Explore the complete text of Saadat Hasan Manto's classic short story 'Naya Qanoon' for Class 11 Urdu. This digital lesson features learning objectives, historical context of the 1935 Act, and a glossary, all in a high-quality textbook format designed for Pakistani students.
نیا قانون (۱)
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو ادبی زبان اور اسلوب سے روشناس کرانا۔
- منٹو کی حقیقت نگاری اور مختلف سماجی، سیاسی مسائل کی پیش کش سے آگاہ کرنا۔
- طلبہ میں تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنا۔
- منٹو کے افسانوی کرداروں کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالنا۔
- طلبہ کو استعاریت اور استعاریت کی جھلکٹوں سے آگاہ کرنا۔
منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقل مند سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان، جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے سپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیشین گوئی کی تھی: ”دیکھ لینا گاما چودھری! تھوڑے ہی دنوں میں سپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔“ اور جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا: ”ولایت میں اور کہاں؟“
سپین میں جنگ چھڑی اور جب ہر شخص کو اس کا پتا چل گیا تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حلقہ بنائے حقہ پی رہے تھے، دل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے اپنی سواری سے تازہ ہندومسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔
استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں مگر اس کے تنفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب بھی وہ گورے کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھتا تو اسے متلی سی آجاتی۔ نامعلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی کھلی کھلی کھال گل کر جھڑ رہی ہو۔
جب کسی نشے میں دھت گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مکدر رہتی اور وہ شام کو اڈے میں آ کر مل مارکہ سگریٹ پیتا پیتے کش لگاتے ہوئے اس گورے کو جی بھر کر سنایا کرتا: ”۔۔۔۔۔۔“ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہتا تھا: ”آگ لینے آئے تھے اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں۔“
(۱) گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء جو یکم اپریل 1937ء سے نافذ العمل ہوا۔
اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا: ”شکل دیکھتے ہوتا ہے جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔ بالکل مُردار، ایک دھپے کی مار اور گرت پھٹ، گرت پھٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔“ یہ کہتے کہتے تھوڑی دیر کے لیے وہ خاموش ہو جاتا اور ناک کو خاکی قمیص کی آستین سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑ بڑانے لگ جاتا۔ ”قسم ہے بھگوان کی، ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آگیا ہوں۔ جب بھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون قانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم! جان میں جان آجائے۔“
اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفت گو سے اس کو پتا چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین نافذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
”ہر چیز تو نہیں بدلے گی مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی۔“
”کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا؟“
”یہ پوچھنے کی بات ہے، کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔“
ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں نا قابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا اور چابک سے بہت بُری طرح پیٹتا تھا مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا اور اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا: ”چل بیٹا! ذرا ہوا سے باتیں کر کے دکھا دے۔“
مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پر پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینُو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسی پی کر ایک بڑی ڈکار لی اور مونچھوں کو منھ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا: ”ہت تیری ایسی کی تیسی!“
شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ ملا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بے قراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لا کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا، اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کر کے غور و فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ: ”کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا؟“ بار بار گونج رہا تھا اور اس کے تمام جسم میں مسرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔
وہ بے حد مسرور تھا۔ خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں، سفید چوہوں (وہ اُن کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔
جب نتھو گنجا پگڑی بغل میں دبائے اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا: ”لا ہاتھ ادھر۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔ تیری اس گنجی کھوپڑی پر بال اگ آئیں۔“ اور یہ کہ کر منگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفت گو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا: ”خود دیکھتا رہ کیا بنتا ہے، یہ ’روس والا بادشاہ‘ کچھ نہ کچھ ضرور کر کے رہے گا۔“
استاد منگو موجودہ سویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں، اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ کو ’انڈیا ایکٹ‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں وہ انھیں ’روس والے بادشاہ‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔
کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جاری تھی۔ استاد منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’روس والے بادشاہ‘ اور پھر ’نئے قانون‘ کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سنتا کہ فلاں شہر میں اتنے بم ساز پکڑے گئے ہیں یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں خوش ہوتا۔
ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تبادلہ خیال کر رہے تھے اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: ”جدید آئین کا دوسرا حصہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آ سکا۔ ایسی فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سنی، نہ دیکھی گئی۔ سیاسی نظریہ سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں۔“
ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفت گو ہوئی اس میں بیش تر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس لیے استاد منگو صرف اوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے کہا: ”یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو برا سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔“ چناں چہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر دل ہی دل میں کہا: ”ٹُوڈی بچے!“
جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ”ٹُوڈی بچہ“ کہتا تو دل میں یہ محسوس کر کے بڑا خوش ہوتا تھا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے، اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ”ٹُوڈی بچے“ میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس واقعے کے تیسرے روز گورنمنٹ کالج کے تین طلبہ کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا: ”نئے آئین نے میری امیدیں اور بڑھا دی ہیں۔ اگر۔۔۔ صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی۔“
”ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی۔ شاید اسی گڑ بڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آجائے۔“
اس گفت گو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی اور وہ اس کو ایسی ’چیز‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو۔ ”نیا قانون!“ اور وہ دن میں کئی بار سوچتا، یعنی کوئی نئی چیز! اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے بڑی اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر، جب وہ نیا تھا، جگہ جگہ لوہے کی نِکل چڑھی ہوئی کِیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’نئے قانون‘ کا درخشاں ہونا بہت ضروری تھا۔
پہلی بار اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا مگر اس کے متعلق جو تصویر وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا، بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈک پہنچے گی۔
آخر مارچ کے اکتیس دن ختم ہو گئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے۔ موسم خلافِ معمول سرد تھا اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اٹھا اور اصطبل میں جا کر گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔
اس نے صبح کے سرد دھندلکے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں یکم مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنے میں خریدی تھی۔
گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز، کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے، دکانوں کے بورڈ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگھرو کی جھنجھناہٹ، بازار میں چلنے پھرنے آدمی۔۔۔ ان میں سے کون سی نئی چیز تھی؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں۔ لیکن استاد منگو مایوس نہیں تھا۔
”ابھی بہت سویرا ہے۔ دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں۔“ اس خیال سے اسے تسکین ملی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا: ”ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟“
جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے کے قریب پہنچا تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جو طلبہ کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے خوش پوش تھے، مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے میلے میلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔
تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انارکلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں اور اب لوگوں کی آمد و رفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی۔ مٹھائی والوں کی نمائش چیزیں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔
کچھ بھی ہو مگر استاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بے قرار نہیں تھا جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ آج نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلا کرتا تھا۔
لیڈروں کی عظمت کا اندازہ استاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور ان کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا۔ اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہو تو استاد منگو کے نزدیک وہ بڑا آدمی تھا اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیڑ کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔
انارکلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چابک دکھایا اور دل میں یہ خیال کیا: ”چلو یہ بھی اچھا ہوا۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتا چل جائے۔“
وہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا اور اس قابلِ غور بات کو آئینِ جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اسے بلایا ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک ”گورا“ کھڑا نظر آیا جو اسے ہاتھ سے بلا رہا تھا۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے استاد منگو کو گوروں سے بے حد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اسے خیال آیا ان کے پیسے چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے۔ کتنی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کر دیے ہیں ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔
”چلو چلتے ہیں۔“
خالی سڑک پر بڑی صفائی سے تانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو چابک دکھایا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا:
”صاحب بہادر! کہاں جانا مانگتا ہے؟“
اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا۔ صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا ہونٹ مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھنچ گیا اور پاس ہی گال کے اس طرف جو دم شم ہی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آرہی تھی، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہو گئی، گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی ہے۔ اس کا چہرہ ہنس رہا تھا اور اپنے اندر اس نے اس ”گورے“ کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔
استاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اترنے والا تھا، سامنے کھڑے گورے کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرے ذرے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے، گویا وہ استاد منگو کے اس حملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گورے نے سگریٹ کا دھواں نگلتے ہوئے کہا: ”جانا مانگتا یا پھر گڑ بڑ کرے گا؟“
”وہی ہے۔“ یہ الفاظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔
”وہی ہے۔“ اس نے یہ الفاظ اپنے منھ کے اندر ہی اندر دہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہو گیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی اور اس خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھا ہوا نشہ تھا، اسے طوعاً و کرہاً بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے پرزے اڑا دیے ہوتے مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔
استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا: ”کہاں جانا مانگتا ہے؟“
استاد منگو کے لہجے میں چابک جیسی تیزی تھی۔ گورے نے جواب دیا: ”لکشالی“
”کرایہ پانچ روپے ہو گا۔“ استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔
یہ سن کر گورا حیران ہو گیا۔ وہ چلایا! ”پانچ روپے۔ کیا تم۔۔۔۔؟“
”ہاں ہاں، پانچ روپے۔“ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ پہنچ کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔ ”کیوں، جاتے ہو یا بے کار باتیں بناؤ گے؟“ استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔
گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی کو نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیر اثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پست قد گورے کو دیکھا۔ گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اوپر کو اٹھا اور چشم زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نیچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا اور نیچے اتر کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا ہ۔
ششدرو متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے اور اس کی آنکھوں میں شرارے برس رہے ہیں تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس چیخ پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا: ”پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!“
لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منھ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا:
”وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب نیا قانون ہے میاں۔ نیا قانون!“
اور بے چارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کی مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ ”نیا قانون، نیا قانون“ چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
”نیا قانون، نیا قانون! کیا بک رہے ہو؟ قانون وہی ہے پرانا!“
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔
(کلیاتِ منٹو)
مشکل الفاظ کے معنی:
متانت: سنجیدگی | مکدر: گدلا، پریشان | طوعاً و کرہاً: اپنی مرضی سے یا مجبوری میں | ششدرو متحیر: حیران و پریشان | ہتک: بے عزتی
Comments
Post a Comment