Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 11 Urdu Lesson 5 Makateeb-e-Ghalib | Digital Textbook

 



Explore the literary brilliance of Mirza Ghalib's letters in this high-quality Class 11 Urdu lesson. Learn about Ghalib's unique prose style, historical context, and personal life through his letters to Alauddin Alai and Hargopal Tafta. Designed in SNC textbook style for students and teachers.

اردو-11 | حصہ نثرExcellence Online Learning School
سبق: ۵

مکاتیبِ غالب

تدریسی مقاصد:
  • طلبہ کے علمی اور ادبی ذوق کی تربیت کرنا۔
  • غالب کے خطوط سے غالب کے تاریخی موقف، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں اور ثقافتی پہلوؤں کے بارے میں جاننا۔
  • مکاتیبِ غالب کے توسط سے غالب کے ذہنی، فکری، افقی اور خیالات کو سمجھنا۔
  • طلبہ کی تحریری اور تقریری صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔
  • طلبہ کو بتانا کہ نثر نگاری میں غالب کے خطوط کو کس قدر اہمیت حاصل ہے اور یہ کہ غالب نے خطوط نویسی میں منفرد اسلوب کی بنیاد رکھی۔
بنام علاؤالدین علائی
جانِ غالب!

تم تو ثمرِ نورس (۱) ہو، اس نہال (۲) کے جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشو و نما پائی ہے اور میں ہوا خواہ و سایہ نشیں اس نہال کا رہا ہوں، کیوں کر تم مجھ کو عزیز نہ ہو گے؟ رہی دید وادید، اس کی دو صورتیں ہیں: ہم دلی میں آو یا میں لوہارو آؤں۔ تم مجبور، میں معذور۔ خود کہتا ہوں کہ میرا عذرِ زنہار مسموع نہ ہو جب تک نہ سمجھ لو کہ میں کون ہوں اور ماجرا کیا ہے۔

سنو! عالم دو ہیں: ایک عالمِ ارواح اور ایک عالمِ آب و گل۔ حاکم ان دونوں عالموں کا وہ ایک ہے جو خود فرماتا ہے:
لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ اور پھر آپ جواب دیتا ہے: لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

هر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالمِ آب و گل کے مجرم، عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں، لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالمِ ارواح کے گناہ گار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔ چنانچہ میں آٹھویں رجب ۱۲۱۲ھ میں رُوبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔ تیرہ برس حوالات میں رہا۔ ۷ رجب ۱۲۲۵ھ کو میرے واسطے حکمِ دوام حبس صادر ہوا۔ ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دلی شہر کو زنداں مقرر کیا اور مجھے اس زنداں میں ڈال دیا۔

فکرِ نظم و نثر کو مشقت ٹھہرایا۔ برسوں کے بعد جیل خانے سے بھاگا۔ تین برس بلادِ شرقیہ میں پھرتا رہا۔ پایانِ کار مجھے کلکتے سے پکڑ لائے اور پھر اسی تحبس میں بٹھا دیا۔ جب دیکھا کہ قیدی گریز پا ہے، دو ہتھکڑیاں اور بڑھا دیں۔ پاؤں بیڑی سے فگار، ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخم دار، مشقتِ مقرری اور مشکل ہوگئی۔ طاقت یک قلم زائل ہوگئی۔ بے حیا ہوں۔ سالِ گزشتہ بیڑی کو زاویۂ زندان میں چھوڑ مع دونوں ہتھکڑیوں (۱) کے بھاگا۔ میرٹھ، مرادآباد ہوتا ہوا رام پور پہنچا۔ کچھ دن کم دو مہینے وہاں رہا تھا کہ پھر پکڑا آیا۔ اب عہد کیا کہ پھر نہ بھاگوں گا۔ بھاگوں گا کیا؟ بھاگنے کی طاقت بھی تو نہ رہی۔ حکیمِ رہائی دیکھیے کب صادر ہو۔ ایک ضعیف سا احتمال ہے کہ اسی ماہِ ذی الحجہ ۱۲۷۷ھ میں چھوٹ جاؤں گا۔ بہر تقدیر بعدِ رہائی کے تو آدمی سوائے اپنے گھر کے اور کہیں نہیں جاتا۔ میں بھی بعدِ نجات سیدھا عالمِ ارواح کو چلا جاؤں گا۔

فرخ آں روز کہ از خانہ زنداں بروم
سوئے ہمنو خود ازیں وادی ویراں بروم (۲)
غالب
ذی الحجہ ۱۲۷۷ھ
(جون ۱۸۶۱ء)
بنام مرزا ہرگوپال تفتہ
بھائی!

تم سچ کہتے ہو کہ بہت مسودے اصلاح کے واسطے فراہم ہوئے ہیں، مگر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ہی قصائد پڑے ہیں۔ نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح دھری ہوئی ہیں۔ برسات کا حال تمہیں بھی معلوم ہے اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ میرا مکان گھر کا نہیں ہے، کرائے کی حویلی میں رہتا ہوں۔ جولائی سے مینہ شروع ہوا۔ شہر میں سیکڑوں مکان گرے اور مینہ کی بنی صورت، دن رات میں دو چار بار برسے اور ہر بار اس زور سے کہ ندی نالے بہہ نکلیں۔ بالا خانے کا جو دالان میرے اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، جینے مرنے کا محل ہے، اگرچہ گرا نہیں لیکن چھت چھلنی ہوگئی۔ کہیں لگن، کہیں چلمچی، کہیں اگال دان رکھ دیا۔ قلم دان، کتابیں اٹھا کر توشہ خانے کی کوٹھری میں رکھ دیے۔ مالکِ مرمت کی طرف متوجہ نہیں۔ کشتیٔ نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔ اب نجات ہوئی ہے۔ نواب صاحب کی غزلیں اور تمہارے قصائد دیکھے جائیں گے۔

میر بادشاہ میرے پاس آئے تھے۔ تمہاری خیر و عافیت اُن سے معلوم ہوئی تھی۔ میر قاسم علی صاحب مجھ سے نہیں ملے۔ پرسوں سے نواب مصطفیٰ خاں صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ایک ملاقات ان سے ہوئی ہے۔ ابھی یہیں رہیں گے، بیمار ہیں، احسن اللہ خاں معالج ہیں، فصد ہو چکی ہے، جلاب لگ چکے ہیں، اب مُسہل کی فکر ہے، سو اس کے سب طرح کی خیر و عافیت ہے۔ میں ناتواں بہت ہو گیا ہوں، گویا صاحبِ فراش ہوں۔ کوئی شخص میا کلف کی ملاقات کا آجائے تو اٹھ بیٹھتا ہوں، ورنہ پڑا رہتا ہوں۔ لیٹے لیٹے خط لکھتا ہوں، لیٹے لیٹے مسودات دیکھتا ہوں۔ اللہ! اللہ! اللہ!

صبح جمعہ ۱۲/ ماہ اکتوبر ۱۸۶۲ء
غالب

(خطوطِ غالب مرتبہ مولانا غلام رسول مہر)

کیا آپ جانتے ہیں؟

مرزا غالب نے خط و کتابت کے پرانے اور فرسودہ طریقوں کو بدل کر "مراسلے کو مکالمہ" بنا دیا۔ وہ خط ایسے لکھتے تھے جیسے مخاطب ان کے سامنے بیٹھا باتیں کر رہا ہو۔

اہم نکات (خلاصہ):
  • غالب نے اپنی زندگی کو استعاروں (قید و بند) کی صورت میں پیش کیا ہے۔
  • خطوط سے دہلی کے حالات، بارشوں کی تباہ کاریوں اور غالب کی معاشی تنگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
  • غالب کی بیماری اور بڑھاپے کی کیفیت ان کے آخری دور کے خطوط میں نمایاں ہے۔
(۱) نواب امین الدین احمد خاں، والی لوہارو کے بڑے صاحب زادے اور ولی عہد ریاست
(۲) امین الدین احمد خاں، والی لوہارو
(۱) باقر علی خاں اور حسین علی خاں فرزندانِ عارف
(۲) میرے لیے وہ دن کس قدر خوش قسمتی کا حامل ہو گا جس دن میں اس قید خانے (دنیا) سے یعنی اس ویران وادی سے اپنے (جیتے جیتے) شہر (عالمِ ارواح) کی طرف جاؤں گا۔

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...