Explore the literary brilliance of Mirza Ghalib's letters in this high-quality Class 11 Urdu lesson. Learn about Ghalib's unique prose style, historical context, and personal life through his letters to Alauddin Alai and Hargopal Tafta. Designed in SNC textbook style for students and teachers.
مکاتیبِ غالب
- طلبہ کے علمی اور ادبی ذوق کی تربیت کرنا۔
- غالب کے خطوط سے غالب کے تاریخی موقف، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں اور ثقافتی پہلوؤں کے بارے میں جاننا۔
- مکاتیبِ غالب کے توسط سے غالب کے ذہنی، فکری، افقی اور خیالات کو سمجھنا۔
- طلبہ کی تحریری اور تقریری صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔
- طلبہ کو بتانا کہ نثر نگاری میں غالب کے خطوط کو کس قدر اہمیت حاصل ہے اور یہ کہ غالب نے خطوط نویسی میں منفرد اسلوب کی بنیاد رکھی۔
تم تو ثمرِ نورس (۱) ہو، اس نہال (۲) کے جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشو و نما پائی ہے اور میں ہوا خواہ و سایہ نشیں اس نہال کا رہا ہوں، کیوں کر تم مجھ کو عزیز نہ ہو گے؟ رہی دید وادید، اس کی دو صورتیں ہیں: ہم دلی میں آو یا میں لوہارو آؤں۔ تم مجبور، میں معذور۔ خود کہتا ہوں کہ میرا عذرِ زنہار مسموع نہ ہو جب تک نہ سمجھ لو کہ میں کون ہوں اور ماجرا کیا ہے۔
سنو! عالم دو ہیں: ایک عالمِ ارواح اور ایک عالمِ آب و گل۔ حاکم ان دونوں عالموں کا وہ ایک ہے جو خود فرماتا ہے:
لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ اور پھر آپ جواب دیتا ہے: لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
هر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالمِ آب و گل کے مجرم، عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں، لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالمِ ارواح کے گناہ گار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔ چنانچہ میں آٹھویں رجب ۱۲۱۲ھ میں رُوبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔ تیرہ برس حوالات میں رہا۔ ۷ رجب ۱۲۲۵ھ کو میرے واسطے حکمِ دوام حبس صادر ہوا۔ ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دلی شہر کو زنداں مقرر کیا اور مجھے اس زنداں میں ڈال دیا۔
فکرِ نظم و نثر کو مشقت ٹھہرایا۔ برسوں کے بعد جیل خانے سے بھاگا۔ تین برس بلادِ شرقیہ میں پھرتا رہا۔ پایانِ کار مجھے کلکتے سے پکڑ لائے اور پھر اسی تحبس میں بٹھا دیا۔ جب دیکھا کہ قیدی گریز پا ہے، دو ہتھکڑیاں اور بڑھا دیں۔ پاؤں بیڑی سے فگار، ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخم دار، مشقتِ مقرری اور مشکل ہوگئی۔ طاقت یک قلم زائل ہوگئی۔ بے حیا ہوں۔ سالِ گزشتہ بیڑی کو زاویۂ زندان میں چھوڑ مع دونوں ہتھکڑیوں (۱) کے بھاگا۔ میرٹھ، مرادآباد ہوتا ہوا رام پور پہنچا۔ کچھ دن کم دو مہینے وہاں رہا تھا کہ پھر پکڑا آیا۔ اب عہد کیا کہ پھر نہ بھاگوں گا۔ بھاگوں گا کیا؟ بھاگنے کی طاقت بھی تو نہ رہی۔ حکیمِ رہائی دیکھیے کب صادر ہو۔ ایک ضعیف سا احتمال ہے کہ اسی ماہِ ذی الحجہ ۱۲۷۷ھ میں چھوٹ جاؤں گا۔ بہر تقدیر بعدِ رہائی کے تو آدمی سوائے اپنے گھر کے اور کہیں نہیں جاتا۔ میں بھی بعدِ نجات سیدھا عالمِ ارواح کو چلا جاؤں گا۔
سوئے ہمنو خود ازیں وادی ویراں بروم (۲)
ذی الحجہ ۱۲۷۷ھ
(جون ۱۸۶۱ء)
تم سچ کہتے ہو کہ بہت مسودے اصلاح کے واسطے فراہم ہوئے ہیں، مگر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ہی قصائد پڑے ہیں۔ نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح دھری ہوئی ہیں۔ برسات کا حال تمہیں بھی معلوم ہے اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ میرا مکان گھر کا نہیں ہے، کرائے کی حویلی میں رہتا ہوں۔ جولائی سے مینہ شروع ہوا۔ شہر میں سیکڑوں مکان گرے اور مینہ کی بنی صورت، دن رات میں دو چار بار برسے اور ہر بار اس زور سے کہ ندی نالے بہہ نکلیں۔ بالا خانے کا جو دالان میرے اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، جینے مرنے کا محل ہے، اگرچہ گرا نہیں لیکن چھت چھلنی ہوگئی۔ کہیں لگن، کہیں چلمچی، کہیں اگال دان رکھ دیا۔ قلم دان، کتابیں اٹھا کر توشہ خانے کی کوٹھری میں رکھ دیے۔ مالکِ مرمت کی طرف متوجہ نہیں۔ کشتیٔ نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔ اب نجات ہوئی ہے۔ نواب صاحب کی غزلیں اور تمہارے قصائد دیکھے جائیں گے۔
میر بادشاہ میرے پاس آئے تھے۔ تمہاری خیر و عافیت اُن سے معلوم ہوئی تھی۔ میر قاسم علی صاحب مجھ سے نہیں ملے۔ پرسوں سے نواب مصطفیٰ خاں صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ایک ملاقات ان سے ہوئی ہے۔ ابھی یہیں رہیں گے، بیمار ہیں، احسن اللہ خاں معالج ہیں، فصد ہو چکی ہے، جلاب لگ چکے ہیں، اب مُسہل کی فکر ہے، سو اس کے سب طرح کی خیر و عافیت ہے۔ میں ناتواں بہت ہو گیا ہوں، گویا صاحبِ فراش ہوں۔ کوئی شخص میا کلف کی ملاقات کا آجائے تو اٹھ بیٹھتا ہوں، ورنہ پڑا رہتا ہوں۔ لیٹے لیٹے خط لکھتا ہوں، لیٹے لیٹے مسودات دیکھتا ہوں۔ اللہ! اللہ! اللہ!
غالب
(خطوطِ غالب مرتبہ مولانا غلام رسول مہر)
مرزا غالب نے خط و کتابت کے پرانے اور فرسودہ طریقوں کو بدل کر "مراسلے کو مکالمہ" بنا دیا۔ وہ خط ایسے لکھتے تھے جیسے مخاطب ان کے سامنے بیٹھا باتیں کر رہا ہو۔
- غالب نے اپنی زندگی کو استعاروں (قید و بند) کی صورت میں پیش کیا ہے۔
- خطوط سے دہلی کے حالات، بارشوں کی تباہ کاریوں اور غالب کی معاشی تنگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
- غالب کی بیماری اور بڑھاپے کی کیفیت ان کے آخری دور کے خطوط میں نمایاں ہے۔
Comments
Post a Comment