A concise and engaging social media post summarizing Class 11 Urdu Lesson 4 "Faqah mein Roza" by Khawaja Hasan Nizami. It highlights the downfall of the Mughal family and their resilience during hardship.
فاقہ میں روزہ
- طلبہ کے ادبی ذوق کی تربیت کرنا۔
- طلبہ کے سماجی، سیاسی اور اخلاقی شعور میں اضافہ کرنا۔
- "فاقہ میں روزہ" جیسے مضامین سماجی مسائل اور غربت کی حالت کو بیان کرتے ہیں، خواجہ حسن نظامی کے مقصدِ تحریر کو سمجھنا۔
- طلبہ میں ہمدردی اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے کی ترغیب پیدا کرنا۔
جب دہلی زندہ تھی اور ہندوستان کا دل کہلانے کا حق رکھتی تھی، لال قلعہ پر تیموریوں کا آخری نشان لہرا رہا تھا۔ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ مرزا سلیم بہادر (جو ابوظفر بہادر شاہ کے بھائی تھے) اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں زنان خانہ سے ایک لونڈی باہر آئی اور ادب سے عرض کیا کہ حضور بیگم صاحبہ یاد فرماتی ہیں۔ مرزا سلیم فوراً محل میں چلے گئے اور تھوڑی دیر میں مغموم واپس آئے۔ ایک بے تکلف ندیم نے عرض کیا: "خیر باشد! مزاج عالی مکدر پاتا ہوں۔" مرزا نے مسکرا کر جواب دیا: "نہیں کچھ نہیں۔ بعض اوقات اماں حضرت خواہ مخواہ ناراض ہو جاتی ہیں۔ کل شام کو افطاری کے وقت ننھن خان گویا گا رہا تھا اور میرا دل بہل رہا تھا۔ اس وقت اماں حضرت قرآن شریف پڑھا کرتی ہیں۔ اُن کو یہ شور غُل ناگوار معلوم ہوا۔ آج ارشاد ہوا ہے کہ رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں بند کر دی جائیں۔ بھلا میں اس تفریحی عادت کو کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں۔ ادب کے لحاظ سے قبول تو کر لیا مگر اس پابندی سے جی اُلجھتا ہے۔ حیران ہوں کہ یہ سولہ دن کیوں کر بسر ہوں گے۔"
مصاحب نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا: "حضور! یہ بھی کوئی پریشان ہونے کی بات ہے۔ شام کو افطاری سے پہلے جامع مسجد شریف لے چلا کیجیے۔ عجب بہار ہوتی ہے۔ رنگ برنگ کے آدمی، طرح طرح کے جھمٹے دیکھنے میں آئیں گے۔ خدا کے دن ہیں، خدا والوں کی بہار بھی دیکھیے۔"
مرزا نے اس صلاح کو پسند کیا اور دوسرے دن مصاحبوں کو لے کر جامع مسجد پہنچے۔ وہاں جا کر عجب عالم دیکھا۔ جگہ جگہ حلقہ بنائے لوگ بیٹھے ہیں۔ کہیں قرآن شریف کے دور ہو رہے ہیں۔ رات کے قرآن سنانے والے حفاظ آپس میں ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہیں۔ کہیں مسائلِ دین پر گفتگو ہو رہی ہے۔ دو عالم کسی فقہی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں اور بیسیوں آدمی اردگرد بیٹھے مزے سے سُن رہے ہیں۔ کسی جگہ توجہ اور مراقبے کا حلقہ ہے۔ کہیں کوئی صاحب وظائف میں مشغول ہیں۔ الغرض مسجد میں چاروں طرف اللہ والوں کا ہجوم ہے۔
(1) ہر نئی چیز مزے دار معلوم ہوتی ہے۔
سیکڑوں خوان افطاری کے آنے لگے اور لوگوں میں افطاریاں تقسیم ہونے لگیں۔ خاص محلِ سلطانی سے متعدد خوانِ مکلف چیزوں سے آراستہ روزانہ جامع مسجد میں بھیجے جاتے تھے تاکہ روزہ داروں میں افطاری تقسیم کی جائے۔ اس کے علاوہ قلعہ کی تمام بیگمات اور شہر کے سب اُمرا علیحدہ سے افطاری کے سامان بھیجتے تھے، اس لیے ان خوانوں کی گنتی سیکڑوں تک پہنچ جاتی تھی۔ چوں کہ ہر امیر کوشش کرتا تھا کہ اس کا سامانِ افطاری دوسروں سے بڑھ کر ہے، اس لیے ریشمی رنگ برنگ کے خوان پوش اور منقشی جھالریں ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر ہوتی تھیں اور مسجد میں ان کی عجب آرائش ہو جاتی تھی۔
مرزا کے دل پر اس دینی چرچے اور شان و شوکت نے بڑا اثر ڈالا اور اب وہ برابر روزانہ مسجد میں آنے لگے۔ گھروں میں وہ دیکھتے کہ سیکڑوں فقرا کو سحری اور اقلِ شب کا کھانا روزانہ شہر کی خانقاہوں اور مسجدوں میں بھجوایا جاتا تھا، یہ دن ان کے گھر میں بڑی برکت اور چہل پہل کے معلوم ہوتے تھے۔
مرزا سلیم کے ایک بھانجے مرزا شہ زور نو عمری کے سبب اکثر اپنے ماموں کی صحبت میں بے تکلف شریک ہوا کرتے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک تو وہ وقت تھا جو آج خواب و خیال کی طرح یاد آتا ہے اور ایک وہ وقت آیا کہ دہلی زیر و زبر ہو گئی۔ قلعہ برباد کر دیا گیا۔ امیروں کو پھانسیاں مل گئیں۔ ان کے گھر اجڑ گئے۔ ان کی بیگمات ماما گیری کرنے لگیں اور مسلمانوں کی سب شان و شوکت تاراج ہوگئی۔ اس کے بعد ایک دفعہ رمضان شریف کے مہینے میں جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ جگہ چولہے بنے ہوئے ہیں۔ سپاہی روٹیاں پکا رہے ہیں۔ گھوڑوں کے دانے دلے جا رہے ہیں۔ گھاس کے انبار لگے ہوئے ہیں اور شاہجہاں کی خوب صورت اور بے مثل مسجد اصطبل بنارہی ہے اور پھر جب مسجد واگزار ہوئی اور سرکار نے اس کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا تو رمضان ہی کے مہینے میں پھر جانا ہوا۔ دیکھا کہ چند مسلمان میلے کچیلے پیوند لگے کپڑے پہنے بیٹھے ہیں۔ دو چار قرآن شریف کا دور کر رہے ہیں اور کچھ اسی پریشان حالی میں بیٹھے وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔ افطاری کے وقت چند آدمیوں نے کھجوریں اور دال سیو بانٹ دیے۔ کسی نے نزکاری کے قتلے تقسیم کر دیے۔ نہ وہ اگلا سا سماں، نہ وہ اگلی سی چہل پہل، نہ وہ پہلی سی شان و شوکت۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ بیچارے فلک کے مارے چند لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد آج کل کا زمانہ بھی دیکھا جب کہ مسلمان چاروں طرف سے دب گئے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ مسلمان تو مسجد میں نظر ہی کم آتے ہیں۔ غریب غربا آئے تو ان سے رونق کیا خاک ہو سکتی ہے۔ پھر بھی غنیمت ہے کہ مسجد آباد ہے۔ اگر مسلمانوں کے افلاس کا یہی عالم رہا تو آئندہ دیکھیں کیا نوبت آئے۔
مرزا شہ زور کی باتوں میں بڑا درد اور اثر تھا۔ ایک دن میں نے ان سے غدر کا قصہ اور تباہی کا فسانہ سننا چاہا۔ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور اس کے بیان کرنے میں عذر و مجبوری ظاہر کرنے لگے لیکن جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو اپنی دردناک کہانی اس طرح سنائی:
جب انگریز کی توپوں نے، کرچوں اور سنگینوں نے، چکنا چور کرڈالے، ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین لی، تاج سر سے اتار لیا، تخت پر قبضہ کر لیا، شہر میں آتش ناک گولیوں کا مینہ برس چکا، سات پردوں میں رہنے والیاں بے چادر ہو کر بازار میں اپنے وارثوں کی تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھنے نکل آئیں، چھوٹے بن باپ کے بچے ابا ابا پکارتے ہوئے بے یارو مددگار پھرنے لگے، حضورِ ظلِ سبحانی جن پر ہم سب کا سہارا تھا، قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے۔ اس وقت میں نے بھی اپنی بوڑھی والدہ، کم سن بہن اور حاملہ بیوی کو ساتھ لے کر اور اجڑے قافلے کا سالار بن کر گھر سے کوچ کیا۔
ہم لوگ دو رتھوں میں سوار تھے۔ سیدھے غازی آباد کا رُخ کیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ راستہ انگریزی لشکر کی جولان گاہ بنا ہوا ہے، اس لیے شاہدرہ سے واپس ہو کر قطب صاحب چلے اور وہاں پہنچ کر رات کو آرام کیا۔ اس کے بعد صبح آگے روانہ ہوئے۔ چھتر پور کے قریب گوجروں نے حملہ کیا اور سب سامان لوٹ لیا مگر اتنی مہربانی کی کہ ہم کو زندہ چھوڑ دیا۔ وہ لق و دق جنگل، تین عورتوں کا ساتھ اور عورتیں بھی کیسی! ایک بڑھاپے سے لاچار، دو قدم چلنا دو بھر۔ دوسری بیمار اور حاملہ۔ تیسری دس برس کی نادان لڑکی۔ عورتیں روتی تھیں اور تین کر کے روتی تھیں۔ میرا کلیجہ ان کے بین سے پھٹا جاتا تھا۔ والدہ کہتی تھیں: الٰہی ہم کہاں جائیں۔ کس کا سہارا ڈھونڈیں۔ ہمارا تاج و تخت تو لٹ گیا، تُو تو ناپور یا ور امن کی جگہ تو دے۔ اس بیمار بچے والی کو کہاں لے کر بیٹھوں؟ اس معصوم بچی کو کس کے حوالے کروں؟ جنگل کے درخت بھی ہمارے دشمن ہیں۔ کہیں سایہ نظر نہیں آتا۔ بہن کی یہ کیفیت تھی کہ وہ سہمی ہوئی کھڑی تھی اور ہم سب کا منھ دیکھتی تھی۔ مجھ کو اس کی معصومانہ بے کسی پر بڑا ترس آتا تھا۔ آخر مجبوراً میں نے عورتوں کو دلاسا دیا اور آگے چلنے کی ہمت بندھائی۔ گاؤں سامنے نظر آتا تھا۔ غریب عورتوں نے چلنا شروع کیا۔ والدہ صاحبہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی تھیں اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی تھیں اور جب وہ یہ کہتیں:
تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ القصہ بہ ہزار دقت و دشواری گرتے پڑتے گاؤں میں پہنچے۔ یہ گاؤں مسلمان میواتیوں کا تھا۔ انھوں نے ہماری خاطر کی اور اپنی چوپال میں ہم کو ٹھہرا دیا۔
کچھ روز تو ان مسلمان گنواروں نے ہمارے کھانے پینے کی خبر رکھی اور چوپال میں ہم کو ٹھہرائے رکھا لیکن کب تک یہ بار اٹھا سکتے تھے۔ اکتا گئے اور ایک دن مجھ سے کہنے لگے: "میاں جی! چوپال میں ایک برات آنے والی ہے۔ گو دوسرے چھپر میں چلا جا اور رات دن ٹھالی (بے کار) بیٹھے کیا کیا کرے ہے۔ کچھ کام کیوں نہیں کرتا؟" میں نے کہا: "بھائی! جہاں تم کہو گے وہیں چلے جائیں گے۔ ہمیں چوپال میں رہنے کی ہوس نہیں ہے۔ جب فلک نے عالی شان محل چھین لیے تو اس کچے مکان پر ہم کیا ضد کریں گے اور رہی کام کرنے کی بات، سو میرا جی تو خود گھبراتا ہے، خالی بیٹھے بیٹھے طبیعت اکتائی جاتی ہے۔ مجھ کو کوئی کام بتاؤ، ہو سکے گا تو آنکھوں سے کروں گا۔"
ان کا چودھری بولا: "ہم نے تجھے ہیرا (ہمیں کیا خبر) کہ تم کے کام (کیا کام) کر سکے ہے۔" میں نے جواب دیا، "میں سپاہیزادہ ہوں ۔ تیغ و تفنگ چلانا میرا ہنر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتا۔" گنوار ہنس کر کہنے لگے، نہ بابا یہاں تو ہل چلانا ہوگا، گھاس کھودنی پڑے گی۔ ہم نے تلوار کے ہنر کیا کرنے ہیں۔ گنوار کے اس جواب سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور جواب دیا: "بھائیو! مجھ کو تو ہل چلانا اور گھاس کھودنی نہیں آتی۔" مجھ کو روتا دیکھ کر گنواروں کو رحم آگیا اور بولے: "اچھا! تو ہمارے کھیت کی رکھوالی کیا کر اور تیری عورتیں ہمارے گاؤں کے کپڑے ہی دیا کریں۔ فصل پر تجھ کو اناج دے دیا کریں گے جو تجھ کو برس دن کو کافی ہوگا۔"
چناں چہ یہی ہوا کہ میں سارا دن کھیت پر جانور اڑایا کرتا تھا اور گھر میں عورتیں کپڑے سیتی تھیں۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بھادوں کا مہینہ آیا اور گاؤں میں سب کو بخار آنے لگا۔ میری اہلیہ اور بہن کو بھی بخار نے آن دبایا۔ وہ گاؤں، وہاں دوا اور حکیم کا کیا ذکر، خود لوٹ پوٹ کر اچھے ہو جاتے ہیں، مگر ہم کو دواؤں کی عادت تھی۔ سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔ اسی حالت میں ایک دن اس زور کی بارش ہوئی کہ جنگل کا نالہ چڑھ آیا اور گاؤں میں کمر کمر پانی ہو گیا۔ گاؤں والے تو اس کے عادی تھے لیکن ہماری حالت اس طوفان کے سبب مرنے سے بدتر ہو گئی۔ بچوں کہ پانی ایک دفعہ ہی رات کے وقت گھس آیا تھا، اس لیے ہماری عورتوں کی چارپائیاں بالکل ہی غرق آب ہوگئیں اور عورتیں چیخیں مارنے لگیں۔ آخر بڑی مشکل سے چھپر کی بلّیوں میں دو چار پائیاں اڑا کر عورتوں کو ان پر بٹھایا۔ پانی گھنٹا بھر میں اُتر گیا مگر غضب یہ ہوا کہ کھانے کا اناج اور اوڑھنے بچھانے کے کپڑے تر بتر ہو گئے۔ پچھلی رات میری بیوی کے دردِ زہ شروع ہوا اور ساتھ ہی جاڑے سے بخار بھی لایا۔ اُس وقت کی پریشانی بس بیان کرنے کے قابل نہیں۔ اندھیرا گھپ، مینہ کی جھڑی، کپڑے سب گیلے۔ آگ کا سامان ناممکن۔ حیران تھے، الٰہی! کیا انتظام کیا جائے؟ دردِ زہ بڑھنا شروع ہوا اور مریضہ کی حالت نہایت ابتر ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ تڑپنے لگی اور تڑپتے تڑپتے جان دے دی۔ بچہ پیٹ ہی میں رہا۔ پھولوں کی وہ ساری عمر ناز و نعمت میں پلی تھیں، غدر کی مصیبتیں ہی ان کی ہلاکت کے لیے کافی تھیں۔ خیر اُس وقت تو جان بچ گئی مگر یہ بعد کا جھٹکا ایسا بڑا لگا کہ جان لے کر گیا۔ صبح ہو گئی۔ گاؤں والوں کو خبر ہوئی تو انھوں نے کفن وغیرہ منگوایا اور دو پہر تک یہ محتاج شہزادی گورِ غریباں میں ہمیشہ کے لیے جا سوئی۔
اب ہم کو کھانے کی فکر ہوئی کیوں کہ اناج سب بھیگ کر سڑ گیا تھا۔ گاؤں والوں سے بھی مانگتے ہوئے لحاظ آتا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح اس مصیبت میں گرفتار تھے، تاہم بے چارے گاؤں کے چودھری کو خود ہی خیال ہوا اور اس نے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا دیا۔ وہ آٹا نصف کے قریب خرچ ہوا ہوگا کہ رمضان شریف کا چاند نظر آیا۔ والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا۔ وہ ہر وقت گزشتہ زمانے کو یاد کیا کرتی تھیں۔ رمضان کا چاند دیکھ کر انھوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور چپ ہو گئیں۔ میں سمجھ گیا کہ ان کو پچھلا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ تسلی کی باتیں کرنے لگا جس سے ان کو کچھ ڈھارس ہوئی۔
چار پانچ دن تو آرام سے گزر گئے، مگر جب آٹا ختم ہو چکا تو بڑی مشکل درپیش ہوئی۔ سوال کرتے ہوئے شرم آتی تھی اور پاس ایک کوڑی نہ تھی۔ شام کو پانی سے روزہ کھولا۔ بھوک کے مارے کلیجہ منھ کو آتا تھا۔ والدہ صاحبہ کی عادت تھی کہ اس قسم کی تکلیف کے وقت بیان کر کے بہت رویا کرتی تھیں، مگر آج بڑے اطمینان سے خاموش تھیں۔ ان کی خاموشی و اطمینان سے میرے دل کو بھی سہارا ہوا اور چھوٹی بہن کو جس کے چہرے پر بھوک کے مارے ہوائیاں اڑ رہی تھیں، دلاسا دینے لگا۔ وہ معصوم بھی میرے سمجھانے پر نڈھال ہو کر چارپائی پر جا پڑی اور تھوڑی دیر میں سو گئی۔ بھوک میں نیند کہاں آتی ہے، بس ایک غوطہ سا تھا۔ اس غوطہ اور ناتوانی کی حالت میں سحری کا وقت آگیا۔ والدہ صاحبہ اٹھیں اور تہجد کی نماز کے بعد جن دردناک الفاظ میں انھوں نے دعا مانگی، ان کا نقل کرنا محال ہے۔ حاصلِ مطلب یہ ہے کہ انھوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
دوسرا دن بھی یوں ہی گزر گیا اور فاقے میں روزہ رکھا۔ شام کے قریب چودھری کا آدمی دودھ اور میٹھے چاول لایا اور بولا: "آج ہمارے ہاں نیاز تھی ۔ یہ اس کا کھانا ہے اور یہ پانچ روپے زکوٰۃ کے ہیں۔ ہر سال بکریوں کی زکوٰۃ میں بکری دیا کرتے ہیں، مگر اب کے نقد دے دیا ہے۔"
یہ کھانا اور روپے مجھ کو ایسی نعمت معلوم ہوئے گویا بادشاہت مل گئی۔ خوشی خوشی والدہ کے آگے سارا قصہ کہا۔ کہنا چاہتا تھا اور خدا کا شکرانہ بھیجتا جاتا تھا مگر یہ خبر نہ تھی کہ گردشِ فلک نے مرد کے خیال پر تو اثر ڈال دیا لیکن عورت ذات بچوں کی توں اپنی قدیم کی غیرت داری پر قائم ہے۔ چناں چہ میں نے دیکھا کہ والدہ کا رنگ متغیر ہو گیا۔ با وجود فاقے کی ناتوانی کے انھوں نے تیور بدل کر کہا:
"تف ہے تیری غیرت پر۔ خیرات اور زکوٰۃ لے کر آیا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ ارے اس سے مر جانا بہتر تھا۔ اگر چہ ہم مٹ گئے مگر ہماری حرارت نہیں مٹی۔ میدان میں نکل کر مر جانا یا مار ڈالنا اور تلوار کے زور سے روٹی لینا ہمارا کام ہے۔ صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں ہے۔"
والدہ کی ان باتوں سے مجھے پسینا آگیا اور شرم کے مارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ چاہا کہ اٹھ کر یہ چیزیں واپس کر آؤں مگر والدہ نے روکا اور کہا: "خدا ہی کو یہ منظور ہے تو ہم کیا کریں۔ سب کچھ سہنا ہوگا۔" یہ کہ کر کھانا رکھ لیا اور روزہ کھولنے کے بعد ہم سب نے مل کر کھا لیا۔ پانچ روپے کا آٹا منگوایا گیا جس سے رمضان خیر و خوبی سے بسر ہو گیا۔ اس کے بعد تجھے مہینے گاؤں میں رہے۔ پھر دہلی چلے آئے۔ یہاں آکر والدہ کا انتقال ہو گیا اور بہن کی شادی کر دی۔ انگریزی سرکار نے میری بھی پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کر دی جس پر آج کل زندگی کا انحصار ہے۔
| ندیم: دوست، مصاحب | مکدر: میلا، غبار آلود، غمگین |
| واگزار: آزاد کرنا، چھوڑنا | فسانہ: قصہ، کہانی |
| جولان گاہ: دوڑنے کی جگہ، میدان | دردِ زہ: ولادت کی تکلیف |

Comments
Post a Comment