟
(بیگم ٹرے میں چائے کی تین پیالیاں لے کر آتی ہیں)
بیگم: میں بتاتی ہوں ڈاکٹر صاحب:
(ٹرے برہان کی طرف بڑھاتی ہیں۔ وہ ایک پیالی اٹھا لیتے ہیں، بیگم دوسری پیالی شوہر کو، اور تیسری پیالی اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر خالی ٹرے جھک کر میز کے ساتھ لگا دیتی ہیں)
برہان: (گھونٹ لے کر) آپ کیا بتا رہی تھیں؟
بیگم: ڈاکٹر صاحب! یہ بات بتاتے ہوئے مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوتا ہے، شاید آپ اس پر یقین نہ کریں گے۔
(شوہر کی طرف دیکھتی ہیں جو نگاہیں جھکائے چائے پینے میں مصروف ہیں)
برہان: فرمائیے تو۔
بیگم: انھیں ایک وہم ہو گیا ہے۔
برہان: وہم!
بیگم: (مسکرا کر) آپ کہیں گے ڈاکٹر اور وہم۔ یہ کیا بات ہوئی!
برہان: جی میں نہیں کہوں گا۔ میں جانتا ہوں انسانی فطرت بڑی پراسرار ہوتی ہے اور ڈاکٹر بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔
(بیگم ایک بار پھر شوہر کو دیکھتی ہیں۔ وہ بدستور چائے پینے میں مصروف ہیں)
بیگم: چائے پیجیے نا۔
برہان: بہتر۔
(برہان پیالی ہونٹوں سے لگا لیتے ہیں۔ بیگم بھی چائے پیتی ہیں)
بیگم: پتا نہیں کیا بات ہے۔ بیٹھے بیٹھے خیال کرنے لگتے ہیں کہ دروازے پر دستک ہو رہی ہے۔ حالانکہ دروازے پر کوئی بھی نہیں ہوتا۔
برہان: ہو سکتا ہے کسی نے دروازے پر دستک دی ہو اور آپ نے نہ سنی ہو!
بیگم: دستک ہوتی ہی نہیں میں کیسے مان لوں۔
برہان: یعنی دستک نہیں ہوتی اور ڈاکٹر صاحب محسوس کرتے ہیں کہ دستک ہو رہی ہے۔
بیگم: جی ہاں!
(برہان چائے کے دو گھونٹ لے کر زیدی کی طرف دیکھتے ہیں۔ زیدی نے پیالی خالی کر دی ہے۔ بیگم ہاتھ بڑھا کر پیالی لے لیتی ہیں اور میز پر رکھ دیتی ہیں۔ زیدی نے اپنا سر دیوار سے لگا دیا ہے اور آنکھیں بند کر لیئے ہیں)
برہان: نیند آرہی ہے ڈاکٹر صاحب!
زیدی: (آنکھیں کھولے بغیر) جی نہیں۔
بیگم: آج انھیں بار بار یہی خیال آتا ہے۔ میں نے کہا بھی کہ باہر تیز ہوا چل رہی ہے اس کی وجہ سے یہ شور ہو رہا ہے مگر مانتے ہی نہیں۔ دو مرتبہ مجھے دروازے پر بھیجا ہے۔
زیدی: اور وہاں کوئی نہیں تھا۔
بیگم: کوئی بھی نہیں۔
زیدی: اچھا!
بیگم: آپ ان سے پوچھیے۔
(زیدی آنکھیں کھول دیتے ہیں)
زیدی: برہان بیٹا!
برہان: کہیے!
زیدی: یہ آج سے اٹھارہ بیس برس پہلے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں میری پریکٹس خوب چلتی تھی۔ سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔ ڈسپنسری اور گھر پر مریضوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ ایک رات میں دیر سے گھر پہنچا اور پہنچتے ہی بستر پر گر پڑا........ بُری طرح تھک چکا تھا۔
(برہان پیالی میز پر رکھ دیتے ہیں۔ بیگم پیالی ہاتھ میں لیے غور سے دیکھ رہی ہے) کچھ دیر بعد میرے نوکر نے آ کر بتایا کہ کوئی بڑے میاں آئے ہیں اور آپ کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا اور نوکر سے کہا کہ بڑے میاں کو واپس بھیج دو مگر اس کے روکنے کے باوجود وہ بوڑھا میرے کمرے میں آ گیا اور منت سماجت کرنے لگا کہ میرا بیٹے سخت بیمار ہے پہلے بھی آپ کی دوا سے شفا ہوئی تھی، چل کر دیکھ لیں، مگر میری آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں۔
(زیدی دو تین لمحوں کے لیے خاموش رہتے ہیں۔ پھر کہنے لگتے ہیں)
گرم بستر چھوڑنا مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کر دیا۔ وہ بولتا رہا اور جب نوکر نے اسے زبردستی باہر نکال دیا تو دروازے پر دستک دینے لگا۔ نہ جانے کب تک دستک دیتا رہا۔ میں سو گیا۔
(زیدی پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ بیگم کی نگاہیں اپنے شوہر پر جمی ہیں اور برہان میز سے دوائی کی ایک شیشی اٹھا کر اسے دیکھ رہے ہیں)
صبح اٹھا تو طبیعت پر بڑا بوجھ تھا۔ افسوس کر رہا تھا کہ میں نے بوڑھے کو کیوں مایوس کیا۔
برہان: اس وقت آپ کا ضمیر بیدار ہو گیا تھا۔
زیدی: بس یہی بات تھی، میں نے اس بوڑھے کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی مگر کہیں پتا نہ چلا۔ نہ جانے وہ کون تھا۔
برہان: وہ بوڑھا تو چلا گیا، مگر اب کبھی کبھی آپ کا ضمیر دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے۔
(برہان بوتل میز پر رکھ دیتا ہے)
یہ دوا آج ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
(زیدی خاموش رہتے ہیں۔ برہان برساتی اٹھا کر پہن لیتے ہیں اور بیگ اٹھا کر زیدی کی طرف دیکھتے ہیں)
ڈاکٹر صاحب!
زیدی: کہو بیٹا!
برہان: اس واقعے میں ایک بات کا اضافہ کر لیجیے۔ میں انھیں بڑے میاں کا پوتا ہوں جس کا بیٹا اس رات ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہا تھا۔
زیدی: تم!
بیگم: برہان بیٹا!
برہان: اچھا خدا حافظ! ڈاکٹر صاحب اطمینان کے ساتھ سو جائیے! اب دروازے پر دستک نہیں ہونی چاہیے۔ آرام کیجیے۔ شب بخیر۔ کل حاضر ہوں گا۔
(برہان دروازے کی طرف بڑھتا ہے اور جلدی سے پردے کے پیچھے غائب ہو جاتا ہے۔ زیدی اور بیوی خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں۔ برہان کے پردے کے پیچھے جاتے ہی پردہ گرتا ہے)
(پسِ پردہ)
میرزا ادیب کا اصل نام دلاور علی تھا۔ وہ اردو کے مایہ ناز ڈراما نگار اور افسانہ نگار تھے۔ ان کے ڈراموں میں نفسیاتی کشمکش اور معاشرتی مسائل کی عکاسی نمایاں ہوتی ہے۔
اس ڈرامے کا مرکزی خیال "ضمیر کی خلش" ہے۔ ڈاکٹر زیدی کی ماضی کی ایک کوتاہی برسوں بعد بھی ان کے ضمیر پر بوجھ بن کر دستک دیتی رہتی ہے۔ یہ سبق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ذرا سی غفلت انسان کو عمر بھر کے پچھتاوے میں مبتلا کر سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment