اور پاکستان بن گیا
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کی لسانی اور ادبی مہارتوں کو بہتر بنانا۔
- طلبہ کو فنِ ناول نگاری اور اس کے لوازم سے روشناس کرنا۔
- خدیجہ مستور کے ناول ”آنگن“ کے توسط سے تحریکِ پاکستان کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنا۔
- طلبہ میں ناول کے کرداروں، واقعات، پلاٹ، مکالمات اور منظر کشی وغیرہ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔
[تعارف: آدم جی ادبی انعام یافتہ ناول ”آنگن“ قیامِ پاکستان کے بعد لکھے جانے والے ناولوں میں ممتاز مقام کا حامل ہے۔ ”آنگن“ میں ہندوستان کے ایک مسلمان گھرانے کی زندگی کے حالات بیان ہوئے ہیں اور اس امر کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ افراد کی زندگیوں پر گرد و پیش میں رونما ہونے والے سماجی اور سیاسی واقعات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ناول میں مسلمان اشراف گھرانوں میں گھر یلو زندگی کی جھلک، طبقہِ نسواں کی جذباتی زندگی اور دوسرے کرداروں کی نفسیات کو مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ ناول کا موضوع تقسیم سے ذرا پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد کا وہ مختصر زمانہ ہے جب جنوبی ایشیا کے مسلمان ہجرت کرنے یا نہ کرنے کی کشمکش میں مبتلا تھے اور ملک کے طول و عرض میں جابجا انسانی خون ارزاں ہو گیا تھا۔]
پاکستان بن گیا۔ لیکن راہنما کراچی دارالحکومت جا چکے تھے۔ پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ بڑے چچا اس صدمے سے جیسے نڈھال ہو گئے تھے۔ بیٹھک میں بیماروں کی طرح وہ ہر ایک سے پوچھتے رہتے: ”یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہو گیا؟ یہ ہندو مسلمان ایک دم ایک دوسرے کے ایسے جانی دشمن کیسے ہو گئے؟ انہیں کس نے سکھایا ہے؟ ان کے دل سے کس نے محبت چھین لی؟“
جب وہ یہ سب کچھ عالیہ سے پوچھتے تو وہ ان کا سر سہلانے لگتی۔ ”بڑے چچا آپ آرام کیجیے، آپ تھک گئے ہیں بڑے چچا۔“ اور بڑے چچا اس طرح آنکھیں بند کر لیتے جیسے خون کی ندی ان کی آنکھوں کے سامنے بہہ رہی ہو۔
”زمانے زمانے کی بات ہے، وہ بھی زمانہ تھا جب ہندو اپنے گاؤں کے مسلمانوں پر آنچ آتے دیکھتے تو سر دھڑ کی بازی لگا دیتے اور مسلمان ہندو کی عزت بچانے کے لیے اپنی جان نچھاور کر دیتا، ایسا بھائی چارہ تھا کہ لگتا ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں، پر اب کیا رہ گیا، دونوں کے ہاتھوں میں خنجر آگیا ہے۔“ کریمن بوا فساد کی خبریں سن سن کر ٹھنڈی آہیں بھر ا کرتیں۔ اپنے شہر میں فساد تو نہ ہوا تھا مگر سب کی جانوں پر بنی رہتی، پتا نہیں کب کیا ہو جائے۔
(۱) قیام پاکستان کے بعد کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت منتخب کیا گیا تھا۔ بعد میں ۱۹۶۷ء کو کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا۔
”کہاں ہو گا میرا شکیل؟“ بمبئی (۱) میں فساد کی خبریں سن کر بڑی چچی بلکنے لگیں۔
”تمہارا پاکستان بن گیا جمیل! تمہارے ابا کا ملک بھی آزاد ہو گیا، پر میرے شکیل کو اب کون لائے گا؟“
”سب ٹھیک ہو جائے گا اماں، وہ خیریت سے ہو گا۔ یہ فساد و ساد تو چار دن میں ختم ہو جائیں گے۔“ جمیل بھیا ان کو سمجھاتے مگر ان کا چہرہ فق رہتا۔
شام سب لوگ خاموش بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ماموں کا خط آگیا۔ انھوں نے اماں کو لکھا تھا کہ انھوں نے اپنی خدمات پاکستان کے لیے وقف کر دی ہیں اور وہ جلد ہی جا رہے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو چلنا ہو تو فوراً جواب دیجیے اور تیار رہیے۔
”بس ابھی تار دے دو جمیل میاں، ہماری تیاری میں کیا لگے گا ہم تو بس تیار بیٹھے ہیں۔ اپنا بھائی ہے بھلا ہمیں اکیلا چھوڑ کر جا سکتا ہے؟“ مارے خوشی کے اماں کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔
جمیل بھیا نے اس طرح گھبرا کر سب کی طرف دیکھا جیسے فسادی ان کے دروازے پر پہنچ گئے ہوں: ”مگر آپ کیوں جائیں گی چھوٹی چچی؟ آپ یہاں محفوظ ہیں۔ میں آپ کے لیے اپنی جان دے دوں گا۔“ انھوں نے آج بڑی مدت بعد عالیہ کی طرف دیکھا، کیسی سفارشی نظریں تھیں مگر عالیہ نے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔
”میں نہ جاؤں تو کیا ہندوؤں کے گھر میں رہوں، پاکستان میں اپنوں کی تو حکومت ہو گی، پھر میں اپنے بھائی کو چھوڑ کر ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتی، واہ۔“
مارے خوشی کے اماں سے چائے نہ پیا جا رہا تھا۔
”عالیہ جانے پر راضی نہیں ہو گی چھوٹی چچی، وہ نہیں جائے گی، وہ جا ہی نہیں سکتی۔“ جمیل بھیا نے جیسے نیم دیوانگی کے عالم میں کہا:
”تم اچھے حق دار آگئے ، کون نہیں جائے گا؟“ اماں ایک دم بھر اٹھیں۔ ”تم ہوتے کون ہو روکنے والے؟“
”ضرور جایئے چھوٹی چچی۔“ جمیل بھیا نے سر جھکا دیا اور عالیہ کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ نہیں جا سکتی۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر وہ یہاں سے ہل بھی نہ سکے گی۔
”میں ابھی تار کیے دیتا ہوں کہ سب تیار ہیں۔“ جمیل بھیا اٹھ کر باہر چلے گئے۔
عالیہ کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اعلان کرے کہ وہ نہیں جائے گی، وہ نہیں جا سکتی، اسے کوئی نہیں لے جا سکتا مگر اس کے گلے میں تو سینکڑوں کانٹے چبھ رہے تھے، وہ ایک لفظ بھی نہ بول سکی، اس نے ہر طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں مگر وہ کیوں رکے، کس لیے ، کس کے لیے ، اس نے سوچا اور پھر جیسے بڑے سکون سے چھالیہ کاٹنے لگی۔ عالیہ بیگم اگر تم رہ گئیں تو ہمیشہ کے لیے دلدل میں پھنس جاؤ گی۔
”کریمن بوا! اگر سب لوگ چائے پی چکے ہوں تو۔۔۔“ اسرار میاں نے بیٹھک سے آواز لگائی اور کریمن بوا آج تو ڈائنوں کی طرح چیخنے لگیں: ”ارے کوئی تو اس اسرار میاں کو بھی پاکستان بھیج دو۔ سب چلے گئے سب چلے جائیں گے مگر یہ کہیں نہیں جاتا۔“
بیٹھک میں اسرار میاں کے کھانسنے کی آواز آئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔
(۱) موجودہ ممبئی
”کیا تم سچ مچ چلی جاؤ گی چھوٹی دلہن؟“ بڑی دیر تک چپ رہنے کے بعد بڑی چچی نے پوچھا۔
”ظاہر ہے کہ چلی جاؤں گی۔“ اماں نے کُڑھائی سے جواب دیا۔
”یہ گھر تمہارا ہے چھوٹی دلہن، مجھے اکیلے نہ چھوڑو۔“ بڑی چچی نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں بند کر لیں، شاید وہ تنہائی کے بھوت سے ڈر رہی تھیں۔ عالیہ جیسے پناہ ڈھونڈنے کے لیے اوپر بھاگ گئی۔ دھوپ پیلی پڑ کر سامنے کے مکان کی اونچی دیوار پر چڑھ گئی تھی۔ ہائی اسکول کے احاطے میں بسیرا لینے والے پرندے مسلسل شور مچائے جا رہے تھے۔
کھلی فضا میں آکر اس نے اطمینان کی سانس لی اور مسافروں کی طرح ٹہل ٹہل کر سوچنے لگی کہ اب آگے کیا ہو گا، شاید اچھا ہی ہو، وہ یہاں سے جا کر ضرور خوش رہے گی۔
جب وہ نیچے اتری تو سب اپنے اپنے خیالوں میں مگن بیٹھے تھے، صرف کریمن بوا جانے کس بات پر بڑبڑا رہی تھیں اور پھرتی سے روٹیاں پکاتی جا رہی تھیں۔
جمیل بھیا کہاں گئے ، اب تک کیوں نہیں آئے ، عالیہ نے مونی کرسی کی طرف دیکھا۔ جانے یہ سر پھرا آدمی اسے یاد کرے گا یا بھول جائے گا۔ اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔
لالٹین کی بتی خراب تھی اس لیے اس میں سے دولوئیں اٹھ رہی تھیں اور ایک طرف سے چمنی سیاہ ہو گئی تھی۔ مدہم روشنی میں بڑی چچی اور کریمن بوا کے چہرے بگڑے بگڑے لگ رہے تھے۔
جمیل بھیا گھر میں داخل ہوئے اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ”میں تار کر آیا ہوں چھوٹی چچی!۔“ انھوں نے دھیرے سے کہا۔
”تم اتنی دیر تک باہر نہ رہا کرو، شام سے گھر آجایا کرو، جانے کب یہاں بھی گڑ بڑ ہو جائے۔“ بڑی چچی نے کہا۔
”رہنا تو پڑتا ہے ، مسلمان ڈرے ہوئے ہیں، انھیں سمجھانا ہے کہ وہ یہاں ڈٹ کر رہیں اور یہاں کی فضا کو پرامن رکھیں، گھر میں بیٹھ کر تو کام نہ چلے گا۔“
”تو پھر اب ملک آزاد ہو گیا تو یہ کام شروع ہو گئے ، خیر مجھے کیا تم نے تار پر پتا ٹھیک لکھا تھا ناں؟“ اماں نے پوچھا۔
”آپ اطمینان رکھیں، پتا ٹھیک تھا۔“
”خیر سے ہم تو پاکستان جا رہے ہیں، مگر اب تم اپنے گھر کی فکر کرو جمیل میاں، کیا بُری حالت ہو چکا ہے، اپنی ماں کی طرف بھی دیکھو۔“ اماں نے ہمدردی سے بڑی چچی کی طرف دیکھا۔
”کون جا رہا ہے پاکستان؟“ بڑے چچا نے صحن میں قدم رکھتے ہی بوکھلا کر پوچھا۔ انھوں نے اماں کی باتیں سن لی تھیں۔
”میں اور عالیہ جائیں گے ، اور کسے جانا ہے۔“ اماں نے تراق سے جواب دیا۔
”کوئی نہیں جا سکتا، میری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں نکال سکتا، کس لیے جاؤ گے پاکستان؟ یہ ہمارا ملک ہے ، ہم نے قربانیاں دی ہیں اور اب ہم اسے چھوڑ کر چلے جائیں؟ اب تو ہمارے عیش کرنے کا وقت آرہا ہے۔“ بڑے چچا سخت جوش میں تھے۔
”ماشاء اللہ! آپ بڑے حق دار بن کر آگئے ، نہ کھلانے کے نہ پلانے کے ، کون سا دکھ تھا جو یہاں آکر نہیں۔ جمیلا، میرے شوہر کو بھی آپ ہی نے چھین لیا، آپ ہی نے انھیں مار ڈالا۔ میری لڑکی کو یتیم کر دیا اور اب حق جتارہے ہیں؟“ مارے غصے کے اماں کی آواز کانپ رہی تھی۔
کریمن بوا میرا کھانا بیٹھک میں بھجوا دو۔“ بڑے چچا سر جھکائے بیٹھک میں چلے گئے۔
”کیا آپ چلنے سے پہلے بڑے چچا کو بھی بدل دینا چاہتی ہیں؟ بڑے چچا نے کسی کو تباہ نہیں کیا، بڑے چچا نے کسی کو دعوت نہیں دی تھی کہ آؤ اور میرا ساتھ دو۔ آپ آج اچھی طرح سن لیں کہ مجھے بڑے چچا سے اتنی ہی محبت ہے جتنی ابا سے تھی۔“ عالیہ نے کھانا چھوڑ دیا اور ہاتھ دھو کر بیٹھک میں چلی گئی، اماں کیا کہتی رہ گئیں اس نے ذرا بھی نہ سنا۔
”کیا تم سچ مچ جا رہی ہو بیٹی؟“
”ہاں بڑے چچا، اماں جو تیار ہیں۔“ اس نے بے بسی سے جواب دیا۔
”یہ انگریز جاتے جاتے بھی چال چل گیا، لوگوں کو گھر سے بے گھر کر گیا، پھر بھی تم مت جاؤ بیٹی! اپنی ماں کو سمجھاؤ، اب تمھارے سکھ کا زمانہ آگیا ہے۔“
”بڑے چچا میں تو اماں کا واحد سہارا ہوں، میں انھیں کس طرح چھوڑ دوں، وہ ضرور جائیں گی مگر آپ کو نہیں معلوم کہ یہ گھر چھوڑ کر میں کس طرح تڑپوں گی، آپ۔۔۔ آپ تو۔۔۔“ وہ دونوں ہاتھوں میں منھ چھپا کر سسکنے لگی۔
”چھوٹی دلہن کو مجھ سے سخت نفرت ہے، ٹھیک ہے ، میں نے تم لوگوں کے لیے کچھ بھی نہ کیا، مگر اب وقت آیا تھا کہ اس گھر میں پہلی سی شادمانی لوٹ آتی، مجھے بڑی اچھی ملازمت دی جا رہی ہے ، پھر دکانوں کو چلانے کے لیے دس پندرہ ہزار کی امداد بھی ملنے کی توقع ہے، میں چھوٹی دلہن کی سب شکایتیں رفع کر دوں گا۔“ انھوں نے عالیہ کو پیار سے تھپکا۔ ”کیا گھر میں تیل ختم ہو گیا ہے ؟ لالٹین کی روشنی مدہم ہوتی جا رہی ہے ، اب ان شاء اللہ تھوڑے دنوں میں بجلی کا کنکشن بحال کرالوں گا اور اب تم ایم۔ اے میں داخلہ کیوں نہ لے لو میرا خیال ہے کہ تم کو اگلے سال ضرور داخل کرادوں۔“
عالیہ کا کلیجہ کٹ رہا تھا۔ آنسو پونچھ کر وہ خاموش بیٹھی رہی۔ جی ہی جی میں گھٹ رہی تھی مگر ایک لفظ بھی نہ بول سکی۔ خدا آپ کو سکھ دے بڑے چچا، خدا آپ کے سارے سہانے خواب پورے کرے۔ وہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی۔ وہ بڑے چچا سے کس طرح کہتی کہ وہ تو یہاں سے خود بھاگ جانا چاہتی ہے۔
اسرار میاں بیٹھک میں داخل ہونے کے لیے پیٹ کھول رہے تھے۔ عالیہ اٹھ کر صحن میں آگئی۔ اماں اور بڑی چچی جانے کیا باتیں کر رہی تھیں۔ جمیل بھیا تب تک کرسی پر بیٹھے انگلیاں مروڑ رہے تھے۔ وہ ایک لمحے تک آنگن میں کھڑی رہی اور پھر اوپر چلی گئی۔
شبنم سے بھیگی ہوئی رات بڑی روشن ہو رہی تھی۔ چاند جیسے وسطِ آسمان پر چمک رہا تھا اور روز کی طرح آج بھی قریب کی کسی چھت پر گراموفون ریکارڈ بج رہے تھے:
وہ آہستہ آہستہ ٹہلنے لگی کیسی عجیب سی حالت ہو رہی تھی، جیسے سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیت کسی نے چھین لی ہو۔ کیا یہ میں ہوں؟ اس نے اپنے آپ سے پوچھا اور پھر اپنی آواز سن کر حیران رہ گئی۔ حد ہے دیوانگی کی وہ کس سے پوچھ رہی تھی۔
ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک بار مڑی تو جمیل بھیا بت کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے۔ وہ اور تیزی سے ٹہلنے لگی۔ اب یہ کیا کہنے آئے ہیں۔ انھوں نے اپنا وعدہ بھلا دیا۔
”کیا سچ مچ تم نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ؟“ انھوں نے دھیرے سے پوچھا۔ ”ہاں!“ اس نے ٹہلتے ہوئے جواب دیا۔
”تم یہاں سے جا کر غلطی کرو گی۔ تم نے ایک بار کہا تھا ناں کہ ڈور رہ کر یادیں بہت اذیت ناک ہو جاتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تم وہاں خوش نہ رہو گی۔“
”میں ہر جگہ خوش رہوں گی۔ مگر آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھ سے کبھی کچھ نہ کہیں گے۔“
”میں کیا کہہ رہا ہوں؟“
”کچھ نہیں۔“
”تم میری مقروض ہو، یاد رکھنا کہ تم کو یہ قرض چکانا ہو گا۔“ وہ جانے کے لیے مڑے۔ ”تم وہاں خوش رہو گی ناں؟“ انھوں نے رک کر پوچھا۔
وہ چپ رہی۔ جمیل بھیا تھڑی دیر کھڑے رہے اور پھر چلے گئے اور اس نے محسوس کیا کہ اس وقت وہ سب کچھ کھو بیٹھی ہے۔
بڑی دیر تک یوں ہی ٹہلنے کے بعد جب وہ تھک گئی تو چچی کو خط لکھنے بیٹھ گئی، اسے یہاں سے جانے کی اطلاع دینی تھی۔
اہم نکات (خلاصہ):
- یہ اقتباس خدیجہ مستور کے مشہور ناول "آنگن" سے ماخوذ ہے۔
- ناول میں قیامِ پاکستان کے وقت کے سماجی حالات اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کو بیان کیا گیا ہے۔
- ہجرت کا کرب اور اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ اس سبق کا بنیادی موضوع ہے۔
- بڑے چچا کا کردار اس طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا۔
- عالیہ کی کشمکش اس وقت کی نوجوان نسل کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔
Comments
Post a Comment