Discover the key themes of Maulana Muhammad Hussain Azad's "Mehnat Pasand Khirdmand" for Class 12. Learn how hard work leads to success and prosperity in this concise post by EOLS.
سرمایہ اردو
- تمثیل نگاری کے مفہوم اور اردو ادب میں اس کی اہمیت سے واقف ہو سکیں۔
- مولانا محمد حسین آزاد کے مخصوص اسلوبِ نگارش کو سمجھ سکیں۔
- انسانی معاشرت کے ارتقا اور محنت کی اہمیت کا ادراک حاصل کر سکیں۔
محنت پسند خردمند
سیر کرنے والے گلشنِ حال کے اور دُور بین لگانے والے ماضی و استقبال کے، روایت کرتے ہیں کہ جب زمانہ کے پیراہن پر گناہ کا داغ نہ لگا تھا اور دُنیا کا دامن بدی کے غبار سے پاک تھا تو تمام اولادِ آدم مسرتِ عام اور بے فکریِ مُدام کے عالم میں بسر کرتے تھے۔ مُلک، مُلکِ فراغ تھا اور خسروِ آرام رحم دل، فرشتہ مقام گویا اُن کا بادشاہ تھا۔ وہ نہ رعیت سے خدمت چاہتا تھا، نہ کسی سے خراج باج مانگتا تھا۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس میں ادا ہو جاتی تھی کہ آرام کے بندے قدرتی گلزاروں میں گلگشت کرتے تھے، ہری ہری سبزے کی کیاریوں میں لوٹتے تھے، آبِ حیات کے دریاؤں میں نہاتے تھے۔ ہمیشہ وقت صبح کا اور سدا موسم بہار کا رہتا تھا۔ نہ گرمی میں تہ خانے سجانے پڑتے، نہ سردی میں آتش خانے روشن کرتے۔ قدرتی سامان اور اپنے جسموں کی قوتیں ایسی موافق پڑی تھیں کہ جاڑے کی سختی ہو یا ہوا کی گرمی، معلوم ہی نہ ہوتی تھی۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی نہروں میں بہتے تھے۔ چشمے پر لوگ جھکتے اور منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔ وہ شربت سے سوا مزا اور دودھ سے زیادہ قوت دیتے تھے۔ جسمانی طاقت قوتِ ہاضمہ کے ساتھ رفیق تھی۔ بھوک نے اُن کی اپنی ہی زبان میں ذائقہ پیدا کیا تھا کہ سیدھے سادے کھانے اور جنگلوں کی پیداواریں رنگارنگ نعمتوں کے مزے دیتے تھے۔ آب و ہوا قدرتی غذائیں تیار کر کے زمین کے دسترخوان پر چن دیتی تھیں، وہ ہزار مقوی اور مفرح کھانے کے کام دیتی تھی۔ صبا نسیم کی شمیم میں ہوائی خوشبوؤں کے عطر مہک رہے تھے۔ بلبلوں کے چہچے، خوش آواز جانوروں کے زمزمے سنتے تھے، خوبصورت خوبصورت چرند پرند آس پاس کلیل کرتے پھرتے تھے۔ جابجا درختوں کے جھرمٹ تھے۔ اُنھیں کے سائے میں سب چین سے زندگی بسر کرتے تھے۔ یہ عیش و آرام کے قدرتی سامان اس بہتات سے تھے کہ ایک شخص کی فراوانی سے دوسرے کے لیے کمی نہ ہوتی تھی اور کسی طرح ایک دوسرے کو رنج نہ پہنچتا تھا۔ سب کی طبیعتیں خوشی سے مالامال اور دل فارغ البال تھے۔
مولانا محمد حسین آزاد کو اردو کا "صاحبِ اسلوب" نثر نگار کہا جاتا ہے۔ ان کی کتاب "نیرنگِ خیال" اردو میں تمثیل نگاری کا بہترین نمونہ ہے۔
اتفاقاً ایک میدانِ وسیع میں تختہ پھولوں کا کھلا کہ اس سے عالم مہک گیا مگر بُو اس کی گرم اور تیز تھی۔ تاثیر یہ ہوئی کہ لوگوں کی طبیعتیں بدل گئیں اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ سامانِ عیش و آرام کا جو کچھ ہے میرے ہی کام آئے اور کسی کے پاس نہ جائے۔ اس غرض سے اس گلزار میں گلگشت کے بہانے کبھی تو فریب کے جاسوس اور کبھی سینہ زوری کے شیاطین آکر چالا کیاں دکھانے لگے، پھر تو چند روز کے بعد ان کی ذریات یعنی غارت، تاراج، لوٹ مار آن پہنچے اور ڈاکے مارنے لگی۔ جب راحت و آرام کے سامان یوں پیدا ہونے لگے تو رفتہ رفتہ غرور، خود پسندی، حسد نے اس باغ میں آکر قیام کر دیا۔ اُس کے اثرِ صحبت سے لوگ بہت خراب ہوئے کیونکہ وہ اپنے ساتھ دولت کا پیمانہ لائے۔ پہلے تو خدائی کے کارخانے فارغ البالی کے آئین اور آزادی کے قانون کے بہ موجب کھلے ہوئے تھے یعنی عیشِ وافر اور سامانِ فراواں جو کچھ درکار ہو، موجود تھا اور اسی بے احتیاجی کو لوگ تونگری کہتے تھے، پھر یہ سمجھنے لگے کہ اگر ہمارے پاس ہر شے ضرورت سے زیادہ ہو اور ہمیں اس کی حاجت بھی ہو یا نہ ہو لیکن تونگر ہم جبھی ہوں گے جبکہ ہمسایہ ہمارا محتاج ہو۔ ہر چند اس بیچارے ضرورت کے مارے کو خرچوں کی کثرت اور ضرورتوں کی شدت سے زیادہ سامان لینا پڑا ہو مگر اُنھیں جب ہمسائے خوشحال نظر آتے تھے تو جل جاتے تھے اور اپنے تیں محتاج خیال کرتے تھے۔
اس بدنیتی کی سزا یہ ہوئی کہ احتیاج اور افلاس نے بزرگانہ لباس پہنا اور ایک پیرزادے بن کر آئے۔ حضرتِ انسان، کہ طمعِ خام کے خمیر تھے، خسروِ آرام کی عقیدت چھوڑ کر ان کی طرف رجوع ہوئے۔ چنانچہ سب اُن کے مرید اور معتقد ہو گئے اور ہر شخص اپنے تیں حاجت مند ظاہر کر کے فخر کرنے لگا۔
مقامِ افسوس یہ ہے کہ اس بد بخت نحس قدم کے آنے سے ملکِ فراغ کا رنگ بالکل بدل گیا۔ یعنی انواع و اقسام کی حاجتوں نے لوگوں کو آن گھیرا۔ سال میں چار موسم ہو گئے، زمین بنجر ہوگئی، میوے کم ہونے لگے۔ ساگ پات اور موٹی قسم کے نباتات پر گزران ٹھہری۔ خزاں کے موسم میں کچھ بڑے بھلے اناج بھی پیدا ہونے لگے لیکن جاڑے نے بالکل لا چار کر دیا، کبھی کبھی قحط سالی کا ٹڈی دل چڑھ آتا۔ اسی لشکر میں وبا اور امراض غول کے غول بیماریاں اپنے ساتھ لے کر آتے اور تمام ملک میں پھیل جاتے۔ غرض عالم میں ایسا تہلکہ پڑا کہ اگر ملکِ فراغ کے انتظام میں نئی اصلاح نہ کی جاتی تو یک قلم برباد ہو جاتا۔ سب دکھ تو سہ سکتے تھے مگر قحط کی مصیبت غضب تھی۔ چونکہ یہ ساری نحوستیں احتیاج اور افلاس کی نحوست سے نصیب ہوئی تھیں، اس لیے سب اپنے کیے پر پچھتائے۔
عالم کا رنگ بے رنگ دیکھ کر تدبیر اور مشورہ دو تجربہ کار دُنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے اور ایک سیب کے درخت میں جھولا ڈالے الگ باغ میں جھولا کرتے تھے، البتہ جو صاحبِ ضرورت اُن کے پاس جاتا، اسے صلاحِ مناسب بتا دیا کرتے تھے۔ یہ سب مل کر اُن کے پاس گئے کہ برائے خدا کوئی ایسی راہ نکالیے جس سے احتیاج و افلاس کی بلا سے بندگانِ خدا کو نجات ہو۔ وہ بہت خفا ہوئے اور کہا کہ اپنے کیے کا علاج نہیں۔ خسروِ آرام ایک فرشتہ سیرت بادشاہ تھا۔ تم نے اس کا حقِ شکر نہ ادا کیا اور اس آفت کو اپنے ہاتھوں سر لیا۔ یہ افلاس ایسی بڑی بلا ہے کہ انسان کو بے کس اور بے بس کر دیتی ہے۔ مانگے تانگے کے سوا خود اس کا کچھ پیشہ نہیں۔ دیکھو! اسی نے ملکِ فراغ کو کیسا تباہ کر دیا ہے کہ دلوں کے باغ ہرے بھرے ویران ہوتے جاتے ہیں۔ اب اس کے نکلنے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی۔ مگر یہ کہ ہم نے سنا ہے، احتیاج و افلاس کا ایک بیٹا بھی ہے جس کا نام محنت پسند خردمند ہے۔ اس کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ہے، کیونکہ اس نے امید کا دودھ پیا ہے، ہنر مندی نے اسے پالا ہے، کمال کا شاگرد ہے۔ ہو سکے تو جا کر اس کی خدمت کرو۔ اگرچہ اسی کا فرزند ہے لیکن اوّل تو سلطنت کا مقدمہ درمیان ہے، دوسرے ماں کے دودھ کا زور اس کے بازوؤں میں ہے۔ استاد کی پھرتی اور چالاکی طبیعت میں ہے۔ شاید کچھ کر گزرے۔ تدبیر اور مشورے کا سب نے شکریہ ادا کیا اور سیدھے محنت پسند خردمند کے سراغ پر آئے۔ دامنِ کوہ میں دیکھا کہ ایک جوانِ قوی ہیکل کھڑا ہے۔ چہرہ اس کا ہوا سے تھپتھپایا ہوا، دھوپ سے تمتمایا ہوا، مشقت کی ریاضت سے بدن اینٹھا ہوا، پسلیاں ابھری ہوئیں، ایک ہاتھ میں کچھ کھیتی کا سامان، ایک ہاتھ میں معماری کے اوزار لیے ہانپ رہا ہے اور ایسا معلوم ہوا کہ ابھی ایک بُرج کی عمارت کی بنیاد ڈالی ہے۔ سب نے جھک کر سلام کیا اور ساری داستان اپنی مصیبت کی سنائی۔
وہ اُنھیں دیکھتے ہی ہنسا اور ایک قہقہہ مار کر پکارا کہ آؤ انسانو! نادانو! آرام کے بندو! عیش کے پابندو! آؤ آؤ آج سے تم ہمارے سپرد ہوئے۔ اب تمھاری خوشی کی امید اور بچاؤ کی راہ اگر ہے تو ہمارے ہاتھ ہے۔ خسروِ آرام ایک کمزور، کام چور، بے ہمت، کم حوصلہ، بھولا بھالا، سب کے منہ کا نوالہ تھا، نہ تمھیں سنبھال سکا، نہ مصیبت سے نکال سکا۔ بیماری اور قحط سالی کا ایک ریلا بھی نہ ٹال سکا۔ پہلے ہی حملے میں تمھیں چھوڑ دیا اور ایسا بھاگا کہ پھر مُڑ کر نہ دیکھا۔ سلطنت کو ہاتھ سے کھویا اور تم کو منجدھار میں ڈبویا۔ آج سے تم ہماری خدمت میں حاضر رہو۔ ہماری آواز پر آیا کرو۔ ہم تمھیں ایسی ایسی تدبیریں سکھائیں گے کہ جس سے یہ شوریت زمین کی دور ہو جائے گی۔ ہوا کی شدت اعتدال پائے گی۔ گرمی سے سردی کی خوراک نکل آئے گی۔ ہم تمھارے لیے پانی سے مچھلیاں، ہوا سے پرندے، جنگل سے چرندے نکالیں گے۔ زمین کا پیٹ چاک کر ڈالیں گے اور پہاڑوں کی انتڑیاں تک نکالیں گے۔ ایسے ایسے دھات اور جواہرات دیں گے کہ تمھارے خزانوں کے لیے دولت ہو، ہاتھوں میں طاقت ہو اور بدن کی حفاظت ہو۔ زبردست حیوانوں کے شکار کرو گے اور اُن کے آزاروں سے محفوظ رہو گے۔ جنگل کے جنگل کاٹ ڈالو گے۔ پہاڑ کے پہاڑ اکھاڑو گے۔ تم دیکھنا، میں زمانے کو وابستہِ تدبیر اور تمام عالم کو اپنے ڈھب پر تسخیر کر لوں گا۔
غرض ان باتوں سے سب کے دلوں کو لبھا لیا۔ وہ بھی سمجھے کہ محنت پسند خردمند بنی آدم کا خیر خواہ ہمارا دلی دوست ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ اس کے پاؤں پر گرے۔ ہمت اور تحمل اُس کے پہلو میں کھڑے تھے۔ اسی وقت انھیں جماعتِ مذکور پر افسر کر دیا۔
الغرض ہمت اور تحمل ان سب کو جنگلوں اور پہاڑوں میں لے گئے۔ کانوں کا کھودنا، اتار چڑھاؤ ہموار کرنا، تالابوں سے پانی سینچنا، دریاؤں کی دھاروں کا رخ پھیرنا، سب سکھایا۔ لوگوں کے دلوں پر اس کی بات کا ایسا اثر ہوا تھا کہ سب دفعۃً کمریں باندھ، آنکھیں بند کر دیمک کی طرح روئے زمین کو لپٹ گئے۔
عالم صورت چند روز میں رنگ نکال لایا مگر نئے ڈھنگ سے یعنی ساری زمین شہر، قصبوں اور گاؤں سے بھر گئی۔ کھیت اناج سے اور باغ میووں سے مالامال ہو گئے۔ شہروں میں بازار لگ گئے۔ عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ گھر آباد ہوئے اس عمارت سے گویا وہ کاروبار مراد ہیں جن میں آئندہ یہ لوگ گزران کر کے اپنی قسمت سنواریں گے۔
ہو گئے۔ جدھر دیکھو، ڈالیوں اور گلزاریوں میں میوے دھرے، دسترخوان گھروں میں سجے، ذخیرے غلوں سے بھرے، کیا گھر، کیا باہر، اس کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ غرض محنت پسند خردمند نے اس فرمانبردار رعیت کی بدولت یہ کامیابیاں اور فتوحاتِ نمایاں حاصل کر کے سلطان محنت پسند کا لقب حاصل کیا اور جابجا ملک اور شہر قائم کر کے اپنی سلطنت جمائی۔
(نیرنگِ خیال)
یہ سبق ایک تمثیل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان شروع میں بہت آرام اور سکون میں تھا۔ پھر حرص اور لالچ نے انسانی معاشرے کو تباہ کر دیا۔ افلاس اور احتیاج کے دور میں "محنت" ہی وہ واحد راستہ تھا جس نے انسان کو دوبارہ خوشحالی عطا کی۔ مولانا آزاد نے انسانی صفات کو جاندار کرداروں کی شکل میں پیش کیا ہے۔
Comments
Post a Comment