Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 12 Urdu Lesson 10 Dehleez - Amjad Islam Amjad - EOLS Digital Lesson

 

Urdu 12th class lesson 10 Dehleez, Dehleez drama Amjad Islam Amjad text, 2nd year Urdu notes PDF, Dehleez drama summary in Urdu, characters of Dehleez drama, Urdu class 12 prose section, Amjad Islam Amjad dramas list, excellence online learning school urdu, textbook style urdu lessons, 12th class urdu key book

Explore the complete text and analysis of the drama 'Dehleez' by Amjad Islam Amjad for Class 12 Urdu. This digital lesson covers Scene 14 and 15, learning objectives, character details, and the moral transformation of characters like Rafiq and Saeeda in a high-quality textbook format.


اردو-11حصہ نثرصفحہ: ۷۱
بارہویں جماعت 

سبق نمبر: ۱۰ - دہلیز

مصنف: امجد اسلام امجد

تدریسی مقاصد:
  • طلبہ کو فن ڈراما نگاری سے آشنا کرنا۔
  • اردو ادب میں ڈراما نگاری کی روایت اور نمائندہ ڈراما نگاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا۔
  • امجد اسلام امجد کی شخصیت اور مختلف ادبی و شعری جہات کے بارے میں بتانا۔
  • ڈراما "دہلیز" کا فکری اور فنی جائزہ لینا ۔
تعارف: احمد علی ایک کاروباری شخص ہے جو شہر میں ایک نئے پلازے کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ نقشہ نویس رحمن کا مشورہ ہے کہ پلازے سے ملحقہ مکان اگر شامل ہو جائے تو گراؤنڈ فلور پر سینما بھی تعمیر ہو سکتا ہے۔ مطلوبہ مکان احمد علی کے رشتے کے بھائی فقیر حسین کا ہے۔ احمد علی، فقیر حسین کو مختلف حیلوں بہانوں سے مکان بیچنے پر راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے بہتر متبادل مکان کا لالچ بھی دیتا ہے لیکن فقیر حسین راضی نہیں ہوتا۔ احمد علی کا بیٹا عابد زبردستی مکان حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فقیر حسین، اس کا بیٹا اختر اور بیٹی سعیدہ، عابد کے ناجائز حربوں سے بہت تنگ رہتے ہیں۔ اختر کا ایک دوست رفیق ہے جو بظاہر ایک بگڑا ہوا اور جرائم پیشہ نوجوان ہے، وہ اختر کی مدد کرتا ہے۔ ایک کردار جہانگیر دار جہاں گیر کا ہے جو زمین کو اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آخر کار قدرت انتقام لیتی ہے اور جہاں گیر کی حویلی کو آگ لگتی ہے جس سے وہ جل کر مر جاتا ہے۔ احمد علی اور فقیر حسین کے گھرانوں کے درمیان کشمکش جاری رہتی ہے۔ احمد علی بیمار ہوتا ہے تو فقیر حسین بڑے خلوص کے ساتھ اس کی تیمار داری کرتا ہے۔ آخر کار ان کے خاندان کی رنجشیں ختم ہو جاتی ہے۔ احمد علی کا ایک بیٹا خالد ہے جو نیک فطرت ہے اور فقیر حسین کی بیٹی سعیدہ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سعیدہ بھی اس کے لیے پسندیدہ جذبات رکھتی ہے لیکن آخر میں وہ رفیق کے باطنی کردار سے متاثر ہو کر اس کا اخلاقی سہارا بننے کی خاطر اس کے ساتھ شادی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔

کردار

فقیر حسین
اختر
سعیدہ
احمد علی
خالد
نیلم
عابد
رفیق
سلامت
جہاں گیر
سلمیٰ
باب: ۹، سین: ۱۴

رفیق کا ڈیرا: (سعیدہ اور اختر قدرے EXCITED (پر جوش) انداز میں آتے ہیں۔ ڈیرا خالی ہے۔ چاروں طرف دیکھتے ہیں۔)

اختر: رفیق صاحب!
سعیدہ: کہاں گیا وہ۔۔۔ رفیق۔۔۔ رفیق صاحب۔۔۔ رفیق صاحب! (بے چینی سے چاروں طرف دیکھتی ہے۔۔۔)

میں نے کہا بھی تھا کہ۔۔۔

(ایک دم اندرونی دروازے کو کھلتے ہوئے دیکھ کر رکتی ہے۔ رفیق دروازے میں خاموش کھڑا ہے۔ اس کے پیچھے سلامت ہے، اختر ان کی طرف بڑھتا ہے۔)

اختر: (اطمینان کا سانس لیتے ہوئے) اوہ! ہم تو گھبرا ہی گئے تھے۔۔۔۔۔
سلامت: (آگے آتے ہوئے) السلام علیکم باجی جی۔۔۔ کیا حال ہے یار باؤ؟
اختر: تمھاری دعا ہے سلامت۔ آپ کے لیے ایک خوش خبری ہے رفیق صاحب!
سعیدہ: (بچوں کی طرح جلدی سے بات کرتی ہے) سردار جہاں گیر جل کر مر گیا ہے۔ (رفیق اثبات میں سر ہلاتا ہے)
سعیدہ: (حیرت سے) آپ کو پتا لگ گیا ہے؟
رفیق: جی ہاں۔ آپ نے مجھے اس سے دور رہنے کو کہا تھا، غافل رہنے کو تو نہیں۔

(سعیدہ لاجواب سی ہو کر خواہ مخواہ مسکرا دیتی ہے۔ رفیق ایک دھاگے کو انگلیوں میں بار بار لپیٹنے اور کھولنے ہوئے بولتا ہے۔)

بیٹھیں ناں آپ لوگ۔
اختر: نہیں رفیق صاحب! ہم دراصل یہی بتانے آئے تھے۔
سلامت: لو جی! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ کچھ نہ کچھ تو ہونا چاہیے۔۔۔ آپ بتائیں باجی جی، پیڑوں کی کتنی پیش کروں؟
سعیدہ: (حیرت سے) کیا؟
سلامت: (ہاتھوں سے لسی بنانے کا اسٹائل بناتا ہے) پیڑوں کی لسی۔۔۔۔۔ پیڑے نہیں پتا آپ کو؟ (سعیدہ نفی میں سر ہلاتی ہے) وہ جو ہوتے ہیں، کھوئے کے گول گول۔۔۔۔ دودھ یا دہی میں ڈال کے بناتے ہیں اس کو۔۔۔۔ بڑی اعلیٰ نسل کی چیز ہے۔۔۔ بڑی نیند آتی ہے اس کے بعد۔
اختر: (ہنستے ہوئے) یار سلامت! ایک تو تجھے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی پڑی رہتی ہے۔
سلامت: تم مت بولو یار بیچ میں۔ میں باجی جی سے پوچھ رہا ہوں۔ تم ایسے ہی خواہ مخواہ۔۔۔
سعیدہ: نہیں سلامت بھائی۔ شکریہ۔ اب ہم چلیں گے۔ (رفیق سے) آپ آئیے ناں کسی وقت۔ ابو بھی پوچھ رہے تھے آپ کو۔
رفیق: (آزردگی سے مسکراتے ہوئے) انھیں میرا اسلام کہیے گا۔۔۔۔ زندگی رہی تو ان شاء اللہ ضرور حاضر ہوں گا۔۔۔ لیکن ہو سکتا ہے اس وقت تک انھیں میرا نام بھی بھول چکا ہو۔۔۔
سعیدہ: کیا؟ کیا مطلب؟
سلامت: (گلے کے انداز میں) آپ ہی اس کو سمجھائیں باجی جی۔۔۔ میری تو اندر میں جواب دے گئی ہیں، بحث کر کر کے۔۔۔ استاد خود کو پولیس کے حوالے کر رہا ہے۔
سعیدہ: (حیرت سے) کیا؟
سلامت: سامنے کھڑے ہیں، پوچھ لیں آپ۔
رفیق: ہاں اختر! سردار جہاں گیر کی موت کے بعد اب میرا اس ڈیرے کو چلانے کا کوئی جواز نہیں رہا۔
اختر: تو آپ چھوڑ دیں اسے۔ کوئی اچھا۔۔۔ کام کریں۔
رفیق: کروں گا، کروں گا ، مگر باہر آکر۔
سلامت: پھر وہی بات۔۔۔ (اختر کو مخاطب کرتے ہوئے) دیکھو یار باؤ، اب جب کہ ہم یہ سارے غلط قسم کے کام چھوڑ رہے ہیں، شریف شہری بننے کا ارادہ کر رہے ہیں، تو کیا یہ کافی نہیں ہے؟ (اختر اثبات میں سر ہلاتا ہے) تو سمجھاؤ پھر ان کو۔ (استاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)
رفیق: یہ بات نہیں ہے سلامے۔ شریف آدمی بننے کے لیے مجھے وہ سارے بوجھ اپنی گردن سے اتارنے ہوں گے جو میں نے ان بارہ سالوں میں جمع کیے ہیں، سارے جرائم اور غیر قانونی کام جو میں کرتا رہا ہوں ان کا کفارہ ادا کیے بغیر مجھے (اختر اور سعیدہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ سعیدہ چونک کر اس کی طرف دیکھتی ہے) ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ میں کھڑا ہو ہی نہیں سکتا۔
سلامت: پر وہ کام تم نے اپنی خوشی سے تو نہیں کیے تھے۔
رفیق: (زور دیتے ہوئے) کیے تو تھے ناں۔۔۔ قانون تو توڑاتھا ناں۔۔۔ نقصان تو پہنچا ہے ناں لوگوں کو میری وجہ سے۔
سلامت: وہ تو ٹھیک ہے پر۔۔۔۔ انصاف بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
رفیق: انصاف ہی کے لیے تو میں یہ سب کر رہا ہوں سلامے!
اختر: مگر استاد! سلامت بھی ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔ بارہ سال میں جو تم پر گزری ہے، یہ کم سزا تو نہیں۔
رفیق: نہیں اختر باؤ، نہیں۔ (سعیدہ کی طرف دیکھتا ہے) میں ٹھیک کر رہا ہوں ناں سعیدہ بی بی؟
سعیدہ: (پریشانی میں) ہاں۔۔۔ رفیق صاحب۔۔۔!
اختر: (احتجاج آمیز انداز میں) یہ کیا کہہ رہی ہو؟ (سعیدہ کوئی جواب نہیں دیتی۔)
رفیق: ضمیر پر بوجھ لے کر آزاد رہنے سے چند سال کی جیل کاٹ لینا برا سودا نہیں ہے اختر!۔۔۔ (جاتے جاتے رُکتا ہے۔) پھر تم بھی کسی جھجھک کے بغیر مجھے اپنا دوست کہہ سکو گے۔۔۔ کہو گے ناں!۔۔۔ (اختر اثبات میں سر ہلاتا ہے۔) اچھا سعیدہ بی بی! خدا حافظ!
سعیدہ: خدا حافظ!
سلامت: (بے چینی سے آگے آتے ہوئے) کمال کرتے ہو یا راستاد جی۔ تمھارا خیال ہے، ہمارا کوئی ضمیر نہیں ہے۔۔۔ ہمارے اوپر کوئی بوجھ نہیں۔ اگر تم نے جیل کی دال روٹی کھانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو میں بھی تمھارے ساتھ چلوں گا۔۔۔ (سعیدہ سے) انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

(دونوں جاتے ہیں۔ رفیق چند لمحے دروازے میں رُک کر سعیدہ کی طرف دیکھتا ہے۔)

سین: ۱۵

احمد علی کا کمرہ: (احمد علی آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ سب لوگ اس کی طرف خوش نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔)

فقیر حسین: ذرا آہستہ۔ ڈاکٹر صاحب نے پچاس قدم چلنے کو کہا تھا، یہ نہیں کہا تھا کہ تیز گام کی طرح چلنا ہے۔ (سب ہنستے ہیں۔)
احمد علی: آج میں اتنا خوش ہوں کہ جی چاہتا ہے پیدل ساری دنیا میں گھوم جاؤں۔
نیلم: (شرارت آمیز انداز میں) مگر کراچی سے آگے تو سمندر شروع ہو جاتا ہے ابو!
سلمیٰ: (محبت سے) بہت بدتمیز ہوتی جا رہی ہو تم۔
اختر: جی بالکل۔
نیلم: آپ تو مت بولا کریں بیچ میں۔
احمد علی: کیوں نہیں بولے گا۔۔۔ بلکہ ہم تو ایسا انتظام کر رہے ہیں کہ تم اس کے سامنے بول ہی نہ سکو۔ کیوں سلمیٰ؟
سلمیٰ: یہ پھر بھی باز نہیں آئے گی۔
احمد علی: کیوں؟ ماں سے کچھ نہیں INHERIT کیا اس نے؟
سلمیٰ: کیا؟
احمد علی: میرا مطلب تھا تم سے کچھ نہیں سیکھا اس نے؟
سلمیٰ: اچھا۔
فقیر حسین: کیوں تم دونوں میری بیٹی کے پیچھے پڑ گئے ہو۔ ادھر آؤ بیٹی! تم میرے پاس آؤ۔

(نیلم حیرت سے سب کی طرف دیکھتی ہے۔ ایک دم ان کا مطلب سمجھ کر شرماتی ہے۔ اندر کی طرف بھاگ جاتی ہے۔ سب ہنس پڑتے ہیں۔)

احمد علی: میرا خیال ہے، بھائی فقیر حسین، اب جب کہ اللہ نے ہم سب پر مہربانی کر دی ہے تو میں تم سے بھی کچھ مانگ ہی لوں۔
فقیر حسین: (مسکراتے ہوئے) جو مانگنا ہو سیدھی طرح مانگنا، چکر نہ دینا پہلے کی طرح۔
احمد علی: نہیں فقیر حسین! اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب میں ، خیر چھوڑو اسے۔ سعیدہ بیٹی! ذرا یہاں آنا۔ (سعیدہ چونک کر اس کی طرف دیکھتی ہے۔) تم بھی آؤ خالد بیٹا۔
خالد: جی! (اٹھ کر اس کے پاس بیٹھتا ہے۔) یہاں آؤ بیٹی! میرے پاس۔
سعیدہ: میں یہیں ٹھیک ہوں چچا جان۔
احمد علی: ارے نہیں بھئی۔ تمھیں پتا نہیں میں تمھیں یہاں کیوں بلا رہا ہوں۔ کیوں فقیر حسین؟ (مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا ہے۔ فقیر حسین پہلے مسکراتا ہے پھر غور سے سعیدہ کی طرف دیکھتا ہے۔)
فقیر حسین: کیا بات ہے سعیدہ بیٹی؟
سعیدہ: (اٹکتے ہوئے) ابو! چچا جان مجھے جس لیے۔۔۔ اپنے پاس بلا رہے ہیں، میں۔۔۔ وہ۔۔۔ میں نہیں کر سکتی۔
سلمیٰ: (حیرت سے) مگر بیٹی! خالد اور تم تو۔۔۔
احمد علی: ہاں بیٹی! تم دونوں تو۔۔۔۔
سعیدہ: اس وقت اور بات تھی چچا جان۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ دراصل۔۔۔
فقیر حسین: (حیرت سے) خالد کو تو تم بہت پسند کرتی ہو بیٹی۔
سعیدہ: خالد بہت اچھے ہیں ابو! بہت اچھے، مگر آپ کہا کرتے ہیں ناں ابو کہ کسی دوسرے کے لیے کچھ کرنا ہو تو اپنے آپ کو مارنا پڑتا ہے۔ اپنے اندر سے اپنے حصے سے کچھ کاٹ کر اسے دینا پڑتا ہے۔
فقیر حسین: ہاں ہاں بیٹی!
سعیدہ: میں بھی یہی سوچا ہے ابو۔ ہم سب کے پاس سب کچھ ہے۔ آرام ، سکون، توجہ، خوشی، محبت۔ لیکن ایک شخص ایسا ہے جس کے پاس ان میں سے ایک بھی چیز نہیں۔ بالکل اکیلا ہے وہ۔
فقیر حسین: (حیرت سے) کس کی بات کر رہی ہو بیٹی؟
اختر: (چند لمحے سعیدہ کے تذبذب کو دیکھتا ہے اور ایک قدم آگے بڑھتا ہے۔) رفیق؟ تم رفیق کی بات کر رہی ہوناں؟
(سعیدہ اثبات میں سر ہلاتی ہے۔) مگر سعیدہ۔۔۔ رفیق۔
سعیدہ: تم تو اسے جانتے ہو اختر! ہم سب سے زیادہ جانتے ہو۔ وہ پڑھا لکھا نہیں۔ شکل سے گنوار لگتا ہے۔ اس کا ماضی داغ دار ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوا۔ اتنی اذیت اور تکلیف دیکھنے کے باوجود اگر کسی آدمی کے اندر انسان زندہ رہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے اختر ، حفاظت کرنی چاہیے اس کی۔
اختر: ہاں! یہ تو ٹھیک ہے۔
احمد علی: کون ہے یہ رفیق؟
عابد: ڈیڈ! یہ وہی ہے جس نے مجھے سردار جہاں گیر کی قید سے نکالا تھا۔
سلمیٰ: کیا کرتا ہے؟
عابد: مگر سعیدہ ! وہ تو۔۔۔ اختر بتا رہا تھا کہ HE IS UNDER ARREST (سعیدہ اثبات میں سر ہلاتی ہے۔) تو۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔
سعیدہ: کسی اور کو ہو نہ ہو، ہمیں تو پتا ہے عابد کہ اس نے جو کچھ کیا، کیوں کیا تھا۔ اگر ایک گناہ گار توبہ کر لے، کفارہ ادا کر دے اپنے جرموں کا ، سزا بھگت لے اپنی غلطی کی تو کیا اس کے بعد بھی معاشرہ اسے قبول نہ کرے!
احمد علی: کیوں نہیں کرے گی بیٹی ، مگر اس کے لیے تم۔۔۔ تم کیوں؟
سعیدہ: اس لیے چچا جان کہ اس تصویر کا یہ رُخ صرف ہم لوگوں نے دیکھا ہے۔ اگر ہم اسے معاف نہیں کر سکتے تو باقی دنیا کیسے کرے گی۔ (فقیر حسین کی طرف دیکھتی ہے۔) میں نے ٹھیک کہا ہے ناں ابو!
فقیر حسین: تم نے بہت اچھا سوچا ہے بیٹی لیکن اگر تم نے اسے سہارا دینے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اسے کبھی یہ احساس نہ ہونے دینا کہ تم نے اس پر رحم کھا کر اسے قبول کیا ہے۔ احسان کے اظہار سے اس کی برکت زائل ہو جاتی ہے، بیٹی!
سعیدہ: مجھے اس کا احساس ہے ابو! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ (وہ روتے ہوئے باپ کے سینے سے لگتی ہے۔) مجھے شاید یہ بات اس طرح نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ابو! مجھے معاف کر دیجیے۔
(ڈراما: دہلیز)

فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی)

لفظمعنیلفظمعنی
تیمار داریبیمار کی دیکھ بھالرنجشیںناراضگیاں / دشمنی
کفارہگناہ کا بدلہاثباتہاں میں جواب دینا
داغ داربدنام / عیب والازائل ہوناختم ہو جانا / ضائع ہونا
اہم نکات:
  • سردار جہاں گیر کی موت برائی کے انجام کو ظاہر کرتی ہے۔
  • رفیق کا خود کو پولیس کے حوالے کرنا ضمیر کی بیداری کی علامت ہے۔
  • سعیدہ کا فیصلہ روایتی محبت کے بجائے اخلاقی سہارا دینے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔
  • احمد علی اور فقیر حسین کی صلح خاندانی اتحاد کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...